اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-08-27

مجلس خدام الاحمدیہ امریکہ ایسٹ ریجن کے 21؍رکنی وفن کی حضرت امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے بالمشافہ ملاقات 29؍ستمبر 2025بروز پیربمقام اسلام آباد ٹلفورڈ یو کے

بقیہ شمارہ34

ہر کام کےلیے جرأت پیدا ہونی چاہیے۔ بتاؤکہ ہم مسلمان ہیںاگر ہم یہ اچھی بات کر رہے ہیں تو اس لئے کر رہے ہیں کہ ہماری تعلیم ہے

مورخہ ۲۹؍ستمبر ۲۰۲۵ء، بروز پیر، امام جماعتِ احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ امریکہ کے ایسٹ ریجن کے دوسرے وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ اکیس (٢١)رکنی وفد کی یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر محض حضورِانور کی اقتدا میں نمازیں ادا کرنے اور آپ کی بابرکت صحبت سے روحانی فیض حاصل کرنے کی غرض سے امریکہ سے برطانیہ کا سفر اختیار کیا۔

ایک خادم نے حضورِانور سے اُن لوگوں کی بابت دریافت کیا کہ جو نوجوانوں کو انٹرنیٹ کے ذریعہ خدا سے دُور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور راہنمائی کی درخواست کی کہ کیا یہ طاقتیں دجّال کے پیدا کردہ فتنہ کا حصّہ متصوّر کی جائیں گی؟

حضورِانور نے اس پر فرمایا کہ دجّال کیا ہے؟ یہ دجّال ہی تو ہے جو یہ سب کچھ کر رہا ہے۔ دجّال کا مطلب دجل، دھوکا ہے اور یہ دھوکے سے نوجوانوں اور لوگوں کے برین واش کر رہے ہیں۔ ایک تو atheists اورسارے لوگ اکٹھے مل کے یہ ایک بڑی consolidated کوشش کررہے ہیں کہ وہ indirectly ایسی باتیں کرتے ہیں کہ جو اسلام کے پہلے خلاف ہوں، پھر اصل میں ان کا goal یہ ہے کہ ہم نے مذہب سے لوگوں کو دُورلے کے جانا ہے، اس میں atheistsکازیادہ سوال ہے۔ اور یہ ساری دجّالی طاقتیں ہیںجو اسلام کے خلاف بھی ہو رہی ہیں اور بدقسمتی سے مسلمانوں کے اپنے عمل بھی ایسے ہیں کہ اُن کو اور موقع دے رہے ہیں کہ یہ ایسی باتیں کریں۔

دجّالی کوششوں کے بالمقابل مؤثر ردّ عمل اور فعّال حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حضورِانور نے توجہ مبذول کروائی کہ پہلے تو ہمیں اپنی اصلاح کرنی چاہیے، اس لیے مَیں نے جو کہا ہے کہ ہم کوشش کریں کہ اسلام کی تعلیم بتائیں، دنیا کو دکھائیں تو یہ ہو گا۔ باقی دجّالی کوششیں تو ہونی ہیں۔ دجّال نے تو اس زمانے میں جب مسیح موعودؑ کا زمانہ آنا تھا کام کرنا ہی تھا، اور وہ کر رہا ہے۔ تو جس طرح دجّال تیز ہوا ہوا ہے اس سے کئی گنا زیادہ تیز ہمیں ہونا چاہیے۔ انٹرنیٹ پر جس طرح وہ دیتے ہیں، ہمارے پاس بھی تو انٹرنیٹ facility ہے۔آپ بھی دے سکتے ہیں۔ اگر وہ کوئی اعتراض اُٹھاتے ہیں توانہی کی سائٹ پر جا کےجواب دے سکتے ہیں۔ایک اپنی سائٹ پر جواب ہو، ایک اُن کی سائٹ پر جواب ہو۔ صرف یہ نہیں کہ اپنی سائٹ پر جواب دے دیا، آپ کو تو کوئی پڑھتا نہیں، followers آپ کے اتنے زیادہ نہیں ہوتے،ان کے کئی followers ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ strategy ہونی چاہیے کہ ان کی سائٹ پر بھی جواب جائے، ان کی سائٹ سے بھی تو commentsآتے ہیں، ان پر اپنا جواب دے دو، پھر اپنی سائٹ پر اس کا detailed جواب دے دو تو وہ دونوں parallelچلنے چاہئیں۔

