اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-01-15

آہ! میرےشفیق درویش والد بزرگوار محترم گیانی عبداللطیف صاحب درویش مرحوم قادیان دارالامان (ازشمیم اختر گیانی سابق صدر لجنہ اماءاللہ بھارت)

میرے والد صاحب مرحوم کا اسم گرامی مکرم گیانی عبد اللطیف صاحب درویش تھا جو مکرم مولوی عبد الرحمٰن صاحب آف کپورتھلہ پنجاب کے صاحبزادے اور مکرم حضرت مولوی محمد حسین صاحب کپور تھلویؓ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتے تھے۔ مکرم حضرت مولوی محمد حسین صاحب کپور تھلویؓکا اسم گرامی 313 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی اس فہرست میں موجود ہے جسے سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی معرکۃ الآراء کتاب انجام آتھم میں رقم فرمایا ہے۔ مکرم والد صاحب مرحوم کا آبائی گاؤں ریاست کپور تھلہ کی تحصیل سلطان پور لودھی میں شمال کی جانب 15 کلومیٹر کی دوری پر پرم جیت پور عرف آلو پور کے نام سے واقع ہے۔ 1927ء میں مکرم والد صاحب مرحوم کی پیدائش آلو پور گاؤں میں ہوئی۔ آپ کے پانچ بھائیوں اور دو بہنوں میں سے ایک بھائی جو سب سے چھوٹے ہیں مکرم عبد المنان صاحب بفضلہٖ تعالیٰ حیات ہیں جو کہ یو کے میں اپنے بیٹے مکرم عدنان احمد صاحب کے پاس مقیم ہیں۔
مکرم والد صاحب نے چھٹی کلاس تک تعلیم الاسلام اسکول قادیان میں تعلیم حاصل کی ۔ بعض مجبوریوں کے باعث آگے تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔ اور واپس اپنے آبائی گاؤں آلو پور چلے گئے ۔ اتنے میں جنگ عظیم دوم چھڑ گئی تو فوج میں مکرم والد صاحب نرسنگ سپاہی کمپاؤنڈر کی حیثیت سے بھرتی ہوئے۔ ٹریننگ کے بعد فوج میں پانچ سال سروس بھی کی ۔ جب جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا تو مکرم والد صاحب بھی ریلیز ہو کر اپنے گاؤں چلے گئے۔ کچھ مدت کے بعد جالندھر کے سول ہسپتال سے مکرم والد صاحب مرحوم کے نام ایک چھٹی موصول ہوئی جس میں لکھا تھا کہ آپ جالندھر واپس چلے آؤ ۔ گورنمنٹ آپ کو ملازمت دے گی۔ تو اُس وقت دوسری طرف اخبار الفضل میں بھی یہ اعلان نکل چکا تھا کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ نے قادیان میں ایک دیہاتی مبلغین کلاس کا اجراء فرمایا ہے اس میں ریٹائرڈ اور ریلیز فوجی بھی داخلہ لیں۔ مکرم والد صاحب نے اخبار الفضل میں اعلان پڑھ کر خاکسار کے مکرم دادا جان مرحوم سے دریافت کیا کہ آیا میں قادیان کا رخ کروں یا جالندھر کا ۔ تو مکرم دادا جان مرحوم نے فوراً فرمایا کہ قادیان کا رُخ آپ کے لئے باعث برکت ہوگا۔ یہ وہی لمحہ تھا اور یہ وہی آسمانی منصوبہ تھا جو درویش والد صاحب کو درویشی کی نعمت سے نوازنے کا میدان تیار کیا جار ہا تھا۔ مکرم والد صاحب درویشی جامہ کو ہمیشہ خدا تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت اور احسان گردانا کرتے تھے اور ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر گنگنا نے میں لذت محسوس کرتے کہ :-
یہ سراسرفضل و احساں ہے کہ میںآیا پسند
ورنہ درگاہ میں تیری کچھ کم نہ تھے خدمت گذار
