سوال: خطبہ کا بنیادی موضوع کیا تھا؟
جواب: خطبہ کا بنیادی موضوع اللہ تعالیٰ کی صفت ’’الحکیم‘‘ کے لغوی، تفسیری اور عملی مفہوم کو بیان کرنا تھا۔
سوال: ’’حکیم‘‘ کے لغوی معنی کیا ہیں؟
جواب: حکیم کے معنی حکمت والا، صاحبِ علم، بہترین اشیاء کا کامل علم رکھنے والا اور امور کے اسرار و رموز کو سمجھ کر انہیں عمدگی اور مہارت سے انجام دینے والا ہیں۔
سوال: حکمت سے کیا مراد ہے؟
جواب: حکمت سے مراد افضل ترین اشیاء کا افضل علوم کے ذریعہ علم حاصل کرنا، ان کی گہرائی تک پہنچنا اور امور کو ان کے مناسب طریق پر انجام دینا ہے۔
سوال: قرآن کریم کو ’’الذکر الحکیم‘‘ کہنے کا کیا مطلب ہے؟
جواب: قرآن کریم ایسی محکم کتاب ہے جس میں کوئی اختلاف یا اضطراب نہیں۔ اس کے احکام واضح ہیں، تاہم اس کے حقیقی علوم و معارف کو سمجھنے کے لیے تقویٰ اور پاکیزہ دل ضروری ہیں۔
سوال: قرآن کریم کے علوم حاصل کرنے کے لیے تقویٰ کیوں ضروری ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے فرمان مطابق دنیوی علوم کے حصول کے لیے تقویٰ شرط نہیں، لیکن علومِ آسمانی اور اسرارِ قرآنی کی واقفیت کے لیے تقویٰ پہلی شرط ہے۔ جب تک انسان عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے احکام کو اختیار نہ کرے، قرآنی علوم کا دروازہ اس پر پوری طرح نہیں کھلتا۔
سوال: حضرت مسیح موعودؑ نے دنیوی اور قرآنی علوم میں کیا فرق بیان فرمایا؟
جواب: دنیوی علوم حاصل کرنے کے لیے صوم و صلوٰۃ اور تقویٰ شرط نہیں، جبکہ علومِ قرآن کے لیے تزکیۂ نفس، تقویٰ، عاجزی اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی کامل پابندی ضروری ہے۔
سوال: کیا دنیاوی علوم حاصل کرنا منع ہے؟
جواب: نہیں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ تشریح کے مطابق دنیاوی علوم حاصل کرنا منع نہیں، بلکہ قرآن کریم اس کی طرف رہنمائی بھی فرماتا ہے۔ البتہ صرف دنیاوی علم کو سب کچھ سمجھ لینا اور دین کو نظر انداز کرنا حکمت نہیں۔
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے مسلمانوں کی علمی حالت کے بارے میں کیا تنبیہ فرمائی؟
جواب: آپؑ نے فرمایا کہ بعض لوگ مغربی علوم و ایجادات سے متاثر ہو کر مغرب کو اپنا امام بنا لیتے ہیں، جبکہ بعض مذہبی لوگ صرف صرف و نحو کے مباحث میں الجھے رہتے ہیں؛ دونوں صورتوں میں اگر تزکیۂ نفس اور قرآن کریم کی طرف حقیقی توجہ نہیں تو قرآنی علوم سے محرومی رہتی ہے۔
سوال: مفردات امام راغبؒ کے مطابق حکمت کا کیا مطلب ہے؟
جواب: علم اور عقل کی مدد سے حق بات تک پہنچ جانا حکمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکیم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی تمام پیدا کردہ اشیاء کی کامل معرفت رکھتا ہے اور انہیں انتہائی عمدگی اور کمال کے ساتھ وجود میں لاتا ہے۔
سوال: انسان کے حکیم ہونے سے کیا مراد ہے؟
جواب: انسان کے حکیم ہونے سے مراد اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اشیاء کی معرفت حاصل کرنا اور اس علم کے مطابق نیک اور بھلائی کے کام کرنا ہے۔
سوال: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ’’اَلْعَلِیْمُ الْحَکِیْم‘‘ کی تشریح میں کیا نکتہ بیان فرمایا؟
جواب: فرشتوں نے اعتراف کیا کہ انہیں صرف اتنا ہی علم ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمایا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اللہ تعالیٰ علیم بھی ہے اور حکیم بھی؛ یعنی اس کا علم کامل اور اس کی حکمت کامل ہے۔