ایک خادم نے عرض کیا کہ آجکل مغربی دنیا میں مہنگائی اور مالی دباؤ کی وجہ سے خدام اور نئے شادی شدہ جوڑوں پر اخراجات اور ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیںجس کا بعض اوقات اثر ان کی دینی اور جماعتی خدمت پر بھی ہوتا ہے۔حضورِانور اس حوالے سے ہمیں کیا راہنمائی فرماتے ہیں؟

حضورِانور نے اس پر واضح فرمایا کہ مغربی دنیا میں کیا، ساری دنیا میں ہی مہنگائی ہے! آپ لوگ تو پھر ایک مہینہ، جو اَلاؤنس ملتا ہے، اس میں کھا لیتے ہو۔ بھوکے تو نہیں رہتے۔ ناشتہ بھی کر لیتے ہو، لنچ بھی کھا لیتے ہو، بازار میں ہو تو snack کھا لیا، شام کو آ کے mealکھا لیا۔ پاکستان میں تو دس دن کے بعد بعضوں کی تنخواہیں ختم ہو جاتی ہیں اور کھاتے نہیں۔

حضورِانور نے بڑھتی ہوئی مادی خواہشات کی نشاندہی کرتے ہوئےقناعت اور شکرگزاری کی اہمیت کو اُجاگر فرمایا کہ مہنگائی تو دنیا میں ہر جگہ بڑھ رہی ہے، جو preferencesہیں وہ اَور ہو گئی ہیں، اپنی جسے ترجیح کہتے ہیں وہ اَور ہو گئی ہے۔ پہلے یہ تھا کہ اگر کسی ایک گھر میں دو وقت کھانا مل رہا ہے، تو کہتا تھا کہ بس! I am ok،کوئی مسئلہ نہیں۔اور اب خواہشات اتنی زیادہ ہو گئی ہیں کہ میرے پاس کار بھی اچھی ماڈل کی ہو، thin screen والا ٹی وی ہو، جس میں سارے gadgets پورے اندر ہوں، میرا گھر بھی ایسا ہو جہاں ہر facilityہو، کھانے میں مجھے یہ بھی ملے، ناشتے میں مجھے یہ ملے۔ تو جو خواہشات ہیں وہ بڑھ گئی ہیں۔اگر انسان میںcontentmentپیدا ہو جائے، تو پھر سب کچھ ٹھیک ہوتا ہے۔ اگر یہ سوچو کہ جو اللہ تعالیٰ نے دیا ہےوہ کافی ہے۔ مَیں بہتر حالت میں ہوں۔ دنیا میں کتنے ملک ایسے ہیں، کتنے لوگ ایسے ہیں، جن کو کھانا بھی نہیں مل رہا، بھوکے مر رہے ہیں، کہیں قحط ہے، کہیں droughtہے، کہیں famineہے، توکہیں کچھ حکومتیں کسی کو مار رہی ہیں، کہیں اسرائیل کی طرح لوگوں کومحروم کر رہے ہیں، فلسطینیوں کو کھانا نہیں ملتا اور ہم گھر بیٹھ کے آرام سے کھانا کھا لیتے ہیں، اسی پر اللہ کا شکر کرو تو اس سے اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔

حضورِانور نے اس بات پر زور دیا کہ اللہ تعالیٰ قرآنِ شریف میں کہتا ہے کہ تم میرا شکر ادا کرو، جتنی بھی مَیں نے نعمتیں تمہیں دی ہیں، تو ان نعمتوں کو مَیں اَور بھی زیادہ بڑھاؤں گا۔ بنیادی بات وہی ہے کہ اگر قناعت ہو، contentmentہو،تو پھر خواہشات اتنی نہیں رہتیں، اور جب وہ نہیں ہوں گی، تو پھر سب کچھ خود ہی balancedہو جائے گا۔

آخر میں حضورِانور نے اس امر کی بھی تلقین فرمائی کہ ہمیشہ یاد رکھو کہ ان سب کے باوجود مَیں نے اللہ کے رستے میں بھی کچھ دینا ہے۔ ایک تو وہ ہے کہ جو کسی نے وصیّت کی ہے، اس کا obligatoryچندہ ہو گیا، اس کے علاوہ غریبوں کا خیال رکھنے کے لیے چیریٹی میں دینا چاہیے، اور اس میں دو گے، تو پھر اللہ تعالیٰ پیسے میں برکت بھی ڈالتا ہے۔ تو اصل چیز برکت ہے جورقم میں پڑ جائے۔ اگر قناعت ہو، تو تھوڑے اَلاؤنس میں بھی برکت پڑ جاتی ہے، تھوڑی تنخواہ میں بھی برکت پڑ جاتی ہے اور تھوڑی آمد میں بھی برکت پڑ جاتی ہے۔