بس یہیں سے قادیان میں ابتلاؤں اور آزمائشوں کا دور درویشی شروع ہوا جس کو تحریر میں لانے کے لئے بلند ہمت و حوصلہ کی ضرورت ہے جو شائد میرے بس کی بات نہیں مگر پھر بھی دعاؤں کے ساتھ خدا تعالیٰ کا فضل ما نگتے ہوئے مختصراً بیان کروں گی ۔ مکرم والد صاحب مرحوم کا دور درویشی ابتلاؤں اور آزمائشوں کا ایک کھلا باب ہے۔ مکرم والد صاحب کی شادی بھدرواہ صوبہ جموں وکشمیر میں مکرم محمد عبد اللہ صاحب منڈاشی مرحوم کی بڑی صاحبزادی مکر مہ ثمینہ بیگم صاحبہ سے جولائی 1954؁ء میں ہوئی ۔ خدا تعالیٰ نے مال ، جان،اولاداور دنیاوی میدان کی ناکامی بلکہ ہر میدان میں آزمایا مگر کبھی بھی آپ کے قدم نہ لڑکھڑائے بلکہ ہمیشہ ہر پریشانی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ہر دم خدا تعالیٰ کی رضا پر خوش و خرم رہے۔ مگر زندگی کی بھاگ دوڑ میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ دومعذور بیٹےعلی الترتیب 25، 26 سال کی عمر کے ہو کر فوت ہوئے اس کے علاوہ تین بیٹے کم سن عمر میں ہی فوت ہو گئے مگر ہر ابتلاء اور آزمائش کا مقابلہ خندہ پیشانی اور کمال حوصلے سے کیا خدا کے آگے کبھی کوئی گلہ شکوہ نہ کیا بلکہ ہمیشہ ہر دکھ سکھ میں خدا کی رضا میں راضی رہے۔
اپنے درویشی دور میں مزدوری کی ، کپڑوں کے کٹ پیس دیہاتوں میں جا جا کر بیچے ، سبزی کا کام لکڑی کا ٹال ، مرغیوں کی خوراک ، پرچون کی دکان، چائے کی دکان، انڈوں کو سائیکل پر لے کر دیہاتوں میں سپلائی کرنا نیز گذر اوقات کے لئے بھینسیں بھی رکھیں، مرغیاں پالیں وغیرہ وغیرہ ۔ وہ کون سا کام بچا جو درویشی زندگی کو گزارنے کے لئے میرے والد صاحب مرحوم نے نہ کیا ہو۔
اس کے بعد بات آتی ہے۔ خدمات سلسلہ کی۔ یہ خدمت دین کی سعادت ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ کے سوا کچھ نہیں۔ مکرم والد صاحب تو بس خدا تعالیٰ کی درگاہ میں ہر آن یہی عرض کرتے دکھائی دیتے کہ :
تیرے کاموں سے مجھے حیرت ہے اے میرے کریم
کس عمل پر مجھ کودی یہ خلعت قرب و جوار
درویشی دور کے ابتدائی چند سال خاکسار کے والد صاحب مرحوم نے قادیان سے باہر تبلیغی میدان میں وقف کی روح کے ساتھ گزارے بعدہ صدر انجمن احمدیہ قادیان کے دفاتر ، نظارت امور عامہ، نظارت
بیت المال ، نظارت تعلیم، نظارت نشر و اشاعت، دفتر امیرمقامی و دفتر زائرین میں خدمت کا موقع ملا الحمد للہ علیٰ ذالک۔ کچھ عرصہ تک مینجر اخبار بدر بھی رہے ۔ 7/8 سال انچارج لٹریچر برانچ رہ کر خدمت کی ۔ قرآن مجید کا گو رمکھی ترجمہ جو مکرم گیانی عباد اللہ صاحب مرحوم نے کیا تھا کی دوبارہ اشاعت اور پروف ریڈنگ کا کام بڑی محنت اور جانفشانی سے کیا۔ اس کام میں بفضلہٖ تعالیٰ خاکسار بھی بحیثیت گیانی پنجابی ٹیچر اپنے والد صاحب مرحوم کی پوری مدد گا رو معاون رہی اس سلسلہ میں میں کافی عرصہ امرتسر اور جالندھر کی پریس میں بھی مکرم والد صاحب کو رہائش اختیارکرنی پڑتی۔ اس کے علاوہ جماعت احمد یہ کے صد سالہ جو بلی جشن 1989 ء سے قبل منتخب آیات قرآن کریم ،منتخب احادیث شریف اور منتخب تحریرات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گورمکھی تراجم بھی مکرم والد صاحب نے بڑی محنت سے کئے۔ اسی طرح پوتر جیونی حضرت محمد ﷺ گورمکھی زبان کی درستی، پروف ریڈنگ اور پرنٹنگ کا کام بھی سر انجام دیا۔ مکرم والد صاحب کی خواہش پر خاکسار نے گیانی (Honours in Punjabi) کی ڈگری حاصل کی تھی اس لئے مذکورہ بالا خدمات میں خا کسار کو بھی اپنے مکرم والد صاحب کے ساتھ بھر پور معاون اور مددگار بننے کی توفیق ملتی رہی الحمدللہ ۔غالباً 1988ء میں رٹائر ہوئے ۔ اس کے بعد ری امپلائی ہو کر دفتر زائرین میں بحیثیت انچارج دفتر زائرین بارہ سال تک تعلیم و تربیت اور تبلیغی کام نیز غیر مسلموں کو مقامات مقدسہ کی زیارت کروانے کی ڈیوٹی سر انجام دی۔ تبلیغی جوش انتہا درجہ کا تھا۔ زیر تبلیغ افراد کی جب تک تسلی نہ ہو جاتی اُن کو جانے نہ دیتے ۔ ان زیر تبلیغ افراد کو جن میں بچے بڑے شامل ہوتے اپنے گھر لا کر حسب توفیق مکرمہ والدہ صاحبہ کے تعاون سے اُن کی تواضع بھی کرتے اور اُن کی دلجوئی بھی کرتے۔ زائرین کو مقامات مقدسہ دکھانے کے لئے خود ساتھ جاتے اور اگر ایک دن میں دو یا تین بار بھی منارۃ المسیح پر چڑھنا پڑے تو اُن کے ساتھ چڑھتے ۔ اور کبھی بھی بڑی عمر کے لحاظ سے تھکاوٹ محسوس نہ کرتے ۔ اگر ہم نے کبھی کہنا کہ ابّاجی ! اب آپکی عمر اجازت نہیں دیتی کہ آپ اتنی شدید گرمی میں دو تین بار منارۃ المسیح پر چڑھیں آپ کسی مددگار کا رکن یا کسی لڑکے کو ساتھ بھیج دیا کریں۔ تو آگے سے کہتے کہ یہ موسموں کی شدت یا عمر کی زیادتی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ہمیں اپنی جان کی کوئی پرواہ نہیں ہم نے تو مقامات مقدسہ کی حفاظت کا جو عہد اپنے خدا سے کیا ہوا ہے اُسے اپنی عمر کے آخری سانس تک نبھانا ہے۔ اس پر ہم خاموش ہو جاتے ۔
قربان جائیں درویشوں کے اس جذبہ پر کہ جو عہد جوانی میں اپنے خلیفۂ وقت اور جماعت سے کیا اُسے زندگی کے آخری سانس تک نبھایا۔ اللہ تعالیٰ ان سب درویشوں کی قربانیوں کو قبول کرتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے آمین ۔
مکرم والد صاحب نے اپنے ذمہ بہشتی مقبرہ قادیان کے بعض قطعات کی صفائی کا کام لیا ہوا تھا۔ ہر روز دفتر جانے سے پہلے باقاعدگی کے ساتھ قطعات کی صفائی بڑی محنت سے کرتے ۔
میرے درویش والد صاحب اسلامی شعار کے پابند ، خلافت سے بے انتہا محبت کرنے والے، نظام جماعت کے فرمانبردار اور وفادار سپاہی ، حد درجہ کی عاجزی و انکساری، زندہ دل اور مزاحیہ طبیعت کے مالک تھے۔ چھوٹے بڑے سب سے مزاق کر لیتے تھے۔ پریشانیوں کے ہوتے ہوئے بھی ہمیشہ چہرہ پر مسکراہٹ ہی رہتی ۔ خدا کی رضا میں ہمیشہ خوش و خرم رہے۔ مکرم والد صاحب کی مزاحیہ طبیعت سے ہر فرد چھوٹا بڑا واقف تھا۔ اور ہر ایک کو مکرم والد صاحب کے پاس بیٹھ کر وقت گزارنا اچھا لگتا تھا۔ قادیان دار الامان سے حد درجہ کی محبت تھی۔
