مورخہ ۳۰؍دسمبر ۲۰۲۴ء کو امام جماعتِ احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ امریکہ کےورجینیا ریجن کے ایک وفد کو اسلام آباد (ٹلفورڈ)میں بالمشافہ ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی۔ خدام نےخصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سےامریکہ سے برطانیہ کا سفر اختیار کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اسی ریجن کا ایک سترہ رکنی وفد مورخہ۳۰؍نومبر ۲۰۲۴ءکو حضورِانور سے بالمشافہ ملاقات کی سعادت حاصل کر چکا ہے۔
جب حضورِانور ملاقات کے لیے تشریف لائے تو آپ نے تمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔
دورانِ ملاقات حضورِانور نے ہر خادم سے انفرادی گفتگو فرمائی اور ان سے تفصیلی تعارف حاصل کیا۔ بعد ازاں خدام کو حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں سوالات کرنے اور ان کی روشنی میں بیش قیمت راہنمائی حاصل کرنے کا موقع بھی ملا۔
ایک خادم نے حضورِانور کی خدمت میں عرض کیا کہ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ انہیں اچھے، دیانت دار اور بااخلاق انسان بننے کے لیےمذہب کی ضرورت نہیں ہے۔ نیز عرض کیا کہ کیا پیارے حضور راہنمائی فرما سکتے ہیں کہ یہ بات کیوں درست نہیں ہے اور یہ کہ انسان کو صحیح راستہ پر چلنے کےلیے مذہب کی کیوں ضرورت ہے؟
حضورِانور نے اس پر فرمایا کہ پچھلے دنوں ہی مَیں نے ایک جواب میں بتایا تھا کہ ضروری نہیں ہے کہ جو اچھے moralوالے ہیں وہ ضرور مذہبی لوگ ہی ہوں۔ اب بہت سارے مسلمان claimکرتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں لیکن یہ مسلمان آجکل کیا کر رہے ہیں؟ ان کے یہ moralsکوئی اچھے تو نہیں ہیں۔
حضورِانور نے مزید فرمایا کہ اس کے بجائے بعض atheistsہیں، وہ زیادہ اچھے moralsکے حامل ہیں،بعض جو practisingمسلمان نہیں ہیں یا کرسچن نہیں ہیں یا کوئی بھی مذہب نہیں رکھتے، ان میں بھی اچھے morals پائے جاتے ہیں۔
تو اصل چیز یہ ہے کہ اسلام کا قصور نہیں ہے یا مذہب کا قصور نہیں ہے کہ moralsنہیں سکھاتا۔ ہر نبی جو آیا ہے اس نے morals سکھائے ہیں، کامن ٹیچنگ ہرایک کی یہ ہے کہ خداکو ایک سمجھو، عبادت کرو اور اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔ Christianityکی بھی یہی تعلیم ہے،بدھ اِزم کی بھی تعلیم ہے، موسیٰ علیہ السلام اور آنحضرت ﷺ کی بھی یہی اسلامی تعلیم ہے۔
حضورِانور نے اس بات پر زور دیا کہ ہر نبی نے یہی سکھایا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کسی بھی moral کی basisہیں، وہ مذہب سے ہی آئی ہیں اور اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جنہوں نے اخلاق سیکھا ہے، وہ مذہب سے ہی سیکھا ہے۔ آگے اَور بات ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم خدا کو نہیں مانتے، ہم مذہب کو نہیں مانتے، یہ ایک علیحدہ چیز ہے۔ تو اصل چیز یہ ہے کہ ان میں بھی اچھے morals والے لوگ پیدا ہوتے ہیں جو مذہب کو نہیں مانتے، لیکن اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اگر تم مذہب کو مانو گے، میرا حق ادا کرو گے اور ساتھ ہی تمہارے اچھے moralsبھی ہوں گے تو مَیں تمہیں کئی گنا reward دوں گا۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں بھی لکھا ہوا ہے کہ وہ لوگ جو مذہب کو مانتے ہیں، بظاہر نمازیں پڑھنے والے ہیں، لیکن اگر وہ غریبوں کا حق نہیں ادا کرتے، سچ نہیں بولتے، لڑائیوں میں involveہیں اور دوسروں کے حقوق غصب کرنے والے ہیں تو مَیں ان کی نمازیں بھی قبول نہیں کروں گا اور ان کو جہنّم میں ڈال دوں گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے تو خود کہہ دیا کہ صرف مذہب کو ماننا ضروری نہیں ہے، اچھے اخلاق بھی ضروری ہیں اور جس طرح اللہ کے rights ہیں، اسی طرح بندوں کے بھی rights ہیں، اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ تم یہ ادا کرو۔ تو حقوق العباد اگر تم نہیں ادا کرو گے تو میرے rights جو تم سمجھتے ہو کہ مَیں ادا کر رہا ہوں، وہ بھی قبول نہیں ہوں گے۔
اس لیےجو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مذہب نے ہمیں خراب کیا ان کو کہو کہ مذہب نے خراب نہیں کیا بلکہ مذہب کی basicتعلیم ہی تھی کہ جس نے تمہارے اندر morals پیدا کیے۔ یہ اَور بات ہے کہ تم نے آہستہ آہستہ اس مذہب کی جو حقیقی تعلیم تھی اس کوچھوڑ دیا، اور صرف moralsکو لے لیا، چلواچھی بات ہے۔ لیکن جو مذہب کو ماننے والا بھی ہے اور اچھے morals والا بھی ہے، اس کو ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا کے بعد eternal زندگی تو اگلے جہان کی ہے، وہاں جا کے کئی گنا reward دے گا، جو تمہیں نہیں دے گا جو مذہب کو نہیں مانتے۔ہم اُس زندگی پر زیادہ یقین کرنےو الے ہیں۔ یہاں تو اسّی، سَو سال کے بعد انسان اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ کسی کی عمر سَو سال یا شاید ایک سَو پانچ سال تک پہنچتی ہے۔ کل ہی آپ کا صدر جمی کارٹر سَو سال کی عمر میں فوت ہو ا ہے، اس سے زیادہ عمر کے چند ایک ہی ہوتے ہیں۔ لیکن بصورتِ دیگر عمومی طور پر لوگوں کی عمریں اسّی سے نوّے سال کے درمیان ہوتی ہیں۔ تو اگلے جہان میں جاکے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دوگنا reward دے گا جو مذہب کو مانتے ہیں اور اچھے اخلاق اپناتے ہیں۔
حضورِانور نے فرمایا کہ تو یہی ہمارا نظریہ ہے، ہم مذہب کو ماننے والے، خدا کو ماننے والے ہیں اور اگلے جہان پر یقین کرنے والے ہیں۔ اس لیے مذہب کے ساتھ ساتھ ہمارے لیے اچھے moralsبھی ضروری ہیں۔ صرف یہ کہنا کہ مَیں مسلمان ہوں، نمازیں پڑھتا ہوں، تو اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ مَیں تمہاری نمازیں تمہارے منہ پر مار دُوں گا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے خود ہی کہہ دیا۔
حضورِانور نے آخر پر سوال کے نفسِ مضمون کی روشنی میں تلقین فرمائی کہ انہیں کہو کہ ہم کب کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ محض نمازیں پڑھنے والے کو ہی بخش دے گا، تمہیں نہیں بخشے گا، ہاں! اگر اچھے کام کر رہے ہو تو وہ تمہیں بھی بخش دے گا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے، وہ جج نہیں ہے، وہ مالک ہے۔ یہ نہیں ہے کہ وہ صرف انصاف کرے، وہ چاہے تو اپنی مرضی سے کسی کو بخش بھی سکتا ہے، اگر اس کے اچھے عمل ہیں۔
ایک خادم نے حضورِانور سے راہنمائی طلب کی کہ اگر ہمارے قریبی رشتہ دار احمدی نہیں ہیں، تو ہماری کیا ذمّہ داری ہے، اُن کے لیے دعا کرنے کے علاوہ ہمیں ان کو کس طرح سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے کہ وہ احمدیت کی سچائی کو مان جائیں؟
حضورِانور نے اس پر راہنمائی فرمائی کہ بات یہ ہے کہ مذہب میں کوئی زبردستی تو ہے نہیں۔ جو رشتہ دار احمدی نہیں ہیں، وہ اگر اچھا تعلق رکھتے ہیں، atleastہمیں اچھا سمجھتے ہیں تو تبھی توتعلق رکھتے ہیں۔ بعضوں کے رشتہ دار احمدی نہیں ہوتے، وہ کہتے ہیں کہ تم احمدی ہو گئے توہم تم سے بائیکاٹ کر دیتے ہیں، بولتے نہیں ہیں، تمہارے خلاف باتیں کرتے ہیں، تمہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
