اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-03-12

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ناصرات الاحمدیہ اورلجنہ اماء الله ہالینڈ کے ایک وفد کی ملاقات

مورخہ۲۲؍دسمبر ۲۰۲۴ء کو امام جماعتِ احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ناصرات الاحمدیہ اورلجنہ اماء الله ہالینڈ کے ایک چھیانوے (۹۶)رکنی وفد کواسلام آباد (ٹِلفورڈ) ميں قائم ايم ٹی اے سٹوڈيوز میں بالمشافہ ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی۔مذکورہ وفدنےخصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سےہالینڈسے برطانیہ کا سفر اختیار کیا۔
جب حضورِانور مجلس میں رونق افروز ہوئےتو آپ نے تمام حاضرین کو السلام علیکم کا تحفہ پیش فرمایا نیز صدر صاحبہ لجنہ اماء الله سے شرکاء کی تعداد کے بارے میں دریافت فرمایا۔ بایں ہمہ حضور نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ پروگرام کچھ زیادہ رسمی لگ رہا ہے اور شاید زیادہ وقت لے، اس لیے بہتر ہوگا کہ غیر رسمی انداز اختیار کیا جائے۔
صدر صاحبہ نے انتہائی ادب سے اس بات کی تائید کرتے ہوئے حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ کُل ۹۶؍ لجنہ اور ناصرات شریکِ مجلس ہیں جو سوالات پوچھنے کی خواہش مند ہیں۔ اس پر حضورِانور نے ازراہ ِشفقت سوالات کرنےکی اجازت مرحمت فرمائی۔ بعد ازاں ناصرات و لجنہ کومختلف مذہبی امور اور حالاتِ حاضرہ کے متعلق سوالات کرنےاور بیش قیمت راہنمائی حاصل کرنے کا موقع میسر آیا۔
سب سے پہلے ایک ناصرہ حضورِانور کی خدمت میں ملتمس ہوئی کہ تربیتی پروگرام میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کے لیے اچھے دوست کا انتخاب کریں، لیکن جن بچوں کے ساتھ والدین چاہتے ہیں کہ ہم اُٹھیں بیٹھیں، اگر وہ دوست ہی نہ بننا چاہتے ہوں تو اس بارے میں حضورِانور کی کیا نصیحت ہے؟
حضورِانور نےناصرہ سے پوچھا کہ وہ کس کلاس میں پڑھتی ہے، جس پر اس نے عرض کیا کہ وہ دسویں جماعت میں ہے۔ حضورانور نے پھر دریافت فرمایا کہ اس کے والدین اسے کس قسم کے دوست بنانے کی نصیحت کرتے ہیں، تو ناصرہ نے عرض کیا کہ اچھے بچوں سے، جس پر حضورانور نے مزیددریافت فرمایا کہ اچھے بچے کون سے ہوتے ہیں، تواس نے عرض کیا کہ جو پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں۔
پھرحضورِانور نے اس حوالے سے مزید سمجھایا کہ جس سکول میں جاتی ہو، وہاں کون سے سارےبچے مسلمان ہیں، جو نماز پڑھتے ہیں؟ عیسائی ہی ہیں، وہ تو خدا کو بھی نہیں مانتے، نمازیں کیا پڑھنی ہیں۔ اب تم نمازیوں کو تلاش کرتی رہو گی تو سکول میں تمہارا کوئی دوست ہی نہیں بنے گا۔
اچھے دوستوں کی تلاش کے معیار کی بابت حضورِانور نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اچھے بچوں سے مراد یہ ہے کہ جو تمہارے احمدی بچے ہیں، ان کو تو ویسے ہی اچھا ہونا چاہیے،یہ تو لجنہ کا کام ہے، ناصرات کی سیکرٹری کا کام ہے کہ ان کی تربیت کریں۔ اچھی بچیاں جو ہیں، وہ ساری بچیاں بچپن سے ہی سات سال کی عمر میں،اس وقت سے وہ دین کا علم سیکھیں، اللہ میاں کے حکموں پر عمل کریں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا کہا ہے؟ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ سات سال کی عمر میں بچوں کو کہو کہ نمازیں پڑھنا شروع کر دیں اور دس سال کی عمر میں ان کو سختی سے کہو کہ نماز ضرور پڑھنی ہے۔
