اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-03-07

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ10؍نومبر2023بطرز سوال وجواب

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےدَورمیں ہونے والے غزوات،غزوہ بنی غطفان ، غزوہ بحران کا تذکرہ

حضرت عثمان بن مظعونؓکی وفات کا آنحضرت ﷺ کوبہت صدمہ ہوا،وفات کے بعد آپؐنے ان کی پیشانی پر بوسہ دیا اور اس وقت آپؐکی آنکھیںپُرنم تھیں

صاحبزادی حضرت ام کلثومؓ کی وفات پر حضرت عثمانؓکو غمگین پا کر حضور ﷺنے فرمایا
’’ اگر میری سو بیٹیاں ہوتیں اور ایک ایک کر کے فوت ہو جاتیں تو میں ہر ایک کے بعد دوسری کو تجھ سے بیاہ دیتا یہاں تک کہ سو میں سے ایک بھی باقی نہ رہتی‘‘

 

 

سوال: جنت البقیع کی بنیاد اور ابتدا کے بارے میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: جنت البقیع کی بنیاد اور ابتدا کے بارے میں جو تفصیل ملی ہے وہ اس طرح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں ورود کے بعد وہاں بہت سے قبرستان تھے۔ یہودیوں کے اپنے قبرستان ہوا کرتے تھے جبکہ عربوں کے مختلف قبائل کے اپنے اپنے قبرستان تھے۔ مدینہ طیبہ چونکہ اس وقت مختلف علاقوں میں بٹا ہوا تھا اس لیے ہر قبیلہ اپنے ہی علاقے میں کھلی جگہ پر اپنی میتوں کو دفنا دیتا تھا۔ قبا کا الگ قبرستان تھا جو زیادہ مشہور تھا گو کہ وہاں چھوٹے چھوٹے کئی اَور قبرستان بھی تھے۔ قبیلہ بنو ظفر کا اپنا قبرستان تھا۔ بنو سلمہ کا اپنا الگ قبرستان تھا۔ دیگر قبرستانوں میں بنو ساعدہ کا قبرستان تھا جس کی جگہ بعد میں سوق النبی ﷺ قائم ہوا۔ جس جگہ پر مسجدنبویؐ تعمیر ہوئی وہاں بھی کھجوروں کے جھنڈ میں چند مشرکین کی قبریں تھیں۔ ان تمام قبرستانوں میں بقیع الغرقد سب سے پرانا اور مشہور قبرستان تھا اور پھرجب رسول اللہ ﷺنے اسے مسلمانوں کے قبرستان کیلئے منتخب کر لیا تو اسکے بعد سے آج تک اسے ایک منفرد اور ممتاز حیثیت حاصل رہی ہے جو ہمیشہ رہے گی۔
سوال: جنت البقیع میں سب سے پہلے کس کو دفنایا گیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: جنت البقیع میں سب پہلے جن کو دفن کیا گیا وہ حضرت عثمان بن مظعونؓتھے۔
سوال: حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے غَزوۂ بنی غَطْفَان کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آنحضرتﷺ کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ غطفان قبیلے کی شاخ بنو ثعلبہ اور بنومُحَارِبْ، ذِی اَمْر مقام پر اکٹھے ہوئے ہیں۔ ان کا ارادہ یہ ہے کہ ریاستِ مدینہ کے ارد گرد کے علاقوں پر حملہ کریں۔یہ خبر پاتے ہی رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو تیاری کرنے کا حکم دیا اور ساڑھے چار سو صحابہؓکا لشکر لے کر مدینہ سے روانہ ہوئے۔ ان کے پاس چند گھوڑے بھی تھے اور مدینہ میں رسول اللہﷺ نے حضرت عثمان بن عفانؓ کو اپنا قائمقام مقرر فرمایا۔
ماہ ربیع الاول تین ہجری میں غزوۂ غطفان پیش آیا۔ بارہ ربیع الاول کو آپؐاس غزوہ کیلئے روانہ ہوئے۔ گیارہ دن اہلِ مدینہ کو آپؐکی جدائی برداشت کرنی پڑی جس کے بعد آپ ﷺ چوبیس ربیع الاول کو واپس مدینہ تشریف لے آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے غَطْفَان کی سرکوبی کیلئے غَطْفَان کے ہاں جس جگہ پڑاؤ کیا اسکا نام ذِی امر تھا۔ اسی وجہ سے اس غزوہ کو غزوۂ ذی امر اور غطفان قبیلے کی بنا پر اسے غزوۂ بنو غطفان بھی کہاجاتا ہے۔
سوال: حضرت رقیہ ؓ کی وفات اور حضرت ام کلثوم ؓ کی شادی کی کیا تفصیل ملتی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت رقیہؓ کی وفات ہوئی اور حضرت ام کلثومؓ کی شادی ہوئی جس کی تفصیل یوں ہے جو عبدُاللہ بن مُکْنِفْ بِن حَارِثَہ انصاری نے بیان کی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺغزوۂ بدر کیلئے روانہ ہوئے تو حضرت عثمانؓ کو اپنی بیٹی حضرت رقیہؓ کے پاس چھوڑا۔ وہ بیمار تھیں اور انہوں نے اس روز وفات پائی جس دن حضرت زید بن حارثہؓ مدینہ کی طرف فتح کی خوشخبری لے کر آئے جو اللہ تعالیٰ نے بدر میں رسول اللہﷺ کو عطا فرمائی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمانؓ کیلئے بدر کے مالِ غنیمت میں حصہ مقرر فرمایا اور آپؐ کا حصہ جنگ بدر میں شامل ہونے والوں کے برابر تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت رقیہؓ کی وفات کے بعد حضرت عثمان بن عفانؓ کے ساتھ اپنی صاحبزادی حضرت اُمّ کلثومؓ کی شادی کر دی۔
