اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-02-26

تحریک جدید کی اہمیت اور برکات (پی ایم رشید وکیل المال تحریک جدید قادیان)

تحریک جدید کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی مشیت خاص سے عین اس وقت رکھی گئی جبکہ احراری تحریک اپنے نقطہ ٔ عروج پر تھی۔ اور احرار اپنے خیال میں معاذ اللہ قادیان اور احمدیت کی اینٹ سے اینٹ بجادینے کے بلند و بانگ دعوے کررہے تھے یہاں تک کہ احراری لیڈروں کا یہ بیان تھا کہ ہمیں خدا نے مقرر کیاہے اور اب ہمارے ذریعہ یہ جماعت کا خاتمہ ہوگا۔ لیکن اس فتنہ کے آغاز میں ہی حضرت مسیح موعود ؑ کے اولوالعزم خلیفہ سیدنا حضرت مصلح موعود ؓنے احمدیت کی کامیابی کا واضح اعلان کرنا شروع کردیا تھا۔چنانچہ حضور ؓ نے سالانہ جلسہ1931ء کے پہلے روز احرار کو مخاطب کرتے ہوئے نہایت پر شوکت الفاظ میں فرمایا:
’’ہم ان سے کہتے ہیں تم کیا ۔اگر تم دنیا کی ساری حکومتوں اور ساری قوموں کو بلاکر بھی اپنے ساتھ لے آؤ پھر بھی تم جیت جاؤ تو ہم جھوٹے۔اگر ان لوگوں نے ایسا کیا تو انہیں معلوم ہوجائےگاکہ وہ کس چیز سے ٹکراتے ہیں۔ اگر ان لوگوں نے ہم پر حملہ کیا تو چکنا چور ہوجائیں گے اور اگر ہم نے ان پر حملہ کیا تو بھی وہ چکنا چور ہوجائیں گے۔یہ خدا کا قائم کردہ سلسلہ ہے اور یہ اس کی مشیت اور ارادہ ہے کہ اسے کامیاب کرے۔اسکے خلاف کوئی انسانی طاقت کچھ نہیں کرسکتی ۔۔۔۔ہم یہ نہیں کہتے کہ ان کو کچل دیںگے۔مگر یہ ضرور یقیناََ اور حتمی طور پر کہتے ہیں کہ خدا ان کو کچل دے گا۔خواہ وہ کتنی بڑی فوجوں کے ساتھ ہمارے خلاف کھڑے ہوجائیں ۔لڑائی کا نام اسلامی اصطلاح میں آگ رکھاگیاہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے ’’ آگ سے ہمیں مت ڈراؤ۔آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے‘‘
نیز فرمایا : پس ہم پر غالب آنے کا خیال ان کا محض وہم و گمان ہے ۔اگر ہم میں سے ہر ایک کو قتل کرکے جلادیں اور پھر راکھ کو اڑادیں تو بھی دنیا میں احمدیت قائم رہے گی۔ ہر قوم ہر ملک اور ہر بر اعظم میں پھیلے گی اور ساری دنیا میں احمدیت ہی احمدیت نظر آئے گی ۔یہ خدا کا لگایا ہوا پودا ہے اس کے خلاف جو زبان دراز ہوگی وہ زبان کاٹی جائے گی۔جو ہاتھ اٹھےگا وہ ہاتھ گرایاجائےگا۔جو آواز بلند ہوگی وہ آواز بند کی جائے گی ۔جو قد م اٹھےگاوہ قدم کاٹاجائےگا۔ اگر انگریز ،جرمن ،امریکن ،فرنسیسی سب مل جائیں تو بھی جس طرح مچھر مسلاجاتا ہے اسی طرح مسلے جائیں گے اور ساری قومیں احمدیت کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گی‘‘ ۔
(تاریخ احمدیت جلد 6 صفحہ421,420)
تاریخ شاہد ہےکہ فتح احمدیت کے متعلق حضرت مصلح موعود ؓکی یہ تمام ترپیشگوئیاں لفظ بلفظ پوری ہوئیں۔ اور احراریوں کےاحمدیت کو مٹانے کے وہ تمام تر دعوے اور منصوبے ناکام و نامراد ثابت ہوئے۔دوسری طرف احمدیت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ولولہ انگیز آسمانی تائید یافتہ قیادت، خلافت احمدیہ کی نگرانی میں دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرتی چلی جارہی ہے۔
