سوال: کمزور طبقات کے حقوق ادا نہ کرنے کا معاشرے پر کیا اثر پڑتا ہے؟
جواب: جب کمزوروں کے حقوق پامال ہوتے ہیں تو ان میں بے چینی پیدا ہوتی ہے، جو بعض اوقات شدید ردّعمل کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ یوں معاشرے کے بااثر لوگ، جو اصلاح اور امن قائم کرنے کے ذمہ دار ہیں، خود فساد اور بدامنی کا سبب بن جاتے ہیں۔
سوال: یتیموں کے بارے میں قرآن کریم کی بنیادی تعلیم کیا ہے؟
جواب: قرآن کریم فرماتا ہے کہ یتیموں کی اصلاح اور بھلائی بہترین کام ہے اور اگر ان کے ساتھ مل جل کر رہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں۔ یعنی یتیموں کو بوجھ یا اجنبی نہیں بلکہ اپنے بھائیوں کی طرح سمجھ کر ان کی تربیت، ضروریات اور مستقبل کا خیال رکھنا چاہئے۔
سوال: یتیم کی اصلاح سے کیا مراد ہے؟
جواب: یتیم کی اصلاح کا مطلب صرف اس کی خوراک، لباس اور مالی ضروریات پوری کرنا نہیں بلکہ اس کی تعلیم، صحت، اخلاق، دینی تربیت، اچھی صحبت اور معاشرے میں مفید کردار ادا کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ وہ بڑا ہو کر معاشرے کا فعال اور مفید فرد بنے۔
سوال: یتیموں کے ساتھ کس انداز کا سلوک ہونا چاہئے؟
جواب: ان کے ساتھ محبت، شفقت اور ہمدردی کا سلوک ہونا چاہئے، بالکل اسی طرح جیسے ایک محبت کرنے والا بڑا بھائی اپنے چھوٹے بھائی کی اصلاح کرتا ہے۔ نہ اتنی سختی ہو کہ وہ باغی بن جائیں اور نہ ایسی بے جا محبت کہ وہ بگڑ جائیں؛ بلکہ ہر حال میں اصلاح اور تربیت پیشِ نظر رہے۔
سوال: اگر کسی شخص کو اندیشہ ہو کہ اس کی وفات کے بعد اس کی اولاد کمزور رہ جائے گی تو اسے کیا کرنا چاہئے؟
جواب: اسے اللہ تعالیٰ کا خوف اختیار کرتے ہوئے نیکی اور سیدھی بات کا طریق اختیار کرنا چاہئے اور دوسروں کے یتیم بچوں کے ساتھ انصاف و شفقت کا سلوک کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نیکیوں کا بدلہ دینے والا ہے اور انسان کو چاہئے کہ دوسروں کی کمزور اولاد کا خیال رکھے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کی اپنی اولاد کو بھی محفوظ رکھے۔
سوال: یتیم کے مال کے بارے میں اسلام کی کیا تعلیم ہے؟
جواب: یتیم کے مال کی حفاظت انتہائی ضروری ہے۔ اس کے مال کے قریب بھی بے احتیاطی سے جانے سے منع کیا گیا ہے۔ اگر اس کی حقیقی ضرورت کے لئے اس کے مال سے کچھ خرچ کرنا پڑے تو صرف ضرورت کے مطابق کیا جائے اور جب وہ سمجھ بوجھ کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کا مال اسے واپس کر دیا جائے۔
سوال: یتیم کے مال میں خیانت کیوں انتہائی سنگین جرم ہے؟
جواب: کیونکہ یتیم اپنی کمزوری کی وجہ سے اپنے حقوق کا دفاع نہیں کر سکتا۔ اس لئے اس کے مال پر ناجائز قبضہ کرنا دراصل ایک بے بس انسان کے حق کو پامال کرنا ہے۔ قرآن کریم نے ایسے لوگوں کو سخت وعید سنائی ہے کہ جو ظلم سے یتیموں کا مال کھاتے ہیں، وہ گویا اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں۔
سوال: یتیم کی پرورش کرنے والے کی نیت کیسی ہونی چاہئے؟
