اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2026-02-19

نماز تزکیہ نفس کرتی ہے اور روزہ تجلّی قلب کرتا ہے

رمض سورج کی تپش کو کہتے ہیں ، رمضان میں چونکہ انسان اکل و شرب اور تمام جسمانی لذتوں پر صبر کرتا ہے دوسرے اللہ تعالیٰ کے احکام کے لئے ایک حرارت اور جوش پیدا کرتا ہے، روحانی اور جسمانی حرارت اور تپش مل کر رمضان ہوا۔اہل لغت جو کہتے ہیں کہ گرمی کے مہینہ میں آیا اس لئے رمضان کہلایا، میرے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے۔کیونکہ عرب کے لئے یہ خصوصیت نہیں ہوسکتی۔روحانی رمض سے مُراد روحانی ذوق و شوق اور حرارت دینی ہوتی ہے، رمض اُس حرارت کو بھی کہتے ہیں جس سے پتھر وغیرہ گرم ہو جاتے ہیں۔(الحکم جلد ۵ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۱ صفحہ ۲)
شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذیْ اُنْزِلَ فِيْہِ الْقُرْآنُ ہی ایک فقرہ ہے جس سے ماہِ رمضان کی عظمت معلوم ہوتی ہے۔صوفیا نے لکھا ہے کہ یہ ماہ تنویر قلب کے لئے عمدہ مہینہ ہے کثرت سے اس میں مکاشفات ہوتے ہیں صلوۃ تزکیہ نفس کرتی ہے اور صوم ( روزہ ) تجلی قلب کرتا ہے۔تزکیہ نفس سے مراد یہ ہے کہ نفس امارہ کی شہوات سے بُعد حاصل ہو جاوے اورتجلّی قلب سے یہ مراد ہے کہ کشف کا دروازہ اس پر کھلے کہ خدا کو دیکھ لیوے۔پس أُنزِلَ فِيْہِ الْقُرْآنُ میں یہی اشارہ ہے اس میں شک وشبہ کوئی نہیں ہے روزہ کا اجر عظیم ہے لیکن امراض اور اغراض اس نعمت سے انسان کو محروم رکھتے ہیں۔(البدر جلد نمبر۷ مورخہ ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحہ ۵۲)