اللہ تعالیٰ کی طرف سےحضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا نشان بطور قدرت ، رحمت اور قربت عطا ہوا تھا۔ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حیاتِ مبارکہ کو دو نمایاں ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک وہ دور جب آپ امامِ زمان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور بعد ازاں حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓکے زیرِ سایہ رہے، اور دوسرا وہ دور جب آپ خود منصبِ خلافت پر فائز ہوئے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر انسان کی زندگی میں حالات کے نشیب و فراز آتے ہیں اور مختلف ادوار میں اسے آزمائشوں، چیلنجوں اور مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ کی زندگی بھی ان مراحل سے خالی نہ تھی۔ چونکہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ وقت کا امام اپنے متبعین کے لیے ایک مضبوط ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی موجودگی میں افراد پر جدوجہد کا بوجھ نسبتاً کم ہو جاتا ہے، کیونکہ امام خود اُن کے لیے ڈھال ہوتا ہے۔
چنانچہ1914ء تک حضرت مصلح موعودؓ کے لیے یہی کیفیت تھی، جب آپ کے لیے یہ ڈھال پہلے حضرت مسیح موعودؑ اور پھر حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓکی صورت میں موجود رہی۔ لیکن جب آپ خود منصبِ خلافت پر فائز ہوئے تو یہ صورتِ حال بدل گئی۔ اب آپؓخود اپنے متبعین کے لیے ڈھال بن گئے اور جماعت کے تمام تر بوجھ کو اٹھانا آپ کی ذمہ داری قرار پایا۔ اس عظیم ذمہ داری کی ادائیگی کے لیےحسب پیشگوئی اللہ تعالیٰ نے آپؓکو غیر معمولی عزم، استقامت اور بصیرت عطا فرمائی اور آپ کو اولو العزم کے مقام پر فائز فرمایا۔
رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے الإمام جُنَّةٌ یعنی امام ڈھال ہوتا ہے۔اسکے پیچھے ہو کر لڑا جاتا ہے اس حدیثِ نبویؐ کی روشنی میں یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ افراد کو وقت کے امام کے زیرِ قیادت اور اس کے پیچھے رہ کر جدوجہد کرنی چاہیے۔چنانچہ یہ صورت حال آپ رضی اللہ تعالی عنہ پر 1914 کے بعد سے شروع ہوگئی اور بڑی مخالفتوں کا سامنا شروع ہو گیا۔
(۱) ابتدائی طور پر یہ مخالفت ان افراد کی جانب سے نمایاں ہو کر سامنے آئی جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ادوار میں جماعت کے اندر نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ یہ لوگ مختلف عہدوں پر فائز تھے، ظاہری دبدبہ رکھتے تھے اور دنیاوی معیار کے مطابق اعلیٰ تعلیم رکھتے تھے انہی ظاہری علمی امتیازات کی بنیاد پر انہوں نے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ کو تحقیر آمیز انداز میں محض ’’ایم محمود ‘‘ کہہ کر مخاطب کیا اور آپؓکی قیادت کو فکری طور پر چیلنج کیا۔