جواب: نیت بالکل صاف اور خالص ہونی چاہئے۔ یتیم کی پرورش کو اپنے ذاتی فائدے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہئے۔ بظاہر کوئی شخص یتیم کی خدمت کر رہا ہو لیکن اگر اس کا اصل مقصد یتیم کی جائیداد یا مال سے فائدہ اٹھانا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی نیت کو خوب جانتا ہے۔
سوال: کیا انسان عدالت یا معاشرے کو دھوکہ دے کر اللہ تعالیٰ سے بھی اپنا اصل مقصد چھپا سکتا ہے؟
جواب: ہرگز نہیں۔ انسان معاشرے کو دھوکہ دے سکتا ہے اور بسا اوقات عدالت میں بھی اپنے حق میں فیصلہ حاصل کر سکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ انسان کی نیت اور دل کے بھید تک سے واقف ہے۔ وہ اصلاح کرنے والے اور فساد کرنے والے کے درمیان مکمل فرق جانتا ہے۔
سوال:یتیموں کی پرورش کا اعلیٰ ترین مقصد کیا ہونا چاہئے؟
جواب: مقصد صرف ان کی وقتی کفالت نہیں بلکہ انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا اور معاشرے کا فعال، باعزت اور مفید فرد بنانا ہونا چاہئے۔ اگر استطاعت ہو تو اپنے مال سے بھی ان کی تعلیم، ہنر، کاروبار یا روزگار کے لئے مدد کرنی چاہئے۔
سوال: شہداء کی اولاد کے ساتھ جماعت اور افرادِ جماعت کا کیا سلوک ہونا چاہئے؟
جواب: ان کا اس طرح خیال رکھنا چاہئے جیسے ایک بھائی اپنے بھائی اور ایک باپ اپنے بچے کا رکھتا ہے۔ ان کی تربیت، ضروریات اور حقوق کا خیال اس انداز میں رکھا جائے کہ ان کے دل میں کبھی یہ احساس پیدا نہ ہو کہ ان کے والد نے دین کی خاطر قربانی دے کر انہیں تنہا چھوڑ دیا ہے، بلکہ انہیں اپنے والد کی قربانی پر فخر محسوس ہو۔
سوال: بیوہ عورت کے بارے میں قرآن کریم نے کیا حق قائم فرمایا؟
جواب: بیوہ کو اس کے خاوند کے گھر میں ایک مدت تک رہنے کا حق دیا گیا۔ خطبہ میں بیان ہوا کہ عدت کی مدت چار ماہ دس دن کے علاوہ، آیت کی روشنی میں ایک سال تک گھر میں رہنے کی گنجائش ہے، اگر وہ خود وہاں رہنا چاہے۔
سوال: اگر شوہر کا مکان کسی دوسرے وارث کے حصے میں آ جائے تو کیا بیوہ کو فوراً نکالا جا سکتا ہے؟
جواب: نہیں۔ خطبہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے کے مطابق بیان کیا گیا کہ بیوہ کو زیادہ سے زیادہ سہولت دی جانی چاہئے اور اسے ایک سال تک تنگ نہیں کیا جانا چاہئے۔ کسی وارث کو یہ حق نہیں کہ بیوہ پر دباؤ ڈال کر اسے گھر سے نکال دے۔
سوال: کیا بیوہ ایک سال مکمل ہونے سے پہلے خود گھر چھوڑ سکتی ہے؟
جواب: جی ہاں۔ اگر وہ عدت پوری کرنے کے بعد اپنی مرضی سے گھر چھوڑنا چاہے تو اسے اس کا اختیار ہے۔ قرآن کریم نے اسے معروف طریق پر اپنے متعلق فیصلہ کرنے کا حق دیا ہے۔ رشتہ داروں کو بھی اس کے جائز فیصلے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔
سوال: کیا بیوہ کا دوبارہ نکاح کرنا معیوب یا خاندان کی عزت کے خلاف ہے؟
جواب: ہرگز نہیں۔ بیوہ کی شادی ایک مستحسن عمل ہے۔ بعض معاشرتی روایات میں اسے خاندان کی عزت کے خلاف سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ غلط تصور ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ کی تشریح کرتے ہوئے واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابل جھوٹی عزتوں کو ترجیح نہیں دینی چاہئے۔
سوال: مطلقہ عورت کے بارے میں قرآن کریم نے کیا بنیادی حق بیان فرمایا ہے؟
