حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں :ـ ’’ہمارے مذہب کا خلاصہ اور لبّ لباب یہ ہے کہ لاالٰہ الّا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ ہمارا اعتقاد جو ہم اس دنیوی زندگی میں رکھتے ہیں جس کے ساتھ ہم بفضل و توفیق باری تعالیٰ اس عالم گذران سے کوچ کریں گے یہ ہے کہ حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیّین و خیر المرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہو چکا اور وہ نعمت بمرتبہ اتمام پہنچ چکی جس کے ذریعہ سے انسان راہ راست کو اختیار کر کے خدائے تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے اور ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے اور ایک شعشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہو سکتااور نہ کم ہو سکتا ہے اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتا جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل یا تغییر کر سکتا ہو اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور مُلحد اور کافر ہے‘‘
(ازالہ اوہام ،روحانی خزائن جلد3 صفحہ169 تا 170)
مجھے اُس خدا کی قسم ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس پر افتراء کرنا لعنتیوں کا کام ہے کہ اُس نے مسیح موعود بنا کر مجھے بھیجا ہے اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اُس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی . جس کی سچائی اس کے متواتر نشانوں سے مجھ پر کھل گئی ہے اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔ (ایک غلطی کا ازالہ ص۸، ۹ مطبوعہ ۱۹۰۱ء)
بریلی کے ایک شخص نے حضرت بانیٔ جماعت احمدیہ مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لکھا کہ کیا آپ وہی مسیح موعود ہیں جس کی نسبت رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وسلم) نے احادیث میں خبر دی ہے اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر اس کا جواب لکھیں۔ اس پر حضور نے اسے حلفاً تحریر فرمایا کہ:۔
میں نے پہلے بھی اس اقرارِ مفصل ذیل کو اپنی کتابوں میں قسم کے ساتھ لوگوں پر ظاہر کیا ہے اور اب بھی اس پرچہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر لکھتا ہوں جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ میں وہی مسیح موعود ہوں جس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان احادیثِ صحیحہ میں دی ہے جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم اور دوسری صحاح میں درج ہیں وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًا۔ (روحانی خزائن ملفوظات جلد ۱ صفحہ ۳۲۶ ، ۳۲۷)