نیک فطرت غیر از جماعت رشتہ داروں سے حُسنِ سلوک اور ان کے لیے دعا کی تلقین کرتے ہوئے حضورِانور نے تاکید فرمائی کہ جو رشتہ دار تم سے تعلق رکھ رہے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ ان کی فطرت اچھی ہے، تو ان سے دوستی اور تعلق رکھو۔ اسلام کی تعلیم کے مطابق ان کو اپنے اچھے morals دکھاؤ۔ ابھی moralsکی بات ہی ہو رہی ہے اور جہاں ان کو ضرورت ہو،ان کی خدمت کرو، ان کے کام آؤ، ان کے لیے دعا کرو۔ تو یہ چیزیں جب وہ دیکھیں گے کہ تمہارا behaviourکیا ہے،ان کی طرف کیاattitudeہے، تو ان میں خود ہی یہ روح پیدا ہوگی کہ ہاں ! یہ لوگ اچھے ہیں اور آہستہ آہستہ پھر ایک وقت آئے گا کہ جب اللہ تعالیٰ ان کے دل بھی کھولے گا تو وہ احمدی بھی ہو جائیں گے۔
مزید برآں رحمی رشتے نبھانے کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے حضورِانور نے یاددہانی فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ جو مسلمان ہوتا ہے، تم نے صرف اس کے ساتھ رحمی رشتے نبھانے ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ رحمی رشتوں کا خیال رکھو، جو تمہارےblood relations ہیں، ان کا خیال رکھو اور جو تمہارےin lawsکے blood relationsیعنی جو بیوی کےblood relationsہیں، ان کا بھی خیال رکھو۔ تو جب تم یہ کرو گے تو وہ چاہے کوئی بھی ہو تو اس پر ایک اچھا اثر پڑے گا، ماحول میں ایک امن سلامتی قائم ہو گی اور آہستہ آہستہ جب وقت آئے گا اور اگر اللہ تعالیٰ نے قسمت میں لکھا ہوا ہے کہ انہوں نے مذہب کو قبول کرنا ہے، اسلام کو قبول کرنا ہے، تو وہ کر لیں گے۔ اگر نہیں تو کم از کم تمہارے اچھے اخلاق کا ہی تمہیں دوگنا rewardمل جائے گا۔
ایک خادم نے حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ حضور نے کافی دفعہ پہلے بات کی ہے کہ اسلام میں نماز بہت ہی ضروری چیز ہے۔ میرا سوال ہے کہ کیا کوئی ایساطریق یا حکمتِ عملی ہے، جسے ہم نماز میں توجہ زیادہ مرکوز کرنے اور سستی کے وقت نماز کو وقت پر ادا کرنے کو یقینی بنانے کے لیے اختیار کر سکتے ہیں؟
حضورِانور نے اس کے جواب میں فرمایا کہ بات یہ ہے کہ آپ جب بھی کوئی کام کرتے ہیں تو اس لیے کرتے ہیں کہ آپ کی دل سے خواہش ہوتی ہے، ہم نے نماز کیوں پڑھنی ہے، کیاصرف اپنے مقصد کے لیے؟
حضورِانور نے وضاحت فرمائی کہ ایک آدمی کے لیےدو چیزیں ہوتی ہیں۔ایک چیز یہ ہے کہ کسی ٹارگٹ کو achieveکرنے کےلیے انسان کوئی کام کرتا ہے۔ اور ایک چیز یہ ہوتی ہے کہ کسی کو کسی سے پیار ہو تو وہ اس کے پیار کو حاصل کرنے کے لیے کوئی کام کرتا ہے۔ اپنے ماں باپ کی بات اگر مانتا ہے تو اس لیے نہیں مانتا کہ ان سے ہم نے پیسے یا کپڑے لینے ہیں یا ماں شام کو کھانا نہیں دے گی۔ پیار نہیں کرو گے تو تب بھی کھانا دے گی۔ لیکن تمہیں ماں سے پیار ہے، باپ سے پیار ہے، اس لیے کہ تمہارا خیال رکھتے ہیں۔ ماں باپ سے اس لیے انسان محبّت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ تم مجھ سے ان سے زیادہ محبّت کرو۔ ماں باپ سے زیادہ محبّت خدا تعالیٰ سے ہونی چاہیے۔ جب خدا تعالیٰ سے محبّت ہو گی تو تم اس کی عبادت کرو گے، پھر تمہیں عبادت کا خیال بھی آئے گا اور جب خیال آئے گا تو نمازیں پڑھنے کی طرف بھی توجہ پیدا ہو گی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ شریف میں فرمایا ہے کہ مَیں نے جنوں اور انسانوں کو عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ عبادت سے اللہ میاں کہتا ہے کہ مجھے تو کوئی فائدہ نہیں ہے، مگر تمہیں ہی فائدہ ہے، یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی benefitحاصل کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے اس کا benefitبھی تمہیں جاتا ہےکہ تمہیں پھر اللہ تعالیٰ reward دے گا اور تمہاری تھوڑی سی effort کےزیادہ اچھے، بہتر resultsکر کے دکھائے گا اور اگلے جہان کا reward اس کے علاوہ ہے۔
الله تعالیٰ کی عطاکردہ نعمتوں کو یاد کرتے ہوئے ان پر شکرگزاری کے حوالے سے حضورِانور نے زور دیا کہ یہ بات دل میں ہو گی کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں اتنی نعمتیں دیں اور ہمارے لیے بے شمار سامان اور وسائل فراہم کیے۔ ماں باپ دیے، ان کو یہ توفیق دی کہ میرا خرچ اُٹھائیں، مجھے پڑھائی کرنے کی توفیق ملی، مجھے کپڑے اور سہولتیں ملیں، یہ opportunitiesملیں کہ مَیں یہاں امریکہ میں رہ کے پڑھائی کر رہا ہوں اور اچھیjobکر رہا ہوں یا کر سکتا ہوں کہ اچھی opportunities ہیں تو پھرمَیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کروں۔
اظہارِ شکرگزاری کے لیے عبادت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے حضورِانور نے توجہ دلائی کہ الله تعالیٰ کہتا ہے کہ میرا شکر ادا کرو، مَیں تمہیں نعمتوں میں اور بڑھاؤں گا، تو جب آدمی شکرگزار ہوتا ہے تو پھراظہار بھی کرتا ہے۔ تو اظہار کرنے کے لیے پھر اللہ تعالیٰ یہ کہتا ہے کہ اگر تم نے مجھ سے شکرگزاری کا اظہار کرنا ہےتو پھر میرے پاس پانچ وقت آنا پڑے گا۔ میرے پاس پانچ وقت آ جاؤ، مَیں تمہیں شکرگزاری میں اور بڑھاؤں گا اور تمہارے انعامات بڑھاتا رہوں گا۔
الله تعالیٰ کی محبّت اور عبادت کی حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے حضورِانور نے فرمایا کہ اپنے دماغ کو اس طرف لانا ہوگا کہ ہم نے اللہ تعالیٰ سے پیار کرنا ہے اور جب اللہ تعالیٰ سے ہمیں پیار ہو گا تو اس کی عبادت بھی ہو گی۔ حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے لکھا ہے اگر صرف فرض سمجھ کے ٹھوکریں مار کے چلے جاتے ہو تو اللہ کہتا ہے کہ
اس کی مجھے کوئی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو قرآنِ شریف میں لکھا ہے کہ ایسے بعض لوگوں کی نمازیں جو نماز کاحق ادا نہیں کرتے،ان کو واپس کر دوں گا، ایک تو یہی ہے کہ لوگوں کے حق ادا نہیں کرتے۔ بلکہ یہ لکھا ہے کہ نماز پڑھتے ہوئے سستی سے کھڑے ہوتے ہیں کہ کیا مصیبت پڑ گئی ہے؟ امّاں نے کہا ہے کہ نماز پڑھ لو، چلو! امّاں کو دکھانے کےلیے نماز پڑھ لیتے ہیں، ابّا نے کہا ہے کہ نماز پڑھ لو تو چلو! چلے جاتے ہیں یا خدام الاحمدیہ نے کہا کہ آج میٹنگ ہے تم نے وہاں آنا ہے تو اس بہانے چلو !چلیں گے تو مغرب کی نماز پڑھ لیں گے اور عشاء بھی پڑھ لیں گے یا جمعہ پڑھنا مجبوری ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔
پہلے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبّت پیدا کرو پھر نماز پڑھنے کا مزہ آئے گا۔اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اپنے اندر ماں باپ سے زیادہ محبّت میرے لیے پیدا کرو۔ اس لیے استغفار زیادہ کرو اور نماز میں ہی دعا مانگو کہ اللہ میاں ! تُوہمیں اپنی محبّت عطا کر دے۔ پھر انسان صحیح مومن بنتا ہے۔ (باقی آئندہ )
(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل 9 جنوری 2025ء)
ززز