اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-01-29

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ جرمنی میں خدماتِ سلسلہ سرانجام دینے والے مبلغین سلسلہ اور واقفین زندگی کے ایک وفدکی ملاقات

مورخہ۹؍دسمبر ۲۰۲۴ء بروز سوموار امام جماعتِ احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ جماعت احمدیہ جرمنی سے تعلق رکھنے والے مبلغین اور واقفینِ زندگی کے ایک وفد کو اسلام آباد (ٹلفورڈ) ميں قائم ايم ٹی اے سٹوڈيوز میں بالمشافہ ملاقات کی سعادت نصیب ہوئی، جنہوں نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سےجرمنی سے برطانیہ کا سفر اختیار کیا۔
ملاقات سے قبل حضورِانور نے جماعت کی تاجک ویب سائٹ کااجرا فرمایا اور دعا کروائی۔
ملاقات کے شروع ہونے پرحضورِانور سب سے پہلےامیر صاحب جماعت احمدیہ جرمنی سے مخاطب ہوئے اور اس وفد کے دَورے کی تفصیلات کی بابت دریافت فرمایا تو انہوں نے آپ کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ پروگرام انتہائی جامع اور بہت فائدہ مند رہا ہے۔
اس کے بعد حضورِانور نے وفد سے مفصّل خطاب فرمایا اور جماعتِ احمدیہ کے مربیان، مبلغین اور واقفین زندگی کی ذمہ داریوں کے مختلف پہلوؤں پر راہنمائی فراہم کی نیز وقف کے عہد کو عقیدت اور اخلاص سے نبھانے کے لیےزرّیں ہدایات سے نوازا۔
حضورِانور نے فرمایا کہ جو ینگ مربیان ہیں، سارے ماشاء اللہ فیلڈ میں ہیں، تجربہ رکھتے ہیں، اپنے آپ کو وقف کیا ہے، اپنی مرضی سے وقف کیا ہے نہ کہ ماں باپ کے کہنے پر یا کسی اور اثر میں آ کر، نیز استفسار فرمایا کہ کیا کبھی آپ کو مربی بننے پر افسوس یا پچھتاواہوا؟
اس پر شاملینِ مجلس کے نفی میں جواب عرض کرنے پر حضورِانور نے دوبارہ استفسار فرمایا کہ کبھی نہیں؟
جس پر تمام شاملین نے اپنے پہلے والے جواب کا ہی اعادہ کیا۔
اس پر حضورِانور نے وقف کی حقیقی روح کی اہمیت واضح کرنے کے لیے پوچھا کہ اچھا! اگر جرمنی سے کسی جگہ دُور دراز جزیروں میں بھیج دیا جائے، جہاں کوئی احمدی نہ ہو، تو گزارا ہو جائے گا؟
اس پر مخاطب مبلغ سلسلہ نے مکمل بشاشتِ قلبی سے عرض کیا کہ جی حضور!فوراً۔
یہ سماعت فرما کر پھر حضورِانور تمام شاملینِ مجلس کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت فرمایاکہ اچھا! ساروں میں یہ روح ہے؟ تو سب نے بیک زبان ہو کر اثبات میں جواب دیا۔
بعد ازاں حضورِانور نےوقف کی حقیقت و اہمیت اور الله تعالیٰ کی شکرگزاری کے مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اصل چیز تو یہی ہے کہ مربی کو ہمیشہ یہ سمجھنا چاہیے کہ مَیں نے وقف خدا تعالیٰ کی خاطر کیا ہے۔ خدا تعالیٰ پر احسان نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم اسلام لے آئے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا اسلام لانا کوئی احسان نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کاتم پر احسان ہے، تو یہی ہر مربی کو سوچنا چاہیے کہ ہمارا جماعت پر کوئی احسان نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے ہمیں یہ موقع دیا کہ ہمیں زندگی وقف کرنے اور مربی بننے کی توفیق ملی، کچھ دینی علم حاصل کرنے کی توفیق ملی۔ اور اس کا اب ہم نے بہترین استعمال کرنا ہے تاکہ ہماری شکر گزاری کے جو جذبات ہیں ان کا صحیح طرح سے حق ادا ہو سکے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کے بغیر یہ حق ادا نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری یہ ہے کہ پھر اپنا سب کچھ جماعت کےلیے قربان کرنا۔