سوال: رسول اللہ ﷺ نے ام کلثوم سے انکے شوہر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:رسول اللہ ﷺتین دن کے بعد حضرت ام کلثومؓ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے میری پیاری بیٹی! تم نے اپنے شوہر کو کیسا پایا؟ ام کلثوم نے عرض کیا وہ بہترین شوہر ہیں۔
سوال: حضرت ام کلثوم کی وفات پر جب رسول کریم ﷺ نےحضرت عثمان سے رونے کی وجہ پوچھی تو آپ رضی اللہ عنہ نے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک جگہ سے گزرے تو دیکھا کہ حضرت عثمانؓ وہاں بیٹھے تھے اور حضرت ام کلثومؓ بنت رسولﷺ کی وفات کے غم میں رو رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سےپوچھا: اَے عثمان! تم کس وجہ سے رو رہے ہو؟ حضرت عثمانؓ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں اس وجہ سے رو رہا ہوں کہ میرا آپؐ سے دامادی کا تعلق ختم ہو گیا ہے۔ دونوں لڑکیاں میرے سے بیاہی گئیں،دونوں فوت ہو گئیں۔ آپؐنے فرمایا کہ مت رو۔قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ اگر میری سو بیٹیاں ہوتیں اور ایک ایک کر کے فوت ہو جاتیں تو میں ہر ایک کے بعد دوسری کو تجھ سے بیاہ دیتا یہاں تک کہ سو میں سے ایک بھی باقی نہ رہتی۔
سوال: ام کلثوم کی شادی کے متعلق حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے کیا فرمایا؟
جواب: حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے اس شادی کا تذکرہ سیرت خاتم النّبیینؐ میں یوں فرمایا : رقیہ بنت رسول اللہﷺ زوجہ حضرت عثمانؓ بن عفان… کی وفات کے بعد آنحضرت ﷺ نے اپنی دوسری لڑکی ام کلثوم کی شادی جو حضرت فاطمہؓ سے بڑی مگر رقیہ سے چھوٹی تھیں، حضرت عثمانؓ سے کر دی۔ اسی وجہ سے حضرت عثمانؓ کو ’’ذوالنورین‘‘ دو نوروں والا کہتے ہیں۔ ام کلثوم کی یہ دوسری شادی تھی کیونکہ وہ اوران کی بہن رقیہ شروع میں آنحضرت ﷺ کے چچا ابولہب کے دولڑکوں سے بیاہی گئی تھیں مگر قبل اسکے کہ انکا رخصتانہ ہوتا مذہبی مخالفت کی بناء پر یہ رشتہ منقطع ہو گیا۔ آنحضرتﷺ نے پہلے حضرت عثمانؓ سے رقیہ ؓکی شادی کی اوررقیہ کی وفات کے بعد ام کلثومؓ کی شادی کر دی مگر افسوس ہے کہ ان دونوں صاحبزادیوں کی نسل کاسلسلہ نہیں چلا کیونکہ ام کلثوم کا تو کوئی بچہ ہوا ہی نہیں اور رقیہ کا صاحبزادہ عبداللہ چھ سال کاہوکر وفات پا گیا۔ ام کلثومؓ کانکاح ربیع الاول تین ہجری میں ہوا تھا۔
سوال: حضرت عثمان بن مظعونؓکی وفات کا رسول کریم ﷺپر کیا اثر ہوا؟
جواب: حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:حضرت عثمان بن مظعونؓ کی وفات کا آنحضرت ﷺ کوبہت صدمہ ہوا اور روایت آتی ہے کہ وفات کے بعد آپؐنے ان کی پیشانی پر بوسہ دیا اور اس وقت آپؐکی آنکھیں پرنم تھیں۔
سوال: غزوۂ بُحْرَان کے بارے میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: غزوہ بُحْرَان کو غزوۂ بَنُوسُلَیم بھی کہا جاتا ہے۔ بحران وادی فُرُعْ کے نواح میں اہلِ حجاز کی ایک معدنیات کی کان ہے اور وادی فُرُعْ مدینہ سے چھیانوے میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ آنحضرت ﷺ کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ بنو سلیم کی بھاری تعداد بحران میں جمع ہے تو آپﷺ حضرت عبداللہ بن ام مکتومؓ کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر فرما کر تین سو صحابہؓ کا لشکر لے کر بحران کی طرف نکلے تاہم آپﷺ نے نکلنے کی وجہ ظاہر نہیں کی اور جب اسلامی لشکر بحران سے ایک رات کے فاصلے پر پہنچا تو وہاں انہیں بنو سلیم کا ایک آدمی ملا۔ اس نے آنحضرت ﷺکو بتایا کہ وہ لوگ منتشر ہو گئے ہیں آپ ﷺ نے اس شخص کو ایک صحابی کے سپرد کر دیا اور آگے روانہ ہو گئے یہاں تک کہ بحران پہنچ گئے۔ آپؐ نے وہاں کسی کو نہ پایا کیونکہ سب اپنے اپنے پانی کے مقامات کی طرف منتشر ہو چکے تھے۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ واپس لوٹ گئے اور جنگ کی کوئی نوبت نہ آئی۔ رسول اللہﷺ اس غزوہ کیلئے چھ جمادی الاولیٰ کو مدینہ سے نکلے اور دس راتیں باہر رہنے کے بعد آپؐسولہ جمادی الاولیٰ کو واپس تشریف لے آئے۔
…٭…٭…٭…