احراریوںکے دعوے اوراسکے مقابل احمدیت کی ترقیات کا ذکر کرتے ہوئے ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’۔۔۔۔ یہ جو احرار کا دعویٰ تھا کہ ہم قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے ، احمدیت کو صفحہ ہستی سے مٹادیں گے اور آ ج تک یہ نعرے ہمارے مخالفین لگاتے ہیں ۔۔۔ان نعروں کا جواب ہر سال جماعت کی ترقیات سے دیا جاتا ہے ۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے دیاجاتاہے ۔جماعت میں بیعت کرکے شامل ہونے والے لوگ وہ اس کا جواب ہیں۔اور آج دو سو بیس (220) ممالک میں پھیلی ہوئی جماعت کی ترقی اس کا جواب ہے کہ دیکھو !تم یہ نعرہ لگاتے تھے کہ صفحہ ہستی سے مٹادیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کے یہ افضال ہیں کہ جماعت ترقی پر ترقی کرتی چلی جارہی ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 7نومبر 2025ء )
سن1891ء کی بات ہے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک ایمان افروز کشفی نظارہ دکھایا گیا ۔جس میں آپ کو غلبہ اسلام کی آسمانی مہم کو سر کرنے کیلئے پانچ ہزار سپاہیوں پر مشتمل ایک روحانی فوج دیئے جانے کی بشارت عطا کی گئی۔جو تحریک جدید کے جہاد کبیر میں اموال و نفوس کی قابل رشک قربانیاں پیش کرنے والے مجاہدین دفتر اول کی شکل میں پوری ہوچکی ہے۔
اپنے اس کشف کا ذکر کرتے ہوئے حضور تحریر فرماتے ہیں:
’’کشفی حالت میں اس عاجز نے دیکھا کہ انسان کی صورت پر دو شخص ایک مکان میں بیٹھے ہیں۔ایک زمین پر اور ایک چھت کے قریب بیٹھاہے ۔جب میں نے اس شخص کو جوزمین پر تھا مخاطب کرکے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے ۔مگر وہ چپ رہا اور اس نے کوئی جواب نہ دیاتب میں نے اس دوسرے کی طرف رخ کیاجو چھت کے قریب اور آسمان کی طرف تھا اور اسے مخاطب کرکے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے ۔وہ میری اس بات کو سن کربولا کہ ایک لاکھ نہیں ملے گی مگر پانچ ہزار سپاہی دیا جائےگا۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر چہ پانچ ہزار تھوڑے آدمی ہیں پر اگر خدا تعالیٰ چاہے تو تھوڑے بہتوں پر فتح پاسکتے ہیں ۔اس وقت میں نے یہ آیت پڑھی ۔کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن للہ
(ازالہ اوہام طبع اول صفخہ 97تا99)
حضور علیہ السلام کا یہ ایمان افروز کشف اس طور سے پورا ہوا کہ تحریک جدید کا دفتر اول (1934ء تا 1953ء) میں شامل ہونے والے مجاہدین کی تعداد قریباََ پانچ ہزار ہی تھی۔جن کی ابتدائی قربانیاں بلاشبہ غلبہ اسلام کی بابرکت آسمانی مہم میں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں۔ حضرت مصلح موعو د ؓ نے بھی متعدد مواقع پر یہی استنباط فرمایاہے کہ اس کشف کے مصداق تحریک جدید کے پہلے انیس سالہ دور میں شامل وہ پانچ ہزاری مجاہدین ہیں جن کی ابتدائی نامساعد حالات میں پیش کردہ مخلصانہ قربانیاں عظمت و شوکت اسلام کی زیر تعمیر عمارت کیلئے مستقل و مستحکم بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں۔
تحریک جدید خداکی طرف سے ہے
بانی تحریک جدید حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ ایک جگہ فرماتے ہیں :
