اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-02-12

کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ از اسد فرحان انچارج دفترایڈیشنل نظارت علیا جنوبی ہند

قارئین کرام ! چودھویں صدی ہجری میں علومِ قرآنی کے انکشافات کا ایک انقلابی دو ر شروع ہوا جبکہ ایک طرف کتاب اللہ پر ہزارہا اَنواع و اقسام کے عقلی اور فلسفیانہ حملے انتہاء کو پہنچ گئے اور دوسری طرف وعدئہ خدا وندی کے مطابق حضرت مراز غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدئ معہود علیہ السلام بانئ سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ سے قرآن شریف کے بطن میں پوشیدہ ان بیشمار دقائق و حقائق کا پورے زور سے ظہور ہوا ۔
سیدنا حضرت اقدس علیہ السلام بانئ جماعت احمدیہ کو قرآن عظیم سے ایک والہانہ عشق تھا جس کی نظیر زمانۂ نبویؐ کےبعد گزشتہ تیرہ صدیوں میں کہیں دکھائی نہیں دیتی ہے۔ اسی طرح آپ نے جس شان کے ساتھ کتاب اللہ کی عظمت اور جلال اور مرتبے کا سِکّہ مذاہب عالم پر بٹھایا اور منکرین اسلام پر حجت اسلام پوری کی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ حضرت اقدس ؑ کے قلبِ صافی میں عشقِ قرآن اور انوارِ قرآنی سمندر کی طرح موجزن تھے اور آپ ؑ کی سب سے بڑی دلی تمنا یہ تھی کہ قرآن شریف کا خوبصورت اور خدا نما چہرہ مشرقی اور مغربی دُنیا پر پوری طرح آشکار ہو جائے۔ لہٰذا خدائے رحیم و کریم بزرگ و برتر نے اس عدیم المثال عاشق فرقان کی دُعائوں کو سُنا اور اپنی رحمت سے بپایہ قبولیّت جگہ دی اور اپنے پُر شوکت الہام سے مخاطب کرتےہوئے یہ بشارت دی کہ وہ آپؑ کو ایسا جلیل القدر فرزند عطا ء کرےگا جس سے کلام اللہ کے مرتبہ کا ظہور ہوگا ۔ چنانچہ فرمایا
’’اے مظفر تجھ پر سلام خدانے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجہ سے نجات پاویں اور تادین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو۔ ‘‘
آپؓکی دینی انسیّت اور کلام پاک سے گہری وابستگی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی محسوس کر لی تھی۔ حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب سرساویؓ کا بیان ہے کہ ’’ہم نے بارہا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے۔ ایک دفعہ نہیں بلکہ بار بار سنا ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ وہ لڑکا جس کا پیشگوئی میں ذکر ہے وہ میاں محمود ہی ہیں۔ اور ہم نے آپؑ سے یہ بھی سنا کہ آپؑ فرمایا کرتے تھے کہ ’’میاں محمود میں اس قدر دینی جوش پایا جاتا ہے کہ مَیں بعض اوقات ان کے لئے خاص طور پر دعا کرتا ہوں۔ ‘‘
(الحکم ۲۸؍دسمبر۱۹۳۹ء۔ماہنامہ خالد سیدنا حضرت مصلح موعودؓنمبر۔جون،جولائی۲۰۰۸ء صفحہ ۳۸بحوالہ خطبۂ جمعہ ۲۳؍فروری۲۰۱۸ء)
حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد المصلح موعود ؓ نےنصف صدی پر محیط اپنے عہدِ خلافت میں قرآنی مباحث سے متعلق شاندار اسلامی لٹریچر پیدا کیا ۔ ہزاروں بصیرت افروز تقاریر فرمائیں اور خطبات ارشاد فرمائےجن کا مرکزی نقطہ قرآن مجید ہی تھا۔ معرفت کا یہ لازوال اور بیش بہا خزانہ سلسلہ کے اخبارات میں بہت حد تک محفوظ ہے اور کتابی صورت میں بھی منظر عام پر آچکا ہے۔ علاوہ ازیں حضرت مصلح موعود ؓ کے قلم مبارک سے قرآن مجید کی بہت سی معرکئہ آراء اور ایمان افروز تفاسیر شائع ہوئیں ۔ مثلاً پہلے پارہ کی نادر تفسیر ، حقائق القرآن ، درس القرآن ، معارف القرآن ، تفسیر کبیر اور تفسیر صغیر ۔ ان میں سے ہر تفسیر مستقل امتیازی شان اور کئی خصوصیات رکھتی ہے۔ خصوصاً تفسیر کبیر اور تفسیر صغیر جنہیں علم تفسیر کا شاہکار کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ سیدنا حضرت مصلح موعود ؓ کی ذات بابرکات سے کلام اللہ کے مرتبے کا اظہار کس شان سے ہوا اس کے لئے تو ایک دفتر درکار ہے۔ لیکن اس کی چند مثالیں ہدیہ قارئین کی جاتی ہیں۔
علوم قرآن آپؓکو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکھائےگئے
حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں کہ
’’ میں نے کوئی امتحان پاس نہیں کیا ۔ ہر دفعہ فیل ہی ہوتا رہا ہوں ۔ مگر اب میں خدا کے فضل سے کہتا ہوں کہ کسی علوم کا مدعی آجائے اور ایسے علم کا مدعی آجائے جس کا میں نے نام بھی نہ سُنا ہو اور اپنی باتیں میرے سامنے مقابلہ کے طور پر پیش کرے اور میں اسے لا جواب نہ کردوں تو جو اس کا جی چاہےکہے۔ ضرورت کے وقت ہر علم خدا مجھے سکھاتا ہے اور کوئی شخص نہیں جو مقابلہ میں ٹھہر سکے۔ ‘‘
(ملائکۃ اللہ صفحہ ۵۳-۵۴ )
آپؓفرماتے ہیں ۔
’’ میں ابھی چھوٹا سا تھا میری عمر پندرہ سولہ سال کی ہوگی کہ میں نے رؤیا میں دیکھا جیسے کوئی کٹورہ ہوتا ہے اور اس کے اوپر کوئی چیز آکر گرے تو اس میں سے ٹن کی آواز نکلتی ہے اسی طرح اس میں سے ٹن کی آواز آئی تو پھر وہ آواز پھیلنی شروع ہوئی ۔ پھر مجسم ہوئی ۔ پھر وہ ایک فریم بن گئی اس میں سے ایک تصویر بنی پھر وہ تصویر متحرک ہوگئی اور اس میں سے ایک وجود نکل کر میرے سامنے آیا اور اس نے کہا میں خداتعالیٰ کا فرشتہ ہوں اور میں آپ کو سورئہ فاتحہ کی تفسیر سکھانے کے لئے آیا ہوں ۔ میں نے کہا سکھائو ۔ اُس نے سورئہ فاتحہ کی تفسیر مجھے سکھانی شروع کی ۔ جب وہ ایا ک نعبدو ایاک نستعین پر پہنچا تو کہنے لگا آج تک جتنی تفسیریں لکھی گئی ہیں وہ اس آیت سے آگے نہیں بڑھیں۔ کیا میں آپ کو آگے بھی سکھائوں ؟ میں نے کہا ہاں! چنانچہ اس نے مجھے اگلی آیات کی بھی تفسیر سکھادی۔ میری عمر اُس وقت پندرہ سال کی تھی اور اب اس رؤیا پر چوالیس ۴۴سال گزر گئے ہیں۔ اس عرصئہ دراز میں جو علوم خداتعالیٰ نے مجھے سورئہ فاتحہ سے سکھائے ہیں اُن کے ذریعہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر مذہب کا ردّ اس سورت سے کرسکتا ہوں اور پھر میرا دعویٰ ہے کہ سورئہ فاتحہ میںدُنیا کی تمام اقتصادی تھیوریوں کا جواب موجود ہے خواہ بالشو ازم ہو یا کپیٹل از م ہو یا کوئی اور ہو۔ ‘‘ (تفسیر کبیر جلد ۶صفحہ ۴۷۶)
اللہ کا کلام صرف قرآن ہے
حضرت مصلح موعود ؓ نے ایک ایسا نظریہ پیش کیا جس سے کلام اللہ کا مرتبہ ظہور پذیر ہوا اور قرآن کریم کے علاوہ دیگر مذاہب کی کتب کلام اللہ کے مرتبہ پر ٹھہر نہ سکیں ۔ اس بارہ میں حضور ؓ فرماتےہیں:
’’ قرآن کریم ایک ہی کتاب ہے جو کلام اللہ کہلا سکتی ہے دوسری کتب خواہ الہامی بھی ہوں کلام اللہ نہیں کیوںکہ ان میں انسانی کلام بھی شامل ہے ۔ خالص کلام اللہ ’الف‘ سے لے کر ’ی‘ تک ’بسم اللہ ‘ سے لے کر ’ والناس ‘ تک صرف قرآن کریم ہے ۔ یہ کتاب اُس وقت سے کہ نازل ہوئی ہمارے زمانہ تک جوں کی توں ہے نہ ایک لفظ کم نہ ایک لفظ زیادہ ، نہ کوئی حکم ناقابل عمل نہ کوئی آیت منسوخ ۔ ہر ایک حرکت و وقف بعینہٖ پس اس کے سوا اور کوئی کتاب نہیں جسے اس تعیین کے ساتھ اپنے لئے مشعل راہ بنایا جاسکےکہ اس سے کوئی مشتبہ حکم نہ ملے گا۔ ‘‘
(تفسیر کبیر جلد اوّل (دیباچہ ) جز اوّل )
پھر حضور ا س نظریہ پر روشنی ڈالتے ہوئےمزید فرماتے ہیںکہ :
’’ قرآن کریم میں کلام اللہ کا لفظ تین جگہ آیا ہے اور تینوں جگہ قرآن کریم کےمتعلق ہی استعمال ہوا ہے کسی اور کتاب کے متعلق نہیں ۔ اس لئے عقلاً یہی کہا جائےگا کہ قرآن ہی کلام اللہ ہے اور ہمار اکوئی حق نہیں کہ ہم بلا دلیل یہ خیال کریں کہ قرآن کے سوا کوئی اور آسمانی کتاب بھی کلام اللہ کے نام کی مستحق ہے ۔ کتاب اللہ اور کلام اللہ میں فرق ہے۔ کتاب اللہ ہر اس کتاب کو جس میں خدا کی باتیں ہوں کہا جاسکتا ہے لیکن کلام اللہ ہر ایک کو نہیں کہا جاسکتا ۔ دوسری الہامی کتابوں کو کتاب اللہ کہا گیا ہے اور کتاب اللہ کا لفظ قرآن کے متعلق بھی موجود ہے۔ مگر دوسرا لفظ کلام اللہ صرف قرآن کےلئے استعمال کیاگیا ہے کسی اور کے لئے نہیں ۔ یہ فرق ہے اور بغیر حکمت کے نہیں ۔
(فضائل القرآن از حضرت مصلح موعود ؓ صفحہ ۲۱۱)
ترتیب قرآنی کا نظام
جہاں ترتیب قرآنی کے معجزانہ نظام کو قرآن کے منکرین اور مستشرقین اور کم فہم علماء سمجھنے سے قاصر رہے وہاں حضرت مصلح موعود ؓ نے اپنے خداداد علم کے ذریعہ ترتیب قرآنی کے نظام کو اس طرح سمجھایا جس سے آیتوں اور سورتوں کے تسلسل اور ربط کا حیرت انگیز نظام قرآنی سامنے آیا۔
آپ ؓ فرماتے ہیں:
’’ میرا ترجمہ اور میری تفسیر ہمیشہ ترتیب آیات اور ترتیب سُوَ ر کے ماتحت ہوتی ہے اور یہ لازمی بات ہےکہ جو شخص اس نکتہ کومدنظر رکھے گا وہ فوراً یہ نتیجہ نکال لےگا کہ اس ترتیب کے ماتحت فلاں فلاں آیا ت کے کیا معنی ہیں۔ ‘‘
’’ اس طرح میری تفسیر کے نوٹوں سے انسان سارے قرآن کی تفسیر سمجھ سکتا ہے۔‘‘
(الفضل۱۱؍جولائی ۱۹۶۲)
قرآن پر ہونےوالے اعتراضات کے جوابات
قرآن کریم نے اپنا ایک مرتبہ فرقان بھی بتایا ہے یعنی وہ حق و باطل میں خود امتیاز پیدا کردیتا ہے ۔ اس کا علم حضرت مصلح موعود ؓ کو کمال درجہ کا عطا کیاگیا ۔ چنانچہ مستشرقین کا مسکت جواب اور قرآنی تاریخ کی حقانیت کا ثبوت حضرت مصلح موعود ؓ کی تفسیر میں جا بجا نظر آئے گا بلکہ یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ حضور کی بیان فرمودہ تفسیر عہدِ حاضر کی وہ منفرد اور واحد تفسیر ہے جس میں مستشرقین کے قرآن مجید پر کئے ہوئے اعتراضات کے مسکت اور مدلل جواب دیئے گئے ہیں بلکہ اسلام کےبارہ میں اُن کی جہالت اور عربی زبان کی باریک خوبیوں کے علم سےمحرومی بھی بے نقاب کی گئی ہے اور آفتاب نصف النہار کی طرح ثابت کردیاگیا ہے کہ قرآن مجید کی بیان فرمودہ تاریخ ہی مستند ہے اور اس کے مقابلہ پر بائبل پر اعتماد کرنا کسی طرح درست نہیں ۔
آپؓفرماتے ہیں:
’’ آثارِ قدیمہ کی جن لوگوں کےہاتھوں میں خدا نے کنجیاں دی تھیں انہوں نے اِ ن آثار قدیمہ کو خراب کردیا، تباہ کردیا اور اس قدر ان کی حالت کو مشتبہ کردیا کہ ان پر کوئی شخص اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں ہوسکتا تھا ۔ تب اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ قرآن کریم کو نازل کیا ۔ یہ آپ ؐ کے دل کا خون ہی تھا جو آسمان سے قرآن کو کھینچ لایا ۔ اس قرآن کے آثارِ قدیمہ کے مختلف کمروں میں آدم ؑ اور نوحؑ اور ابراہیم ؑ اور موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ اور دیگر تمام انبیاء کی چیزیں ایک قرینہ میں پڑی ہوئی ہیں ۔ مَیل و کچیل سے مبرّٰا ، داغوں اور دھبوں سے صاف، چھینٹوں اور غلاظت سے پاک ، ہر چیز اصلی اور حقیقی رنگ میںہمارے پاس ہے ۔ پرانے سے پرانے آثار اس میں پائے جاتےہیں اور صحیح سے صحیح سے حالات اس میں موجود ہیں۔ ۔۔‘‘
(سیر روحانی جلد سوم صفحہ ۱۱۵،۱۱۶)
پس اسلام کے اس فتح نصیب جرنیل اور حضرت مسیح موعودؑ کے فرزند ارجمند نے کیا معاندین اسلام اور کیا مستشرقین سب کے قرآن کریم پر کیے گئے اعتراضات کے ایسے جامد و ساکت جواب دیے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی اگر دیانت داری کے ساتھ آپ کے جوابات کو پڑھے تو ان کے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ ہی نہیں کہ قرآن ہی ایک کامل و مکمل کتاب ہے۔