ان حضرات کا طرزِ عمل عدم تعاون، سرد مہری اور مکمل اعراض پر مشتمل تھا۔ اس دور میں ان کے تکبر اور رعونت کا اندازہ ان بیانات سے ہوتا ہے جو تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ چنانچہ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ نے یہ تکبر آمیز دعویٰ کیا کہ ’’ہم جاتے ہیں مگر دس سال کے اندر اندراس مدرسہ میں عیسائی ہی عیسائی ہوں گے‘‘۔ اسی طرح ایک اور نمایاں مخالف نے یہ کہا کہ ’’ہم جاتے ہیں، مگر یہ ہمیں ناک رگڑ کر بلائیں گے‘‘۔اور وعدہ دیا جانے لگا کہ دس سال کے عرصے میں مولوی محمد علی صاحب اپنے احباب سمیت قریہ قادیان کو فتح کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مثیل بن کر عزت و احترام کے ساتھ قادیان میں داخل ہوں گے۔
( خطبات محمود جلد ۳ صفحہ۹ ،آئینہ صداقت صفحہ نمبر 180 )
علی الاعلان اس امر کا اظہار بھی ہونے لگا کہ چندہ بند ہو جاوے گا اور یہ لوگ بھوکے مرنے لگیں گے تب خود ہوش آجاوے گا ۔ان تکبرآمیز بیانات کا حضرت مصلح موعود ؓ نے اولوالعزمی سے یہ جواب دیا کہ
میرے خدا نے مجھ پر یہ الہام نازل کیا ہے کہ ’’کون ہے جو خدا کے کاموں کو روک سکے‘‘
(انوارالعلوم جلد 15 صفحہ نمبر 590 خلافت راشدہ)
بہرحال یہ لوگ بڑے بڑے دعوے اور دھمکیاں دیتے ہوئے دائمی مرکز قادیان کو چھوڑ کر چلے گئے۔ایک نوجوان 25 سال کی عمر کا جو میٹرک فیل تھا اس کی تنقیص کرتے ہوئے چلے تو گئے مگر چونکہ اسکے پیچھے خدائی تائید تھی اسلئے چند دنوں میں ان کے ہوش ٹھکانے لگ گئے۔
چنانچہ ایک حیلہ ان کو نکالنا پڑا خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کا یہ حیلہ اعتراف شکست کے اثر سے تھا یا چاپلوسی تھی بہرحال وہ حیلہ یہ تھا کہ انہوں نے 10 دنوں کے بعد یعنی 24 مارچ 1914 کو لاہور میں ایک اجلاس کیا اور اپنے فیصلہ سے ایک وفد کو حضرت مصلح موعود ؓ کی خدمت میں بھیجا اور کہا صاحبزادہ صاحب (حضرت مصلح موعود ؓ: ناقل) انتخاب کو اس حد تک ہم جائز سمجھتے ہیں کہ وہ غیر احمدیوں سےاحمد کے نام پر بیعت لیں یعنی اپنے سلسلہ احمدیہ میں ان کو داخل کریں لیکن پرانے احمدیوں سے دوبارہ بیت لینے کی ضرورت نہیں سمجھتے اس حیثیت سے ہم انہیں امیر تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اس کے لیے بیعت کی ضرورت نہ ہوگی اور نہ ہی امیر اس بات کا مجاز ہوگا کہ جو حقوق و اختیارات صدر انجمن احمدیہ کو حضرت مسیح موعودؑنے دیے ہیں اور اس کو اپنا جانشین قرار دیا ہے اس میں کسی قسم کی دست اندازی کرے ۔‘‘
(ضمیمہ اخبار پیغام صلح2 اپریل 1914 منقول از الفرقان مئی جون 1965 صفحہ 24 )
اس من گھڑت شرطیہ صلح کی پیشکش یا حیلہ کا جواب اولوالعزم حضرت مصلح موعودؓنے جو دیا وہ خود ان کی زبانی یہ ہے:
’’ جو جواب ہم کو صاحبزادہ صاحب( مصلح موعودؓ:ناقل) کی طرف سے ملا اس سے ثابت ہے کہ وہ ایک انچ نہیں بلکہ 1000/1 حصہ بھی اپنی جگہ چھوڑنے کو تیار نہیں جو آئندہ کرنا ہے اس کا اسی وقت فیصلہ کر لیں‘‘
(اخبار پیغام صلح 31 مارچ 1914 منقول از الفرقان مئی جون 1965 صفحہ 24 )
