(بقیہ شمارہ نمبر 8 )
مزید برآں حضورِانور نے فرمایا کہ آپ صدر احمدیہ میڈیکل ایسوسی ایشن امریکہ سے رابطہ کریں، جنہوں نے پہلے ہی ایک جامع منصوبہ تیار کیا ہے اور اس منصوبے کو حاصل کرکے اس کے نفاذ پر غور کریں۔
اس مجلس میں پیش کیا جانے والا اگلا سوال یہ تھا کہ اگر حضور ِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ظلّی نبی آ سکتے ہیں تو کیا حضرت مسیح ِموعود علیہ السلام کے بعد بھی کوئی ظلّی نبی ہو سکتا ہے؟
حضورِانور نے اس کے جواب میں فرمایا کہ بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے اور مسیح کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی کی تھی کہ مسیح موعود اور مہدی معہودؑ کا درجہ نبی کا ہو گا اور وہ شریعت کو جاری کرنے کے لیےآئیں گے۔ حدیثوں سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو زمانے کی تقسیم کی تھی، وہ پہلے زمانۂ نبوت، پھر خلافت، پھر بادشاہت، پھر ظالم بادشاہت اور آخر میں مسیح موعود کے آنے کے زمانے کا ذکر کیا، جو اسلام کی revival کا وقت ہو گا۔ اس میں مسیحِ موعود ؑکا آنا ضروری تھا۔
تو ایک نبی کے آنے کا ذکر ملتا ہے، لیکن اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی صفات کا کام بند نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ طاقت والا ہے، وہ چاہے تو کسی وقت نبی بھیج سکتا ہے۔ اس لیےحضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر تم لوگ صحیح نہیں ہو گے، تو ہو سکتا ہے کہ کسی زمانے میں کوئی جلالی نبی آ جائے جو سخت ہو، مگرمَیں نرم تعلیم لے کر آیا ہوں۔ مَیں چاہتا ہوں کہ بات نرمی سے ہو، پیار سے ہو، اسلام کی تعلیم آرام اور پیار سے پہنچائی جائے۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو وہ کسی کو بھیج سکتا ہے، لیکن یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ جو بھی آئے گا، وہ مسیح ِموعود کے ماننے والوں میں سے ہی ہو گا۔ یہ نہیں ہو گا کہ کوئی باہر سے آ کر نبی بن جائے۔
لیکن حدیثوں میں جو ذکر ملتا ہے، اس سے یہی واضح ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مسیحِ موعود کے نبی کے طور پر آنے کی پیشگوئی کی تھی، اس کے بعد کوئی نہیں آئے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی صفات تو بند نہیں ہو سکتیں، اس لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مَیں یہ نہیں کہتا کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی آئے گا تو وہ میرے ماننے والوں میں سے ہی آئے گا، میرے پیروکاروں میں سے آئے گا یا اللہ تعالیٰ اس وقت، جب تک خلافت قائم رہتی ہے، ہو سکتا ہے کہ کسی خلیفہ کو کوئی ایسا درجہ دے دے، وہ کہہ دے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے۔ نبوت کیا ہے؟ اس کا مطلب خبر دینا ہی ہے۔ تو اللہ کا پیغام لے کے آگے خبر پہنچانا اور سختی سے عمل کروانا یہ باتیں وہ کروا سکتا ہے۔
ایک خادم نے عرض کیا کہ میرا سوال یہ ہے کہ آپ نے ۲۰۱۷ء میں کیا دیکھا کہ آپ نے بدری صحابہؓ اور دیگر اسلامی تاریخ پر خطبات کا آغاز کرنے کا فیصلہ فرمایا؟
