اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-06-25

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ اراکین نیشنل مجلس عاملہ و صدران لجنہ اما ء اللہ سوئٹزرلینڈ کی ملاقات

دورانِ ملاقات تمام عاملہ ممبرات کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں اپنی مفوضہ ذمہ داریوں کے حوالے سے تعارف پیش کرنے اور اپنے متعلقہ شعبہ جات میں کام کو مزید مؤثر اور احسن رنگ میں سر انجام دینے کی بابت بیش قیمت راہنمائی حاصل کرنے کا بھی موقع ملا۔
ایک عاملہ ممبر نے اس مشکل کا ذکر کیا کہ بعض لجنہ کی ممبرات لجنہ اماء اللہ کی طرف سے تیار کردہ پروگراموں میں شرکت نہیں کرتیں ، نیز اس ضمن میں حضورِ انور سے راہنمائی طلب کی۔
اس کے جواب میں حضورِ انور نے ایسی لجنہ ممبرات کی نفسیات اور رجحانات کو سمجھناضروری قرار دیتے ہوئے توجہ دلائی کہ سب سے پہلے یہ دیکھو کہ ان کے مزاج کیسے ہیں ۔ یہاں پیدا ہوئی اَور پلی بڑھی ہیں ، ان کے مزاج کیسے ہیں، وہ کس قسم کے پروگرام چاہتی ہیں؟
حضورِ انور نے واضح فرمایا کہ یہ تو آپ کی سیکرٹری تربیت کا کام ہے کہ ان سے پوچھیں کہ ہم تربیت کے پروگرام بنا رہے ہیں تو کس قسم کے بنائیں؟ ناصرات کے پروگرام ترتیب دینا سیکرٹری ناصرات کا کام ہے، ان سے پوچھیں کہ کس قسم کے پروگرام بنائیں، تو جو اُن کے انٹرسٹ(دلچسپی) کے پروگرام ہوتے ہیں، ان کو بنائیں، تو اس میں ان کاانٹرسٹ ڈیویلپ (پیدا)ہوگا۔ پھر آہستہ آہستہ باقی کاموں میں بھی وہ آپ کے ساتھ تعاون کریں گی۔
سیکرٹری تربیت نے دورانِ ملاقات ایک اہم مسئلے کی جانب نشاندہی کی کہ جب لجنہ ممبرات سے ماہانہ تربیتی جائزے کے لیے نمازوں کی ادائیگی، تلاوتِ قرآن کریم یا خطبہ جمعہ سننے سے متعلق رپورٹ طلب کی جاتی ہے تو بعض ممبرات یہ جواب دیتی ہیں کہ یہ ہمارا اور خدا کا معاملہ ہے، آپ ہمیں کیوں بار بار تنگ کرتی ہیں ؟ نیز حضورِ انور سے راہنمائی کی درخواست کی کہ ایسی صورت میں کس طرح مؤثر تربیت کی جا سکتی ہے؟
حضورِ انور نے اس پر فرمایا کہ ان کو کہیں کہ خدا کا معاملہ تو ہے، مگر جماعت کا بھی ایک نظام ہے، تا کہ ہمیں پتالگے کہ ہمارا جماعتی نظام ترقی کر رہا ہے یا نیچے جا رہا ہے۔ اس لیےہم انفارمیشن (معلومات)لیتے ہیں کہ آپ لوگ نمازوں میں باقاعدہ ہیں کہ نہیں، آپ لوگوں کی قرآن شریف کی طرف توجہ ہے کہ نہیں؟
حضورِ انور نے توجہ دلائی کہ اس کا تو قرآنِ شریف میں بھی حکم ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللہ تعالیٰ نے یہی حکم دیا تھا کہ نصیحت کرتے جاؤ اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جماعت کے ساتھ وابستہ رہو اور جماعت جو نصیحت کرتی ہے، اس کے اوپر چلو گے تو تمہارے اندر اکائی پیدا ہو گی اور جب تم یہ ساری باتیں کر رہے ہو گے تو تبھی فائدہ ہو گا۔
