اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2026-02-26

مومن کو چاہئے کہ وہ اپنے وجود سے اپنے آپ کو خداتعالیٰ کی راہ میں دلاور ثابت کرے

اگر خدا چاہتا تو دوسری امتوں کی طرح اس اُمت میں کوئی قید نہ رکھتا مگر اس نے قیدیں بھلائی کے واسطے رکھی ہیں۔میرے نزدیک اصل یہی ہے کہ جب انسان صدق اور کمال اخلاص سے باری تعالی میں عرض کرتا ہے کہ اس مہینے میں تو مجھے محروم نہ رکھ تو خدا اسے محروم نہیں رکھتا اور ایسی حالت میں اگر انسان ماہ رمضان میں بیمار ہو جاوے تو یہ بیماری اس کے حق میں رحمت ہوتی ہے کیونکہ ہر ایک عمل کا مدار نیت پر ہے۔مومن کو چاہئے کہ وہ اپنے وجود سے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں دلاور ثابت کر دے جو شخص کہ روزے سے محروم رہتا ہے مگر اس کے دل میں یہ نیت در ددل سے تھی کہ کاش میں تندرست ہوتا اور روزہ رکھتا اور اس کا دل اس بات کے لئے گریاں ہے تو فرشتے اُس کے لئے روزے رکھیں گے بشرطیکہ وہ بہانہ جو نہ ہو تو خدا تعالیٰ ہرگز اُسے ثواب سے محروم نہ رکھے گا۔یہ ایک بار یک امر ہے کہ اگر کسی شخص پر (اپنے نفس کی کسل کی وجہ سے ) روزہ گراں ہے اور وہ اپنے خیال میں گمان کرتا ہے کہ میں بیمار ہوں اور میری صحت ایسی ہے کہ اگر ایک وقت نہ کھاؤں تو فلاں فلاں عوارض لاحق حال ہوں گے اور یہ ہوگا اور وہ ہوگا تو ایسا آدمی جو خدا کی نعمت کو خود اپنے او پر گراں گمان کرتا ہے کب اُس ثواب کا مستحق ہوگا۔ہاں وہ شخص جس کا دل اس بات سے خوش ہے کہ رمضان آ گیا اور اس کا منتظر میں تھا کہ آوے اور روزہ رکھوں اور پھر وہ بوجہ بیماری کے نہیں رکھ سکا تو وہ آسمان پر روزے سے محروم نہیں ہے۔
(تفسیر مسیح موعودؑجلد اول ،مطبوعہ نظارت نشرو اشاعت قادیان ایڈیشن دوئم سن اشاعت 2004ءصفحہ 262)