اس پر حضورِانور نے فرمایا کہ مَیں ٹاپک (topic) تلاش کر رہا تھا کہ کیا کروں۔ کیونکہ بہت سارے تربیتی اور تبلیغی ٹاپکس پر خطبات تو مَیں پہلے ہی دے چکا ہوں، پندرہ سولہ سال دیے تھے۔
پھر مجھے خیال آیا کہ صحابہؓ کے اوپرمَیں خطبات کا سلسلہ شروع کروں۔ پھر مَیں نے وہ شروع کیا تا کہ ہمیں تھوڑی تاریخ پتا لگے اور اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے کہ صحابہؓ تمہارے لیے اسوۂ حسنہ ہیں ان کے نقشِ قدم پر چلو۔ ان میں سےہر ایک تمہارے لیے ایک ستارے کی طرح ہے، اس کے پیچھے چلو گے، تو وہ تمہیں گائیڈ کرے گا۔ پھر مَیں نے کہا کہ یہ تو بہت لمبی چیز بن جائے گی پھر اس کو سمیٹنا مشکل ہو گا۔
پھر بدری صحابہؓ کی طرف دھیان گیا اور مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام بھی دیکھ لیا کہ جنگِ بدر کا قصّہ مت بھولو۔ اس کی بنیاد پر مَیں نے پھر بدر کے صحابہ کا ذکر شروع کر دیا اور وہ سارے بیان ہو گئے۔ اس لیے ابھی جنگوں کے حوالے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت آ رہی ہے تاکہ اس میں آپؐ کا جو اسوۂ حسنہ ہے، جو سیرت ہے، جو نمونہ آپؐ نے قائم کیا، وہ لوگوں کو پتا لگے۔ بہت سارے نئے سبق سامنے آ جاتے ہیں۔
تو جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا بیان ختم ہو جائے گا تو بدری صحابہ ؓکا ذکر بھی یہاں ختم ہو جائے گا۔ پھر دیکھیں گے، اللہ میاں نے کوئی اَور مضمون سکھانا ہو گا، تو سکھا دے گا۔
ایک خادم نے حضورِانور کی خدمت میں عرض کیا کہ پیارے حضور! میرا سوال ہے خدا تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی آزمائش کیوں کرتا ہے؟
حضورِ انورنے اس پر فرمایا کہ ان کی نیکیوں کا اور زیادہ اجر دینے کےلیے۔ پھر اگلے جہان میں جا کے ان کو بہت سارے rewardدیتا ہے جو آزمائش پر پورا اُترتے ہیں۔
اور اس لیے اللہ تعالیٰ کہتا ہے وہاں سارے لوگ صحت مند بھی ہوں گے، آزمائش سے خالی بھی ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو دیکھ رہے ہوں گے۔ کیونکہ ہمارے ایمان کے مطابق مستقل زندگی eternal life تو اگلا جہان ہی ہے۔ یہاں تو پچاس ساٹھ سال یاستّر اسّی سال کوئی بندہ زندہ رہ کر چلا جائے گا۔تو اس میں اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ پھرمَیں rewardدیتا ہوں جو یہاں اچھا اس آزمائش سے گزر جاتے ہیں، لیکن جو ناشکرے ہوتے ہیں ان کو پھر اللہ تعالیٰ وہ reward نہیں دیتا ، جو شکرگزاروں کو دیتا ہے۔
انبیاء پر بھی بہت زیادہ آزمائشیں آتی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی صحابی ؓنے ہاتھ لگایا ، کہا کہ اتنے گرم! آپؐ کو بخار بھی ہوتا ہے، آپؐ اس تکلیف سے گزر رہے ہیں، آپؐ کو تکلیف بھی ہو سکتی ہے؟ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے تمہارے سے زیادہ تکلیفیں ہوتی ہیں، لیکن میری برداشت بھی اللہ تعالیٰ نے بڑی رکھی ہوئی ہے اور مَیں اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری کرتا رہتا ہوں۔