حضورِ انور نے دینی امور کے حوالے سے پند و نصیحت کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اب اگر کوئی کہہ دے کہ ہمیں کچھ نہ کہو تو پھر اللہ تعالیٰ کو مردوں کو یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ نماز باجماعت ادا کرو یا عورتوں کو کیوں کہنے کی ضرورت تھی کہ تم لوگ قرآنِ کریم بھی پڑھو، نمازیں بھی پڑھو، گھر کے فرائض بھی ادا کرو ، حقوق اللہ بھی ادا کرو ، حقوق العباد بھی ادا کرو اوراس کی تلقین کرنے کا ذکر ہے اور یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہے کہ نصیحت کرو اور کرتے چلے جاؤ، تمہیں نصیحت کرنے والا بنایا ہے، کہو کہ اس لیے ہم کرتے ہیں۔
حضورِ انور نے مزید وضاحت کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ فرمایا کہ باقی یہ جماعت کی اکائی کے لیے ضروری ہے کہ آپ لوگوں سے پوچھا جائے تا کہ ہمیں پتا لگے کہ ہم ترقی کررہے ہیں یا نیچے جا رہے ہیں اور ہم اس کے مطابق پروگرام بناتے ہیں۔
حضورِ انور نے سوال کے نفسِ مضمون کی روشنی میں توجہ دلانے کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ تو یہ کہہ دینا کہ ہمارا اورخدا کا معاملہ ہے ، یہ ٹھیک نہیں ہے، اگر اتنی ہی بات تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں فرمایا تھا کہ جو لوگ نمازیں پڑھنے نہیں آتے، عشاء کی نماز پر نہیں آتے یافجر پر نہیں آتے تو میرا دل چاہتا ہے کہ کسی کو امام مقرر کر کے جاؤں اور ان کے گھروں کو آگ لگا دوںحالانکہ آپؐ تو بڑے رحم دل تھے۔ یہ بات بتاتی ہے کہ توجہ دلانا اور یہ کہنا کہ تم لوگ نمازیں پڑھو اور یا جماعتی کاموں میں شامل ہو یا قرآنِ کریم پڑھو اور اس کی تعلیم پر عمل کرو، یہ ضروری ہے۔ قرآنِ کریم کی تعلیم بھی یہ کہتی ہے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بھی یہ کہتا ہے کہ آپؐ صحابہؓکو بار بار نصیحت کروایا کرتے تھے ۔ اس زمانے میں اگر ہم نےحضرت مسیحِ موعودعلیہ السلام کو مانا ہے تو آپؑ بھی باربار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت کی پیروی میں یہی کہتے ہیں کہ نصیحت پر عمل کرنا چاہیے اور جماعتی تعاون کرنا چاہیے تاکہ جماعت کی مضبوطی میں شاملِ حال ہو۔
حضورِ انور نے توجہ دلائی کہ باجماعت نمازیں پڑھنے کا بھی حکم اس لیے ہے، اپنے مردوں اور بچوں کو بھی کہیں کہ نمازیں پڑھا کرو ۔بصورتِ دیگرحضورِ انور نے متنبّہ فرمایا کہ کل کو پھر بچے بھی بگڑ جائیں گے، وہ بھی کہیں گے کہ ٹھیک ہے ہم آزاد ہیں، ہمیں دین کے معاملے میں کچھ نہ کہو۔ پھر یہ بعد میں روتے ہوئے آتے ہیں کہ ہماری لڑکی فلاں جگہ چلی گئی یا لڑکا فلاں جگہ چلا گیا ، اِس میں یہ برائی پیدا ہو گئی اور اُس میں فلاں برائی پیدا ہو گئی تو پھر یہ شکایتیں بھی نہ کیا کرو۔پھر ٹھیک ہے بچوں کو بھی آزادی دو ، وہ جو چاہے مرضی کریں، چاہے وہ شراب پیئیں یا جُوا کھیلیں یا زنا کریں یا جو چاہے مرضی کرتے رہیں، پھر کیوں روکتے ہو؟