آپؓفرماتے ہیں:
’’قرآن کریم کو وہ عظمت حاصل ہے جو دنیا کی کسی اور کتاب کو حاصل نہیں۔ اور اگر کسی کا یہ دعویٰ ہو کہ اس کی مذہبی کتاب بھی اس فضیلت کی حامل ہے تو میں چیلنج دیتا ہوں کہ وہ میرے سامنے آئے۔ اگر کوئی وید کا پیرو ہے تو وہ میرے سامنے آئے، اگر کوئی توریت کا پیرو ہے وہ میرے سامنے آئے، اگر کوئی انجیل کا پیرو ہے تو وہ میرے سامنے آئے اور قرآن کریم کا کوئی استعارہ میرے سامنے رکھ دے جس کو میں بھی استعارہ سمجھوں۔ پھر میں اس کا حل قرآن کریم سے ہی پیش نہ کر دوں تو وہ بیشک مجھے اس دعویٰ میں جھوٹا سمجھے۔ لیکن اگر پیش کر دوں تو اسے ماننا پڑے گا کہ واقعہ میں قرآن کریم کے سوا دنیا کی اور کوئی کتاب اس خصوصیت کی حامل نہیں۔‘‘
(فضائل القرآن بحوالہ الفضل ۲۹؍مئی ۱۹۹۰ء۔ الفضل انٹرنیشنل۲۲؍فروری۲۰۲۱ء)
آپؓکے ۵۲ سالہ دَور خلافت میں برصغیر پاک و ہند کےعلاوہ دوسرے ممالک میں بھی قرآن کریم کے ترجمے کر کے مبلّغین کے ذریعے پہنچائے گئے۔اردو اور انگریزی کے علاوہ ۱۵ زبانوں میں تراجم قرآن پر کام شروع ہوا۔اپنے شعور سے لے کر زندگی کےآخری سانس تک خدمت قرآن کرنے والے اس پسر موعودرضی اللہ عنہ کی خدمت قرآن سے، کیا محقق کیا ادیب، تاریخ دان و سائنس دان سے لےکر ریاضی دان و سیاستدان کے ساتھ ساتھ ہر باشعور شخص نےبھی خوب استفادہ کیا۔اسی طرح ہر مشورہ کرنے والے کو قرآن کریم کی روشنی میں مفید مشوروں سے نوازا۔
حضرت مصلح موعود ؓ فرماتےہیں:
’’خدا نے مجھے علم قرآن بخشا ہے۔…خدا نے مجھے اس غرض کے لئے کھڑا کیا ہے کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں اور اسلام کے مقابلہ میں دنیا کے تمام باطل اَدیان کو ہمیشہ کی شکست دے دوں۔ دنیا زور لگا لے، وہ اپنی تمام طاقتوں اور جمعیتوں کو اکٹھا کر لے۔ عیسائی بادشاہ بھی اور ان کی حکومتیں بھی مل جائیں، یورپ بھی اور امریکہ بھی اکٹھا ہو جائے، دنیا کی تمام بڑی بڑی مالدار اور طاقتور قومیں اکٹھی ہو جائیں اور وہ مجھے اس مقصد میں ناکام کرنے کے لئے متحد ہو جا ئیں پھر بھی میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ میرے مقابلہ میں ناکام رہیں گی اور خدا میری دعاؤں اور تدابیر کے سامنے اُن کے تمام منصوبوں اور مکروں اور فریبوں کو ملیا میٹ کر دے گا۔ ‘‘ (الموعود، انوارالعلوم جلد ۱۷صفحہ ۶۱۴)
قارئین کرام ! حضرت مصلح موعود ؓ کے ذریعہ بار بار قرآن کریم کا جو یہ عظیم الشان مرتبہ ظاہر ہوا اس کی برکت سے خدائے عزیز نے یہ ارادہ کیا کہ آپ کا نام کُرئہ عرض پر تا ابد باقی رہے اور آسمانِ شہرت پر بھی ہمیشہ چمکتا رہے ۔ اور اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روح پر ابدالآباد تک رحمتیں اور برکتیں نازل فرما تا چلا جائے۔آمین
ق ق ق