وسائل کی کمی کا شکوہ کیے بغیر حقیقی وقف اور قربانی کی روح کو ہر حال میں برقرار رکھنے کی بابت نصیحت کرتے ہوئےحضورِانور نے تاکید فرمائی کہ پھر یہ خیال نہیں آنا چاہیےکہ میرے پاس فلاں فلاں سہولت نہیں ہے۔ پرانے مربیان، مبلغین جنہوں نے افریقہ میں بھی کام کیے، ان کو تو اس زمانے میں پانچ پاؤنڈ الاؤنس ملتا تھا اور وہ بھی مشکلوں سے پہنچایا جاتا تھا اور یہ نہیں کہ پرانا زمانہ سستا تھا، اس لیے پانچ پاؤنڈ میں گزارا ہو جاتا تھا، گزارا نہیں ہوتا تھا۔ مثلاً مولانا نذیر مبشر صاحب کس طرح لٹریچر لکھتے تھے؟ مشن کے پاس پیسے نہیں تھے۔ پھر وہ ایک دوائی امرت دھارا منگوایا کرتے تھے اور بیچتے تھے۔ اس کی فروخت سے پھر پیسے کماتے تھے اور پھر انہوں نے لٹریچر شائع کیا۔ پھر بڑے مشہور مربی اور مبلغ کے طور پر مولانا نذیر احمد علی صاحب مشہور ہیں، وہ بھی وہاں رہے۔ یورپ میں کرم الٰہی ظفر صاحب سپین میں رہے، انہوں نے بھی عطر بیچ بیچ کے گزارا کیا ، بلکہ اب recentزمانے تک ہمارے زمانے تک الاؤنس ایسا ہوتا تھا کہ پندرہ دن میں الاؤنس ختم ہو جاتا تھا تو مشکلوں سے گزارا ہوتا تھا، لیکن کبھی شکوہ نہیں آیا کہ ہم نے وقف چھوڑنا ہے یا regret کیا یا یہ ضرورت کی چیز فلاں کو مل رہی ہے اور فلاں کو نہیں مل رہی۔ بلکہ یہ ہوتا تھا کہ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے وقف کی توفیق دی۔ تو یہ روح ہر مربی میں ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے توفیق دی اور ہم نے وقف کیا۔
جماعت کے ممبران سے جو یہ عہد لیا جاتا ہے کہ ہم جان، مال، وقت اور عزت قربان کریں گے تو ہمارے لیے تو یہ سب سے اوّل ہے کہ جو وقفِ زندگی ہے اور مربی ہے، اس کے اوپر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ یہ روح اگر ہوگی تو پھر آپ لوگوں کے جو کام ہیں، ان میں برکت پڑے گی، اللہ تعالیٰ سے تعلق بھی پیدا ہوگا ، اس کے لیےپھر اللہ کی طرف توجہ پیدا ہو گی، عبادت کی طرف توجہ پیدا ہو گی، اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کے لیے، اپنی سستیاں دُور کرنے کی طرف توجہ پیدا ہوگی اور اس سے دعا کریں کہ پھر اس کی توفیق بھی ملے گی۔
اس کے لیے نوافل ہیں، نمازوں کی صحیح ادائیگی ہے ، سنوار کر نمازیں پڑھنا ہے۔ لیکچر تو آپ دے دیتے ہیں کہ فلاں صحابیؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین یا چار دفعہ واپس بھیجا کہ جاؤ نماز پڑھ کے آؤ، سنوار کے نماز پڑھو، لیکن کبھی غور کیا کہ کیا ہم اس طرح سنوار کر نماز پڑھ رہے ہیں؟ اگر یہ غور نہیں کیا تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے اپنے کام ، اپنے وقف اور اپنے عہد سے انصاف نہیں کیا۔
حضورِانور نے اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرنے اور اس کی رضا کی خاطرہر قسم کی قربانی کے لیے تیار ہونے کے ضمن میں ہدایت فرمائی کہ تو سب سے بڑی چیز مربیان اور واقفینِ زندگی کےلیے یہی ہے کہ پہلے تو خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا اور پھر اس کی خاطر ہر قربانی کے لیے تیار ہونا۔ صرف عہد نہیں، بلکہ یہ دیکھنا کہ اگر ایسا موقع آئے تو کیا ہم یہ عمل دکھا سکتے ہیں یا نمونہ پیش کر سکتے ہیں؟ کیا صرف اس وقت ہمیں اپنے بیوی، بچوں ، گھر یا بعض سہولتوں کی فکر رہے گی؟ اللہ تعالیٰ کی خاطر جو نیک نیتی سے قربانی کرنے والے ہیں، اس کی خاطر سب کچھ پیش کرنے والے ہیں، اللہ ان کو ضائع نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ انعامات دیتا رہتا ہے ، نوازتا رہتا ہے۔ بعض دفعہ ابتلاآتے ہیں، رستے میں امتحان آتے ہیں ، بعض ساتھیوں کی طرف سے آ جاتے ہیں، بعض افسران کی طرف سے آ جاتے ہیں ، بعض دفعہ مرکز کی طرف سے بعض باتیں ایسی آ جاتی ہیں کہ انسان بڑا پریشان ہو جاتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے آگے جھکیں، اس کے آگے گریہ و زاری کریں، اس سے مانگیں اور اپنے آپ کو خالص ہو کے اس کے سامنے پیش کریں اور اپنی نیتوں کو صاف رکھیں تو وہ ابتلا اللہ تعالیٰ پھر دُور بھی فرما دیتا ہے، ان امتحانوں سے انسان گزر جاتا ہے۔
بعدازاں حضورِانور نے جرمنی میں مبلغین کی تعداد اور ملک کی مجموعی آبادی کے بارے میں دریافت فرمایا تو اس پر عرض کیا گیا کہ وہاں ۱۲۶؍مبلغین ہیں اور آبادی تقریباً۸۰؍ ملین ہے۔ اس پر حضورِانور نے تلقین فرمائی کہ جرمنی میں مبلغین کی تعداد وہاں کی آبادی کے لحاظ سے تھوڑی ہے لہٰذا انہیں اپنے تبلیغی مقاصد کے حصول کےلیے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
نیز اسی تناظر میں توجہ دلائی کہ کیا چیز ہے جو ہمیں زائد کرنی پڑے گی؟ اللہ تعالیٰ سے تعلق۔ اللہ تعالیٰ ایسے راستے کھولے اور آپ کے الفاظ میں وہ برکت ڈالے کہ جس سے لوگوں پر اثر بھی ہو اَور یہ اسی صورت میں ہوگا جب آپ خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکیں گے اور اس سے مدد مانگیں گے۔ یہ آپ نے ٹارگٹ رکھنا ہے کہ ہمارے سامنے ایک پورا ملک ہے، اس کو ہم نے کس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لا کے ڈالنا ہے؟ کس طرح ہم نے خدا کی وحدانیت اس ملک میں قائم کرنی ہے؟ تو یہ ساری باتیں جب سوچیں گے، غور کریں گے تو اس کے لیے پھر یہ ہے کہ جہاں عبادتوں کا معیار بلند کریں وہاں علم بڑھانے کی کوشش بھی کریں۔
افریقہ سے مربیان پڑھنے کےلیے جامعہ احمدیہ پاکستان میں جاتے تھے، ان میں سے بعض لڑکے ایسے تھے جو پاکستانی مربیان سے زیادہ آگے نکلے ہوئے تھے، انہوں نے جامعہ کے دوران اپنے جیب خرچ میں سے پیسے جمع کرکے روحانی خزائن خریدی، دیگر کتابیں اور حدیث کی کتابیں خریدیں اور پھر ان کو پڑھا بھی ، پھر ان پر نوٹس بنائے، پھر ان کو فیلڈ میں استعمال بھی کیا اور ان کے معیار تقویٰ کے بہت بلند ہیں۔ تو یہ چیزیں صرف اپنے زور سے نہیں حاصل ہو سکتیں، اس زمانے کے راہنما ،مہدی، ہدایت کا منبع اور ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بنایا ہے تو ان کے لٹریچر کو پڑھنا بھی ہمارے لیےضروری ہے ، جس حدّ تک ہم پڑھ سکتے ہیں، صرف کتب شائع کرنا تو کمال نہیں ہے۔
حضورِانور نے دینی و دنیاوی علوم میں اضافہ اور عبور حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مبلغین کی راہنمائی فرمائی کہ جہاں دینی علم میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے، وہاں مبلغین کو چاہیےکہ وہ اخبارات بھی پڑھیں اور باقی علوم میں بھی عبور حاصل کریں۔حضورِانور نے مزید توجہ دلائی کہ contemporary issuesکیا ہیں، ان کو دیکھنا ہے اور اسی سے ہماری آگاہی ہوگی ، دماغ ذرا روشن ہوگا، دنیا کا بھی علم آئے گا۔ پھر ہم نے اس دینی علم کو اس کے ساتھ کس طرح اپلائی کرنا ہے اور کس طرح دنیاوی سوالات کے جواب دینے ہیں، تو یہ چیزیں ہیں کہ مربی کے اندر ایک جوش اور جذبہ ہونا چاہیے ، وہ ہوگا تو کامیابی بھی ہوگی، اگر وہ نہیں ہے تو پھر صرف باتیں ہیں۔
(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل 19 دسمبر 2024ء)