’’مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ مجلس خدام الاحمدیہ کینیڈا کو اپنا سالانہ اجتماع منعقد کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے ہرلحاظ سےبابرکت فرمائےاور نیک نتائج سے نوازے۔ آمین۔
مجھ سے اس موقع پر پیغام بھجوانے کی درخواست کی گئی ہے ۔میراپیغام یہ ہے کہ آپ تعلق باللہ میں ترقی کریں جس کا بہترین ذریعہ نمازاوردعاہے۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتاہے : ’’اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقیناً مَیں قریب ہوں۔ مَیں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ پس چاہئے کہ وہ بھی میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔‘‘
(سورۃ البقرۃ آیت 187)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام ایک موقع پر فرماتے ہیں: ’’اللہ جل شانہ نے جو دروازہ اپنی مخلوق کی بھلائی کیلئے کھولا ہے وہ ایک ہی ہے یعنی دعا۔‘‘ (ملفوظات، جلد5،صفحہ 438)
لیکن یادرکھیں کہ دعاؤں کی قبولیت کیلئے بھی پہلے اپنی حالتوں کو بدل کرخدا تعالیٰ کی طرف قدم بڑھانا ضروری ہے، جہاد کرنا ضروری ہے۔بندے نے جہاد کی انتہا کیا کرنی ہے۔ اللہ تعالیٰ تو اپنے بندے پر اتنا مہربان ہے کہ اس کی ذرا سی کوشش کو ہی وہ اس کا جہاد سمجھ کر نواز دیتا ہے ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب بندہ میری طرف ایک قدم چل کر آتا ہے تو میں دو قدم چل کے آتا ہوں، اس کی طرف بڑھتا ہوں۔ جب وہ چل کر میری طرف آ رہا ہوتا ہے، تیز چل کے آ رہا ہوتا ہے تو میں دوڑ کر اس کی طرف آتا ہوں۔ (صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعاء، حدیث6833)
پس ہمیں اس لحاظ سے اپنے جائزے لینے چاہئیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس نور سے فیض پا کر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے آپؑکو عطا فرمایا تھا، اپنے صحابہ میں، اپنے ماننے والوں میں، اپنے بیعت کرنے والوں میں کیا انقلاب عظیم پیدا کیا تھا۔ اس بارے میں آپؑفرماتے ہیں کہ ’’مَیں دیکھتا ہوں کہ میری بیعت کرنے والوں میں دن بدن صلاحیت اور تقویٰ ترقی پذیر ہے… مَیں اکثر کو دیکھتا ہوں کہ سجدہ میں روتے اور تہجد میں تضرع کرتے ہیں۔‘‘ (انجام آتھم، روحانی خزائن، جلد11، صفحہ315)
درحقیقت انسان کے اس دنیا میں آنے کا یہی مقصد قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اپنی بعثت کا بہت بڑا مقصد یہی بتایا ہے کہ بندے اور خدا میں ایک زندہ تعلق قائم کیا جائے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننے کے بعد ہم نے اپنے اندر ایک انقلابی تبدیلی پیدا کرتے ہوئے اپنے تعلق کو اُس زندہ اور ہمیشہ قائم رہنے والے خدا سے نہ جوڑا تو ہمارا یہ دعویٰ بے معنی ہے۔ ہماری یہ بات غلط ہو گی کہ ہم اپنی تبلیغ کو ہرشخص تک پہنچا کر اس کو خداتعالیٰ کے قریب لے کر آئیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو آنحضرتﷺ کی غلامی میں بھیجا ہے جن کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے کہ اسلام کی جس خوبصورت تعلیم کو مسلمان بھلا بیٹھے ہیں اسے حقیقی رنگ میں دنیا کے سامنے پیش کرو تاکہ دنیا بھی اسلام کی خوبصورت تعلیم کے حسن سے آشنا ہو اور خدائے واحد و یگانہ کی عبادت کرنے والی بنے۔ ہم احمدی جو اتنے بڑے دعویٰ کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں تو ہمارا سب سے پہلا فرض بنتا ہے کہ اس خدا کے آگے جھکنے والے بنیں، اس سے دعائیں کریں۔ اور دعائیں کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ نمازیں ہیں اور یہ نمازیں اور دعائیں ہی ہیں جو ہمیں کامیابی سے ہمکنار کر رہی ہیں۔ دیکھیں وہ کون سی دنیاوی طاقت تھی جنگ اُحد میں، جنگ بدر میں، جنگ احزاب میں جس نے مدد کی۔ آنحضرتﷺ کی وہ دعائیں ہی تھیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا اور فتح عطا فرمائی اور پھر آنحضرتﷺ کی قوت قدسی کی وجہ سے صحابہ کا اللہ تعالیٰ سے تعلق تھا جس نے ان کے ایمانوں کومضبوط کیا۔ پس یہ اُسوہ آنحضرتﷺ نے ہمارے سامنے قائم فرما دیا کہ اسلام کی فتح کسی طاقت سے نہیں بلکہ دعاؤں سے ہونی ہے اور ہوئی ہے۔ طاقت سے ملک تو فتح ہو جاتے ہیں دل نہیں جیتے جاتے۔پس آپ نے اپنے ہم قوموں کے دل جیتنے ہیں تاکہ انہیں خداتعالیٰ کے حضور پیش کر سکیں اور اس کیلئے سب سے پہلے اپنے آپ کو اس قابل بنانا ہو گا کہ اپنی نمازوں اور عبادتوں کی حفاظت کریں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں:’’اعلیٰ درجے کی خوشی خدا میں ملتی ہے۔ جس سے پرے کوئی خوشی نہیں ہے… اس لئے بہشت کے اعظم ترین انعامات میں رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ اَکْبَرُ (التوبۃ: 72) ہی رکھا ہے۔ انسان انسان کی حیثیت سے کسی نہ کسی دکھ اور تردّد میں ہوتا ہے، مگر جس قدر قرب الٰہی حاصل کرتا جاتا ہے اور تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰہِ سے رنگین ہوتا جاتا ہے، اسی قدر اصل سکھ اور آرام پاتا ہے۔‘‘
(ملفوظات، جلد1، صفحہ396، ایڈیشن 1988ء)
فرمایا کہ ’’بڑی بات جو دعا میں حاصل ہوتی ہے وہ قربِ الٰہی ہے۔ دُعا کے ذریعہ ہی انسان خدا تعالیٰ کے نزدیک ہو جاتا اور اسے اپنی طرف کھینچتا ہے۔‘‘ (ملفوظات، جلد4،صفحہ45، ایڈیشن 1988ء)
پس قرب الٰہی حاصل کرنے کیلئے نمازوں کا حق ادا کرنا بھی ضروری ہے اور وہ حق تبھی ادا ہو گا جب اس کی ادائیگی باقاعدہ کی جائے اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس طرح کی جائے۔
پس میرے عزیزو! خدا تعالیٰ سے قرب میں بڑھتے چلے جائیں تا کہ دنیا میں شیطان کی حکومت کا جلد خاتمہ ہو اور اللہ تعالیٰ کے مقربین کی حکومت دنیا میں قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان دعاؤں کے کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے اور ان لوگوں میں شامل ہونے کی بھی توفیق عطا فرمائے جو اللہ تعالیٰ کے مقرب ہوتے ہیں۔آمین‘‘
(بشکریہ اخبار الفضل انٹرنیشنل 18؍اکتوبر2023ء)