اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2026-03-12

تبرکات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام

میں خدا تعالیٰ کے ان تمام الہامات پر جو مجھے ہو رہے ہیں ایسا ہی ایمان رکھتا ہوں
جیسا کہ توریت اور انجیل اور قرآن مقدس پر ایمان رکھتا ہوں
میں خدا تعالیٰ کے ان تمام الہامات پر جو مجھے ہو رہے ہیں ایسا ہی ایمان رکھتا ہوں جیسا کہ توریت اور انجیل اور قرآن مقدس پر ایمان رکھتا ہوں اور میں اس خدا تعالیٰ کو جانتا اور پہچانتا ہوں جس نے مجھے بھیجا ہے…سومیں اس وحی پاک سے ایسا ہی کامل حصہ رکھتا ہوں جیسا کہ خدا تعالیٰ کے کامل قرب کی حالت میں انسان رکھ سکتا ہے۔جب انسان ایک پُر جوش محبت کی آگ میں ڈالا جاتا ہے جیسا کہ تمام نبی ڈالے گئے تو پھر اس کی وحی کے ساتھ اضغاث احلام نہیں رہتے بلکہ جیسا کہ خشک گھاس تنور میں جل جاتا ہے ویسا ہی وہ تمام اوہام اور نفسانی خیالات جل جاتے ہیں اور خالص خدا کی وحی رہ جاتی ہے۔اور یہ وحی صرف انہی کو ملتی ہے جو دنیا میں کمال صفا، محبت اور محویت کی وجہ سے نبیوں کے رنگ میں ہو جاتے ہیں جیسا کہ براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۰۴ اٹھارہویں سطر میں یہ الہام میری نسبت ہے ’’جرِي اللّهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ‘‘یعنی خدا کا فرستادہ نبیوں کے حلہ میں۔سو میں شکی اور ظنی الہام کے ساتھ نہیں بھیجا گیا بلکہ یقینی اور قطعی وحی کے ساتھ بھیجا گیا ہوں…مجھے اس خدا کی قسم ہے کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مجھے دلائل قاطعہ سے یہ علم دیا گیا ہے اور ہر ایک وقت میں دیا جاتا ہے کہ جو کچھ مجھے القاء ہوتا ہے اور جو وحی میرے پر نازل ہوتی ہے وہ خدا کی طرف سے ہے نہ شیطان کی طرف سے۔میں اس پر ایسا ہی یقین رکھتا ہوں جیسا کہ آفتاب اور ماہتاب کے وجود پر یا جیسا کہ اس بات پر کہ دو اور دو چار ہوتے ہیں۔ہاں جب میں اپنی طرف سے کوئی اجتہاد کروں یا اپنی طرف سے کسی الہام کے معنے کروں تو ممکن ہے کہ کبھی اس معنی میں غلطی بھی کھاؤں۔مگر میں اس غلطی پر قائم نہیں رکھا جاتا۔اور خدا کی رحمت جلد تر مجھے حقیقی انکشاف کی راہ دکھا دیتی ہے اور میری روح خدا کے فرشتوں کی گود میں پرورش پاتی ہے۔ (تبلیغ رسالت جلد ہشتم صفحہ ۶۴ ، ۶۵ )
یہ عاجز بھی اس صدی کے سر پر خدا تعالیٰ کی طرف سے مجد د کا خطاب پاکر مبعوث ہوا
جب تیرھویں صدی کا اخیر ہوا اور چودھویں صدی کا ظہور ہونے لگا تو خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے مجھے خبر دی کہ تو اس صدی کا مجدد ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ :’’ الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا أُنْذِرَ ابَآءُ هُمْ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ ۔ قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ ‘‘
یعنی خدا نے تجھے قرآن سکھلایا اور اُس کے صحیح معنے تیرے پر کھول دیئے۔یہ اس لئے ہوا کہ تا تو ان لوگوں کو بد انجام سے ڈراوے کہ جو باعث پشت در پشت کی غفلت اور نہ متنبہ کئے جانے کے غلطیوں میں پڑ گئے اور تا ان مجرموں کی راہ کھل جائے کہ جو ہدایت پہنچنے کے بعد بھی راہ راست کو قبول کرنا نہیں چاہتے۔ان کو کہہ دے کہ میں مامور من اللہ اور اول المومنین ہوں۔ (کتاب البریہ حاشیہ 201)
اما بعد واضح ہو کہ موافق اس سنت غیر متبدلہ کے ہر یک غلبہ تاریکی کے وقت خدا تعالیٰ اس امتِ مرحومہ کی تائید کے لئے توجہ فرماتا ہے اور مصلحت عامہ کے لئے کسی اپنے بندہ کو خاص کر کے تجدید دین متین کے لئے مامور فرما دیتا ہے۔یہ عاجز بھی اس صدی کے سر پر خدا تعالیٰ کی طرف سے مجد د کا خطاب پاکر مبعوث ہوا۔اور جس نوع اور قسم کے فتنے دنیا میں پھیل رہے تھے۔ان کے رفع اور دفع اور قلع قمع کے لئے وہ علوم اور وسائل اس عاجز کو عطا کئے گئے کہ جب تک خاص عنایت الہی ان کو عطا نہ کرے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتے۔(کرامات الصادقین صفحہ 3)