آخر میں حضورِ انور نے تاکید فرمائی کہ لیکن بات پیار اور حکمت سے کرنی ہےنہ کہ bluntly (سختی سے)۔اگر آپ ایسا کریں گی تو پھرلوگ آپ کا گلا کاٹنے لگ جائیں گے۔
ایک لجنہ ممبر نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ سوئٹزرلینڈ میں اکثر لوگ اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کو غیر مطلوب میل یعنی ڈاک کو اپنے لیٹر باکس میں پوسٹ کرنا پسند نہیں ہے، ممبرانِ جماعت اکثر تبلیغی leaflets (لیف لیٹس) کو پوسٹ کرتے ہیں، نیز استفسار کیا کہ آیا ایسا کرنا درست ہے یا نہیں؟
حضورِ انور نے اس پر استفہامیہ انداز میں تبصرہ فرمایا کہ کیوں ڈالتے ہو، کوئی نہیں پسند کرتا تو وہ لیف لیٹس نکالے گا اور پھاڑ کے پھینک دے گا ، اس کا فائدہ کیا ہے؟
اس پر سائل نے اس کی تائید میں عرض کیا کہ ایسے لوگ ہماری مسجد میں فون کرتے ہیں اور پھر برا بھی مناتے ہیں۔ تو حضورِ انور نے فرمایا کہ تو وہ ٹھیک کرتے ہیں ۔
حضورِ انور نے مؤثر اور حکمت سے بھرپور تبلیغ کی جانب راہنمائی کرتے ہوئے توجہ دلائی کہ اس کی بجائے سڑک پر کھڑے ہو کر سٹال لگاؤ اور کہو کہ یہ اسلام کی تعلیم ہے، یہ ہم دے رہے ہیں، اگر تمہیں دلچسپی ہے تو ہمارایہ پمفلٹ لو اور پڑھ لو۔ تو جو خوشی سے لے کے جاتا ہے، اس کو دو، کوئی یہ تو نہیں ہے کہ ہم نے دو لاکھ پمفلٹ تقسیم کرنا ہے، اس لیے لیٹر باکس میں ڈال دیا اور آسان کام کر دیا۔ ایک مہم بنا کے لڑکےاوربچے اور اطفال نکل آئے اور کہہ دیا کہ ہم نے بڑا کام کر لیا۔یہ توکوئی کام نہیں ہے، جس کام کا نتیجہ اچھا نہیں ہے، اس کام کو کرنے کا فائدہ کوئی نہیں۔اس لیے انہی کو دو جو خوشی سے لینا چاہتے ہیں۔ دروازے پر جاکے ان سے کہو کہ یہ ہمارا پمفلٹ ہے ، آپ کے لیٹر بکس پر تو لکھا ہوا ہے کہ نہیں ڈالنا، اگر آپ پسند کریں تو یہ لے لیں۔ نہیں تو السلام علیکم ، وعلیکم السلام اور ہم جا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے۔ تو اچھی wishes (خواہشات)کے ساتھ ان سے چھٹی لے کے آ جاؤ تو وہ لوگ خوش ہو جائیں گےیاکہیں گے کہ آپ بڑے با اخلاق لوگ ہیں ، کم از کم ہمارے سے پوچھ کر تو کام کر رہے ہیں ۔
آخرمیں حضورِانور نے فرمایا کہ یہ بھی ایک تبلیغ ہے، بلکہ اس پمفلٹ سے زیادہ اچھی تبلیغ ہے کہ تم contact(رابطہ)کر کے لوگوں کو السلام علیکم کر لیا کرو۔
ایک لجنہ ممبر نے دریافت کیا کہ ہم ان لڑکیوں کی کیسے مدد کر سکتی ہیں جوbullying یاسماجی تنہائی کا شکار ہو کر دوسروں سے دُور ہو گئی ہیں اور اس وجہ سے مسجد بھی آنا چھوڑ دیتی ہیں؟
حضورِ انور نے اس کا جواب دیتے ہوئے استفہامیہ انداز میں دریافت فرمایا کہ اگر سکول میں bullying کرتے ہیں اور تم لوگ ان کو ویلکم کرتے ہو اور ان کے جذبات کا خیال رکھتے ہو، ان کے سر پر ہاتھ رکھتے ہو، ان کو گلے لگاتے ہو، تو وہ تمہارے پاس آنا کیوں چھوڑیں گی؟