’’یاد رکھو یہ تحریک خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اسلئے وہ اسے ضرور ترقی دےگا ۔اور اس کی راہ میں جو روکیں ہوں گی ان کو بھی دور کردے گا۔ اور اگر زمین سے اس کے سامان پیدا نہ ہوں گے توآسمان سے خدا تعالیٰ اسے برکت دےگا۔پس مبارک ہیں وہ جو بڑھ چڑھ کر اس تحریک میں حصہ لیتے ہیں۔ کیونکہ ان کا نام ادب اور احترام سے اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا اور خدا تعالیٰ کے دربار میں یہ لوگ عزت کا خاص مقام پائیں گے۔کیونکہ انہوں نے خود تکلیف اٹھاکر دین کی مضبوطی کیلئےکوشش کی۔ اور ان کی اولادوں کا خدا خود متکفل ہوگا۔اور آسمانی نور ان کے سینوں میں ابل کر نکلتا رہے گا اور دنیا کو روشن کرتا رہےگا۔‘‘
(روزانہ الفضل قادیان 30 نومبر1939ء)
تحریک جدید کا آغاز اور اسکاپس منظر
تحریک جدید کاآغاز اور اسکے پس منظر کے حوالہ سے حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس اید اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے بصیرت افروز خطبہ جمعہ مورخہ3 نومبر 2023 میں فرمایا کہ :
’’۔۔۔۔تحریک جدید حضرت مصلح موعود ؓنے شروع ہی اس وجہ سے کی تھی کہ جماعت کے خلاف ہر طرف سے شورش تھی حتی کہ حکومت کے افسران بھی مخالفت کی پشت پناہی کررہے تھے ۔تحریک جدید کا مقصد ہی یہ تھا کہ تبلیغ کرکے جماعت کو بڑھایاجائے اور دنیاکے ہر ملک میں جماعت احمدیہ کے ذریعہ اسلام کا جھنڈا لہرایاجائے ۔۔۔۔ جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے جماعت کے خلاف ہر طرف سے فتنہ اور فساد اٹھ رہا تھا ۔خاص طور پر احرار نے تو فساد پیدا کرنے کیلئے اپنا تمام زور لگالیاتھااور یہ نعرہ تھا کہ احمدیت کو صفحہ ہستی سے مٹادیںگے۔ قادیان کا نام ونشان مٹادیں گے اور قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجادینے کی باتیں ہوتی تھیں۔ یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار اور مقدس مقامات کی بے حرمتی کے پروگرام تھے اور حکومت کی طرف سے بھی مخالفین کی طرف زیادہ رجحان نظر آتا تھا باوجود اس کے کہ اس وقت انگریز حکومت تھی۔ بجائے فتنہ ختم کرنے کے ان کی حمایت کی جاتی تھی ۔تو ان حالات میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے جماعت کو ایک پروگرام دے کر تحریک کی جس میں مالی قربانی کی طرف بھی توجہ دلائی ۔یہ1934ء کی بات ہے۔ نومبر میں آپؓنے پہلے کچھ خطبات دئے جن میں کچھ تمہید اور پس منظر بیان کیاکہ کیوں میں تحریک کرنا چاہتا ہوں ۔پہلے ابھی یہ ذکر ہی کیا تھا اور پوری تفصیل بیان نہیں فرمائی تھی لیکن مخلصین نے آپ کو ہر قسم کی قربانی پیش کرنے کیلئے لکھنا شروع کردیا جس پر آپؓنے خوشنودی کا اظہار بھی فرمایا اور فرمایا میں یہ تفصیل اس لئے بیان کررہاہوں کہ جماعت تیار ہو قربانی کیلئے کیونکہ بعض دفعہ قربانیاں لمبی کردینی پڑتی ہیں اور عورتیں اور بچے بھی اس کے لئے تیار ہوں ۔یہ صرف مردوں کا کام نہیں ہے بلکہ عورتوں کو بھی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہوگا۔گو اس وقت یہ ہر احمدی کیلئے لازم نہیں تھی لیکن اخلاص ووفا کا غیر معمولی جذبہ جماعت نے دکھایا۔
تحریک جدید کے مقاصد
حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے الہامات ’’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤگا ‘‘ اور’’ وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائےگا ‘‘ کے مطابق تحریک جدید کا دائرہ کار اکناف عالم پر محیط ہے۔اور دنیا کے ہر ملک میں پیغام حق پہنچانا اس تحریک کا بنیادی مقصد ہے۔بانی تحریک جدید سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ تحریک جدید کو حاصل اسی بنیادی امتیاز کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’تحریک جدید کی غرض یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے تو ہم ساری دنیا میں اسلام کی طرف سے مقابلہ کرنے والے پہلوان کھڑے کردیں ۔۔۔ تاکہ ان ممالک میں اسلام کا جھنڈا لہراتارہے۔اس دن ہم سمجھیںگے کہ ہمارے کام کا آغاز ہوا ہے‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ یکم دسمبر1939ء)
ہماری ذمہ داریاں
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر مؤمنوں کومالی قربانی کرنےکی طرف توجہ دلائی ہے۔ مالی قربانی کے نتیجہ میں روحانی ترقی حاصل ہوتی ہے۔ کامل نیک بننے کیلئے انسان کو اپنی پسندیدہ اشیاء میں سے خرچ کرنا ضروری ہے۔جیساکہ اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے:
لن تنالوالبر حتی تنفقو مما تحبون وماتنفقو من شیءٍ فان اللہ بہ علیم
(آل عمران :93)
تم ہرگز نیکی کو پانہیں سکوگے یہاں تک کہ تم ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن سے تم محبت کرتے ہو اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو تو یقیناََ اللہ اس کو خوب جانتاہے۔
تحریک جدید کے ثمرات
تحریک جدید کے ثمرات کے تعلق سے اگر بات کی جائے تو بےشمار ایسے ثمرات ہیں جن کا شمارکرنا ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ہم سب پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنی زندگیوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عظیم الشان پیشگوئی ’’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا‘‘ کو بڑی شان کے ساتھ پورا ہوتے ہوئے دکھایا۔ آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے 220 ممالک میں حضرت مسیح موعود ؑ کا پیغام پہنچ چکا ہے ۔ نہ صرف مبلغین اسلام کے ذریعہ بلکہ MTAکے وسیع نظام کے ذریعہ بھی۔ سیکڑوں، ہزاروں کی تعدا د میں مساجد اور مشن ہاؤسز کی تعمیرہوچکی ہے اور ہورہی ہے۔ہسپتال اور سکول کام کررہے ہیں۔ تبلیغ و تربیت کا وسیع نظام چل رہا ہے ۔۔۔
حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس اید ہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے بصیرت افروز خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ03نومبر2023ء میں فرمایا:۔ ’’تحریک جدید کے پھل کا پہلے میں بتادوں جو ہمیں نظر آئے۔ ابتداء میں تو ہم قادیان سے باہر نہیں نکل رہے تھےیا ہندوستان تک تھوڑے سے پھیلے ہوئے تھے لیکن اب دنیا کے 220 ممالک میںمساجد کی کل تعداد نوہزار تین سو سے اوپر ہے۔ مشن ہاؤسوں کی تعداد تین ہزار چار سو سے اوپر ہے۔ اور بھی درجنوں مساجد بن رہی ہیں ۔مشن ہاؤس بھی بن رہے ہیں زیر تعمیر ہیں۔ مبلغین کی تعداد اور معلمین کی تعداد دنیا میں پانچ ہزار کے قریب ہے۔ یہ بھی بڑھ رہی ہے۔ اللہ کے فضل سے قرآن کریم کے تراجم بھی ہورہے ہیں ۔ ستتر( 77)زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں ۔ لٹریچر چھپ رہا ہے۔ مختلف زبانوں میں لٹریچر کا ترجمہ ہورہا ہے۔ اور بےشمار کام اس کے ذریعہ سے ہورہاہے جو تحریک جدید کے ذریعہ کام کے شروع ہونے سے شروع ہوا۔گو اس میں باقی چندے بھی شامل ہوئے ہیں لیکن تحریک جدید کابھی بہت بڑاکردار ہے۔
(خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 03نومبر 2023ء )
تحریک جدید کے چندے کی اہمیت
چندہ تحریک جدید اگرچہ طوعی چندہ ہے لیکن اس کی بڑی اہمیت ہے ۔جیساکہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے فرمایا کہ:
’’ ہماری جماعت میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے علاوہ فرض چندوں کے بہت سے نفلی چندوں کی بھی تحریک کی ہوئی ہے۔ ان میں سے ایک چندہ یعنی تحریک جد ید گو نفلی ہے لیکن ضرورت کے مطابق شاید وہ فرض کے قریب قریب پہنچا ہوا ہے۔ اس کی مثال سنتوں کی سی ہے۔ جو ہیں تو نوافل لیکن وہ نفل کی نسبت فرض کے زیادہ قریب ہمیں نظر آتی ہیں۔ کیونکہ انہیں ادا کرنے کی نبی کریم ﷺ نے بڑی تاکید فرمائی ہوئی ہے ۔‘‘
(خطاب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث فرمودہ 22؍ اکتوبر1966 ء)
اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
’’چندہ عام کے بعد تحریک جدید کا چندہ سب سے زیادہ اہم ہے ۔یہ بڑی برکتوں کا حامل ہے ۔اس نے ابتداء ہی سے جماعت کی مالی قربانیوں پر حیرت انگیز طور پر اچھا اثر ڈالاہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرمودہ 5نومبر 1993ء)
نیز فرمایا:
’’چندہ عام کے بعد سب سے زیادہ اہم تحریک جو عمومی طور پر جماعت کے لئے جاری فرمائی گئی ہےوہ تحریک جدید کا چندہ ہے۔کیونکہ اس کا تعلق ساری دنیا میں اشاعت اسلام سے ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرمودہ 5نومبر 1993ء)
تحریک جدید کیلئے قربانی کا اعلیٰ معیار
تحریک جدید کے مطالبات میں سے ایک پہلو مالی قربانی کا پہلو تھا۔ حضرت مصلح موعود ؓنے تحریک جدید کیلئے مالی قربانی کے معیار کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:
۔۔۔ اگر کوئی شخص اپنی ایک ماہ کی آمد کا نصف دےدیتا ہے مثلاََ اس کی سو روپیہ ماہوار آمد ہے تو وہ پچاس روپیہ وعدہ لکھوادے تو سمجھاجائےگاکہ اس نے اچھی قربانی کی ہے۔اور اگر وہ ایک ماہ کی پوری آمد یعنی سوکی سو روپے ہی بطور وعدہ لکھوادے تو ہم سمجھیں گے کہ اس نے تکلیف اٹھاکر قربانی کی ہے۔‘‘
(خطبہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓفرمودہ 4دسمبر 1953ء)
یہ بھی ضمناََ ذکر کرتاہوں کہ اس وقت کے مخلصین نے پانچ پانچ یا چھہ چھہ ماہ کی آمدنیاں بھی چندہ میں لکھوادی تھیں۔ جس کاذکر حضور نے اس خطبہ میں کیاہے۔
اس موقعہ پر حضورؓ نے بچوں کو بھی اس چندہ میں شامل ہونے کی تحریک فرمائی تھی۔
حضور ؓفرماتے ہیں کہ :۔پس ہر احمدی مرد اور ہراحمدی بالغ عورت کافرض ہے کہ اس تحریک میں شامل ہو بلکہ بچوں میں بھی تحریک کی جائےاور رسمی طور پرانہیں اپنے ساتھ شامل کیا جائے۔