اولو العزم حضرت مصلح موعود ؓ سے بظاہر نرمی کے سلوک سے کام نہیں بنا تو انہوں نے سختی کے سلوک سے کام لینا چاہا ۔اپنی مرضی منوانے کے لیے صلح کے نام پر دھمکی بھی شروع کر دی چنانچہ امر واقعہ یہ ہے کہ انہی دنوں کی بات ہے شیخ تیمور صاحب جو حضرت مصلح موعودؓ کے مداح تھے اور قریبی تھے وہ قادیان سے دور علی گڑھ میں رہتے تھے ۔ پیغامیوں نے انہیں لکھا کہ تم اس فتنے کو کسی طرح دور کرو اس پر اس نے علی گڑھ سے مجھے تار دیا کہ فوراً ان لوگوں سے صلح کر لو ورنہ انجام اچھا نہیں ہوگا۔
حضرت مصلح موعودؓ نے اسے جواب لکھا کہ
’’ تمہارا خط پہنچا تم تو مجھے یہ نصیحت کرتے ہو کہ میں ان لوگوں سے صلح کرلوں مگر میرے خدا نے مجھ پریہ الہام نازل کیا ہے کہ :-
’’ کون ہے جو خدا کے کاموں کو روک سکے ‘‘
پس میں ان سے صلح نہیں کر سکتا۔رہا تمہارا مجھے یہ تحریک کرنا سو یا د رکھو تم خدا تعالیٰ کی ایک بہت بڑی حجت کے نیچے ہو۔تم نے حضرت خلیفہ اول کی زبان سے میرے متعلق بار ہا ایسا ذکر سنا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ ان کے بعد خدا تعالیٰ مجھے خلافت کے مقام پر کھڑا کرے گا پھر تم خود میرے متعلق ایک کتاب لکھ رہے تھے جس میں ان پیشگوئیوں کا ذکر تھا جو حضرت مسیح موعودؑ نے میرے متعلق کیں پس تم پر حجت تمام ہو چکی ہے اور تم میرا انکار کر کے اب دہریت سے ورے نہیں رہو گے۔یہ خط میں نے اسے لکھا اور ابھی اس پر ایک مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ وہ دہر یہ ہو گیا۔چنانچہ وہ آج تک دہر یہ ہے اور علی الاعلان خدا تعالیٰ کی ہستی کا منکر ہے حالانکہ وہ حضرت خلیفہ اول ؓکی وفات سے بارہ تیرہ دن پہلے میری بیعت کیلئے تیار تھا اور پھر میرے متعلق ایک کتاب بھی لکھ رہا تھا جس میں اس کا ارادہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان تمام پیشگوئیوں کو جمع کر دے جو میرے متعلق ہیں مگر چونکہ اس نے ایک کھلی سچائی کا انکار کیا اس لئے میں نے اسے لکھا کہ اب میرا انکار تمہیں دہریت کی حد تک پہنچا کر رہے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا اور وہ ایک مہینہ کے اندر اندر د ہر یہ ہو گیا۔اس کے کچھ عرصہ بعد ایک دفعہ وہ میرے پاس آیا اور حضرت مسیح علیہ السلام کی پیشگوئیوں پر بحث کرنے لگا۔میں نے اسے کہا کہ مرزا صاحب کی پیشگوئیوں کو جانے دو تم یہ بتاؤ کہ میں نے تمہارے متعلق جو پیشگوئی کی تھی وہ پوری ہوئی یا نہیں ؟ اس پر وہ بالکل خاموش ہو گیا۔
(خلافت راشدہ ،انوار العلوم جلد ۱۵ صفحہ ۵۶۳۔۵۶۴)
زبانی دھمکیوں کے بعد پھر مقدمہ کے ذریعے بھی دھمکی دی گئی ۔چنانچہ امر واقعہ یہ ہے کہ خواجہ کمال الدین صاحب نے ایک کتاب’’ اندرونی اختلافات سلسلہ کے اسباب ‘‘کے عنوان سے انہی دنوں میں دسمبر 1914 میںلکھی اس میں دیگر باتوں کے علاوہ دھمکی دی گئی تھی۔ چنانچہ اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھا
’’ باقی رہا سوال مقدمہ کا کہ مقدمہ ہوگا اور عدالتوں تک جانا پڑے گا یہ ایسی دھمکیاں ہیں جو ہمیشہ راست بازوں کو ملتی رہی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لئے کسریٰ نے اپنے آدمی بھیجے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عدالتوں میں گھسیٹا گیا اسی طرح اگر کوئی مجھے بھی عدالت میں بُلوائے یا انجمن پر مقدمہ کرے تو کیا حرج ہے۔جب میں نے خدا کے لئے اور صرف خدا کے لئے اس کام کو اپنے ذمہ لیا ہے اور میں نے کیا لینا تھا خدا تعالیٰ نے یہ کام میرے سپرد کر دیا ہے تو اب مجھے اس سے کیا خوف ہے کہ انجام کیا ہوگا۔میں جانتا ہوں کہ انجام بہرحال بہتر ہوگا کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا مجھ سے وعدہ ہے اور وہ سچے وعدوں والا ہے۔پس آپ مجھے مقدموں سے کیا ڈراتے ہیں۔ہمارا مقدمہ خدا کے دربار میں داخل ہے کیا یہ بات بعید ہے کہ پیشتر اس کے کہ دنیا کی حکومتیں ہمارے جھگڑے کا فیصلہ کریں اَحْکَمُ الْحَاکِمِیْنَ خود ہمارے مقدمہ کا فیصلہ کر دے اور گورنمنٹ کے دخل دینے کے بعد کسی ماتحت عدالت کا کیا حق ہے کہ کچھ کر سکے۔پس اگر خدا تعالیٰ ہی کوئی فیصلہ صادر فرمائے جس سے سب فساد دور ہو کر امن ہو جائے تو دنیا کی حکومتوں نے کیا دخل دینا ہے۔مقدمات سے ان کو ڈرائیں جن کی نظر دنیا کے اسباب پر ہے کوئی دنیا کی حکومت ہمیں اس مقام سے نہیں ہٹا سکتی جس پر خدا تعالیٰ نے ہمیں کھڑا کیا ہے کیونکہ دنیاوی حکومتوں کا اثر جسم پر ہے دل پر نہیں دل صرف خدا تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں‘‘
(القول الفصل ،انوار العلوم جلد ۲ صفحہ ۳۱۱)
یہاں تک تو حضرت مصلح موعود ؓ کے مد مقابل ان لوگوں کا ذکر ہو رہا تھا جو حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کو سچا سمجھنے والے تھےآگے ان لوگوں کا بھی کچھ ذکر کیا جاتا ہے جو حضرت مسیح موعود ؑکے منکرین ،مکفرین اور مکذبین میں سے تھے ۔اولو العزمی کی صفت صرف آپ کی ہی نہیں تھی بلکہ یہ تو طفیلی تھی یعنی آپ کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی اولوالعزمی کے طفیل ہی یہ صفت ملی تھی۔ اس لیے پہلے مثال کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اولو العزمی اور حضرت مسیح موعود ؑ کی اولو العزمی کے واقعات پیش کیے جاتے ہیں ۔
چنانچہ امر واقعہ یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی خداداد مقبولیت کو دیکھ کر ارد گرد ممالک کے بادشاہ بھی مرعوب ہونے لگے تھے۔
مختصر واقعہ یہ ہے کہ کسریٰ ایران نے اپنے ماتحت گورنر یمن کے ذریعے دو سپاہی بھیجے تاکہ آنحضرت ﷺ کو نعوذ باللہ گرفتار کر کے اس کی خدمت میں پیش کیا جائے۔ مگر نادان کسریٰ کو معلوم نہیں تھا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اولو العزمی کی صفت عطا تھی چنانچہ اس پیغام کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اپنے گورنر سے جا کر کہہ دو کہ میرے خدا نے آج رات تمہارے خداوند کو مار دیا ہے ۔