جب خدا تعالیٰ نے زمانہ کی موجودہ حالت کو دیکھ کر اور زمین کو طرح طرح کے فسق اور معصیت اور گمراہی سے بھرا ہوا پا کر مجھے تبلیغ حق اور اصلاح کے لئے مامور فرمایا اور یہ زمانہ بھی ایسا تھا کہ اس دنیا کے لوگ تیرھویں صدی ہجری کو ختم کر کے چودھویں صدی کے سر پر پہنچ گئے تھے۔تب میں نے اس حکم کی پابندی سے عام لوگوں میں بذریعہ تحریری اشتہارات اور تقریروں کے یہ ندا کرنی شروع کی کہ اس صدی کے سر پر جو خدا کی طرف سے تجدید دین کے لئے آنے والا تھا وہ میں ہی ہوں تا وہ ایمان جو زمین پر سے اُٹھ گیا ہے اُس کو دوبارہ قائم کروں اور خدا سے قوت پا کر اسی کے ہاتھ کی کشش سے دنیا کو صلاح اور تقویٰ اور راستبازی کی طرف کھینچوں۔اور اُن کی اعتقادی اور عملی غلطیوں کو دُور کروں اور پھر جب اس پر چند سال گزرے تو بذریعہ وحی الہی میرے پر بتصریح کھولا گیا کہ وہ مسیح جو اس اُمت کے لئے ابتداء سے موعود تھا اور وہ آخری مہدی جو تنزل اسلام کے وقت اور گمراہی کے پھیلنے کے زمانہ میں براہِ راست خدا سے ہدایت پانے والا اور اس آسمانی مائدہ کو نئے سرے انسانوں کے آگے پیش کرنے والا تقدیر الہی میں مقرر کیا گیا تھا جس کی بشارت آج سے تیرہ سو برس پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی وہ میں ہی ہوں اور مکالمات الہیہ اور مخاطبات رحمانیہ اس صفائی اور تواتر سے اس بارے میں ہوئے کہ شک وشبہ کی جگہ نہ رہی۔ہر ایک وحی جو ہوتی تھی ایک فولادی میخ کی طرح دل میں دھنستی تھی اور یہ تمام مکالمات الہیہ ایسی عظیم الشان پیشگوئیوں سے بھرے ہوئے تھے کہ روز روشن کی طرح وہ پوری ہوتی تھیں اور اُن کے تو اتر اور کثرت اور اعجازی طاقتوں کے کرشمہ نے مجھے اس بات کے اقرار کے لئے مجبور کیا کہ یہ اُسی وحدہ لاشریک خدا کا کلام ہے جس کا کلام قرآن شریف ہے۔اور میں اس جگہ توریت اور انجیل کا نام نہیں لیتا کیونکہ توریت اور انجیل تحریف کرنے والوں کے ہاتھوں سے اس قدر محرف و مبدل ہو گئی ہیں کہ اب ان کتابوں کو خدا کا کلام نہیں کہہ سکتے۔غرض وہ خدا کی وحی جو میرے پر نازل ہوئی ایسی یقینی اور قطعی ہے کہ جس کے ذریعہ سے میں نے اپنے خدا کو پایا اور وہ وحی نہ صرف آسانی نشانوں کے ذریعہ مرتبہ حق الیقین تک پہنچی بلکہ ہر ایک حصہ اس کا جب خدا تعالیٰ کے کلام قرآن شریف پر پیش کیا گیا تو اس کے مطابق ثابت ہوا اور اس کی تصدیق کے لئے بارش کی طرح نشان آسمانی بر سے۔ ( تذکرۃ الشہادتین صفحہ۱و۲)
مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا
مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا۔میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔(کشتی نوح:77)
یہ سوال باقی رہا کہ اس زمانہ میں امام الزمان کون ہے جس کی پیروی تمام عام مسلمانوں اور زاہدوں اور خواب بینوں اور ملہموں کو کرنی خدا تعالیٰ کی طرف سے فرض قرار دیا گیا ہے۔سوئیں اس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور عنایت سے وہ امام الزمان میں ہوں اور مجھ میں خدا تعالیٰ نے وہ تمام علامتیں اور تمام شرطیں جمع کی ہیں اور اس صدی کے سر پر مجھے مبعوث فرمایا ہے…یادر ہے کہ امام الزمان کے لفظ میں نبی ، رسول ، محدّث ، مجد دسب داخل ہیں۔مگر جو لوگ ارشاد اور ہدایت خلق اللہ کے لئے مامور نہیں ہوئے اور نہ وہ کمالات اُن کو دیئے گئے وہ گو ولی ہوں یا ابدال ہوں امام الزمان نہیں کہلا سکتے۔ ( ضرورۃ الامام24)
