اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-02-12

مقام مصلح موعودسابقہ پیشگوئیوں کی روشنی میں ازمکرم عنایت اللہ صاحب منڈاشی ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد تعلیم القرآن و وقف عارضی قادیان

اللہ تعالی کی یہ سنت ہے کہ وہ آ ئندہ زمانہ میں مبعوث کیے جانے والے نبیوں ،رسولوں اور ان کے جانشینوں کے متعلق پہلےسے پیشگوئیوں کے ذریعہ اطلاع دے دیتا ہے۔ان کی صفات ان کی نشانیاں اور ان کے حالات بتا کر پہلے سے ہی ان کی عظمت کا اظہار فرما دیتا ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺجنہیں اللہ تعالیٰ نے خاتم النبین اور رحمۃ للعالمین بنا کر مبعوث فرمایا تھا اور جن کے متعلق حدیث قدسی ہےلَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الأَفْلَاكَانہیں بھی آپ کی غلامی میں مبعوث کئے جانے والے امام مہدی کی اطلاع دی گئی تھی۔چنانچہ قرآن مجید میں اس عظیم الشان پیشگوئی کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔
ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیۡہِمۡ وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ ٭وَاِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ۙ وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ ؕ وَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ (سورۃ الجمعہ 3-2)
وہی ہے جس نے امی لوگوں میں انہی میں سے ایک عظیم رسول مبعوث کیا وہ ان پر اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب کی اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے جبکہ اس سے پہلے وہ یقینا کھلی کھلی گمراہی میں تھے اور انہی میں سے دوسروں کی طرف بھی (اسے مبعوث کیا ہے )جو ابھی ان سے نہیں ملے وہ کامل غلبہ والا اور صاحب حکمت ہے۔
سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آیت مذکورہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:۔
’’ اس آیت کا ما حصل یہ ہے کہ خدا وہ خدا ہے جس نے ایسے وقت میں رسول بھیجا کہ لوگ علم اور حکمت سے بے بہرہ ہو چکے تھے اور علوم حکمیہ دینیہ جن سے تکمیل نفس ہو اور نفوس انسانیہ علمی اور عملی کمال کو پہنچیں بالکل گم ہو گئی تھیں اور لوگ گمراہی میں مبتلا تھے تب ایسے وقت میں خدا تعالی نے اپنا رسول امی بھیجا اور اس رسول نے ان کے نفسوں کو پاک کیا اور علم الکتاب اور حکمت سے ان کو مملو کیا ۔۔۔۔اور پھر فرمایا کہ ایک گروہ اور ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا وہ بھی اول تاریکی اور گمراہی میں ہوں گے اور علم و حکمت اور یقین سے دور ہوں گے تب خدا ان کو بھی صحابہ کے رنگ میں لائے گا یعنی جو کچھ صحابہ نے دیکھا وہ ان کو بھی دکھایا جائے گا یہاں تک کہ ان کا صدق اور یقین بھی صحابہ کے صدق اور یقین کی مانند ہو جائے گا۔ فرمایا اور حدیث صحیح میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ایت کی تفسیر کے وقت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا ’’لو کان الایمان معلقاً بالثریالنا لہ رجل من فارس‘‘ یعنی اگر ایمان ثریا پر یعنی آسمان پر بھی اٹھ گیا ہوگا تب بھی ایک آدمی فارسی الاصل اس کو واپس لائے گا یہ اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ ایک شخص آخری زمانہ میں فارسی الاصل پیدا ہوگا اس زمانہ میں جس کی نسبت لکھا گیا ہے کہ قرآن آسمان پر اٹھایا جائے گا یہی وہ زمانہ ہے جو مسیح موعود کا زمانہ ہے اور یہ فارسی الاصل وہی ہے جس کا نام مسیح موعود ہے
