پیارے احباب جماعت احمدیہ انڈونیشیا،
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ‘
مجھے بہت خوشی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت انڈونیشیا اپنا جلسہ سالانہ ۵،۶،۷ ؍ دسمبر ۲۰۲۵ء کو منعقد کررہی ہے اور یہ کہ آپ اس بابرکت تقریب میں شرکت کرنے کے لیے ملک بھر کے مختلف سینٹرز میں اکٹھے ہوئے ہیں۔ میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس جلسے کو کامیاب کرے اور آپ سب بے شمار برکات حاصل کریں اور اس جلسہ سے حقیقی طور پر ہر لحاظ سے فائدہ اٹھائیں۔
یہ بات اہم ہے کہ یہ آپ کا صد سالہ جوبلی سال ہے۔ اس لیے جب آپ اپنی خوشی اور مسرت کا اظہار کریں تو اللہ تعالیٰ کی بےشمار نعمتوں پر بھی لازمی غور کریں۔ سادہ آغاز سے جماعت احمدیہ انڈونیشیا نے گذشتہ ۱۰۰ ؍سال میں مسلسل ترقی کی منازل طے کی ہیں۔
جیسے جیسے آپ آگے بڑھ رہے ہیں آپ کو اپنی ذمہ داریوں پرخاص توجہ دینی چاہیے اوریہ سمجھنا چاہیے کہ جہاں صد سالہ سنگ میل تک پہنچنا آپ کے لیے خوشی کا باعث ہے وہاں یہ آپ کے کندھوں پر ذمہ داری کا ایک بھاری بوجھ بھی ڈالتا ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ اس سنگ میل تک پہنچنے کے بعد آپ آرام سے بیٹھ جائیں۔ بلکہ جیسے ہی جماعت احمدیہ انڈونیشیا اپنی دوسری صدی میں داخل ہورہی ہے، یہ ہر احمدی مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس کی مسلسل ترقی اورپیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے پوری لگن اور اخلاص کے ساتھ کوشش کرے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ جلسہ کو لوگوں کا محض ایک عام اجتماع نہ سمجھیں بلکہ آپؑنے فرمایا کہ یہ ایک ایسی تقریب ہے جس کی بنیاد خالصۃً منشائے الٰہی پر ہے تا کہ اسلام کی اشاعت اور ہمارے پیارے نبی آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی ترویج کی جاسکے۔
اس حوالہ سے آپؑفرماتے ہیں: ’’ اس جلسہ کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں۔ یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلائے کلمۂ اسلام پر بنیاد ہے۔ اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خداتعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لیے قومیں طیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آملیں گی کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات اَنہونی نہیں۔‘‘
(اشتہار ۲۷؍ دسمبر ۱۸۹۲ء مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ ۳۶۱ ایڈیشن ۲۰۱۹ء)
آپ کو جماعت کے مختلف علماء کی تقاریر غور سے سننی چاہئیں۔ یاد رکھیں کہ مقررین اپنی تقاریر بہت محنت سے تیار کرتے ہیں اس لیے انہیں توجہ سے سننا ضروری ہے۔ یہ ہم پر اللہ تعالیٰ کا محض فضل ہے کہ ہمارے علماء تحقیق کرتے ہیں اور اپنی تقاریر کی بنیاد نہ صرف کلام الٰہی یعنی قرآن کریم اورنبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور سنت پر رکھتے ہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روشن بیانات پر بھی رکھتے ہیں اوروہ حکمت و علم ہمیں پیش کرتے ہیں۔
چنانچہ آپ کو اپنی تعلیمات اور عقائد کے بارے میں مزید علم او رفہم حاصل کرنے کے لیے جلسہ کی کارروائیوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے اور اس طرح اپنے ایمان کو مضبوط کرنا چاہیے اور اپنے روحانی و اخلاقی معیار کو بلند کرنا چاہیے۔ اس جلسہ کو آپ کے تقویٰ کے معیار میں اضافے کاباعث بننا چاہیے اور آپ کے دلوں میں اللہ کا حقیقی خوف پیدا کرنا چاہیے۔ درحقیقت آپ کا واحد مقصد ہمارے خالق اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو جلسہ میں شرکت بے مقصد اور بے فائدہ ہوگی۔
آپ کو تمام شرائط بیعت کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ یہ شرائط آپ کی زندگی کی راہنما ہونی چاہئیں اور اگر آپ ان کے مطابق عمل کریں گے تو آپ دنیا میں حقیقی روحانی انقلاب لانے والے ہوسکتے ہیں۔ ہر ایک شرط بیعت اپنے اندر بے انتہا حکمتیں رکھتی ہے۔ ایک احمدی مسلمان کو اپنے ایمان کو زندہ رکھنے کے لیے تمام شرائط بیعت پر ہر وقت غور کرتے رہنا چاہیے۔ صرف خود احتسابی اور روز مرہ کے اعمال و افعال کا باقاعدگی سے جائزہ لے کر ہی آپ اپنی بیعت کے تقاضوں کو پورا کرسکتے ہیں۔
میں آپ کو تلقین کرتا ہوں کہ خلافت احمدیہ کے الٰہی نظام سے ہمیشہ وفادار رہیں اورخلیفۃ المسیح کے ساتھ ایک مضبوط تعلق قائم کرنے کی کوشش کریں۔ آج اسلام کااحیاء نو اور عالمی امن کا قیام صرف نظام خلافت سے وابستہ رہ کر ہی مکمل کیاجاسکتا ہے۔ آپ کو ایم ٹی اے کثرت سے دیکھنا چاہیے اور خطبات جمعہ نیز دیگر تقریبات اور مواقع پر میرے خطابات باقاعدگی سے سننے چاہئیں۔ یہ آپ کو خلافت کےساتھ مستقل تعلق قائم کرنے والا بنائے گا اور آپ کے ایمان کو مزین اور مزید مضبوط کے گا۔
میں آپ کو تبلیغ کے حوالے سے آپ کی ذمہ داریوں کی بھی یاد دلانا چاہتا ہوں جو ہر احمدی کے لیے ضروری ہے اور آپ سب کو چاہیے کہ تبلیغ کے پروگراموں اور سرگرمیوں میں مکمل طور پر شامل ہوں، دانشمندی سے تبلیغ کریں اور اسلام احمدیت کا پرامن اور محبت بھرا پیغام انڈونیشیا کے تمام لوگوں تک پہنچائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آخر میں میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ کو عظیم کامیابی سے نوازے اور آپ سب کو اس قابل بنائے کہ آپ اپنی زندگیوں میں مزید تقویٰ، نیک رویے، اچھے اعمال اوراسلام احمدیت اور انسانیت کی خدمت کی جانب ایک حقیقی تبدیلی لاسکیں۔ اللہ ہمیشہ آپ کو محفوظ اوراپنے حفظ و امان میں رکھے اور آپ سب پر رحم کرے۔ (بشکریہ روزنامہ الفضل انٹرنیشنل ۲ ؍ اپریل ۲۰۲۶ء)