اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2026-04-09

اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کرنے کیلئے اگر مر کے پھر زندہ ہُوں اورپھر مروں اور زندہ ہُوں تو ہر بار میرا شوق ایک لذت کے ساتھ بڑھتا ہی جاوے

انسان کو ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی زندگی کو وقف کرے۔ مَیں نے بعض اخبارات میں پڑھا ہے کہ فلاں آریہ نے اپنی زندگی آریہ سماج کے لیے وقف کردی ہے اور فلاں پادری نے اپنی عمر مشن کو دیدی ہے ۔ مجھے حیرت آتی ہے کہ کیوں مسلمان اسلام کی خدمت کے لیے اور خدا کی راہ میں اپنی زندگی کو وقف نہیں کردیتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زما نہ پر نظر کرکے دیکھیں تو اُن کو معلوم ہوکہ کس طرح اسلام کی زندگی کے لیے اپنی زندگیاں وقف کی جاتی تھیں۔ یاد رکھو یہ خسارہ کا سودا نہیں ہے بلکہ بے قیاس نفع کا سودا ہے۔ کاش مسلمانوں کو معلوم ہوتا اور اس تجارت کے مفاد اور منافع پر ان کو اطلاع ملتی جو خدا کے لیے اُس کے دین کی خاطر اپنی زندگی وقف کرتا ہے ۔ کیا وہ اپنی زندگی کھوتا ہے؟ ہر گز نہیں فَلَہٗ اَجْرُہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ وَلا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنَوْنَ ۔ اس للّٰہی وقف کا اجر اُن کا رب دینے والا ہے۔ یہ وقف ہر قسم کے ہموم و غموم سے نجات اور رہائی بخشنے والا ہے.... میں خود جو اس راہ کا پورا تجربہ کار ہوں اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور فیض سے میں نے اس راحت اور لذت سے حظ اُٹھایا ہے یہی آرزو رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کرنے کے لیے اگر مر کے پھر زندہ ہوں اور پھر مروں اور زندہ ہوں تو ہر بار میرا شوق ایک لذت کے ساتھ بڑھتا ہی جاوے۔
پس میں چونکہ خود تجربہ کار ہوں اور تجربہ کرچکا ہوں اور اس وقف کے لیے اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ جوش عطا فرمایا ہے کہ اگر مجھے یہ بھی کہہ دیا جاوے کہ اس وقف میں کوئی ثواب اور فائدہ نہیں ہے بلکہ تکلیف اور دُکھ ہوگا تب بھی میں اسلام کی خدمت سے رُک نہیں سکتا۔ (الحکم جلد ۴ نمبر ۳۱ مورخہ ۳۱ ؍اگست ۱۹۰۰ ؁ صفحہ ۳-۴)
(تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تفسیر سورۃ البقرہ صفحہ 201، صفحہ 202)