بہت ساری تکلیفیں ہیں، کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے نہیں گزرے، جنگِ اُحد میں ان سے کیا ہوا؟ کتنے زخمی ہوئے، کیل اندر کُھب گئے، دانت ٹوٹ گئے، خون و خون ہو گئے، چلا نہیں جا رہا تھا۔ طائف میں آپؐ سے کیا سلوک کیا گیا، پتھروں سے مار مار کے لہو لہان کر دیا گیا، جوتوں کے اندر تک خون آ گیا۔ مکّہ میں جب تھے تو اوجڑی سجدے کے دوران آپؐ کے اوپر ڈال دی گئی، گلے میں پھندا ڈال کے کھینچنا شروع کر دیا گیا۔ پھر اور تکلیفیں بخار وغیرہ، اس قسم کی بیماریاں بھی رہیں، لیکن اس آزمائش پر پورے اُترے۔ اس لیے سب سے زیادہ اجر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کومل رہا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے زیادہ آزمائشیں تمہیں نہیں آئیں۔
ایک خادم نے حضورِانور کی خدمت میں عرض کیا کہ اکثر خدام ہر طرف سے مشکلات دیکھ رہے ہوتے ہیں جیسے finances ، قریبی رشتوں میں مسئلے ہوتے ہیں، کیریئر میں مسئلے ہوتے ہیں، تو یہspiritual cycleمیں ڈال دیتا ہے۔ جیسے بندہ گرتا ہے ، پھر اُٹھتا ہے، پھر گرتا ہے۔ نیز راہنمائی طلب کی کہ ہم ایسا کیا کر سکتے ہیں کہ ہم کھڑے ہی رہ جائیں اور ہمارا ایمان مضبوط ہو جائے؟
حضورِانور نے اس پر سمجھایا کہ بات یہ ہے کہ آزمائش تو آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود قرآنِ شریف میں کہہ دیا ہے کہ مَیں تم لوگوں کو آزماتا ہوں ، تکلیفوں میں ڈالتا ہوں ، مشکلات میں ڈالتا ہوں، بیماریوں میں ڈالتا ہوں اور جو نیک لوگ ہوتے ہیں، وہ یہی کہتے ہیں کہ انا للہ و انا الیہ راجعون! یعنی ہم اللہ کے لیےہیں اور اللہ کی طرف ہی ہم نے جانا ہے۔ ہم ہر چیز اللہ تعالیٰ کی خاطر برداشت کریں گے۔اور یہ مشکلات جو آتی ہیں یہ تو اس دنیا کاایک common featureبن چکا ہے۔ اگر کوئی اللہ تعالیٰ کو مانتا ہے یا نہیں مانتا، اس پر بھی اچھے وقت بھی آتے ہیں اور بُرے وقت بھی آتے ہیں۔قرآنِ شریف میں اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا۔اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا۔یعنی تنگی کے بعد آسانی۔آسانی کے بعد تنگی ہے۔ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ نے رکھی ہیں تا کہ لوگوں کو آزماتا بھی رہے کہ کس حدّ تک وہ شکرگزاری کرتے ہیں۔
باقی ایک سسٹم ہے، ایک کامن اصول بھی دنیا میں ہے، بزنس میں لے لیں یا عام طور پر کہ ہر ایک rise کا ایک fallہوتا ہے یا اکنامکس میں بھی کہتے ہیں کہ اگر آپ بڑا flourish کر رہے ہیں تو ایک نقطے پر پہنچ کے diminishing return شروع ہو جاتا ہے۔یہاں فنانس والے، اکنامکس والے بھی بیٹھے ہیں انہوں نے پڑھا ہو گا۔یہ تو ایک نیچرل چیزہے۔ نیچر کے لاء کے مطابق چل رہا ہے۔ تو یہ سسٹم اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بنایا ہوا ہے۔
ہاں ! بعض لوگ ہوتے ہیں، وہ بڑی اچھی حالت میں رہتے ہیں، لیکن بعض کو اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ ان کو مَیں اتنا دیتا ہوں کہ وہ پھر اس سے پاگل ہی ہو جاتے ہیں، دماغ خراب ہوجاتا ہے، لیکن ایک وقت میں وہ بھی آ کے پکڑے جائیں گے اور اگر اس دنیا میں نہیں تو اگلے جہان میں، پھر مَیں ان کو اچھی طرح گھولوں گا۔