حضورِ انور نے ایسی لڑکیوں کے ذہن میں پائے جانے والے خدشہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کو یہ شک ہے کہ ہم تمہارے پاس جائیں گے تو تمہاری طرف سے بھی اسی طرح bullying ہوگی جس طرح ہمیں سکول میں ہوتی تھی۔
اس حوالے سے حضورِ انور نے تاکید فرمائی کہ ان کے گھر جاؤ ، ان کو سمجھاؤ ، ان سے پیار سے بات کرو اور ان سے کہو کہ تم ہمارے پاس آؤ۔ سکول میں تمہارا ماحول ایسا ہے، وہ تو دنیا داری کا ماحول ہے اوراس طرح ہوتا ہے ، تم یہاں آؤ ۔ ہم تمہیں welcomeکرتے ہیں، ہم تمہیں پیار کرتے ہیں، ہم تمہیں جو activities (سرگرمیاں)ہیں ان میں حصّہ داربناتے ہیں۔ اس لیے تم بغیر خوف کے ہمارے پاس آیا کرو۔ حضورِانور نے دوبارہ اس نصیحت کا اعادہ فرمایا کہ ان کے گھر جا کے یا ان کو فون کر کے یہ کہو اور سمجھاؤ، ان کی اصلاح کرو اوران کا شک اور خوف دُور کرو۔
حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ تمہارے ہاں کوئی psychiatrist (ماہرِ نفسیات) نہیں ہے ؟ جس پر عرض کیا گیا کہ کچھ ایسی لجنہ ہیں کہ جنہوں نے سائیکالوجی (نفسیات) پڑھی ہوئی ہے۔یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے فرمایا کہ سائیکاٹرسٹ سے ان کا علاج کرواؤ کہ کس طرح ہم نے ان کے دلوں میں سے شکوک نکالنے ہیں؟
بایں ہمہ حضورِ انور نے تلقین فرمائی کہ اور ان کو کمپنی دو، ان کو زیادہ احساس دلاؤ کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں تو وہ تعاون کریں گی۔ نیزجواب کے آخر میں حضورِ انور نے اس بات پر زور دیا کہ پیار سے سب کچھ جیتا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ دشمن سے بھی پیار سے بات کرو تو اس کا بھی دل نرم ہو جاتا ہے۔ تو یہ تمہارے اپنے لوگ ہیں، ان سے پیار سے بات کرو گی تو کیوں نہیں دل نرم ہو گا؟ الله میاں تو کہتا ہے کہ جو دشمن تھے وہ وَلِيٌّ حَمِيْمٌہو گئے ، ایک دوسرے کے دوست بن گئے ۔
اسی تناظر میں ایک اور لجنہ ممبر نے اپنے ذاتی مشاہدہ کا ذکر کرتے ہوئے عرض کیا کہ ایسی لڑکیاں کئی دفعہ اس بات سے بھی گھبراتی ہیں کہ اگر شاذ و نادر وہ آ بھی جائیں گی تو انہیں بڑی عمر کی خواتین آنٹیوں کی تنقیدی نگاہوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس پرحضورِ انور نے ہدایت فرمائی کہ ان آنٹیوں کو کہو کہ اپنی آنکھیں بند کریں، اپنی حالت کو دیکھیں ، اِستغفار کریں اور اپنی اصلاح کریں۔
حضورِ انور نے متنبّہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے پھر کہنا ہے کہ تم نے ان کو دوڑایا ہے ، تمہیں تو مَیں سزا دیتا ہوں۔