اس مجلس میں حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں پیش کیا جانے والا آخری سوال یہ تھا کہ ہم اپنے سکول اور اپنے معاشرے میں اسلام احمدیت کی نمائندگی بغیر کسی شرم یا خوف کے کس طرح کر سکتے ہیں؟

اس پر حضورِانور نے راہنمائی عطا فرمائی کہ ہر کام کےلیے جرأت پیدا ہونی چاہیے۔ اِن لوگوں کو پتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں، جب لوگوں کو پتا ہے کہ مسلمان ہیں تو پھر شرم کیا؟ ایک شرم تو ہٹ گئی اورختم ہو گئی۔ اب مسلمان کا کیا کیریکٹر ہونا چاہیے اور سوسائٹی میں کیا رول ہونا چاہیے؟ اس کے بارے میں آپ کا اپنا نمونہ ہے، بتاؤ کہ ہم مسلمان ہیں، اگر ہم یہ اچھی بات کر رہے ہیںتو اس لیے کر رہے ہیں کہ ہماری تعلیم یہ ہے اور اگر کوئی بُری یا غلط بات کرتا ہے تو وہ اسلام کی تعلیم سے ہٹ کے کرتا ہے۔ مسلمانوں کی جو کمزوریاں لوگوں پر ظاہر ہو رہی ہیںان کو کھل کے ظاہر کر دو۔

حضورِانور نے اس تناظر میں اپنے عملی نمونہ پر روشنی ڈالی کہ مَیں اپنے مختلف جو پبلک میں ایڈریس کرتا ہوں، ان میں مَیں بتا دیتا ہوں کہ یہ یہ کمزوریاں ہیں، مسلمان یہ غلط کررہے ہیں، یہ یہ اسلام کی تعلیم ہے اور یہ ہمیں کرنا چاہیے۔ تو اس سے لوگوں کو پتا لگ جاتا ہے کہ ہاں! خود مان رہے ہیں اور admitکر رہے ہیں کہ ہمارے میں یہ کمزوریاں ہیں، توپھر وہ سمجھ جاتے ہیں کہ کیا بات ہے۔

حضورِانور نے جواب کے آخر میں جرأت کے ساتھ اسلام کی حقیقی تعلیم پیش کرنے کے حوالے سےاس بات پر زور دیا کہ اصل چیز تو یہی ہے کہ خوف اور شرم نہیں ہونی چاہیے، جرأت سے بات کرو، ہمیں کس بات کا ڈرنا ہے ؟ ہمیں ڈرنے کی ضرورت ہی کوئی نہیں۔ یہاں میرے پاس بھی کئی لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پہلے ہم سمجھے تھے کہ پتا نہیں اسلام کیا چیز ہے، لیکن تمہاری باتیں سننے کے بعد یہ خوف دُور ہو گیا ہے، تم نے بڑی اچھی طرح بتا دیا۔ تو جب ان کو بتاؤ کہ اسلام کی تعلیم کیا ہے اور اگر کوئی مسلمان غلط بات کر رہا ہے، تو وہ اس تعلیم کے خلاف کر رہا ہے اور مجرم تو تمہارے اندر بھی ہیں۔ کون کہہ سکتا ہے کہ atheist میں کوئی crimeنہیں ہے یاjewsمیں crime نہیں ہے یا عیسائیوں میں crimeنہیں ہے یا ہندوؤں میں نہیں ہے، ہر ایک میں ہے۔ اس کی وجہ یہ مذہب تو نہیں ہے، وہ تو لوگوں کا اپنا ایک کیریکٹر ہے، تو اس لیے جرأت سے بغیر ڈرے کھل کے بات بتانی چاہیے۔

ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو یہ سعادت بھی حاصل ہوئی کہ وہ اپنے محبوب امام کے ساتھ گروپ تصویر بنوا سکیں اور یوں یہ ملاقات بخیر و خوبی انجام پذیر ہوئی۔

(بشکریہ الفضل 9 اکتوبر 2025ء)