اب یہ جو سعودی عرب میں آئل منی ہے یا عرب ملکوں میں اس کا غلط استعمال کر رہے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بڑے اچھے ہیں اور ان کو کچھ نہیں ہوگا، لیکن ان کے بھی حالات خراب ہو رہے ہیں۔ قذافی کو انہوں نے ستیاناس کر دیا ، پھر عراق میں ہو گیا، اب بشار الاسد کے ساتھ کیا کچھ کر رہے ہیں۔ تو اسی طرح ان لوگوں کے ساتھ بھی ہوتا رہتا ہے اور جو یہاں نہیں ہوتا وہ اگلے جہان میں جا کر ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اگر مَیں کسی کو یہاں نہیں پکڑوں گا تو اگلے جہان میں پکڑ لوں گا۔ لیکن پکڑوں گا ضرور۔
تو اس دنیا کی زندگی کو جو سب کچھ سمجھتے ہیں وہ مومن تو نہیں ہیں۔ مومن تو وہی ہے جو اس دنیا کو عارضی ٹھکانہ سمجھ کے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہے کہ اگلے جہان میں اس کی بچت ہو جائے۔
تو یہ ایک نظام ہے جو چل رہا ہے۔ یہ کہنا کہ ہم صرف عیاشیاں کرتے کرتے چلے جائیں اور اگلے جہان میں بھی عیاشیاں ہی کرتے رہیں، یہ نہیں ہو گا، یہاں آزمائے جاؤ گے تو اگلے جہان میں rewardبھی ملے گا۔
قرآنِ شریف میں الله تعالیٰ کہتا ہے کہ قارون کی بڑی دولت تھی۔ اس کے جو boxesتھے یا ان کی جو چابیاں تھیں، ان کو اُٹھانے کے لیے بھی کئی اونٹوں اور ہاتھیوں کے اوپر ڈالا جاتا تھا۔ تو بعض لوگ جن کو دین کا اتنا علم نہیں تھا، کہتے تھے کہ اَے کاش! ہمارے پاس بھی دولت ہو۔ زلزلہ آیا توسب کچھ غرق ہو گیا۔ اس کی حالت دیکھ کے جو دوسرے لوگ تھے، وہ کہنے لگے کہ ہم تمہیں کہتے نہیں تھے کہ اس کو نہ دیکھو۔ تو وہ کہتے تھے کہ الله کا شکر ہے کہ ہمارے پاس یہ نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے جس طرح اس کو تباہ کر دیا، ہمیں بھی تباہ کر دیتا۔
تو یہ تو مختلف دنیا میں نمونے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کا سسٹم ہے کہ آزماتا ہے اور دیتا بھی ہے، اوپر نیچے، اُتار چڑھاؤ بھی ہوتا رہتا ہے۔
مذہبی دنیا میں عبادتوں میں بھی ایک جیسا سٹیٹس(status) نہیں رہتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے کہ آپؐ عبادت کرتے تھے، کئی راتیں ایسی گزریں کہ ساری ساری رات کھڑے رہے، اتنی دیر تک نیّت باندھ کے کھڑے رہے کہ پاؤں سوج گئے، ٹانگوں میں وَرم ہو گیا، خون بہنے لگ گیا۔ یا سجدے میں چلے گئے تو اتنا لمبا سجدہ ہوا کہ بعض لوگ ساتھ نماز پڑھنے والے کہتے تھے کہ لگتا تھا کہ ہمارے ناک میں سے خون بہنے لگ جائے گا۔ لیکن ہر روز تو نہیں ایسا ہوتا تھا۔ عام حالت میں کم سجدے بھی ہوتے تھے۔
تو یہ اُتار چڑھاؤ تو آتا ہے، زندگی کا حصّہ ہے، چاہے وہ روحانی زندگی ہے یا مادی دنیا کی زندگی ہے۔
ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو حضورِانور کے ہمراہ گروپ تصویر بنوانے کی بھی سعادت حاصل ہوئی اور یوں یہ ملاقات بخیر و خوبی انجام پذیر ہوئی۔ (بشکریہ الفضل انٹرنیشنل 19دسمبر 2024ء)
٭…٭…٭