پسماندگان میں ہم تین بہنیں خاکسار شمیم اختر گیانی اہلیہ مکرم سید صباح الدین صاحب واقف زندگی قادیان،عزیزہ مکرمہ شاہین اختر صاحبہ اہلیہ مکرم دلاور خان صاحب واقف زندگی قادیان ،عزیزہ مکرمہ یاسمین اختر صاحبہ اہلیہ مکرم نصیر احمد عارف واقف زندگی قادیان اور دو بھائی مکرم عبد الحفیظ صاحب گیانی( اہلیہ مکرمہ ثریا بانوصاحبہ مرحومہ )و عزیزم مکرم عبد الہادی صاحب گیانی (اہلیہ مکرمہ طاہرہ صباصاحبہ) یادگار چھوڑے ہیں۔جو بفضلہٖ تعالیٰ سب شادی شدہ ہیں۔ اور اپنے اپنے گھر میں خوشحال ہیں۔ الحمد للہ مکرم والد صاحب مرحوم کے چار پوتے ، ایک پوتی، سات نواسے اور دونو اسیاں ہیں جن میں سے دس بچے بفضلہٖ تعالیٰ وقف نو کی بابرکت تحریک میں شامل ہیں۔ سب سےبڑا پوتا عزیز طاہر احمد حفیظ واقف زندگی مربی سلسلہ ہے، الحمد للہ۔ ان سب نعمتوں کو یادکر کے بہت خوش ہوتے اور ہر دم خدا تعالیٰ کا شکر بجالاتے تھکتے نہیں تھے۔
سن 2002؁ ء سے مکرم والد صاحب فالج کے حملہ کی وجہ سے بیمار چلے آرہے تھے۔ دوران بیماری دو دفعہ گر جانے سے دو بار چولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی جس کی وجہ سے دو بار آپریشن بھی ہوا ۔ مگر کبھی ہمت نہ ہارتے بلند حوصلہ تھا۔ ہر بیماری کا مقابلہ خندہ پیشانی سے کرتے رہے۔ واکر لے کر گھر میں ہی آہستہ آہستہ چلتے پھرتے رہتے تھے۔ آخری تین چار ماہ خوراک بالکل بند تھی صرف جوس پر زندہ تھے ۔ اُٹھ بیٹھ نہیں سکتے تھے۔ آخر وہ لحہ آن پہنچا جس پر ہم سب کو خدا تعالیٰ کے حضور سر تسلیم خم کرنا پڑا اور مورخہ 20 نومبر 2009؁ء بروز جمعۃ المبارک میرے در دیش والد صاحب رات11:45 بجے اپنے حقیقی مولیٰ سے جاملے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ۔ والد صاحب مرحوم موصی تھے ۔ اگلے دن بروز ہفتہ بہشتی مقبرہ قادیان
کے قطعہ درویشان میں تدفین عمل میں آئی۔
ہو فضل تیرا یا رب یا کوئی ابتلاء ہو
راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تیری رضا ہو
قارئین کی خدمت میں مکرم والد صاحب مرحوم کی مغفرت ، اعلیٰ علیین میں جگہ پانے، نیز بلند درجات عطا ہونے اور ہمیں اپنے بزرگ والد صاحب مرحوم کی نیکیوں اور قربانیوں کو نسلاً بعد نسلِِ قائم رکھنے کی توفیق پانے کے لئے عاجزانہ دعا کی درخواست ہے۔
مکرم والد صاحب گورمکھی لِپی میں تھوڑی بہت شعر و شاعری بھی کر لیا کرتے تھے۔ جس کا ایک نمونہ خاکسار کی شادی کے موقعہ پر 23 دسمبر 1980؁ء میں جو نظم تحریر کی تھی وہ درج ذیل ہے ، اس کا اُردو ترجمہ خاکسار نے خود کیا ہے :۔
او بیٹی ! جَد میں تَینوں بیٹا کر کے کہندا سی
(اے بیٹی جب میں تجھے بیٹا کہتا تھا)
کم جہڑا میں آکھدا ساں، اوہ کم تُوں کر کے بہندا سی
( جو کام میں کہتا تھا وہ کام کر کے ہی تو بیٹھتی تھی )
دَھن ہے بیٹا جِگرا تیرا ،تُو دُکھ میرے نال سہندا سی
( بیٹا تیرا حوصلہ بہت بلند تھا، تو میرے ساتھ دُکھ کو برداشت کرتی تھی)
اَجیہابیٹا کتھوں لبھّے دل میرا اِہ کہنداسی
( ایسا بیٹا میں کہاں تلاش کروں میرا دل یہ کہتا تھا )
رب لکّھاں بیٹیاں ورگی مینوں اِکو بیٹی دِتّی سی
( خدا تعالیٰ نے مجھے لاکھوں بیٹیوں جیسی ایک ہی بیٹی دی تھی )
اِہ رب دی اِک نعمت سی جہڑی عرشوں لتّھی سی
( یہ رب کی ایک نعمت تھی جو آسمان سے اتری تھی )
کی آکھاں بیٹا حُسن تیرا ،تُو لالاں دی اِک گُتھی سی
( بیٹا میں تیرے حُسن کے بارہ میں کیا کہوں تو لال جیسے ہیروں کی ایک تھیلی تھی)
شہد جہے سَن بول تیرے، اخلاقاں دی وی سچی سی
(تیرے بول شہد جیسے تھے ، اعلیٰ اخلاق کی بھی مالک تھی )
آج گھر اپنے تُوں جاندی ایں، میں رب دا شکر بجاندا ہاں