یہ تمام شرف مجھے صرف ایک نبی کی پیروی سے ملا ہے جس کے مدارج اور مراتب سے دنیا بے خبر ہے یعنی سید نا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں اپنے خدائے پاک کے یقینی اور قطعی مکالمہ سے مشرف ہوں اور قریباً ہر روز مشرف ہوتا ہوں اور وہ خدا جس کو یسوع مسیح کہتا ہے کہ تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔میں دیکھتا ہوں کہ اُس نے مجھے نہیں چھوڑا اور مسیح کی طرح میرے پر بھی بہت حملے ہوئے مگر ہر ایک حملہ میں دشمن ناکام رہے۔اور مجھے پھانسی دینے کے لئے منصوبہ کیا گیا مگر میں مسیح کی طرح صلیب پر نہیں چڑھا بلکہ ہر ایک بلا کے وقت میرے خدا نے مجھے بچایا اور میرے لئے اس نے بڑے بڑے معجزات دکھلائے اور بڑے بڑے قومی ہاتھ دکھلائے۔اور ہزار ہانشانوں سے اُس نے مجھ پر ثابت کر دیا کہ خدا وہی خدا ہے جس نے قرآن کو نازل کیا اور جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔اور میں عیسی مسیح کو ہرگز ان امور میں اپنے پر کوئی زیادت نہیں دیکھتا یعنی جیسے اُس پر خدا کا کلام نازل ہوا ایسا ہی مجھ پر بھی ہوا اور جیسے اُس کی نسبت معجزات منسوب کئے جاتے ہیں میں یقینی طور پر اُن معجزات کا مصداق اپنے نفس کو دیکھتا ہوں بلکہ اُن سے زیادہ اور یہ تمام شرف مجھے صرف ایک نبی کی پیروی سے ملا ہے جس کے مدارج اور مراتب سے دنیا بے خبر ہے یعنی سید نا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔یہ عجیب ظلم ہے کہ جاہل اور نادان لوگ کہتے ہیں کہ عیسی آسمان پر زندہ ہے حالانکہ زندہ ہونے کے علامات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں پاتا ہوں۔وہ خدا جس کو دنیا نہیں جانتی ہم نے اس خدا کو اس کے نبی کے ذریعہ سے دیکھ لیا اور وہ وحی الہی کا دروازہ جو دوسری قوموں پر بند ہے ہمارے پر محض اس نبی کی برکت سے کھولا گیا اور وہ معجزات جو غیر قو میں صرف قصوں اور کہانیوں کے طور پر بیان کرتی ہیں ہم نے اس نبی کے ذریعہ سے وہ معجزات بھی دیکھ لئے اور ہم نے اس نبی کا وہ مرتبہ پایا جس کے آگے کوئی مرتبہ نہیں۔مگر تعجب کہ دنیا اس سے بے خبر ہے۔مجھے کہتے ہیں کہ مسیح موعود ہونے کا کیوں دعویٰ کیا مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس نبی کی کامل پیروی سے ایک شخص عیسی سے بڑھ کر بھی ہو سکتا ہے۔اندھے کہتے ہیں یہ کفر ہے۔میں کہتا ہوں کہ تم خود ایمان سے بے نصیب ہو۔پھر کیا جانتے ہو کہ کفر کیا چیز ہے۔کفر خود تمہارے اندر ہے۔اگر تم جانتے کہ اس آیت کے کیا معنے ہیں کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۔ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ تو ایسا کفر منہ پر نہ لاتے۔خدا تو تمہیں یہ ترغیب دیتا ہے کہ تم اس رسول کی کامل پیروی کی برکت سے تمام رسولوں کے متفرق کمالات اپنے اندر جمع کر سکتے ہو۔اور تم صرف ایک نبی کے کمالات حاصل کرنا کفر جانتے ہو۔ (چشمہ مسیحی صفحہ 27تا 28)
میرا انکار میرا انکار نہیں ہے بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار ہے
میرا انکار میرا انکار نہیں ہے بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار ہے کیونکہ جو میری تکذیب کرتا ہے وہ میری تکذیب سے پہلے معاذ اللہ اللہ تعالیٰ کو جھوٹا ٹھہرا لیتا ہے…میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ الحمد سے لے کر والناس تک سارا قرآن چھوڑنا پڑے گا۔پھر سوچو! کہ کیا میری تکذیب کوئی آسان امر ہے۔ میں از خود میں از خود نہیں کہتا خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حق یہی ہے کہ جو مجھے چھوڑے گا اور میری تکذیب کرے گا ۔وہ زبان سے نہ کرے مگر اپنے عمل سے اُس نے سارے قرآن کی تکذیب کر دی اور خدا کو چھوڑ دیا۔ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 14)
