خدا تعالیٰ نے عدل کے بارے میں جو بغیر سچائی پر پورا قدم مارنے کے حاصل نہیں ہوسکتی فرمایا ہے لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰے اَلَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا ھُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْویٰ یعنی دشمن قوموں کی دشمنی تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو انصاف پر قائم رہو کہ تقویٰ اسی میں ہے اب آپ کو معلوم ہے کہ جو قومیں ناحق ستاویں اور دکھ دیویں اور خوں ریزیاں کریں اور تعاقب کریں اوربچوں اورعورتوں کو قتل کریں جیسا کہ مکہ والے کافروں نے کیا تھا اور پھر لڑائیوں سے باز نہ آویں ایسے لوگوں کے ساتھ معاملات میں انصاف کے ساتھ برتاؤ کرنا کس قدر مشکل ہوتا ہے مگر قرآنی تعلیم نے ایسے جانی دشمنوں کے حقوق کو بھی ضائع نہیں کیا اور انصاف اور راستی کے لیے وصیت کی .... مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ دشمن سے مدارات سے پیش آنا آسان ہے مگر دشمن کے حقوق کی حفاظت کرنا اور مقدمات میں عدل و انصاف کو ہاتھ سے نہ دینا یہ بہت مشکل اور فقط جوانمردوں کا کام ہے۔ اکثر لوگ اپنے شریک دشمنوں سے محبت توکرتے ہیں اور میٹھی میٹھی باتوں سے پیش آتے ہیں مگر ان کے حقوق دبا لیتے ہیں۔ ایک بھائی دوسرے بھائی سے محبت کرتا ہے اور محبت کے پردہ میں دھوکا دیکر اُس کے حقوق دبا لیتا ہے مثلاً اگر زمیندار ہے تو چالاکی سے اس کا نام کاغذات بندوبست میں نہیں لکھواتا اور یوں اتنی محبت کہ اس پر قربان ہوا جاتا ہے پس خداتعالیٰ نے اس آیت میں محبت کا ذکر نہ کیا بلکہ معیار محبت کا ذکر کیا کیونکہ جو شخص اپنے جانی دشمن سے عدل کرے گا اور سچائی اور انصاف سے درگذر نہیں کرے گا وہی ہے جو سچی محبت بھی کرتا ہے۔
(نور القرآن نمبر 2 صفحہ 22 -21 ) (بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تفسیر سورۃ المائدہ آیت نمبر 9)