حضورِ انور نے اس بات پر زور دیا کہ آنٹیوں کو کہو کہ وہ خدا نہ بنیں اور پیار و محبّت سے پیش آ ئیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تواللہ تعالیٰ نے قرآنِ شریف میں یہی کہا ہے کہ ان لوگوں سے نرمی ، پیار اورمحبّت سے سلوک کرو جو تیرے پر ایمان لانے والے ہیں، اگر تم نے ان سے سختی کی تو یہ لوگ دوڑ جائیں گے۔ تو آنٹیوں سے کہو کہ تم دوڑانے والی نہ بنو، محبّت و پیار کر کے لانے والی بنو۔
[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہbullying (تضحیک یا بدسلوکی) ایک انگریزی اصطلاح ہے اوراس کا مفہوم یہ ہے کہ کسی کو جان بوجھ کر تنگ کرنا، اذیت دینا، تمسخر اُڑانا، ہنسی اور ٹھٹھے کا نشانہ بنانا یا تکلیف پہنچانا۔ یہ عمل جسمانی، ذہنی یا جذباتی طور پر اثر اندازہو سکتا ہے، جیسے مار پیٹ، گالیاں دینا ، کسی کو گروپ سے الگ کرنا، اس کے بارے میں افواہ پھیلانا یا جھوٹ کی تشہیر کرنایا اسے سماجی سطح پر بدنام کرنا ، سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ پرتذلیل یا ہراساں کرناوغیرہ وغیرہ۔ اس کا بنیادی مقصد کسی کی عزت نفس کو مجروح کرنا، اس کی تذلیل کرنا یا اسے کمزور بنانا ہوتا ہے۔ یہ عموماً طاقت کے فرق کی وجہ سے ہوتا ہے اور اس تحقیرکے نتیجے میں متاثرہ شخص سماجی تنہائی کا شکار ہو سکتا ہےاور ساتھ ہی اسے خود اعتمادی کی کمی، ڈپریشن یا ذہنی پریشانی جیسے مسائل کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ بدقسمتی سے عصرِ حاضر کے نام نہاد آزادی پسند معاشروں میں یہ رجحان تکلیف دہ حد تک رواج پا چکا ہے۔]
حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں پیش کیا جانے والا اگلا سوال یہ تھا کہ والدین کی بہت کوشش اور توجہ کے باوجود بعض بچے نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی محض اپنے آپ کو اس معاشرے میں integrate (ضمّ) کرنے کے لیے غلط ایکٹیوٹیز (سرگرمیوں) میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جن میں بعض اوقات حلال و حرام کا فرق بھی نہیں رہتا ، حالانکہ ان بچوں کو بچپن ہی سے اچھائی اور برائی نیز حلال و حرام کا فرق سکھایا جاتا ہے، ایسی صورت میں بہترین اقدام کیا ہے؟
س پر حضورِ انور نے مفصّل راہنمائی فرمائی کہ بات یہ ہے کہ بچپن میں آپ لوگ حلال و حرام سکھاتے ہیں اور زیادہ ڈرانے والی باتیں کرتے ہیں۔ ڈرانے کی بجائے ان میں پیار سے محبّت والی باتیں پیدا کریں کہ یہ بات صحیح ہے اور اس لیے ہم نے کرنی ہے اور یہ بات غلط ہے، اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے، اسلام کو پسند نہیں ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔اس زمانے میں مسیح ِموعود علیہ السلام کو مانا ہےتو انہوں نے کہا کہ یہ بات نہ کرو ، جماعت کی جو ایک تعلیم ہے اس کے یہ خلاف ہے، اس لیے ہم یہ باتیں نہیں کرتے اور دنیا والے بہت سارے کرتے ہیں۔ حضورِ انور نے اس بات پر زور دیا کہ اور یہ نہیں کہنا کہ دنیا والے جو ایسا کرتے ہیں تم ان سے نفرت کرو۔ جویہ کرتے ہیں تو وہ غلط کرتے ہیں اور ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ سے ہے۔