جن نا پاک طبع لوگوں نے تکفیر پر کمر باندھی ہے ان کے مقابل پر ایسے لوگ بھی بہت ہیں جن کو عالم رؤیا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اور انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عاجز کی نسبت دریافت کیا اور آپ نے فرمایا کہ وہ شخص در حقیقت منجانب اللہ ہے اور اپنے دعوی میں صادق ہے۔چنانچہ ایسے لوگوں کی بہت سی شہادتیں ہمارے پاس موجود ہیں۔جس شخص کو اس تحقیق کا شوق ہے وہ ہم سے اس کا ثبوت لے سکتا ہے۔ (ضمیمہ انجام آتھم صفحہ 343)
مُجھے قرآن کے حقائق اور معارف کے سمجھنے میں ہر ایک رُوح پر غلبہ دیا گیا ہے
مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مجھے قرآن کے حقائق اور معارف کے سمجھنے میں ہر ایک رُوح پر غلبہ دیا گیا ہے۔اور اگر کوئی مولوی مخالف میرے مقابل پر آتا جیسا کہ میں نے قرآنی تفسیر کے لئے بار باران کو بلایا تو خدا اس کو ذلیل اور شرمندہ کرتا۔سوفہم قرآن جو مجھ کو عطا کیا گیا یہ اللہ جلّ شانہ کا ایک نشان ہے۔میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ عنقریب دنیا دیکھے گی کہ میں اس بیان میں سچا ہوں۔ (سراج منیرصفحہ 41)
(۱) خدا نے مجھے قرآنی معارف بخشے ہیں۔
(۲) خدا نے مجھے قرآن کی زبان میں اعجاز عطا فرمایا ہے۔
(۳) خدا نے میری دعاؤں میں سب سے بڑھ کر قبولیت رکھی ہے۔
(۴) خدا نے مجھے آسمان سے نشان دیئے ہیں۔
(۵) خدا نے مجھے زمین سے نشان دیئے ہیں۔
(۶) خدا نے مجھے وعدہ دے رکھا ہے کہ تجھ سے ہر ایک مقابلہ کرنے والا مغلوب ہوگا۔
(۷) خدا نے مجھے بشارت دی ہے کہ تیرے پیرو ہمیشہ اپنے دلائل صدق میں غالب رہیں گے۔اور دنیا میں اکثر وہ اور اُن کی نسل بڑی بڑی عزتیں پائیں گے تا اُن پر ثابت ہو کہ جو خدا کی طرف آتا ہے وہ کچھ نقصان نہیں اٹھاتا۔
(۸) خدا نے مجھے وعدہ دے رکھا ہے کہ قیامت تک اور جب تک کہ دنیا کا سلسلہ منقطع ہو جائے میں تیری برکات ظاہر کرتا رہوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔
(۹) خدا نے آج سے بیس برس پہلے مجھے بشارت دی ہے کہ تیرا انکار کیا جائے گا اور لوگ تجھے قبول نہیں کریں گے پر میں تجھے قبول کروں گا اور بڑے زور آور حملوں سے تیری سچائی ظاہر کر دوں گا۔
(۱۰) اور خدا نے مجھے وعدہ دیا ہے کہ تیری برکات کا دوبارہ نور ظاہر کرنے کے لئے تجھ سے ہی اور تیری ہی نسل میں سے ایک شخص کھڑا کیا جائے گا جس میں میں روح القدس کی برکات پھونکوں گا۔وہ پاک باطن اور خدا سے نہایت پاک تعلق رکھنے والا ہو گا اور مظہر الحق والعلا ہو گا گویا خدا آسمان سے نازل ہوا۔ وَ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ۔دیکھو وہ زمانہ چلا آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا اس سلسلہ کی دنیا میں بڑی قبولیت پھیلائے گا اور یہ سلسلہ مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب میں پھیلے گا اور دنیا میں اسلام سے مراد یہی سلسلہ ہوگا۔یہ باتیں انسان کی باتیں نہیں۔یہ اس خدا کی وحی ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔ (تحفہ گولڑویہ صفحہ 90)
میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تا ایمانوں کو قوی کروں اور خدا تعالیٰ کا وجود لوگوں پر ثابت کر کے دکھلاؤں
میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تا ایمانوں کو قوی کروں اور خدا تعالیٰ کا وجود لوگوں پر ثابت کر کے دکھلاؤں کیونکہ ہر ایک قوم کی ایمانی حالتیں نہایت کمزور ہو گئی ہیں اور عالم آخرت صرف ایک افسانہ سمجھا جاتا ہے اور ہر ایک انسان اپنی عملی حالت سے بتا رہا ہے کہ وہ جیسا کہ یقین دنیا اور دنیا کی جاہ ومراتب پر رکھتا ہے اور جیسا کہ اُس کو بھروسہ دنیوی اسباب پر ہے یہ یقین اور یہ بھروسہ ہرگز اس کو خدا تعالیٰ اور عالم آخرت پر نہیں۔زبانوں پر بہت کچھ ہے مگر دلوں میں دنیا کی محبت کا غلبہ ہے۔