اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-04-16

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ امریکہ کے ورجینیا ریجن کےایک وفد کی ملاقات

کیا آئندہ مغربی ملکوں میں بھی مسلمانوں کی زندگی مشکل ہوجائے گی
شریک حیات کی طرف سے ہونے والے زبانی تشدد کے موقع پر کیا کرنا چاہئے
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ کونسی خاص دعا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام باقاعدگی سے پڑھا کرتے تھے

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ امریکہ کے ورجینیا ریجن کےایک وفد کی ملاقات

بقیہ ملاقات از شمارہ نمبر 9 اپریل 2026ء
ایک شریکِ مجلس نے دنیا کے موجودہ حالات کے تناظر میں حضورِانور سے استفسار کیا کہ کیا حضور کو یہ لگتا ہے کہ آنے والے وقتوں میں مسلمان جو کہ مغربی دنیا میں رہتے ہیں، ان کی زندگی مشکل ہو جائے گی اور مغربی دنیا میں ہم سے ہماری آزادیاں چھین لی جائیں گی؟
حضورِانور نے یاد دلایا کہ اس بارے میں تو مَیں کئی دفعہ بتا چکا ہوں، پہلے بھی کئی دفعہ لوگ میرے سے پوچھ چکے ہیں، کہ اگر اسلام نے ترقی کرنی ہے تو یہ ترقی جماعتِ احمدیہ کے ذریعہ سے ہونی ہے، اس لیے جماعتِ احمدیہ کو زیادہ خطرہ ہے اور ایسے حالات ایک وقت میں آ کے پیدا ہوں گے کہ جب اسلام کے خلاف اور ultimatelyجماعتِ احمدیہ کے خلاف بعض لوگ کھڑے ہوں گے اور اس میں ہو سکتا ہے کہ مخالفتیں زیادہ پنپیں ، اگر اس سے پہلے کہ تم لوگوں نے کوئی انقلاب پیدا نہ کر دیا۔
اس لیے یہ تو ظاہر ہے کہ جب ترقی ہوتی ہے تو مخالفت بھی زیادہ بڑھتی ہے۔ یہاں ویسٹ میں بھی بڑھ جائے گی بلکہ ابھی کچھ نہ کچھ تو باتیں ان کو پتا ہوتی ہیں، کر رہے ہوتے ہیں، ان کے دماغوں میں یہ بھی ہے کہ کسی وقت ہم خلافت کو بھی نقصان پہنچائیں، اور اس کے لیے یہ ہو سکتا ہے کہ پھر ان کے مختلف طریقے ہیں لوگوں کو نقصان پہنچانا، مخالفت کرنا اور ان کی لابنگ ہوتی ہے، تمہیں پتا ہے، امریکہ میں تو بہت زیادہ لابنگ ہوتی ہے۔ اس کے بعد پھر کیا کچھ کریں گے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، لیکن اس سے پہلے اگر ہماری کوششیں صحیح ہوں گی، اللہ تعالیٰ کا فضل ہو گا، دعا ہو گی، تو اللہ تعالیٰ اس سے ہمیں بچا بھی سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔
حضورِانور نے توجہ دلائی کہ تبھی تو مَیں کہتا ہوں کہ ابھی سے ہمیں اپنے پیغام کو ہر جگہ پہنچانا چا ہیے، بجائے اس کے کہ جب پینتالیس ہزار فلسطینی مر گیا تو بعض لوگ ویسٹ بلکہ یہودیوں میں بھی، عیسائیوں میں بھی، atheist بھی آواز اُٹھانا شروع ہوگئے کہ یہ ظلم ہو رہا ہے، genocideہو رہا ہے اور اسرائیل کے خلاف بولنے لگ گئے۔مگر پہلے کوئی نہیں بولتا تھا کہ جب تک اس میں تیس، چالیس ہزار بندہ نہیں مر گیا، ستّر فیصد بچے نہیں مرگئے۔ تو اسی طرح بجائے اس کے کہ اسلام پر اتنا ظلم ہو کہ تم لوگ مرنے شروع ہو جاؤ اور پھر ایک reaction ہو، اس سے پہلے پہلے ہمیں تعارف کروانا چاہیے کہ ہم کیا چیز ہیں۔