سوال: حضرت آدمؑ کی پیدائش کے متعلق فرشتوں کا ابتدائی سوال کیا تھا؟
جواب: فرشتوں نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ زمین میں ایسی مخلوق بنائے گا جو وہاں فساد کرے گی اور خون بہائے گی، جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تقدیس کرتے ہیں؟
سوال: اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سوال کے جواب میں کیا فرمایا؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اِنِّیْ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ‘‘ یعنی ’’میں وہ سب کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔‘‘
سوال: فرشتوں نے آخرکار کیا اعتراف کیا؟
جواب: انہوں نے اعتراف کیا: ’’لَا عِلْمَ لَنَا اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ۚ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ‘‘ یعنی ہمیں اتنا ہی علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھایا؛ یقیناً تو ہی علیم و حکیم ہے۔
سوال: انسان اور فرشتوں کے علم میں کیا فرق بیان ہوا؟
جواب: فرشتوں کا علم ان حدود کے اندر ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کی ہیں، جبکہ انسان کو علم میں ترقی کرنے کی قدرت دی گئی ہے اور وہ مختلف علوم و معارف حاصل کر سکتا ہے۔
سوال: انسان کی پیدائش میں کیا حکمت بیان ہوئی؟
جواب: انسان کو خیر و شر میں سے انتخاب کرنے کی قوت دی گئی ہے۔ وہ خیر کی طاقتوں کو اختیار کرکے محبتِ الٰہی کے جذبہ سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرسکتا ہے اور صفاتِ الٰہیہ کا مظہر بن سکتا ہے۔
سوال: انسان کو فرشتوں پر ایک نمایاں امتیاز کیا حاصل ہے؟
جواب: انسان کو علم میں ترقی کرنے اور مختلف علوم و معارف حاصل کرنے کی قدرت دی گئی ہے، جبکہ فرشتے اپنے مقررہ دائرۂ کار میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔
سوال: ’’فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا، مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ‘‘ کا مفہوم کیا ہے؟
جواب: انسان کو خیر و شر میں انتخاب کی آزادی اور صفاتِ الٰہیہ پیدا کرنے کی استعداد حاصل ہے، لیکن اس مقام تک پہنچنے کے لیے تقویٰ، مجاہدہ اور مسلسل نیکی کی محنت درکار ہے۔
سوال: انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر کیسے پیدا کرسکتا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ کی تعلیم کو سمجھ کر، تقویٰ اختیار کرکے اور خیر و نیکی کے راستے پر عمل کرکے انسان اپنی زندگی میں صفاتِ الٰہیہ کا انعکاس پیدا کرسکتا ہے۔
سوال: حکمت کے حصول میں اللہ تعالیٰ کی معرفت کی کیا اہمیت ہے؟
جواب: تمام علوم میں سب سے اعلیٰ علم اللہ تعالیٰ کی معرفت ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کا عرفان حاصل کرلے وہ حقیقی معنوں میں حکیم ہے، خواہ وہ دیگر رسمی علوم میں بہت زیادہ ماہر نہ بھی ہو۔
سوال: ’’رَأْسُ الْحِکْمَۃِ مَخَافَۃُ اللّٰہ‘‘ کا کیا مفہوم ہے؟
جواب: اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور تقویٰ حکمت کی اصل بنیاد ہے۔
سوال: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے ’’حکیم‘‘ ہونے کا ایک مفہوم کیا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ مجرموں سے مؤاخذہ کرتے ہوئے بھی حکمت کے تقاضوں کو ترک نہیں کرتا؛ وہ غالب ہونے کے باوجود اپنے تمام فیصلے حکمت اور مصلحت کے مطابق کرتا ہے۔