نیزفرمایا کہ :۔بعض لوگ بچوں کی طرف سے چندہ لکھوادیتےہیں۔لیکن انہیں بتاتے نہیں اس سے پورافائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔بچے کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ سوال کرتاہے ۔جب تم اس سے کہوگے کہ جاؤ اپنی طرف سے چندہ لکھواؤ تو وہ پوچھے گا چندہ کیاہوتاہے ؟اور جب تم چندہ کی تشریح کرو گے تو وہ پوچھے گا یہ چندہ کیوں ہے ؟پھر تم اس کے سامنے اسلام کی مشکلات اور اس کی خوبیاں بیان کروگے ۔پس بچہ کے اندر اللہ تعالیٰ نے یہ مادہ رکھاہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ سوال کرتاہے۔اگر تم ایساکروگےتو انکے اندر نئی روح پیدا ہوگی اوور بچپن سے ہی ان کے اندر اسلام کی خدمت کی رغبت ہوگی ۔
(خطبہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓفرمودہ 4دسمبر 1953ء)
سیدنا حضور انور اید ہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اس نصیحت کو بھی ہمیں ہمیشہ سامنے رکھنے کی ضرورت ہے کہ ــ:
’’میں ان امیر لوگوں سے بھی کہوںگا کہ وہ بھی ۔۔۔اپنی قربانیوں کے معیار کو بڑھائیں ۔۔۔۔۔ خوش حال لوگوں کو بھی اپنے جائزے لینے چاہئیں۔‘‘ نیز فرمایا:
’’۔۔۔۔نظام وصیت کے ساتھ نظام خلافت کا بھی گہرا تعلق ہے ۔اب نظام وصیت کے ساتھ ہی قربانیوں کے معیار بھی بڑھنے ہیں تو پہلے قربانیوں کی عادت ڈالنے کیلئے تحریک جدید کا نظام ہی ہے اس طرف بھی توجہ دینی ہوگی ۔پس اس طرف توجہ کریں ۔
اللہ تعالیٰ جماعت کے آسودہ حال طبقے کو بھی اس طرف توجہ کرنے کی توفیق عطافرمائے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بعض اچھا کمانے والے بہت توجہ کرتے ہیں لیکن ابھی اس میں مزید لوگوں کو شامل کرنے کی جو اپنے وسائل کے مطابق چندہ دیں بہت گنجائش موجود ہے۔غریب تو جیسا کہ میں نے کہا قربانی میں بہت بڑھ گیاہے لیکن امیروں کو بھی اس طرف توجہ دینی چاہیے۔‘‘
(خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ 03 نومبر 2023ء)
حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام فرماتے ہیں:
تمہارے لئے ممکن نہیں کہ مال سے بھی محبت کرو اور خدا سے بھی۔صرف ایک سے محبت کر سکتے ہو۔ پس خوش قسمت وہ شخص ہے کہ خدا سے محبت کرے۔ اور کوئی تم میں سے خدا سے محبت کرکے اسکی راہ میں مال خرچ کرےگا تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اس کے مال میں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ برکت دی جائےگی۔کیوںکہ مال خود بخود نہیں آتا بلکہ خدا کے ارادہ سے آتا ہے۔
(مجموعہ اشتہارات،جلد سوم ،صفحہ ۴۹۷)
رمضان کا مبارک مہینہ چل رہا ہے۔ اس مہینہ کو اللہ کی راہ میں مالی قربانی پیش کرنے سے بہت مناسبت ہے اور اس اعتبار سے بھی کہ اس ماہ میں مالی قربانی کرنے والوں کی اطلاع بغرض دُعا حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں بھی دی جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسلام اور احمدیت کی اشاعت اور خدا کی بادشاہت دنیا میں قائم کرنے کیلئے اپنی جان، مال ،وقت اور عزت کی قربانی پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