حضورِ انور نے تاکید فرمائی کہ اس لیے آہستہ آہستہ ان کے ذہنوں میں ڈالتے جاؤ۔پندرہ سال کی لڑکی یا لڑکا جب ہوجاتا ہے، خاص طور پر لڑکے جب باہر جاتے ہیں تو زیادہ متاثر ہوتے ہیں تو ان کو بتاؤ کہ یہ برائیاں ہیں، ان سے تم نے بچ کے رہنا ہے اور یہ باپوں کا بھی کام ہے کہ بچوں کو اپنے ساتھattach (منسلک) کریں اور ان کو سمجھاتے رہیں۔
حضورِ انور نےعمدہ ذاتی نمونے پیش کرنے کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئےتوجہ دلائی کہ اگر باپ بھی نمازیں نہیں پڑھ رہے اور سارا دن اپنی مجلسوں میں بیٹھے آوارہ گردی کررہے ہیں یا گھر بیٹھ کے انٹرنیٹ پرفضول قسم کے پروگرام دیکھتے جا رہے ہیں تو پھر بچوں پر کیا اثر ہوگا؟ تو پہلے اپنے گھر کے ماحول کو بھی تو پاکیزہ بنائیں ۔ نصیحت کچھ ہے اور عمل کچھ ہے تو پھر بچے کہتے ہیں کہ اچھا !پھر ہم بھی یہی کریں گے، جو ہماری مرضی ہے۔
حضورِ انور نے نصیحت فرمائی کہ پہلے اپنا جائزہ لیں کہ آپ کے گھر میں خاوند اور بیوی اس تعلیم کے مطابق عمل کر رہے ہیں، جو اسلامی تعلیم ہے، گھر کا رہن سہن اور معاشرتی زندگی ، وہ پاک صاف ہے؟ اگر ہے تو بچوں پر بھی اچھا نیک اثر پڑے گا، نہیں تو پھر نصیحت تو کرنی نہیں چاہیے۔ اللہ تعالیٰ تو قرآنِ شریف میں بھی کہتا ہے جو تم خود نہیں کرتے تو پھر اس کی نصیحت بھی نہ کرو۔
ایک لجنہ ممبر نے راہنمائی طلب کی کہ مغربی اقوام کی مذہب سے دُوری اور لادینیت کے باوجود ان کا سائنس ، ٹیکنالوجی، معاشیات اور تحقیق کے میدان میں دنیا پر حکومت کرنا ، کیا خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک انعام ہے یا آزمائش نیز بچوں کی تعلیم و تربیت میں اس پہلو کو بیان کرنے کے لیے کیا حکمت اختیار کی جائے؟
حضورِ انور نے اس پر راہنمائی فرمائی کہ سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو خود کہہ دیا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی بڑی وضاحت فرمائی کہ یہ جو دنیاوی قومیں ہیں، جو دجّال ہیں، اس کی دائیں آنکھ کمزور ہو گی اور بائیں آنکھ بڑی تیز ہو گی۔
حضورِ انور نے وضاحت فرمائی کہ بائیں آنکھ کون سی ہے، یہ دنیا داری ہے ، بزنس ہے ، تجارت ہے اور سائنس ہے، اس میں تو ترقی کرتے جائیں گے اور کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کومَیں بہت کچھ نوازوں گا ، لیکن جو اِن میں سے غلط کاموں میں پڑیں گے، ان کو سزا بھی بڑی دوں گا۔ تو اس دنیا میں الله تعالیٰ سزا نہیں دےگا ، تواگلے جہان میں دے دے گا ، ہمیں تو نہیں پتا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک ہونا ہے ؟اور دین کا علم دائیں آنکھ ہے، اس کے لیے مسلمانوں سے وعدہ ہے کہ تم لوگ اگر عمل کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس دنیا میں بھی رِیوارڈ (اجر)دے گا اور اگلے جہان میں بھی دے گا۔ اب آپ کا دین کا کام ہے، اللہ تعالیٰ نے ریوارڈ دیا ہوا ہے ، دنیا کا بھی دیا ہوا ہے اور دین پربھی قائم ہیں۔ اگلے جہان میں بھی اللہ تعالیٰ کرے کہ بہتر ریوارڈ دے۔
