اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2026-04-23

انسان کو چاہئے کہ اپنے معاش کے طریق میں کفایت شعاری مدنظر رکھے تاکہ سُودی قرض اُٹھانے کی نوبت نہ آئے

جو خدا تعالیٰ پر توکل کرتا ہے۔ خدا اس کا کوئی سبب پردہ غیب سے بنا دیتا ہے افسوس کہ لوگ اس راز کو نہیں سمجھتے کہ متقی کے لیے خدا تعالیٰ کبھی ایسا موقع نہیں بناتا کہ وہ سودی قرضہ لینے پر مجبور ہو۔ یاد رکھو جیسے اور گناہ ہیں مثلاً زنا چوری ایسے ہی یہ سود دینا اور لینا ہے۔ کس قدر نقصان دِہ یہ بات ہے کہ مال بھی گیا حیثیت بھی گئی اور ایمان بھی گیا۔ معمولی زندگی میں ایسا کوئی امر ہی نہیں کہ جس پر اتنا خرچ ہو جو انسان سودی قرضہ لینے پرمجبور ہو مثلاً نکاح ہے۔ اس میں کوئی خرچ نہیں۔ طرفین نے قبول کیا اور نکاح ہوگیا۔ بعد ازاں ولیمہ سنت ہے۔ سو اگر اس کی استطاعت بھی نہیں تو یہ بھی معاف ہے۔ انسان اگر کفایت شعاری سے کام لے تو اس کا کوئی بھی نقصان نہیں ہوتا۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ لوگ اپنی نفسانی خواہشوں اور عارضی خوشیوں کے لئے خداتعالیٰ کو ناراض کرلیتے ہیں جو ان کی تباہی کا موجب ہے۔ دیکھو سُود کا کس قدر سنگین گناہ ہے۔ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں۔ سُؤر کا کھانا تو بحالتِ اضطرار جائزرکھا ہے چنانچہ فرماتا ہے فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَآ اِثْمَ عَلَیہِ  اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ؁ یعنی جو شخص باغی نہ ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر کوئی گناہ نہیں اللہ غفور رحیم ہے مگر سُود کے لیے نہیں فرمایا کہ بحالتِ اضطرار جائز ہے بلکہ اس کے لیے تو ارشاد ہے یَآَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُواللہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِن کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ ؁ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْ ذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ   اگر سُود کےلین دین سے باز نہ آؤگے تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا اعلان ہے۔ ہمارا تو یہ مذہب ہے کہ جو خداتعالیٰ پرتوکّل کرتا ہے۔ اُسے حاجت ہی نہیں پڑتی۔ مسلمان اگر اس ابتلا میں ہیں تو یہ ان کی اپنی ہی بدعملیوں کا نتیجہ ہے۔ ہندو اگر یہ گناہ کرتے ہیں تو مالدار ہوجاتے ہیں مسلمان یہ گناہ کرتے ہیں تو تباہ ہوجاتے ہیں۔ خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃَ کے مصداق پس کیاضروری نہیں کہ مسلمان اس سے باز آئیں۔
انسان کو چاہئے کہ اپنے معاش کے طریق میں پہلے ہی کفایت شعاری مدنظر رکھے تا کہ سُودی قرضہ اٹھانے کی نوبت نہ آئے جس سے سُود اصل سے بڑھ جاتا ہے۔ ابھی کل ایک شخص کا خط آتا تھا کہ ہزار روپیہ دے چکا ہوں ابھی پانچ چھ سو باقی ہے پھر مصیبت یہ ہے کہ عدالتیں بھی ڈگری دے دیتی ہیں۔ مگر اس میں عدالتوں کا کیا گناہ۔ جب اس کا اقرار موجود ہے تو گویا اس کے یہ معنے ہیں کہ سُود دینے پر راضی ہے پس وہاں سے ڈگری جاری ہوجاتی ہے۔ اس سے یہ بہتر تھا کہ مسلمان اتفاق کرتے اور کوئی فنڈ جمع کرکے تجارتی طور پر اُسے فروغ دیتے تاکہ کسی بھائی کو سُود پر قرضہ لینے کی حاجت نہ ہوتی بلکہ اسی مجلس سے ہر صاحب ضرورت اپنی حاجت روائی کرلیتا اورمیعادِ مقررہ پر واپس دے دیتا۔
(بدر جلد نمبر 7 مورخہ 6؍ فروری 1908ء صفحہ 6) (بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد نمبر 1 صفحہ 389-390)