چنانچہ انجام وہی ہوا جو اللہ تعالی ٰنے مقدر کر دیا تھا پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز کامل حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے معاندین و مکفرین میں سے ایک نے ملک بھر میں گھوم گھوم کر آپ علیہ السلام کے خلاف فتویٰ تکفیر لگایا اور دعوی بھی کیا کہ میں نے ہی اسے اٹھایا تھا اورمیں ہی اسے اب گراؤں گا ۔اس بےچارہ کو معلوم نہیں تھا کہ آنحضرت صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ غلام بھی خداداد اولو العزمی کی شان رکھتا ہے چنانچہ اس کے تکفیری کارناموں کے جواب میں آپ نے اپنے خدا سے علم پا کر یہ فرمایا
’’ یعنی اے وہ شخص جو میری تکفیر کے لیے کمر بستہ ہے سن لے کہ مجھے خدا نے بتا دیا کہ تیری تکفیری حرکتوں سے میرا کچھ بھی نقصان ہونے والا نہیں ہے البتہ تیرا خانہ خراب ہے تیرا گھر برباد ہے ۔ایک اور اولوالعزمی کا واقعہ بھی حضرت اقدس مسیح موعود ؑ سے تعلق رکھتا ہے ہوا یوں کہ شیخ فضل الٰہی صاحبؓ چٹھی رساں نے بیان کیا کہ۔’’ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ مَیں ڈاک لے کر حضور ؑ ( کی خدمت ) میں جارہا تھا۔جب ڈپٹی شنکرداس کے مکان کے آگے سے گزرا تو مکان کے آگے چبوترہ پر ڈپٹی مذکور چارپائی پر بیٹھا تھا۔مجھے (اوشیخ) پکار کر کہا غلام احمد کو کہہ دو کہ لڑکے جب مسجد میں آتے ہیں تو شور ڈالتے ہیں اور باتوں سے بھی کھڑاک کرتے ہیں ہم کو تکلیف ہوتی ہے۔ان کو منع کردے کہ وہ آرام سے گزراکریں۔مَیں نے حضرت صاحب ؑ سے ایسا ہی جاکر عرض کردیا تو حضور ؑ نے فرمایا کہ
’’یہ مکان تو ہمارے قبضہ میں آنے والا ہے۔خدا نے ہم کو اِس مکان کا وعدہ فرمایا ہے۔‘‘
(الحکم جلد ۳۸ نمبر ۹مورخہ ۱۴؍ مارچ ۱۹۳۵ء صفحہ ۴)
چنانچہ آج وہ مکان عظیم الشان مسجد اقصیٰ کا حصہ بن چکا ہے۔
اولو العزمی کے حوالے سے انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعودؑ کے منہج پر حضرت مصلح موعودؓکے بھی جلوے ظاہر ہوئے ہیں۔ ان میں سے صرف دو واقعات کا ذکر کیا جاتا ہے۔
1935 کا زمانہ تھا مجلس احرار اپنی سیاسی پشت پناہی کے دم پر حضرت مصلح موعودؓ کو چیلنج دے رہی تھی کہ قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے مینارۃ المسیح کو توڑ کر دریائے بیاس میں بہا دیں گے۔ مجلس احرار تم کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گی۔ اب سے پہلے بہت لوگ اٹھے قادیانیت کو ختم کرنے کے لیے مگر ان کی تقدیر میں نہیں تھا مگر اب ہمارے ہاتھوں میں یہ تقدیر ہے کہ قادیانیت کو ختم کریں گے وغیرہ وغیرہ۔ اولو العزم حضرت مصلح موعود ؓ نے ان کی تعلیوں کا تو کچھ جواب نہ دیا البتہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کا ضرور ذکر فرمایا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل ہم پر ہو رہے ہیں اور مجھے یہی نظر آرہا ہے کہ احرار کے قدموں سے زمین نکل رہی ہے اس مختصر سے جواب میں حضرت مصلح موعودؓ کی اولو العزمی بڑی شان سے جھلک رہی ہے۔ الحمدللہ ایک اور واقعہ اُدھر بھی ہوا یعنی احرار والے تو انگریز کے زمانے میں تھے مگر قیام پاکستان کے بعد ان کی حقیقت پوری طرح عیاں ہو گئی مگر قادیانیوں کی مخالفت کا حربہ یا جسے قادیانی کارڈ کہنا چاہیے اس سے کھیلنا شروع کیا اس سستی اورآسان صورت کی دوڑ میں مولانا مودودی بھی پیش پیش تھے۔