حضورِ انور نے تاکید فرمائی کہ جو پڑھی لکھی عورتیں یا لڑکیاں ہیں تو یہ اپنی مثال دیا کریں کہ ڈاکٹر ہیں، انجینئر ہیں، وکیل ہیں، سائنٹسٹ ہیں کہ دیکھو! یہ اللہ تعالیٰ کی تعلیم ہے اور اس پر عمل کر کے ہم یہ کر رہے ہیں۔ ان کو تو اس دنیا میں ہی اللہ تعالیٰ نے دے دیا ، لیکن اگلے جہان میں اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ مَیں ان کو اچھی طرح پکڑوں گا۔ البتہ جو مومن ہے اگر کسی فیلڈ میں جا رہا ہے اور محنت کر رہا ہے تو اسے یہاں رِیوارڈ تو ملے گا، لیکن کم محنت سے اس کو زیادہ ریوارڈ مل جائے گا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے۔ یا کم محنت سے اس کے اچھے نتائج نکل آئیں گے اور اگلے جہان جا کے تو اس کی موجیں ہی موجیں ہیں جو کہ دوسروں کی نہیں ہیں۔ تو اس طرح سمجھایا کریں۔
حضورِ انور نے اس بات کا اعادہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تو کہہ دیا تھا کہ مَیں ان کو دنیاوی ترقی دوں گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے مطابق ان کو دنیاوی ترقی دے رہا ہے ۔
حضورِ انور نے اس حقیقت کی جانب بھی توجہ مبذول کرائی کہ حضرت عیسیٰؑ نے جب ان کے لیےروٹی مانگی تو الله تعالیٰ نے کہا کہ ٹھیک ہے ان کو سارا کچھ دے دوں گا ، لیکن جب میری پکڑ آئے گی وہ بھی سخت ہو گی، تو یہ پکڑ نہیں ہو رہی تو اور کیا ہو رہا ہے کہ کبھی کہیں برف کا طوفان آ رہا ہے، کہیں لاس اینجلس میں آگیں لگ رہی ہیں، کہیں اور طوفان آ رہے ہیں۔ اس کے بدلے وہ مسلمانوں سے یہ لیتے ہیں کہ بم مارتے ہیں اور مسلمانوں کے بھی عمل کوئی نہیں ہیں، اس لیے وہ بھی اپنے عملوں کا نتیجہ دیکھ رہے ہیں ۔
حضورِ انور نے نشاندہی فرمائی کہ تو غلطیاں تو ہماری بھی ہیں، ہم کون سے صحیح طرح مومن بن کے رہ رہے ہیں؟ اگر صحیح مومن بن کے رہیں تو پھر الله تعالیٰ سے شکوہ نہ کریں کہ ان کو یہ ملا ہے اور ہمیں نہیں ملا۔
حضورِ انور نے آخر میں ذاتی اصلاح اور مثبت سوچ پیدا کرنے کے حوالے سے راہنمائی فرمائی کہ پہلے ان سے پوچھو کہ تم نے اللہ کا حق ادا کیا ہے ؟ پانچ وقت نماز تو ہم پڑھتے نہیں، کسی سے پوچھو تو کہتا ہے کہ مَیں بس کوئی تین نمازیں پڑھ لیتا ہوں اور باقی کی کوشش کرتا ہوں، کوشش کیا کرتا ہوں، کبھی کھانے کے بارے میں بھی کہتے ہو کہ مَیں کوشش کرتا ہوں؟ تواگر انسان سوچ رہا ہو، عقل ہو، تو ہر چیز میں سےاچھا پہلو اور سبق نکال سکتا ہے۔
(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل 6 فروری 2025ء)
(باقی آئندہ انشاء اللہ ۔)
چ چ چ