حضورِانور نے زور دیا کہ اس لیے مَیں کہتا ہوں کہ اپنے ملکوں میں تبلیغ کرو یا کم از کم احمدیت کو introduceکراؤ اور آج سے پندرہ بیس سال پہلےمَیں نے کہا تھا کہ دس فیصد آبادی کو بتاؤ اور اگر دس فیصد آبادی کو اس وقت سے بتانا شروع کر رہے ہوتے اس وقت تک کہیں کا کہیں ہمارا introduction ہو جاتا۔ ابھی تو تمہارے ورجینیا میں جہاں تم لوگ رہتے ہو، میرا نہیں خیال کہ تمہارے دو فیصد لوگ جو وہاں کی آبادی ہے، وہ جانتی ہو کہ احمدی کون ہیں؟ تم نے مسجد مبارک بھی بنا لی، مسجد مسرور بھی وہاں بنا لی اور بڑے بڑے کام کر دیے، فنکشنز پرلوگوں کو، neighboursکو بلاتے بھی ہو، لیکن کتنے لوگ ایسے ہیں جو تمہیں جانتے ہیں؟
مخالفت بڑھنے سے پہلے بروئے کار لائے جانے والے اقدامات کے حوالے سے حضورِانور نے راہنمائی فرمائی کہ اس لیے یہ تو ہو گا، لیکن اس مخالفت سے پہلے ہم اپنی طرف سے کیا اقدامات لے سکتے ہیں، وہ یہ ہیں کہ ہم اپنے آپ کو متعارف کروائیں اور اس سے پہلے یہ بتائیں کہ ہم امن پسند لوگ ہیں اور ہمارا کوئی اور ایجنڈا نہیں، کوئی اور مقصد نہیں لیکن صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ کو پہچانو۔ نہ ہم نے حکومت لینی ہے، یہی ان politicians یا دنیا داروں کو خطرہ ہو تا ہے کہ حکومت میں نہ آ جائیں، ہمارے حق نہ غصب ہو جائیں، تو ان کو کہو کہ ہماری اس سے کوئی غرض نہیں، ہم تو صرف مذہب کو مانتے ہیں، مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں اور باقی حکومتیں تمہارے سپرد۔ تو یہ ان کو realise ہو جائے تو شاید مخالفت کچھ حدّ تک کم ہو جائے۔
لیکن بہرحال ایک وقت میں آ کے مخالفت تو ہو گی، جب جماعت کی ترقی بھی ہو گی۔ اس کے ساتھ بہرحال جماعت کی ترقی کو بھی بریکٹ کرنا ہو گا اور تبلیغ کرو گے تو پھر تمہاری مخالفت اَور زیادہ بڑھے گی کہ جب لوگ دیکھیں گے کہ ان کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ابھی تو صرف پاکستانی ہیں۔ کہتے ہیں کہ پاکستانی لوگ ہیں، چند ایک افریقن امریکن نے احمدیت قبول کر لی ہے یا ایک دو وائٹ امریکنز نے کر لی یا ایشینز چند ایک آئے ہوئے ہیں، تو اس لیے کوئی فرق نہیں پڑتا، چھوٹی سی کمیونٹی ہے، اس نے ہمیں کیا کہنا ہے؟
حضورِانور نے توجہ دلائی کہ لیکن جس طرح مَیں نے بتایا کہ ان کے دماغوں میں ابھی سے یہ ہے کہ کیونکہ یہ خلافت پر چلتے ہیں تو اس لیے ان کے پاس ایک مرکز ہے کہ جس کے کہنے پر یہ چلتے ہیں، اس لیےمرکز کو بھی پکڑنا چاہیے۔ ان لوگوں کویہ خیال پیدا ہو سکتا ہے، جو دنیا دار ہیں، ان کی نظریں بڑی دُور دُور ہوتی ہیں۔ یہ لوگ آج سے تیس سال بعد کی پلاننگ کر رہے ہوتے ہیں تو ہمیں بھی اسی طرح پلاننگ کرنی چاہیے۔
ایک خادم نے حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ ایک شریکِ حیات کی طرف سے دوسرے پر زبانی تشدد جیسی زیادتیوں کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے لیکن اس کے دیرپا منفی اثرات مرتّب ہو سکتے ہیں۔میرا سوال یہ ہے کہ ایک شخص کو اس کاکس طرح سامنا کرنا چاہیے اور جماعت اس شخص کی مدد کے لیے کیا کر سکتی ہے؟
حضورِانور نے اس پر دریافت فرمایا کہ
who is suffering more, the husband or wife.