قادیانیوں کی مخالفت کی بنیاد پر مخالفین نےاپنے اختلافات کو مٹا کر تَحْسَبُهُمْ جَمِيْعًا کی طاقت کا مظاہرہ کیا چنانچہ اولو العزم حضرت مصلح موعود ؓ کے ایک خالد حضرت مولانا ابو العطا صاحب کا بیان ہے کہ جناب شیخ بشیر احمد صاحب موصوف جناب مولانا جلال الدین صاحب شمس مرحوم اور خاکسار بذریعہ کار جناب مودودی صاحب کے مکان پر پہنچ گئے۔وہ گو یا ملاقات کے لئے تیار ہی بیٹھے تھے۔کہنے لگے کہ اچھا ہوا کہ آپ لوگ آگئے میں چاہتا ہی تھا کہ جماعت احمدیہ کے کوئی نمائندے مل جائیں تو میں آپ کے امام کو ایک پیغام بھجواؤں۔ہم نے کہا کہ فرمائیے کیا پیغام ہے؟
جناب مودودی صاحب نے فرمایا کہ آپ لوگ جا کر اپنے امام سے کہیں کہ اس وقت جماعت احمد یہ کے خلاف سخت شورش برپا ہے اور شدید خونریزی کا خطرہ ہے اس لئے بہتر یہی ہے کہ آپ خاموشی سے اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کر لیں یا پھر وہ عقائد اختیار کریں جو ہمیں گوارا ہوں ورنہ سخت خطرہ ہے۔میں مودودی صاحب سے پٹھان کوٹ کے دارالاسلام میں اچھی طرف گفتگو کر چکا تھا اور غالبا اس مجلس میں میں ان کے قریب اور سامنے تھا میں نے جواباً عرض کیا کہ جناب آپ نے ہمیں کیا پیغام دیا ہے؟ یہ پیغام ہم اپنے امام ایدہ اللہ بنصرہ کو کس طرح دے سکتے ہیں۔اس پیغام کو تو سن کر ہم خود شرمندہ ہیں کہ آپ ہمیں کیا کہہ رہے ہیں۔الٰہی جماعتوں کی مخالفتیںہوتی آئی ہیں اور نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے اس ملک میں بھی جماعت احمدیہ کی مخالفت ہو رہی ہے یہ وہی مخالفت ہے۔مودودی صاحب نے ناصحانہ انداز میں کہا کہ آپ میری بات مان لیں اور یہ پیغام اپنے امام کو پہنچا دیں۔اس مرتبہ کی مخالفت عام مخالفت نہیں۔یہ بہت گہری ہے اور اس کے نتائج بڑے سخت ہیں۔خاکسار نے مودودی صاحب سے پھر زور سے کہا کہ پیغام دینے کا تو سوال ہی نہیں ہے ہم تو سمجھتے ہیں کہ یہ مخالفت بھی بعینہ ویسی ہی ہے جیسی جملہ نبیوں کے وقت میں ہوتی رہی ہے۔ایک لاکھ چوبیس ہزار مرتبہ تجربہ ہو چکا ہے کہ مخالفتوں کے باوجود الہی جماعت ہی اپنے مقصد میں کامیاب ہوتی رہی ہے آج بھی یہی نظارہ دہرایا جائے گا۔
(حیات خالد صفحہ ۳۸۰۔۳۸۱)
یہ واقعہ 1953 کا ہے جب اینٹی احمدیہ ایجیٹیشن بڑے زور و شور سے پاکستان میں چل رہا تھا ۔ ایسے ماحول میں حضرت مصلح موعود نے خداداد او لولعزمی سے یہ اعلان کر دیا کہ
مولانا مودودی کے اتباع کی حکومت تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یقینا نہیں بنے گی
(قادیانی مسئلہ کا جواب ۱۲۳)
خدا نے جسے اولوالعزم بنایاتھا اسے اسکے مطابق طاقتیں بھی دی تھی ۔ یہاں تو نہایت اختصار سے اسکی چند مثالیں پیش کی گئی ہیں ورنہ یہ واقعات تاریخ میں بھرے پڑئے ہیں ۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اولوالعزم حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے درجات بلند فرمائے ۔آمین۔
اک وقت آئے گا کہ کہیں گے تمام لوگ
ملت کے اس فدائی پر رحمت خدا کرے