تربیت کے ضمن میں ماں باپ اور ذیلی تنظیموں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے حضورِانور نے توجہ دلائی کہ اس قسم کی باتیں سکھانا ماں باپ کا بھی کام ہے اور لجنہ اور ناصرات کی تنظیم کا بھی کام ہے اور خدام الاحمدیہ کا بھی کام ہے، باپوں کا بھی کام ہے کہ بچوں کو کہیں۔ کیونکہ اگر صرف لڑکیوں کو کہتے رہیں گے تو لڑکیاں کہیں گی کہ لڑکوں کو کیوں نہیں کہتے، وہ خاص ہیں، لڑکوں کو special treatmentکیوں مل رہی ہے ؟ ہمارے ہاں بعض لوگ لڑکوں کو special treatmentدے دیتے ہیں اور لڑکیوں کو کوئی نہیں پوچھتا۔ لڑکے نے کچھ مانگا تو اس کو دے دیا،لڑکی نے مانگا تو کچھ نہیں دیا،بڑا ظلم ہوتا ہے، discriminationہوتی ہے۔ یہ نہیں ہونی چاہیے۔ تو یہ تو ان لوگوں کا کام ہے کہ اس طرح تربیت کریں تا کہ وہ اچھے بنیں۔
اپنے گھر اور احمدی ماحول میں دوستی کے دائرے کو وسیع کرنے کے حوالے سے حضورِانور نے توجہ دلائی کہ گھر کے ماحول سے جب بچہ satisfied ہو گا،تو سب سے پہلےا پنے بہن بھائیوں میں ہی اس کو دوست نظر آئیں گے، ماں باپ میں دوست نظر آئیں گے۔ کھیلنے کےلیے، احمدی ماحول میں جب اجلاس ہویامیٹنگ ہوتی ہے یا کوئی اورفنکشن ہوتا ہے تو اس میں وہاں اچھے دوست نظر آئیں گے۔روز تو دوستوں کے گھر نہیں جا سکتے۔ فاصلے بھی اتنے ہیں۔ اب اپنے امّی ابّا کوکہو کہ مجھے کار یا ٹرین میں بٹھا کر لے جائیں یا ہالینڈ میں سائیکل کا رواج ہے توسائیکل پکڑ کے تم کہو کہ مَیں جا رہی ہوں تو وہ کہیں گے سڑک پر بڑا خطرہ ہے،نہیں جانا، تو اس طرح نہیں ہوسکتا۔
سکول میں اچھے اخلاق کے حامل بچوں سے دوستی کرنے کے ضمن میں حضورِانور نے نصیحت فرمائی کہ پھر سکول ہے، سکول میں تو مذہب کو کوئی نہیں جانتا، اللہ تعالیٰ کو لوگ نہیں مانتے۔ وہاں تم دیکھو کہ اچھے اخلاق کس کےہیں، moralsکس کے اچھے ہیں، سچ بولنے والے بچے ہوں، جھوٹ بولنے والے نہ ہوں، گندی یا غلیظ باتیں کرنے والے نہ ہوں، غلط قسم کی فلمیں اور انٹرنیٹ پروگرام دیکھنے والے نہ ہوں۔
ایسےبچے تلاش کرو اور وہ مل جاتے ہیں۔ بہت سارے بچے غیروں، عیسائیوں اور لامذہبوں میں بھی ایسے ہیں جن کے ماں باپ چاہتے ہیں کہ وہ اچھی باتیں سیکھیں اور جب تمہارے سے وہ اچھی باتیں سیکھیں گے تو وہ تمہارے دوست بننے کی کوشش کریں گے۔ تو بچوں کےلیے اس طرح کے اچھے بچے تلاش کرنے کے لیے مختلفsituations میں، مختلف ماحول میں، مختلف جگہوں پر مختلفstandards ہو جاتے ہیں۔ تو وہ تم نے تلاش کرنے ہیں۔
دوستوں کے انتخاب میں حالات اور ماحول کے مطابق حقیقت پسندانہ رویہ اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حضورِانور نے تلقین فرمائی کہ یہ ضروری نہیں کہ صرف نماز پڑھنے والے بچوں کو ہی تلاش کیا جائے اور امّاں ابّا کو کہو کہ میرے سارےسکول میں ایک بھی نماز نہیں پڑھتا تو مَیں کس کو تلاش کروں، بالکل دنیا سے کٹ کے رہ جاؤں اور میری سوشل زندگی نہ ہو۔تو socialize ہونا بھی ضروری ہے۔