حضرت مسیح نے اسی حالت میں یہود کو پایا تھا۔اور جیسا کہ ضعف ایمان کا خاصہ ہے یہود کی اخلاقی حالت بھی بہت خراب ہو گئی تھی اور خدا کی محبت ٹھنڈی ہوگئی تھی۔اب میرے زمانہ میں بھی یہی حالت ہے۔ سو میں بھیجا گیا ہوں کہ تا سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو۔سو یہی افعال میرے وجود کی علت غائی ہیں۔مجھے بتلایا گیا ہے کہ پھر آسمان زمین سے نزدیک ہو گا بعد اس کے کہ بہت دُور ہو گیا تھا۔سومَیں ان ہی باتوں کا مجدد ہوں اور یہی کام ہیں جن کے لئے میں بھیجا گیا ہوں۔ ( کتاب البریہ صفحہ 293تا 294)
اب اتمام حجت کے لئے میں یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ اُسی کے موافق جو ابھی میں نے ذکر کیا ہے خدائے تعالیٰ نے اس زمانہ کو تاریک پا کر اور دنیا کو غفلت اور کفر اور شرک میں غرق دیکھ کر اور ایمان اور صدق اور تقویٰ اور راستبازی کو زائل ہوتے ہوئے مشاہدہ کر کے مجھے بھیجا ہے تاکہ وہ دوبارہ دنیا میں علمی اور عملی اور اخلاقی اور ایمانی سچائی کو قائم کرے اور تا اسلام کو ان لوگوں کے حملہ سے بچائے جو فلسفیت اورنیچریت اور اباحت اور شرک اور دہریت کے لباس میں اس الٰہی باغ کو کچھ نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ (آئینہ کمالات اسلام صفحہ 251)
وہ کام جس کے لئے خدا نے مجھے مامور فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ سچائی کے اظہار سے مذہبی جنگوں کا خاتمہ کر کے صلح کی بنیاد ڈالوں
وہ کام جس کے لئے خدا نے مجھے مامور فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ خدا میں اور اس کی مخلوق کے رشتہ میں جو کدورت واقعہ ہوگئی ہے اس کو دور کر کے محبت اور اخلاص کے تعلق کو دوبارہ قائم کروں اور سچائی کے اظہار سے مذہبی جنگوں کا خاتمہ کر کے صلح کی بنیاد ڈالوں اور وہ دینی سچائیاں جو دنیا کی آنکھ سے مخفی ہو گئی ہیں ان کو ظاہر کر دوں اور وہ روحانیت جو نفسانی تاریکیوں کے نیچے دب گئی ہے اس کا نمونہ دکھاؤں اور خدا کی طاقتیں جو انسان کے اندر داخل ہوکر توجہ یا دعا کے ذریعہ سے نمودار ہوتی ہیں حال کے ذریعہ سے نہ محض مقال سے اُن کی کیفیت بیان کروں اور سب سے زیادہ یہ کہ وہ خالص اور چمکتی ہوئی تو حید جو ہر ایک قسم کے شرک کی آمیزش سے خالی ہے جواب نابود ہو چکی ہے اس کا دوبارہ قوم میں دائمی پودا لگا دوں اور یہ سب کچھ میری قوت سے نہیں ہو گا بلکہ اس خدا کی طاقت سے ہو گا جو آسمان اور زمین کا خدا ہے۔ (لیکچر لاہورصفحہ47)
براہین احمدیہ میں یہ پیشگوئی ہے۔ يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللّهُ مُتِمُّ نُورِه وَلَوْكَرِهَ الْكَافِرُونَ یعنی مخالف لوگ ارادہ کریں گے کہ نورِ خدا کو اپنے مُنہ کی پھونکوں سے بجھا دیں مگر خدا اپنے نور کو پورا کرے گا اگر چہ منکر لوگ کراہت ہی کریں۔
یہ اس وقت کی پیشگوئی ہے جبکہ کوئی مخالف نہ تھا بلکہ کوئی میرے نام سے بھی واقف نہ تھا۔پھر بعد اس کے حسب بیان پیشگوئی دنیا میں عزت کے ساتھ میری شہرت ہوئی اور ہزاروں نے مجھے قبول کیا۔تب اس قدر مخالفت ہوئی کہ مکہ معظمہ سے اہل مکہ کے پاس خلاف واقعہ باتیں بیان کر کے میرے لئے کفر کے فتوے منگوائے گئے اور میری تکفیر کا دنیا میں ایک شور ڈالا گیا۔قتل کے فتوے دیئے گئے۔حکام کو اکسایا گیا۔عام لوگوں کو مجھ سے اور میری جماعت سے بیزار کیا گیا۔غرض ہر ایک طرح سے میرے نابود کرنے کے لئے کوشش کی گئی۔مگر خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کے مطابق یہ تمام مولوی اور ان کے ہم جنس اپنی کوششوں میں نامراد اور ناکام رہے۔افسوس کس قدر مخالف اندھے ہیں۔ان پیشگوئیوں کی عظمت کو نہیں دیکھتے کہ کس زمانہ کی ہیں اور کس شوکت اور قدرت کے ساتھ پوری ہوئیں۔کیا بجز خدا تعالیٰ کے یہ کسی اور کا کام ہے؟ اگر ہے تو اس کی نظیر پیش کرو۔نہیں سوچتے کہ اگر یہ انسان کا کاروبار ہوتا اور خدا کی مرضی کے مخالف ہوتا تو وہ اپنی کوششوں میں نامراد نہ رہتے۔کس نے ان کو نامراد رکھا؟ اسی خدا نے جو میرے ساتھ ہے۔ (حقیقۃ الوحی صفحہ 230)
اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کا نام سُلْطَانُ القَلَم رکھا اور میرے قلم کو ذوالفقار فرمایا
اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کا نام سُلْطَانُ القَلَم رکھا اور میرے قلم کو ذوالفقار فرمایا (تذکرہ صفحہ 421)
ید بیضا کہ با اوتابندہ باز باذوالفقار مے بینم
یعنی اس کا وہ روشن ہاتھ جو اتمام کے حجت کی رو سے تلوار کی طرح چمکتا ہے۔پھر میں اس کو ذوالفقار کے ساتھ دیکھتا ہوں۔یعنی ایک زمانہ ذوالفقار کا تو وہ گذر گیا کہ جب ذوالفقار علی کرم اللہ وجھہ کے ہاتھ میں تھی۔مگر خدا تعالیٰ پھر ذوالفقار اس امام کو دے دے گا۔اس طرح پر کہ اس کا چمکنے والا ہاتھ وہ کام کرے گا جو پہلے زمانہ میں ذوالفقار کرتی تھی۔سو وہ ہاتھ ایسا ہو گا کہ گویا وہ ذوالفقار علی کرم اللہ وجہہ ہے جو پھر ظاہر ہو گئی ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ امام سُلْطَانُ الْقَلَم ہوگا۔اور اس کی قلم ذوالفقار کا کام دے گی۔یہ پیشگوئی بعینہ اس عاجز کے اس الہام کا ترجمہ ہے جو اس وقت سے دس برس پہلے براہین احمدیہ میں چھپ چکا ہے اور وہ یہ ہے: كِتَابُ الْوَلِي ذُو الْفَقَارِ عَلِيّ يعنی کتاب اس ولی کی ذوالفقار علی کی ہے۔یہ اس عاجز کی طرف اشارہ ہے۔اسی بناء پر بارہا اس عاجز کا نام مکاشفات میں غازی رکھا گیا ہے۔ (نشان آسمانی صفحہ 15)
میں خاص طور پر خدائے تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشا پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں۔کیونکہ جب میں عربی میں یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے اور ہمیشہ میری تحریر گوعربی ہو یا اردو یا فارسی دو حصہ پر منقسم ہوتی ہے۔ ایک تو یہ کہ بڑی سہولت سے سلسلہ الفاظ اور معانی کا میرے سامنے آتا جاتا ہے اور میں اس کو لکھتا جاتا ہوں اور گو اس تحریر میں مجھے کوئی مشقت اٹھانی نہیں پڑتی۔مگر دراصل وہ سلسلہ میری دماغی طاقت سے کچھ زیادہ نہیں ہوتا۔یعنی الفاظ اور معانی ایسے ہوتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کی ایک خاص رنگ میں تائید نہ ہوتی تب بھی اس کے فضل کے ساتھ ممکن تھا کہ اس کی معمولی تائید کی برکت سے جو لازمہ فطرت خواص انسانی ہے کسی قدر مشقت اٹھا کر اور بہت سا وقت لے کر ان مضامین کو میں لکھ سکتا۔ وَ اللّهُ أَعْلَمُ۔ (نزول المسیح صفحہ 56)
عام طور پر مجھے مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ اِنِّی مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ إِهَا نَتَكَ یعنی میں اس کو ذلیل کروں گا جو تیری ذلت کا ارادہ کرے گا
خدا تعالیٰ نے ایک عام طور پر مجھے مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ اِنِّی مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ إِهَا نَتَكَ یعنی میں اس کو ذلیل کروں گا جو تیری ذلت کا ارادہ کرے گا۔صد ہا دشمن اس پیشگوئی کے مصداق ہو گئے ہیں۔اس رسالہ میں مفصل لکھنے کی گنجائش نہیں۔ان میں سے اکثر لوگ ایسے ہیں جنہوں نے میری نسبت یہ کہا کہ یہ مفتری ہے طاعون سے ہلاک ہو گا۔خدا کی قدرت کہ وہ خود طاعون سے ہلاک ہو گئے اور اکثر لوگ ایسے ہیں کہ اپنا یہ الہام پیش کرتے تھے کہ ہمیں خدا نے بتلایا کہ یہ شخص جلد مر جائے گا۔خدا کی شان کہ وہ اپنے ایسے الہاموں کے بعد خود جلد مر گئے اور بعض نے میرے پر بددعائیں کی تھیں کہ وہ جلد ہلاک ہو جائے۔وہ خود جلد ہلاک ہو گئے۔