( آج تو اپنے گھر جا رہی ہے، میں خدا کا شکر بجالاتا ہوں)
گیت اوہدے ہی گاندا ہاں، تے تینوں اِہ میں کہندا ہاں
( میں اُس (خدا) کے ہی گیت گاتا ہوں ۔ اور تجھے میں یہ کہتا ہوں )
جہڑا آؤندا ہے بیٹا ! تُر جاندا ہے آکھ کے میں ہُن جاندا ہاں
( جو آتا ہے بیٹا وہ یہ کہہ کر چلا جاتا ہے کہ میں اب جاتا ہوں )
بیٹا !سُکّھی وسّے گھر تیرا ہُن تیَنوں میں رب دی جھولی پاندا ہاں
(بیٹا تیرا گھر سکھی رہے، اب میں تجھے خدا کی گود میں ڈالتا ہوں )
تُوں رب دی رضا وچ رہنا ہے، ہر دُکھ سکھ نُو وی سہنا اے
(تو نے خدا کی رضا میں راضی رہنا ہے ، ہر دُکھ سکھ کو بھی برداشت کرنا ہے )
پہلاں جی تُوں مَینوں کہندی سی ہُن جی جی نُوں تو کہنا اے۔
(پہلے تو مجھے جی کہتی تھی ، اب جی اپنے خاوند کو کہنا ہے )
آج صباح بیٹا سرتاج تیرا ، صباح وچ ہی تُو رہنا اے
( آج صباح بیٹا تیرا سرتاج ہے، تو نے صباح میں ہی رہنا ہے )
صباح تے صبا ہے صُبح تیری، اِہ چانن تیرا گہنا اے
(یعنی صباح اور صبا تیری صبح ہے، یہ روشنی تیر از یور ہے )
میرے بزرگ والد صاحب کی وفات پر حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ بیان فرمودہ مؤرخہ 27 نومبر 2009؁ ء میں جو بابرکت کلمات ارشاد فرمائے ان پر اس مضمون کو ختم کرتی ہوں۔
’’دوسرا ایک اور جنازہ ہے وفات کا اعلان جو مکرم گیانی عبداللطیف صاحب درو یش ابن مکرم عبدالرحمٰن صاحب قادیان کا ہے جو21-20 نومبر کی درمیا نی رات کو 82سال کی عمر میں وفات پا گئے تھے۔
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابی حضرت محمد حسین صاحب کپور تھلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے تھے، آپ نے گورمکھی کا امتحان گیانی پاس کیاتھا اس لئے گیانی کے نام سے مشہور تھے۔ حضرت مصلح موعودؓ کی تحریک پر فوج سے ریلیز ہو کر قادیان آئے اور 313 درویشوں میں شامل ہوئے۔ کچھ عرصہ دیہاتی مبلغین میں شامل ہو کر فیلڈ میں خدمات بجا لاتے رہے پھر ریٹائرمنٹ کے بعد ری امپلائی ہو کر دفتر زائرین میں لمبا عرصہ خدمت کی توفیق پائی۔ قرآن کریم کے گور مکھی کے ترجمے کی نظر ثانی اور پروف ریڈنگ بھی بڑی محنت سے آپ نے کی۔ کچھ عرصہ مینیجر بدر بھی رہے۔ اس طرح بہشتی مقبرہ کا ایک قطعہ بھی اپنے ذمہ لیا ہوا تھا۔ اس کو ٹھیک رکھنے کے لئے مسلسل وقار عمل کرتے رہتے تھے۔ خوش طبع اور زندہ دل انسان تھے مطالعہ کا شوق تھا۔ معاشی تنگی کے باوجود ہمیشہ خوش باش نظر آتے تھے۔ او رکہتے ہیں کہ ایک افسردہ شخص بھی ان سے بات کرتا تو خوش ہوئے بغیر نہ رہتا۔ ان کے پسماندگان میں تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ عبدالہادی صاحب نور ہسپتال کی لیب میں کام کر رہے ہیں اور ایک ان کی بیٹی شمیم اخترنصرت گرلزا سکول میں ٹیچر ہیں اور قادیان کی صدر لجنہ بھی ہیں۔ ان کے ایک داماد صباح الدین صاحب نائب ناظر بیت المال ہیں۔بچے مختلف حیثیتوں میں جماعت کی خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان بچوں کو بھی اپنے والد کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ ان دونوں مرحومین کے لئے نماز جنازہ غائب ابھی میں جمعہ اور عصر کی نماز کے بعد ادا کروں گا‘‘۔