اللہ تعالیٰ نے اس پُرفتن دور میں اسلام اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی صداقت کے اظہار کے لیے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو متعدد عظیم الشان نشانات عطا فرمائے۔ ان نشانات میں ایک نہایت جلیل القدر اور غیر معمولی نشان پیشگوئی مصلح موعود ہے۔ یہ پیشگوئی ایسے وقت میں کی گئی جب اسلام شدید فکری و اعتقادی حملوں کی زد میں تھا اور امتِ مسلمہ کمزوری اور انتشار کا شکار تھی۔ اس پیشگوئی کا پس منظر، اس کی غیر معمولی اہمیت و عظمت، اور یہ کہ اس سے مراد کون عظیم ہستی ہے۔ان تمام امور کی جامع وضاحت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی اپنی تحریرات میں پوری صراحت کے ساتھ موجود ہے۔
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی عظیم الشان تصنیف ’’براہینِ احمدیہ‘‘ کے منظرِ عام پر آتے ہی ایک طرف تو عالمِ اسلام میں مسرت اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی، کیونکہ یہ کتاب اسلام کی حقانیت کیلئے ایک مضبوط دفاع تھی۔ جبکہ دوسری طرف اسلام کے مخالفین کے حلقوں میں سخت اضطراب اور کھلبلی مچ گئی۔ اس تاریخی کتاب میں حضرت اقدس علیہ السلام نے دنیا کو مخاطب کرتے ہوئے ایک عظیم الشان بشارت کا اعلان فرمایا:
’’ پس خداوند تعالیٰ نے اس احقر عباد کو اس زمانہ میں پیدا کرکے اور صد ہا نشان آسمانی اور خوارق غیبی اور معارف و حقائق مرحمت فرما کر اور صدہا دلائل عقلیہ قطعیہ پر علم بخش کر یہ ارادہ فرمایا ہے کہ تا تعلیمات حقہ قرآنی کو ہر قوم اور ہر ملک میں شائع اور رائج فرماوے اور اپنی حجت ان پر پوری کرے۔۔۔ اور ہریک مخالف اپنے مغلوب اور لا جواب ہونے کا آپ گواہ ہوجائے۔‘‘ (براہین احمدیہ ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 596,597 حاشیہ در حاشیہ)
اس بشارت کا اعلان حضرت اقدسؑ نے محض ہندوستان تک محدود نہ رکھا، بلکہ اپنے مکتوبات کے ذریعے ہندوستان سے باہر بھی اس پیغام کو پہنچایا۔ آپؑ نے اپنی استطاعت کے مطابق جہاں تک ممکن ہوا، مخالفینِ اسلام پر اتمامِ حجت قائم فرمائی۔
چنانچہ جب اسلام کی حقانیت اور صداقت کے زندہ و روشن نشانات کا چرچا اطرافِ عالم میں ہونے لگا اور ہر مخالف کو ان نشانات کے مشاہدے کی عام دعوت دی جا رہی تھی، اسی دوران 1885ء میں قادیان کے بعض ساہوکاروں اور دیگر ہندو زعماء کی جانب سے حضرت اقدسؑ کی خدمت میں ایک خط موصول ہوا، جس میں یہ مطالبہ پیش کیا گیا تھا کہ
’’جس حالت میں آپ نے لندن اور امریکہ تک اس مضمون کے رجسٹری شدہ خط بھیجے ہیں کہ جو طالب صادق ہو اور ایک سال تک ہمارے پاس آکر قادیان میں ٹھہرے تو خدائے تعالیٰ اس کو ایسے نشان دربارۂ اثبات حقیقت اسلام ضرور دکھائے گا کہ جو طاقت انسانی سے بالا تر ہوں۔ سو ہم لوگ جو آپ کے ہمسایہ اور ہمشہری ہیں، لندن اور امریکہ والوں سے زیادہ تر حق دار ہیں….. لیکن ہم لوگ ایسے نشانوں پر کفایت کرتے ہیں جن میں زمین و آسمان کے زیر و زبر کرنے کی حاجت نہیں اور نہ قوانین قدرتیہ کے توڑنے کی کچھ ضرورت ۔ ہاں ایسے نشان ضرور چاہئیں جو انسانی طاقتوں سے بالا تر ہوں جن سے یہ معلوم ہو سکے کہ وہ سچا اور پاک پرمیشر بوجہ آپ کی راست بازی دینی کے عین محبت اور کرپا کی راہ سے آپ کی دعاؤں کو قبول کر لیتا ہے اور قبولیت دعا سے قبل از وقوع اطلاع بخشتا ہے یا آپ کو اپنے بعض اسرار خاصہ پر مطلع کرتا ہے اور بطور پیشگوئی ان پوشیدہ بھیدوں کی خبر آپ کو دیتا ہے یا ایسے عجیب طور سے آپ کی مدد اور حمایت کرتا ہے جیسے وہ قدیم سے اپنے برگزیدوں اور مقربوں اور بھگتوں اور خاص بندوں سے کرتا آیا ہے….. اور سال جو نشانوں کے دکھانے کے لئے مقرر کیا گیا ہے وہ ابتدائے ستمبر 1885ء سے شمار کیا جاوے گا جس کا اختتام ستمبر1886ء کے اخیر تک ہو جائے گا۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 92-94)
اس خط کے آخر پر دس ہندو صاحبان کے نام درج ہیں۔ اس خط کے موصول ہونے پر حضرت اقدس علیہ السلام نے جواباًتحریر فرمایا:
’’….. صاحبان ارسال کنندگان درخواست مشاہدہ خوارق۔بعد ما وجب۔ آپ صاحبوں کا عنایت نامہ جس میں آپ نے آسمانی نشانوں کے دیکھنے کے لئے درخواست کی ہے، مجھ کو ملا۔ چونکہ یہ خط سراسر انصاف و حق جوئی پر مبنی ہے اور ایک جماعت طالب حق نے جو عشرہ کاملہ ہے اس کو لکھا ہے اس لئے بہ تمام تر شکر گذاری اس کے مضمون کو قبول منظور کرتا ہوں اور آپ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر آپ صاحبان ان عہود کے پابند رہیں گے کہ جو اپنے خط میں آپ لوگ کر چکے ہیں تو ضرور خدائے قادر مطلق جل شانہ کی تائید و نصرت سے ایک سال تک کوئی ایسا نشان آپ کو دکھلایا جائے گا جو انسانی طاقت سے بالاتر ہو۔ یہ عاجز آپ صاحبوں کے پُر انصاف خط کے پڑھنے سے بہت خوش ہوا۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 95)
جیسا کہ حضرت اقدسؑ کے اس اشتہار سے واضح ہوتا ہے، آپؑ اُن ہندو صاحبان کے اس خط پر مسرور تھے جس میں اسلام کی صداقت کے حق میں ایک نشان کے ظہور کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ چنانچہ حضور علیہ السلام نے اس مطالبے کو لے کر اُس واحد و لا شریک خدا کی طرف پوری توجہ اور کامل یقین کے ساتھ رجوع فرمایا، جس کی یقینی تائید و نصرت کے وعدوں سے باخبر ہو کر آپؑ نے اس عہد میں اسلام کی حقانیت کا اعلان کیا تھا۔
حضورؑ نے نہایت الحاح، تضرع اور عجز کے ساتھ اس نشان کے لیے دعائیں کیں۔ دعا میں کسی بھی قسم کے خلل سے محفوظ رہنے اور مزید یکسوئی اور انہماک پیدا کرنے کی غرض سے آپؑ نے خلوت اختیار کرنے کا ارادہ فرمایا۔ اسی مقصد کے تحت آپؑ اپنے گھر بار اور عزیز و اقارب سے الگ ہو کر باذن الٰہی ہوشیارپور تشریف لے گئے اور وہاں کامل تبتل، انقطاع اور اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہو کر دعاؤں میں مصروف رہے۔
خدائے رحیم و کریم نے آپؑ کی اس سوز و گداز، تڑپ اور اسلام کی صداقت کے لیے بے قرار اضطراب کو قبول فرمایا اور آپؑ کو تسلی بخشتے ہوئے دعاؤں کو شرفِ قبولیت عطا کیا، نیز ایک عظیم الشان نشان کی بشارت دی۔ اس بشارت کا اعلان کرتے ہوئے حضور علیہ السلام نے اپنے اشتہار مؤرخہ 20 فروری 1886ء میں فرمایا:
’’مَیں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اُسی کے موافق جو تُو نے مجھ سے مانگا۔ سو مَیں نے تیری تضرعات کو سُنا اور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے بہ پایۂ قبولیت جگہ دی اور تیرے سفر کو (جو ہوشیارپور اور لدھیانہ کا سفر ہے) تیرے لئے مبارک کردیا۔ سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے، فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح اور ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔ اے مظفر تجھ پر سلام! خدا نے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجے سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں اور تا دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اور تا حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آجائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور تا لوگ سمجھیں کہ مَیں قادر ہوں جو چاہتا ہوں سو کرتا ہوں اور تا وہ یقین لائیں کہ مَیں تیرے ساتھ ہوں اور تا انھیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا اور خدا کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفیٰ کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ایک کھلی نشانی ملے اور مجرموں کی راہ ظاہر ہو جائے۔
سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا، ایک زکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا، وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریّت و نسل ہوگا۔ خوبصورت پاک لڑکا تمھارا مہمان آتا ہے اس کا نام عمانوایل اور بشیر بھی ہے، اُس کو مقدس رُوح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے اور وہ نور اللہ ہے۔ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے، اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا، وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ وہ کلمۃ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت و غیوری نے اُسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔ وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علومِ ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا (اس کے معنے سمجھ میں نہیں آئے) دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ۔ فرزند دلبند گرامی ارجمند۔ مظہر الاول و الآخر، مظہر الحق و العلاء کَاَنّ اللّٰہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَآئ۔ جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔ نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔ وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔ وَ کَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 100-102)