نیز فرمایا کہ زیادہ تر تو یہی کیس ہوتے ہیں کہ جو abuseہو رہا ہوتا ہے، مجھے بھی شکایتیں تو یہی آتی ہیں کہ بیویاں کہتی ہیں کہ خاوندوں نے یہ کیا۔ اس کے لیے جماعت ان کو سمجھاتی ہے، اس کے لیے اصلاحی کمیٹیاں بنائی گئی ہیں اور مقصد یہ ہے کہ آپس میں لجنہ اور خدام الاحمدیہ کے ذریعہ ان کو سمجھایا جاتا ہے کہ جو میاں بیوی کے due rights ہیں، وہ ایک دوسرے کو دو۔
حضورِانور نے نشاندہی فرمائی کہ spouse یعنی میاں بیوی میں کیوں riftپیدا ہوتی ہے؟ تو مجھ سے جب کوئی پوچھتا ہے تومَیں کہتا ہوں کہ اگر دونوں کی یہ understandingہو کہ perfect تو کوئی نہیں ہوتا، کوئی نہیں کہہ سکتاکہ مَیں perfectہوں اور تم غلط ہو، دونوں میں کمزوریاں ہوتی ہیں۔everybody has some shortcomingsیعنی ہر کسی میں کچھ نہ کچھ کمزوریاں پائی جاتی ہیں تو اس لیے ایک دوسرے کی کمزوریاں دیکھ کے آنکھیں، زبان اور کان بند کر لو تو پھر تم بڑے خوش رہو گے۔ اگر نقص نکالتے رہو گے، تو پھر یہ rift بہت زیادہ ہو جائے گی، confrontation زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ تو جماعت کی اصلاحی کمیٹیاں بھی ہیں اس میں معاملہ حل ہونا چاہیے۔ لیکن اگر خود انسان صحیح مومن ہے اور اگر میاں بیوی کے حق ادا کر رہا ہے تو کیوں لڑائی ہوتی ہے؟ اپنے آپ کو perfectنہ سمجھو، تم بیوی کے حق بھی ادا کرو اور بیوی کو بھی چاہیے کہ خاوند کے حق ادا کرے تو یہ تو understandingہے۔ دونوں میں آپس کی understanding ہونی چاہیے۔
حضورِانور نے توجہ دلائی کہ اب جہاں سمجھتے ہو کہ cause of riftکیا ہےاس کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، وہ تو تم لوگ خود ہی بہتر جان سکتے ہو۔ جماعت کے پاس جب آؤ گے تو ساری باتیں بتاؤ گے بھی نہیں، کون بتاتا ہے کہ میرا یہ قصور تھا اور بیوی کب بتائے گی میرا یہ قصور ہے؟ وہ کہے گی قصورواریہ ہے، تم کہو گے کہ نہیں نہیں! میرا یہ قصور نہیں بلکہ یہ بیوی کا قصور ہے۔ ایک دوسرے پر الزام لگاتے رہو گے۔ یہ تو پھر کیس چلتے ہیں۔ جب litigation (قانونی چارہ جوئی) چلتی ہے تو پھر چلتی چلی جاتی ہے۔
حضورِانور نے نصیحت فرمائی کہ اس لیے پہلی چیز یہ ہے کہ اپنے اندر understanding، تقویٰ اور اللہ کا خوف پیدا کر لو تو سب کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے۔ پھر ہی جماعت، لجنہ اور خدام الاحمدیہ کی اصلاحی کمیٹی بھی کام کر سکتی ہے۔ دوسرے اسلام صرف یہ نہیں کہتا کہ اپنے rightsلو بلکہ اسلام یہ بھی کہتا ہے کہ لوگوں کو rightsدو، جب دونوں کی یہ سوچ ہو جائے گی تو کوئی confrontation ہو ہی نہیں سکتی۔
ایک شریکِ مجلس نے حضورِانور سے دریافت کیا کہ حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی خاص دعا ہے جو حضرت مسیح موعود موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام باقاعدگی سے پڑھتے تھے؟