جب تم ایسے اچھے دوست بناؤ گی جو شریف ہوں گے، جو اچھی باتیں کرنے والے ہوں گے تو پھر وہ پوچھیں گے تم کون ہو؟ بتاؤ کہ مَیں احمدی مسلمان ہوں، اسلام کی تعلیم کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں کیا کہتا ہے کہ کس طرح اللہ کی عبادت کرو، ماں باپ کی عزت کرو، دوسروں کے ساتھ نیک سلوک کرو، چیریٹی دو، غریبوں کا خیال رکھو، سچ بولو، جھوٹ کبھی نہ بولو، محنت کرو اوراچھے شہری بن کے ملک کی خدمت کرو۔
تو یہ چیزیں جب دوسرے بچےتم سے سنیں گے تو وہ کہیں گے کہ یہ تو اچھے بچے ہیں، ان سے دوستی کرنی چاہیے اورپھر وہ اپنے ماں باپ کو بھی جا کے بتائیں گے۔ یہاں کے بہت سارے لوگ ماں باپ سے بھی شیئر کرتے ہیں۔ جب بچے انکو بتائیں گے تو وہ بھی کہیں گے کہ چلو پھر تم ان سے interact کرو۔اور اگر تمہارے ماں باپ پڑھے لکھے ہیں تو انہیں بھی اپنے ساتھ لے جا سکتے ہو۔
تو اس طرح دوستی بنتی ہے۔ صرف اچھے بچے کہہ دینا کافی نہیں ہے۔ ماں باپ سے کہو کہ اچھے بچے ہیں تو پھر ہمیں اچھے بچےلا کے بھی دیں۔ پہلے تو ہمیں نمازی لا کے دیں۔ situation کو دیکھنا چاہیے، realistic ہونا چاہیے اور حالات کے مطابق باتیں کرنی چاہئیں۔
آخر پر حضورِانور نے اس بات پر زور دیا کہ جس طرح مَیں نے بتایا،اگر بچے غلط قسم کی فلمیں دیکھنے والے ہیں، ان غلط قسم کی باتوں کو سکول میں آ کے discuss کرتے ہیں تو پھران کو avoid کرو۔ اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن شریف میں کہا ہے کہ یہ لغو باتیں ہیں اور ان سے بچ کے رہو، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو، ان سب کو بچ کے رہنا چاہیے۔
اس مجلس کا اگلا سوال بھی ایک ناصرہ کو پیش کرنے کی سعادت حاصل ملی جس نے اپنا تعارف کروانے کے بعد حضورِانور سے دریافت کیا کہ چھوٹے بچوں کو خطبہ کیوں سننا چاہیے؟
حضورِانور نے اس کے جواب میں استفہامیہ انداز میں استفسار فرمایا کہ بڑے بچوں کو کیوں سننا چاہیے؟ نیز تلقین فرمائی کہ جس طرح بڑوں کو سننا چاہیے اسی طرح چھوٹوں کو بھی سننا چاہیے۔
خطبات سننے کے حوالے سےبڑوں کے عملی نمونے کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے حضورِانور نے فرمایا کہ تمہارے امّاں ابّا کہتے ہیں کہ ہم نہیں سنتے، صرف تم سنو، تو وہ غلط کرتے ہیں۔ پہلے تو اپنے امّاں ابّا کو کہو کہ آپ خطبے سنیں، ہم تو چھوٹے بچے ہیں، ہمیں تو بعض باتیں سمجھ نہیں آتیں۔ ان کو سنیں، اس پر غور کریں، پھر ہمیں بتائیں کیونکہ خطبے میں بہت ساری اچھی باتیں ہوتی ہیں۔
خطبات کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے حضورِانور نے بیان فرمایا کہ خطبہ جمعہ نماز کا حصّہ ہے۔ اور اگر تمہاری مراد یہ ہے کہ میرے خطبے جو ایم ٹی اے پر آتے ہیں، وہ سننے ہیں، تو اس کے لیےیہ ہے کہ بہت ساری اچھی باتیں اور بعض دفعہ نصیحتیں بھی مَیں تقریروں اور خطبوں میں کرتا ہوں، جو بچوں کے لیے بھی ہوتی ہیں اور بڑوں کے لیے بھی ہوتی ہیں، اس پر عمل کرو تا کہ ہم صحیح اسلام کی تعلیم پر عمل کریں۔
حضورِانور نے توجہ دلائی کہ آجکل مَیںآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر خطبہ دیتا ہوں، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی بہت ساری باتیں ہیں جو ہمیں چاہیے کہ ہم دیکھیں اور سیکھیں۔ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیےrole modelہیں، اُسوہ ٔ حسنہ ہیں، تو اس لیے ہمیں ان کی باتیں سیکھ کر ان پر عمل کرنا چاہیے۔اس لیےخطبہ سننا چاہیے۔سنو، دیکھو اور اس پر عمل کرو، اس کی practiceکرو اور نیک بچے بن جاؤ۔
