اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2026-01-22

تقویٰ اور خدا ترسی علم سے پیدا ہوتی ہے

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:
’’تقویٰ اور خدا ترسی علم سے پیدا ہوتی ہے۔ جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا (فاطر: 29) یعنی اللہ تعالیٰ سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو عالِم ہیں۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی علم خَشْیَۃ اللّٰہ کو پیدا کر دیتا ہے۔ اور خدا تعالیٰ نے علم کو تقویٰ سے وابستہ کیا ہے کہ جوشخص پورے طور پر عالم ہو گا اُس میں ضرورخَشْیَۃ اللّٰہ پیدا ہو گی‘‘۔ فرمایا ’’علم سے مراد میری دانست میں علم القرآن ہے۔ اس سے فلسفہ، سائنس یا اَور علومِ مروّجہ مرادنہیں۔ کیونکہ اُن کے حصول کے لئے تقویٰ اور نیکی کی شرط نہیں۔ بلکہ جیسے ایک فاسق فاجر اُن کو سیکھ سکتا ہے ویسے ہی ایک دیندار بھی۔ لیکن علم القرآن بجز متّقی اور دیندار کے کسی دوسرے کو دیا ہی نہیں جاتا۔ پس اس جگہ علم سے مراد علم القرآن ہی ہے جس سے تقویٰ اور خشیت پیدا ہوتی ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد 4صفحہ599۔ ایڈیشن 2003ء۔ مطبوعہ ربوہ)
پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
’’علماء کے لفظ سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے۔ عالِم وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا (فاطر: 29) یعنی بیشک جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، اُس کے بندوں میں سے وہی عالم ہیں۔ ان میں عبودیت تامہ اور خَشْیَۃ اللّٰہ اس حد تک پیدا ہوتی ہے کہ وہ خود اللہ تعالیٰ سے ایک علم اور معرفت سیکھتے ہیں اور اُسی سے فیض پاتے ہیں اور یہ مقام اور درجہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع اور آپ سے پوری محبت سے ملتا ہے یہاں تک کہ انسان بالکل آپؐکے رنگ میں رنگین ہو جاوے‘‘۔ (ملفوظات جلد 4صفحہ433-434۔ ایڈیشن 2003ء۔ مطبوعہ ربوہ)