جواب: مطلقہ عورت کے لئے عدت مقرر کی گئی ہے اور عدت کے بعد اسے اپنے مستقبل کے بارے میں جائز فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ اگر اس کی شادی مناسب جگہ ہو تو رشتہ داروں کو اس میں بلاوجہ رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہئے۔
سوال: اگر مطلقہ عورت کو معلوم ہو کہ وہ حاملہ ہے تو اسے کیا کرنا چاہئے؟
جواب: اسے حمل کو چھپانا نہیں چاہئے بلکہ اپنے سابق شوہر کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا چاہئے۔ اس اطلاع سے ممکن ہے کہ شوہر کا دل نرم ہو، اصلاح کی صورت پیدا ہو اور گھر دوبارہ آباد ہو جائے۔
سوال: اگر میاں بیوی دوبارہ صلح اور ازدواجی زندگی قائم کرنا چاہیں تو رشتہ داروں کو کیا کردار ادا کرنا چاہئے؟
جواب: رشتہ داروں کو رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔ اگر دونوں اپنی غلطیوں کا احساس کرتے ہوئے اصلاح اور دوبارہ گھر بسانا چاہتے ہوں تو والدین اور رشتہ داروں کو اپنی انا، ضد یا جھوٹی غیرت کی وجہ سے اس تعلق کو ختم نہیں کرنا چاہئے۔
سوال:مطلقہ عورتوں کے حقوق کے بارے میں قرآن کریم کا ایک نہایت جامع اصول کیا ہے؟
جواب: قرآن کریم فرماتا ہے کہ عورتوں کا دستور کے مطابق مردوں پر اتنا ہی حق ہے جتنا مردوں کا عورتوں پر ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ازدواجی تعلق یک طرفہ حقوق کا نام نہیں بلکہ باہمی حقوق اور ذمہ داریوں کا عہد ہے۔
سوال: میاں بیوی کے باہمی حقوق ادا کرنے سے کیا نتیجہ پیدا ہوتا ہے؟
جواب: جب دونوں ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں تو ازدواجی تعلق مضبوط اور پائیدار ہوتا ہے۔ باہمی احترام، محبت، تعاون اور ذمہ داری گھر کے سکون اور معاشرے کے امن کا ذریعہ بنتے ہیں۔
سوال:آنحضرت ﷺ نے بہترین انسان کی کیا علامت بیان فرمائی؟
جواب: آنحضرت ﷺ نے فرمایا:خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہٖ وَ اَنَا خَیْرُکُمْ لِاَھْلِیْ یعنی تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے اہل کے ساتھ بہترین سلوک کرے، اور میں تم سب سے بڑھ کر اپنے اہل کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والا ہوں۔
سوال: شوہر کو بیوی کے ساتھ ناپسندیدگی کی صورت میں کیا تعلیم دی گئی ہے؟
جواب: قرآن کریم فرماتا ہے کہ بیویوں کے ساتھ معروف طریق پر زندگی بسر کرو۔ اگر کوئی چیز ناپسند بھی ہو تو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی میں بہت خیر رکھی ہو۔ اس لئے معمولی اختلافات کی بنیاد پر جلد بازی میں فیصلہ کرنے کے بجائے صبر، غور، دعا اور اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔
سوال: طلاق کے معاملات میں جلد بازی سے کیوں بچنا چاہئے؟
جواب: کیونکہ بعض اوقات معمولی مسائل بڑھ کر سنگین صورت اختیار کر لیتے ہیں، حالانکہ صبر اور حسنِ سلوک سے وہی گھر دوبارہ محبت اور سکون کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ اس لئے فیصلے سوچ سمجھ کر، دعا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو سامنے رکھتے ہوئے کرنے چاہئیں۔
***