حضورِانور نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ بہت ساری دعائیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تھیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام وقتاً فوقتاً کیا کرتے تھے، کچھ اللہ تعالیٰ نے خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو سکھا دیں، ان میں سے ایک درود شریف ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ درود شریف زیادہ پڑھو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی فرمایا کہ درود شریف کے ذریعہ سے تم اللہ تعالیٰ تک پہنچ سکتے ہو اور اسی بات کو ایک مجلس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑی تفصیل سے بیان فرمایا تھا۔جب مفتی محمد صادق صاحب رضی الله عنہ نے کہا کہ مَیں اب سے ہر نماز میں جو بھی دعا کروں گا تودرود شریف ہی پڑھوں گا۔ حضرت مسیح ِموعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اس سےزیادہ اچھی اور کون سی دعا ہے، بڑی اچھی بات ہے،مَیں بھی یہی پڑھتا ہوں۔
قارئین کی دلچسپی اور معلومات کے لیے حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓکی مکمل روایت بھی تحریر کی جاتی ہے کہ آپؓنے فرمایا کہ مَیں لاہو ر کے دفتر اکاؤنٹنٹ جنرل میں ملازم تھا۔ ۱۸۹۸ء کا یا اس کے قریب کا واقعہ ہے کہ مَیں درود شریف کثرت سے پڑھتا تھا اور اس میں بہت لذّت اور سرور حاصل کرتاتھا۔ انہی ایام میں مَیں نے ایک حدیث میں پڑھا کہ ایک صحابیؓنے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے حضور میں عرض کیا کہ میری ساری دعائیں درود شریف ہی ہوا کریں گی۔ یہ حدیث پڑھ کر مجھے بھی پُرزور خواہش پیدا ہوئی کہ مَیں بھی ایسا ہی کروں۔ چنانچہ ایک روز جبکہ قادیان آیاہوا تھا اورمسجد مبارک میں حضرت مسیحِ موعود ؑکی خدمت میں حاضر تھا، مَیں نے عرض کیا کہ میری یہ خواہش ہے کہ مَیں اپنی تمام خواہشوں اور مُرادوں کی بجائے اللہ تعالیٰ سے درود شریف ہی کی دعا مانگا کروں۔ حضورؑنے اس پر پسندیدگی کا اظہار فرمایا اور تمام حاضرین سمیت ہاتھ اُٹھا کر اسی وقت میرے لیے دعا کی۔ تب سے میرا اس پرعمل ہے کہ اپنی تمام خواہشوں کو درود شریف کی دعا میں شامل کرکے اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہوں۔ (رسالہ درود شریف از حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب جلالپوریؓ۔صفحہ۱۳۸)
حضورِانور نے اپنے اختتامی خطاب ارشاد فرمودہ برموقع ۱۲۹ویں جلسہ سالانہ قادیان ۲۰۲۴ء کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ابھی کل ہی مَیں نے تقریر میں مثال دی کہ خودحضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ اس کو یہ مقام اس لیے ملتا ہے کہ یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے محبّت کرتا ہے اور اس پر درود بھیجتا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ آپؑ توسب سے زیادہ درود پڑھتے ہوں گے۔ یہی دعا تھی کہ جس سے سب کچھ آپؑ کو ملا۔ تو درود شریف سے اچھی دعا اور کون سی ہو سکتی ہے؟