اسی اشتہار میں حضور علیہ السلام نے اپنی نسل اور خاندان کے پھلنے اور پھولنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
’’پھر خدائے کریم جل شانہ نے مجھے بشارت دے کر کہا کہ تیرا گھر برکت سے بھرے گا اور میں اپنی نعمتیں تجھ پر پوری کروں گا اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس کے بعد پائے گا تیری نسل بہت ہوگی اور میں تیری ذریت کو بہت بڑھاؤں گا اور برکت دوں گا مگر بعض ان میں سے کم عمری میں فوت بھی ہوں گے اور تیری نسل کثرت سے ملکوں میں پھیل جائے گی اور ہر یک شاخ تیرے جدّی بھائیوں کی کاٹی جائے گی اور وہ جلد لا ولد رہ کر ختم ہوجائے گی ، اگر وہ توبہ نہ کریں گے تو خدا ان پر بلا پر بلا نازل کرے گا یہاں تک کہ وہ نابود ہو جائیں گے ، ان کے گھر بیواؤں سے بھر جائیں گے اور ان کی دیواروں پر غضب نازل ہوگا لیکن اگر وہ رجوع کریں گے تو خدا رحم کے ساتھ رجوع کرے گا۔ خدا تیری برکتیں ارد گرد پھیلائے گا اور ایک اجڑا ہوا گھر تجھ سے آباد کرے گا اور ایک ڈراؤنا گھر برکتوں سے بھر دے گا۔ تیری ذریت منقطع نہیں ہوگی اور آخری دنوں تک سر سبز رہے گی خدا تیرے نام کو اس روز تک جو دنیا منقطع ہوجائے عزت کے ساتھ قائم رکھے گا اور تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دے گا۔ میں تجھے اٹھاؤں گا اور اپنی طرف بلالوں گا پر تیرا نام صفحہ زمین سے کبھی نہیں اٹھے گا اور ایسا ہوگا کہ سب وہ لوگ جو تیری ذلت کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور تیرے ناکام رہنے کے درپے اور تیرے نابود کرنے کے خیال میں ہیں وہ خود ناکام رہیں گے اور ناکامی و نامرادی میں مریں گے لیکن خدا تجھے بکلی کامیاب کرے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔ مَیں تیرے خالص اور دلی محبوں کا گروہ بھی بڑھاؤں گا اور ان کے نفوس و اموال میں برکت دوں گا اور ان میں کثرت بخشوں گا اور وہ مسلمانوں کے اس دوسرے گروہ پر تا بروز قیامت غالب رہیں گے جو حاسدوں اور معاندوں کا گروہ ہے خدا انھیں نہیں بھولے گا اور فراموش نہیں کرے گا اور وہ علیٰ حسب الاخلاص اپنا اپنا اجر پائیں گے۔ تو مجھے ایسا ہے جیسے انبیاء بنی اسرائیل (یعنی ظلی طور پر ان سے مشابہت رکھتا ہے) تو مجھے ایسا ہے جیسی میری توحید۔ تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں اور وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا بادشاہوں اور امیروں کے دلوں میں تیری محبت ڈالے گا یہاں تک کہ وہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ اے منکرو اور حق کے مخالفو! اگر تم میرے بندہ کی نسبت شک میں ہو، اگر تمہیں اس فضل و احسان سے کچھ انکار ہے جو ہم نے اپنے بندہ پر کیا تو اس نشان رحمت کی مانند تم بھی اپنی نسبت کوئی سچا نشان پیش کرو اگر تم سچے ہو۔ اور اگر تم پیش نہ کر سکو اور یاد رکھو کہ ہرگز پیش نہ کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو کہ جو نافرمانوں اور جھوٹوں اور حد سے بڑھنے والوں کے لئے تیار ہے۔ فقط‘‘
اس اشتہار کے اگلے ہی ماہ حضور علیہ السلام نے ایک اور اشتہار 22مارچ 1886ء میں اس پیشگوئی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے ایک اور وعدہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
’’…ایسا لڑکا بموجب وعدہ الٰہی9 برس کے عرصہ تک ضرور پیدا ہوگا خواہ جلد ہو خواہ دیر سے، بہرحال اس عرصہ کے اندر پیدا ہو جائے گا۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 113)
چنانچہ بموجب وعدہ الٰہی وہ موعود بیٹا پیشگوئی کے ٹھیک تین سال بعد 12؍جنوری 1889ءکو پیدا ہوا اور اس طرح حضرت مسیح موعود ؑ کی یہ عظیم الشان پیشگوئی پوری شان کے ساتھ پوری ہوئی ۔