(ایام الصلح روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 305و 306)
کتاب حقیقت الوحی میں فرمایا:۔وآخرین منھم لما یلحقو بھم یعنی امت محمدیہ میں سے ایک اور فرقہ بھی ہے جو بعد میں آخری زمانہ میں آنے والے ہیں اور حدیث صحیح میں ہے کہ اس ایت کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کی پشت پر مارا اور فرمایا:۔
’’لو کان الایمان معلقاً بالثریالنا لہ رجل من فارس‘‘
اور یہ میری نسبت پیشگوئی تھی جیسا کہ خدا تعالی نے براہین احمدیہ میں اس پیش گوئی کی تصدیق کے لیے وہی حدیث بطور وحی میرے پر نازل کی اور وحی کی رو سے مجھ سے پہلے اس کا کوئی مصداق معیّن نہ تھا اور خدا کی وحی نے مجھے معین کر دیافالحمدللہ( حقیقت الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 407 حاشیہ) مسلم شریف کی کتاب فضائل الصحابہ کے باب رجل فارس میں درج حدیث مذکور میں لفظ رجل کی جگہ رجال بیان ہوا ہے جو اس طرف اشارہ ہے کہ سورہ جمعہ کی آیت وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ میں امت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں مبعوث ہونے والے جس عظیم وجود یعنی امام مہدی مسیح موعود علیہ السلام کی خبر دی گئی ہے ان کے بعد ان کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے ان کی جماعت اور نسل میں سے اور بھی عظیم وجود اللہ تعالی پیدا فرمائے گا جن کے ذریعے اللہ تعالی اپنے قائم کردہ سلسلہ کو تمام عالم میں پھیلا کر اسے غلبہ عطا فرمائے گا چنانچہ حدیث کی کتاب مشکوۃ میں درج حدیث جس کے راوی حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ینزل عیسیٰ بن مریم الی الارض یتزو ج ویولد لہ(مشکوٰۃ مجتبائی صفحہ 480 باب نزول عیسی علیہ السلام )حضرت عیسی علیہ السلام دنیا میں تشریف لائیں گے اور شادی کریں گے اور ان کو اولاد دی جائے گی حدیث مذکور کی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :قد اخبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان المسیح الموعودیتزو ج ویولد لہ ففی ہذا اشارۃ الی ان اللہ یعطیہ ولدا صالحا یشابہ اباہ ولا یا باہ ویکون من عباداللہ المکرمین(آئینہ کمالات اسلام صفحہ528 ) ترجمہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی سے خبر پا کر فرمایا کہ مسیح موعود شادی کریں گے اور ان کے ہاں اولاد ہوگی اس میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی انہیں ایسا نیک بیٹا عطا کرے گا جو نیکی کے لحاظ سے اپنے باپ کے مشابہ ہوگا نہ کہ مخالف اور وہ اللہ تعالی کے معزز بندوں میں سے ہوگا ۔ایک اور مقام پر کتاب مشکوٰۃ میں مذکور حدیث پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریرفرماتے ہیں:۔’’ یہ پیش گوئی کہ مسیح موعود کی اولاد ہوگی یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا اس کی نسل سے ایک شخص کو پیدا کرے گا جو اس کا جانشین ہوگا اور دین اسلام کی حمایت کرے گا جیسا کہ میری بعض پیشگوئیوں میں خبرآچکی ہے۔( حقیقت الوحی صفحہ 312 )مسیح موعودعلیہ السلام کی آمد اور ان کی نسل سے ہونے والے موعود خلیفہ کے متعلق حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کی تائید میں قدیم روحانی صحیفوں میں بھی پیش گوئیاں ملتی ہیں چنانچہ یہود کی شریعت کی بنیادی کتاب طالمود میں لکھا ہے کہ ’’یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ (یعنی مسیح )وفات پا جائے گا اور اس کی سلطنت اس کے بیٹے اور پوتے کو ملے گی اس رائے کے ثبوت میں یسعیاہ باب 42 آیت4 کو پیش کیا جاتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ ماند نہ ہوگا اور ہمت نہ ہارے گا جب تک کہ عدالت کو زمین پر قائم نہ کرے۔( طالمود مرتبہ جوزف برکلے باب پنجم مطبوعہ لندن 1878 )