آخر پر حضورِانور نے تاکید فرمائی کہ جہاں بچوں کے لیے خطبہ سننا ضروری ہے، وہیں بڑوں کے لیے بھی ضروری ہے۔ پہلے بڑوں کو سننا چاہیے، یہ نہیں کہ بڑے کچھ اور دیکھ رہے ہوں اور بچوں کو کہیں کہ تم خطبہ سنو۔ بڑوں کو اپنے نمونے قائم کرنے چاہئیں۔
ایک ناصرہ نے حضورِانور سے راہنمائی طلب کی کہ ہم کیسےself confidence (خود اعتمادی) حاصل کر سکتے ہیں؟
حضورِانور نے اس کے جواب میں جامع راہنمائی فرمائی کہ تم پہلے تو یہ خیال رکھو کہ یہاں کسی complex میں آنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہم احمدی مسلمان ہیں۔ اور یہ دماغ میں ڈالو کہ ہم احمدی مسلمان ہیں اور آخر میں ultimately ہم نے ساری دنیا کو احمدیت کا پیغام پہنچا کے احمدی مسلمان بنانا ہے۔ جب تمہیں یہ پتا ہو گا، determination ہو گی، تو مضبوط ہو جاؤ گی اور پھر تم سمجھو گی کہ مَیں کچھ چیز ہوں، دنیا کومَیں نے سکھانا ہے، میرے پاس جو علم ہے، جو میرا مذہب ہے، جو میرا دین ہے، جو میرا اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے، وہ دوسروں کا نہیں ہے، اس لیےمَیں نے دوسروں کو سکھانا ہے۔
جو تمہارا اپنا بچوں کا ماحول ہے، جماعت کا ماحول ہے، ناصرات کی کلاسیں یا آپس میں بچوں کےفنکشن ہیں، اس میں ایک تو یہ ہے کہ تمہارے پاس اگر خود دینی علم ہو گا اور تم اچھی باتیں کرنے والی ہو گی، تمہارے اچھے اخلاق ہوں گے، ویسے بھی تمہارا knowledge اچھا ہو گا تو تمہارے اندر confidence پیدا ہو گا۔ دوسراسکول میں تم اچھا پڑھو گی اور محنت کرو گی اور ایک اچھی سٹوڈنٹ بن جاؤ گی، اچھے نمبر لینے والی ہو گی، تو تمہارے اندر confidenceپیدا ہو گا۔ اس کے لیےیہ ضروری ہے کہ سکول میں جو پڑھتی ہو، گھر آ کے وہ reviseکرو، پڑھو اوردیکھو اور اگلے دن پھر جا کر سناؤ۔ جب تم ٹیچر کے سامنے اپنی باتیں بتاؤ گی کہ تم نے یہ پڑھا، یہ دیکھا، یہ سیکھا تو ٹیچر تمہیں سوال کرے گی اور تم صحیح جواب دو گی تو تمہارے اندر confidence پیدا ہو گا۔
پھر دوسرے لوگ بھی تمہیں دیکھیں گے۔ کچھ لوگ jealousبھی ہو جائیں گے کہ اس کو یہ آتا ہے، ہمیں نہیں آتا، لیکن بہت سارے بچے بچیاں تم سے سیکھنے کی کوشش کریں گے۔ جب تم سے سیکھنے کی کوشش کریں گے تو تمہارے اندر confidence مزید develop ہو جائے گا، اور پیدا ہوگا۔ اور پھر تم ان کو بھی بتاؤ گی کہ مَیں کون ہوں،ہماری کیا تعلیم ہے، کیوں میرے اچھے اخلاق ہیں۔ تو جب تمہارے morals بھی اچھے ہوں گے، اخلاق بھی اچھے ہوں گے، تمہاری باتیں بھی اچھی ہوں گی، تمہاری پڑھائی بھی اچھی ہو گی تو تمہارے اندر self confidenceپیدا ہو جائے گا۔
ایک ناصرہ نے حضورِانور سے دریافت کیا کہ آپ نے اپنی آمین (کی تقریب) پر کیا کیا تھا؟
حضور انورنے اس کے جواب میں مسکراتے ہوئے فرمایا کہ مَیں نے تو کوئی آمین نہیں کروائی۔ شاید میری جو پڑھانے والی ٹیچر تھی، اس نے سن لیا اور بس ختم ہو گیا۔ کوئی فنکشن نہیں کیا،کوئی دعوت نہیں کی، کچھ نہیں کیا۔بعض لوگ ہمارے زمانے میں بھی آمین کرتے تھے، میرے بعض کزن بھی کرتے تھے، مَیں نے تو کوئی نہیں کی اور نہ ہی مجھے کبھی کوئی خیال آیا کہ مَیں نے ضرور آمین کرنی ہے۔
(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل 2 جنوری 2025ء)
(باقی آئندہ)