مولوی محی الدین لکھو کے والے کا الہام لوگوں کو یاد ہو گا۔جنہوں نے مجھے کا فرٹھہرایا اور فرعون سے تشبیہ دی اور میرے پر عذاب نازل ہونے کی نسبت الہام شائع کئے آخر آپ ہی ہلاک ہو گئے۔اور کئی سال ہو گئے کہ وہ اس دنیا سے گذر گئے۔ایسا ہی مولوی غلام دستگیر قصوری بھی مجھے گالیاں دینے میں حد سے بڑھ گیا تھا۔جس نے مکہ سے میرے پر کفر کے فتوے منگوائے تھے وہ بھی بیٹھتے اٹھتے میرے پر بددعا کرتا تھا اور لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ اس کا ورد تھا… لیکن چونکہ میں صادق تھا اس لئے غلام دستگیر خدا تعالیٰ کی وحی إِنِّي مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ إِهَانَتَكَ کا شکار ہو گیا اور وہ دائمی ذلت جو میرے لئے اُس نے چاہی تھی اسی پر پڑ گئی۔ (حقیقۃ الوحی صفحہ 340تا 341)
بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے
1868ءتا1869ءمیں بھی ایک عجیب الہام اردو میں ہوا تھا۔جس کو اسی جگہ لکھنا مناسب ہے۔اور تقریب اس الہام کی یہ پیش آئی تھی کہ مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی کہ جو کسی زمانہ میں اس عاجز کے ہم مکتب بھی تھے جب نئے نئے مولوی ہو کر بٹالہ میں آئے اور بٹالیوں کو ان کے خیالات گراں گذرے تو تب ایک شخص نے مولوی صاحب ممدوح سے کسی اختلافی مسئلہ میں بحث کرنے کے لئے اس ناچیز کو بہت مجبور کیا چنانچہ اس کے کہنے کہانے سے یہ عاجز شام کے وقت اس شخص کے ہمراہ مولوی صاحب ممدوح کے مکان پر گیا اور مولوی صاحب کو معہ اُن کے والد صاحب کے مسجد میں پایا۔
پھر خلاصہ یہ کہ اس احقر نے مولوی صاحب موصوف کی اس وقت کی تقریر کوسن کر معلوم کر لیا کہ ان کی تقریر میں کوئی ایسی زیادتی نہیں کہ قابل اعتراض ہو۔اس لئے خاص اللہ کے لئے بحث کو ترک کیا گیا رات کو خداوند کریم نے اپنے الہام اور مخاطبت میں اس ترک بحث کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ’’ تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔‘‘پھر بعد اس کے عالم کشف میں وہ بادشاہ دکھلائے گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے۔چونکہ خالصًاخدا اور اس کے رسول کے لئے انکسار اور تذلل اختیار کیا گیا اس لئے اس محسنِ مطلق نے نہ چاہا کہ اس کو بغیر اجر کے چھوڑے۔
(براہین احمدیہ صفحہ 599حاشیہ در حاشیہ نمبر 3)
میں بڑے دعوے اور استقلال سے کہتا ہوں کہ میں سچ پر ہوں
میں بڑے دعوے اور استقلال سے کہتا ہوں کہ میں سچ پر ہوں اور خدائے تعالیٰ کے فضل سے اس میدان میں میری ہی فتح ہے اور جہاں تک میں دور بین نظر سے کام لیتا ہوں تمام دنیا اپنی سچائی کی تحت اقدام دیکھتا ہوں اور قریب ہے کہ میں ایک عظیم الشان فتح پاؤں کیونکہ میری زبان کی تائید میں ایک اور زبان بول رہی ہے۔اور میرے ہاتھ کی تقویت کے لئے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے جس کو دنیا نہیں دیکھتی مگر میں دیکھ رہا ہوں۔میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے۔اور آسمان پر ایک جوش اور اُبال پیدا ہوا ہے جس نے ایک پتلی کی طرح اس مُشت خاک کو کھڑا کر دیا ہے۔ہر یک وہ شخص جس پر توبہ کا دروازہ بند نہیں عنقریب دیکھ لے گا کہ میں اپنی طرف سے نہیں ہوں۔کیا وہ آنکھیں بینا ہیں جو صادق کو شناخت نہیں کر سکتیں؟ کیا وہ بھی زندہ ہے جس کو اس آسمانی صدا کا احساس نہیں؟ (ازالہ اوہام صفحہ 303)
میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم و معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کی رو سے سب کا منہ بند کر دیں گے
خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ وہ مجھے بہت عظمت دے گا اور میری محبت دلوں میں بٹھائے گا اور میرے سلسلہ کو تمام زمین میں پھیلائے گا اور سب فرقوں پر میرے فرقہ کو غالب کرے گا۔اور میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رُو سے سب کا منہ بند کر دیں گے اور ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پیئے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا۔یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جاوے گا۔بہت سی روکیں پیدا ہوں گی اور ابتلاء آ ئیں گے مگر خدا سب کو درمیان سے اُٹھا دے گا اور اپنے وعدہ کو پورا کرے گا۔اور خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔
سواے سُننے والو! ان باتوں کو یا درکھو اور ان پیش خبریوں کو اپنے صندوقوں میں محفوظ رکھ لو کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہوگا۔میں اپنے نفس میں کوئی نیکی نہیں دیکھتا اور میں نے وہ کام نہیں کیا جو مجھے کرنا چاہئے تھا اور میں اپنے تئیں صرف ایک نالائق مزدور سمجھتا ہوں۔یہ محض خدا کا فضل ہے جو میرے شامل حال ہوا۔پس اُس خدائے قادر اور کریم کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس مشت خاک کو اس نے باوجود ان تمام بے ہنریوں کے قبول کیا۔
(تجلیات الٰہیہ 21تا23)
اے تمام لوگو! سن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا اور حجت اور برہان کے رو سے سب پر اُن کو غلبہ بخشے گا
اے تمام لوگو! سن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا اور حجت اور برہان کی رو سے سب پر اُن کو غلبہ بخشے گا وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہے کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہو گا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نامراد ر کھے گا اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی۔اگر اب مجھ سے ٹھٹھا کرتے ہیں تو اس ٹھٹھے سے کیا نقصان کیونکہ کوئی نبی نہیں جس سے ٹھٹھا نہیں کیا گیا۔پس ضرور تھا کہ مسیح موعود سے بھی ٹھٹھا کیا جاتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ يٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَاد مَا يَأْتِيهِم مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ ہے پس خدا کی طرف سے یہ نشانی ہے کہ ہر ایک نبی سے ٹھٹھا کیا جاتا ہے مگر ایسا آدمی جو تمام لوگوں کے روبرو آسمان سے اُترے اور فرشتے بھی اُس کے ساتھ ہوں اس سے کون ٹھٹھا کرے گا۔پس اس دلیل سے بھی عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ مسیح موعود کا آسمان سے اُترنا محض جھوٹا خیال ہے۔یاد رکھو کہ کوئی آسمان سے نہیں اترے گا۔ہمارے سب مخالف جواب زندہ موجود ہیں وہ تمام مریں گے اور کوئی ان میں سے عیسی بن مریم کو آسمان سے اتر تے نہیں دیکھے گا۔اور پھر ان کی اولا د جو باقی رہے گی وہ بھی مرے گی۔اور ان میں سے بھی کوئی آدمی عیسی بن مریم کو آسمان سے اُترتے نہیں دیکھے گا اور پھر اولاد کی اولا دمرے گی اور وہ بھی مریم کے بیٹے کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گی۔تب خدا اُن کے دلوں میں گھبراہٹ ڈالے گا کہ زمانہ صلیب کے غلبہ کا بھی گذر گیا اور دنیا دوسرے رنگ میں آگئی۔مگر مریم کا بیٹا عیسیٰ اب تک آسمان سے نہ اترا۔تب دانشمند یک دفعہ اس عقیدہ سے بیزار ہو جائیں گے اور ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہوگی کہ عیسیٰ کا انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نومید اور بدظن ہو کر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑیں گے اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہو گا اور ایک ہی پیشوا۔میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں۔سو میرے ہاتھ سے وہ تختم بویا گیا۔اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔ (تذکرۃ الشہادتین 64تا 65)