اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2026-04-02

ارضِ مقدس صالحین کی میراث ہے

اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ الارض سے مراد جو شام کی سرزمین ہے یہ صالحین کا ورثہ ہے اور جو اب تک مسلمانوں کے قبضہ میں ہے۔ خدا تعالیٰ نےیَرِثُھَا فرمایایَمْلِکُھَا نہیں فرمایا۔ اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ وارث اس کے مسلمان ہی رہیں گے اور اگر یہ کسی اور کے قبضہ میں کسی وقت چلی بھی جاوے تو وہ قبضہ اس قسم کا ہو گا جیسے راہن اپنی چیز کا قبضہ مرتہن کو دے دیتا ہے۔ یہ خدا تعالی کی پیش گوئی کی عظمت ہے۔ ارض شام چونکہ انبیاء کی سر زمین ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اس کی بے حرمتی نہیں کرنا چاہتا کہ وہ غیروں کی میراث ہو۔
یَرِثُھَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ فرمایا صالحین کے معنے یہ ہیں کہ کم از کم صلاحیت کی بنیاد پر قدم ہو۔ مومن کی جو تقسیم قرآن شریف میں کی گئی ہے اس کے تین ہی درجے اللہ تعالیٰ نے رکھے ہیں ۔ ظالم ، مقتصد سابق بالخیرات ۔ یہ ان کے مدارج ہیں ورنہ اسلام کے اندر یہ داخل ہیں ۔ ظالم وہ ہوتا ہے کہ ابھی اس میں بہت غلطیاں اور کمزوریاں ہیں اور مقتصد وہ ہوتا ہے کہ نفس اور شیطان سے اس کی جنگ ہوتی ہے مگر کبھی یہ غالب آجاتا اور کبھی مغلوب ہوتا ہے کچھ غلطیاں بھی ہوتی ہیں اور صلاحیت بھی اور سابق بالخیرات وہ ہوتا ہے جو ان دونوں درجوں سے نکل کر مستقل طور پر نیکیاں کرنے میں سبقت لے جاوے اور بالکل صلاحیت ہی ہو ۔ نفس اور شیطان کو مغلوب کر چکا ہو ۔قرآن شریف ان سب کو مسلمان ہی کہتا ہے۔ (الحکم جلد نمبر 6شمارہ نمبر 40، 10 ؍نومبر 1902ء صفحہ 7)