قارئین کے استفادہ کے لیے حضرت اقدس مسیحِ موعودؑ کا اصل ارشاد بھی درج کیا جاتا ہے۔ آپؑفرماتے ہیں کہ اس مقام میں مجھ کو یاد آیا کہ ایک رات اس عاجز نے اس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل و جان اس سے معطّر ہو گیا۔ اُسی رات خواب میں دیکھا کہ آب زُلال کی شکل پر نور کی مشکیں اس عاجز کے مکان میں لیے آتے ہیں۔ اور ایک نے ان میں سے کہا کہ یہ وہی برکات ہیں جو تُو نے محمد کی طرف بھیجی تھیں صلی اللہ علیہ والہ وسلم)۔ اور ایسا ہی عجیب ایک اور قصّہ یاد آیا ہے کہ ایک مرتبہ الہام ہوا جس کے معنے یہ تھے کہ مَلاء اعلیٰ کے لوگ خصومت میں ہیں یعنی ارادۂ الٰہی احیاءِ دین کے لئے جوش میں ہے لیکن ہنوز ملاء اعلیٰ پر شخص مُحی  کی تعیین ظاہر نہیں ہوئی۔ اس لئے وہ اختلاف میں ہے اسی اثناء میں خواب میں دیکھا کہ لوگ ایک محی کو تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ اور ایک شخص اس عاجز کے سامنے آیا اور اشارہ سے اس نے کہا کہ ھٰذَا رَجُلٌ یُحِبُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ یعنی یہ وہ آدمی ہے جو رسول الله (صلی الله علیہ وسلم) سے محبّت رکھتا ہے۔ اور اس قول سے یہ مطلب تھا کہ شرطِ اعظم اس عہدہ کی محبتِ رسولؐ ہے۔ سو وہ اس شخص میں متحقق ہے۔
(براہینِ احمدیہ حصّہ چہارم،روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ ۵۹۸)
حضورِانور نے اختتامی خطاب میں مذکورہ بالا ارشاد کی روشنی میں مزید وضاحت فرمائی تھی کہ یعنی مجھے جو کچھ ملا وہ اس لیے تھا کہ مَیں رسولِ پاک صلی الله علیہ وسلم سے محبّت کر رہا ہوں، صرف محبّت کا دعویٰ نہیں کرتا، بلکہ میرا دل اس محبّت سے کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔
بہت ساری اور دعائیں ہیں جو وقتاً فوقتاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام پڑھتے رہتے تھے لیکن آپؑ نے فرمایا کہ اصل چیز یہی ہے کہ دل میں سے دعا کی آوازنکلنی چاہیے۔ اس لیے مسنون دعائیں بے شک ان کی برکات حاصل کرنے کے لیے پڑھو، لیکن اصل دعا وہ ہے جو خود اپنی زبان میں کرو اور خاص طور پر نماز میں اپنی زبان میں کرو، اس سے پھر ایک اندر سے جوش پیدا ہوتا ہے۔ اور وہ جو دعا دل سے نکلتی ہے تو وہ پھر اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوتی ہے۔
آخر پر حضورِانور نے متنبہ فرمایا کہ پیروں نے بتا دیا، shortcutہو گیا کہ بس اتنی دعا کر لو، پیر صاحب نے کہا کہ یہ دعا کر لو تو معاف ہو جاؤ گے۔ پانچ نمازیں نہیں پڑھو گے تو کوئی دعا نہیں کام آتی، پہلے پانچ نمازیں پڑھ کے وہ حالت بھی پیدا کرو، توپھر دعائیں بھی کام آئیں گی۔
ملاقات کے اختتام پر تمام حاضرینِ مجلس کو حضورِانور سے از راہِ شفقت بطورِ تبرک قلم لینے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔
(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل 9 جنوری 2025ء)
ززز