زرتشتی مذہب کے صحیفہ دساتیر میں دین زرتشت کے مجدد ساسان اول کی تحریر کردہ پیش گوئی جو پہلوی زبان میں ہے جسے زرتشتی اصحاب نے فارسی میں ڈھالا ہے اس میں تحریر ہے( ترجمہ اردو )پھر شریعت عربی پر ہزار سال گزر جائیں گے تو تفرقوں سے دین ایسا ہو جائے گا کہ اگر خود شارع صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا جائے تو وہ بھی اسے پہچان نہ سکے گا۔۔۔ اور ان کے اندر انشقاق اور اختلاف پیدا ہو جائے گا اور روز بروز اختلاف اور باہمی دشمنی میں بڑھتے چلے جائیں گے۔۔۔ جب ایسا ہوگا تو تمہیں خوشخبری ہو کہ اگر زمانہ میں ایک دن بھی باقی رہ جائے تو تیرے لوگوں سے( فارسی الاصل) ایک شخص کو کھڑا کروں گا جو تیری گم شدہ عزت و آبرو واپس لائے گا اور اسے دوبارہ قائم کرے گا ۔میں پیغمبری و پیشوائی (نبوت و خلافت )تیری نسل سے نہیں اٹھاؤں گا مندرجہ پیش گوئی کے آخری فقرہ کہ پیغمبری و پیشوائی (نبوت و خلافت) تیری نسل سے نہیں اٹھاؤں گا میں یہ اشارہ ہے کہ آخری زمانہ کاموعود جب آئےگا تو اس کی اولاد میں سے کوئی اس کا جانشین ہوگا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں دوسرا طریق انزال رحمت کا ارسال مرسلین و نبیّن و آئمہ واولیاء و خلفا ءہے تا ان کی اقتداء ہدایت سے لوگ راہ راست پرآ جائیں اور ان کے نمونہ پر اپنے تئیں بنا کر نجات پا جائیں سو خدا تعالی نے چاہا کہ اس عاجز کی اولاد کے ذریعہ سے یہ دونوں شق ظہور میں آجائیں(سبز اشتہار روحانی خزائن جلد2 صفحہ 453 حاشیہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں حضرت شاہ نعمت اللہ صاحب صاحب الہام و کشوف ولی گزرے ہیں جنہوں نے مسیح کی آمد ثانی اور ان کے ہاں عظیم بیٹے بارے پیش گوئی فرمائی ہے یہ پیش گوئی فارسی منظوم کلام میں ہے مسیح موعود علیہ السلام کے ظہور سے قبل کے انقلابات کا نقشہ کھینچ کر مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ اور نام کی تعیّین کرتے ہوئے ایک عظیم یادگار بیٹے کی خوشخبری درج ذیل الفاظ میں دی ہے:
’’ا ح م و دال مے خوانم
نام آں نامدار مے بینم
دور او چوں شود تمام بکام
پسرش یاد گا رمے بینم‘‘
ترجمہ :۔جب اس کا زمانہ کامیابی کے ساتھ گزر جائے گا تو اس کے نمود پر اس کا بیٹا یادگار رہ جائے گا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی تصنیف نشان آسمانی میں پیش گوئی مذکور کے آخری شعر کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں یعنی مقدر یوں ہے کہ خدا تعالی اس کو ایک لڑکا پارسا دے گا جو اس کے نمونہ پر ہوگا اور اس کے رنگ میں رنگین ہو جائے گا اور وہ اس کے بعد اس کا یادگار ہوگا یہ درحقیقت اس عاجز کی اس پیشگوئی کے مطابق ہے جو ایک لڑکے کےبارے میں کی گئی ہے۔(نشان آسمانی روحانی خزائن جلد 4 صفحہ373)
جماعت احمدیہ مسلمہ اس بات پر یقین کامل رکھتی ہے اور جماعت احمدیہ کی 136 سالہ تاریخ اُس کے روز وشب اور ہر لمحہ اِس بات کا گواہ ہے کہ زمانہ حاضرہ کے تعلق سے قدیم کتب مقدسہ میں پائی جانے والی پیشگوئیاں جن کے مطابق سید الانبیاء خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آپ کے جس بروز کامل ،روحانی فرزند نے ظاہر ہونا تھا اُس کے مصداق بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعودومہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات بابرکات ہے۔
خدا تعالیٰ نے قدیم کتب مقدسہ کی پیش گوئیوں کے مطابق آپ کی صداقت کے ثبوت کے طور پر جہاں اور بہت سارے ہزاروں بلکہ لاکھوں نشانات اور معجزات آپکوعطا فرمائے وہاں ایک خاص مقام اور اہمیت کا حامل نشان نیک صالح آپ کی جانشین ہونے والی اولاد عطا کیے جانے کا عظیم الشان نشان بھی ہے ۔ سیدنا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کو اولاد کےتعلق سے جو بشارات دی گئیں ان میں پیشگوئی مصلح موعود کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ چنانچہ پیشگوئی مصلح موعود سے متعلق جب پنڈت لیکھرام اور کچھ عیسائی پادریوں اور بعض مسلمان کہلانے والوں نے دریدہ دہنی کی تو اسے سن کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک اشتہار شائع فرمایا اُس میں پیشگوئی کی عظمت بارے فرمایا :۔’’انکھیں کھول کر دیکھ لینا چاہیے کہ یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں بلکہ ایک عظیم الشان نشانِــ آسمانی ہے جس کو خدائے کریم جل شانہ نے پیارے نبی کریم رئووف ورحیم محمد مصطفی ﷺ کی صداقت و عظمت ظاہر کرنے کے لیے ظاہر فرمایا ہے‘‘۔
پیشگوئی مصلح موعود اس لحاظ سے بھی ایک عظیم المرتبت پیشگوئی ہے کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد المصلح الموعود رضی اللہ عنہ پر اللہ تعالی نے جنوری 1944 میں قیام لاہور کے دوران ایک عظیم الشان رویا ءکے ذریعہ انکشاف فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے 20 فروری 1886 کو جس موعودبیٹے کی پیدائش کا اعلان ہوشیار پور کی سرزمین سے فرمایا تھا اور جس کے متعلق یہ بتایا تھا کہ وہ مسیحی نفس ہوگا ۔جلد جلد بڑھے گا۔ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا اور وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔ اور قومیں اس سے برکت پائیں گی وغیرہ وغیرہ اس پیشگوئی کے مصداق آپ ہی ہیں ۔
چنانچہ خدائے ذوالعرش کی طرف سے اس انکشاف کے بعدحضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے 28 جنوری 1944 کے روز مسجد اقصی قادیان میں یہ پر شوکت اعلان فرمایا کہ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں آپ نے بتایا کہ رئویاء جو دکھائی گئی اس کے دوران میری زبان پر جو فقرہ جاری ہوا وہ یہ ہے :۔
و اناالمسیح الموعود و مثیلہ و خلیفہ
اور میں بھی مسیح موعود ہوں یعنی اس کا مثیل اور اس کا خلیفہ ہوں ۔
(ماخوذاز تاریخ احمدیت جلد8 صفحہ 512 تا 519 ماہنامہ احمدیہ گزٹ کنیڈافروری 2015ء )
سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے متعلق فرماتے ہیں میں خلیفہ نہیں بلکہ موعود خلیفہ ہوں میںمامور نہیں مگر میری آواز خدا تعالیٰ کی آواز ہے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اس کی خبر دی تھی۔ گویا اس خلافت کامقام ماموریت اور خلافت کے درمیان کا مقام ہے اور یہ موقع ایسا نہیں کہ جماعت احمدیہ اسے رائیگاں جانے دے اور پھر خدا تعالی ٰکے حضور سر خروہو جائے۔جس طرح یہ بات درست ہے کہ نبی روز روز نہیں آتے اسی طرح یہ بھی درست ہے کہ موعود خلیفے روز روز نہیں آتے۔ (رپورٹ مجلس مشاروت 1936)
اے فضل عمر تیرے اوصاف کریمانہ
یاد آکے بناتے ہیں ہر روح کو دیوانہ