اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-02-12

سلطان البیان حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ از اطہر احمد شمیم قائمقام منیجر ہفت روزہ بدر قادیان

اپنی خطیبانہ قوت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں
”حضرت مسیح موعود ؑ کو خداتعالیٰ نے سلطان القلم قرار دیا تھا۔ اس کے مقابلہ میں اس نے مجھے اتنا بولنے کا موقع دیا کہ مجھے اس نے سلطان البیان بنا دیا“۔
(خطبات محمود جلد 2صفحہ 334،فرمودہ 23/ستمبر 1950ء بمقا م تعلیم الاسلام کالج لاہور)
ڈھونڈیں تو کہاں ڈھونڈیں پائیں تو کہاں پائیں
سلطانِ بیاں تیرا اندازِ خطیبانہ
حضرت مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعود رضی اللہ عنہ کا خدا دادملکہ خطابت محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ فکر و شعور کا ایک ایسا بہتا ہوا دریا ہے جس کی لہروں میں استدلال کی قوت بھی ہے اور فصاحت کی چاشنی بھی۔ جب آپ منبرِ سخن پر متمکن ہوتے ، تو الفاظ آپ کے تخیل کے تابع نظر آتے اور معانی آپ کے لہجے کی ثقاہت سے ایک نیا پیرہن اختیار کر لیتے ہیں۔ آپ کے کلام میں وہ جادوئی آہنگ ہے جو سامعین کے قلوب کو مسخر کر لیتا ہے اور وہ فکری گہرائی ہے جو عقل و خرد کو نئے آفاق سے آشنا کرتی ہے۔ بے شک، آپ کا طرزِ تکلم فصاحتِ عرب اور بلاغتِ عجم کا ایک حسین سنگم ہے، جو عصرِ رواں میں فنِ خطابت کی آبرو ہے۔مختلف موضوعات کا مجموعہ آپ کی فن خطابت کی عکاسی کر رہا ہے گویا کہ اوّل الذکر منظوم کلام عین آپ کے بیان کا عکس ہے۔
سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو حق تعالیٰ نے کثرت کے ساتھ ایسی پیشگوئیوں سے سرفراز فرمایا جو اپنی صداقت اور شوکت کے اعتبار سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہوئیں اور آپؑ کے منجانب اللہ ہونے کا غیر متبدل نشان ٹھہریں۔ ان تمام تائیدی نشانات میں وہ عظیم المرتبت پیشگوئی اپنی شانِ اعجاز کے ساتھ منفرد مقام رکھتی ہے جسے تاریخِ عالم پیشگوئی مصلحِ موعودؓکے نام سے یاد کرتی ہے۔
حضرت مسیح موعودؑکو بارگاہِ ایزدی سے الہاماً اس عظیم الشان فرزند کی بشارت دی گئی جو صداقتِ اسلام کا جیتا جاگتا نشان ٹھہرا۔اس مکمل پیشگوئی میں حضرت مصلح موعود ؓ کے متعلق 52 علامتوں کی بشارت دی گئی جوؓ کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں۔
پیشگوئی کی چند سطریں جو خاکسار کے مضمون سے متعلق ہیں درجہ ذیل ہیں۔ فرمایا:
’’وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔ وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے پاک کرے گا۔ ...سخت ذہین و فہیم ہوگا اور دل کا حلیم۔ اور علومِ ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا ...جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔ ...ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔ ...زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ ...‘‘ (اشتہار 20؍فروری 1886ء۔مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 101تا102)
اس پیشگوئی میں مذکور ایک ایک با ت اپنی ذات میں ایک عظیم پیشگوئی ہے۔اس موعود فرزند کی عظمت کا اندازہ کیجیے جو ان سب صفات کا مصداق تھا۔دنیا کی نظر میں تو شایدان اوصافِ عالیہ کا ایک فرد واحد میں جمع ہونا ناممکن بات ہو لیکن یہ اس قادر و توانا، رب ذی الجلال والاکرام کا کلام اور اس کی پیشگوئی تھی جس کے آگے کوئی بات انہونی اور مشکل نہیں۔خدا نے جو چاہا وہ با لآخر ہو کر رہا!
تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ تمام تر رکاوٹوں اور ناموافق حالات کے باوجود وہ تمام پیشگوئیاں حرف بہ حرف پوری ہوئیں۔ دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنوں کے ساتھ ساتھ غیروں، دوستوں اور دشمنوں نے بھی اس حقیقت کی گواہی دی کہ حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے گھرانے میں جنم لینے والا وہ ’’فرزندِ موعود‘‘درحقیقت ’’مصلحِ موعود‘‘بن کر دنیا کے افق پر پوری آب و تاب کے ساتھ نمودار ہوا۔ کلامِ الٰہی میں اس عظیم وجود کی جو خصوصیات بیان کی گئی تھیں، آپؓکی شخصیت ان تمام صفات کا مکمل عکس ثابت ہوئی۔اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کا سایہ ہمیشہ آپ کے شاملِ حال رہا۔ انہوں نے غیر معمولی رفتار سے ترقی کی منازل طے کیں اور پیشگوئی کے ہر پہلو کو کما حقہ پورا کرتے ہوئے کامیابی کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ آپ کی یہ عظمتِ شان رہتی دنیا تک ان کا ذکرِ خیر باقی رکھے گی، کیونکہ وہ خدائے رحمان کی قدرت کا ایک عظیم الشان نشان تھے۔ اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ربانی نشانات کی شان و شوکت کبھی ماند نہیں پڑتی۔
شفیق اندازِ گفتگو اور سحر انگیز کلام
حضرت مصلح موعودؓ کی شخصیت محبت، زندہ دلی اور بے پناہ شفقت کا ایک ایسا حسین امتزاج تھی جس نے ہر طبقہ فکر کو متاثر کیا۔ آپؓنہ صرف ایک عظیم رہنما تھے بلکہ ایک شفیق مربی بھی تھے، جو بچوں سے لے کر بڑوں تک، جماعت کے ہر فرد کے ساتھ نہایت عزت اور پیار سے پیش آتے۔ آپؓکے نزدیک انسانی تکریم مقدم تھی، اسی لیے آپؓہر شخص کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے اور کبھی کسی کو حقیر نہ جانتے۔ آپؓکی تربیت کا انداز جہاں پختہ اور اصول پسند تھا، وہیں اس کی بنیاد خالصتاً محبت اور باہمی احترام پر قائم تھی۔
آپؓکی گفتگو جہاں سنجیدگی اور حکمت سے بھرپور ہوتی، وہیں اس میں محبت کی ایسی مٹھاس تھی جو دلوں میں اترتی چلی جاتی۔ تلاوتِ قرآن ہو یا تقاریر، آپؓکی آواز کا سوز اور طرزِ بیاں سامعین پر ایک وجدانی کیفیت طاری کر دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ آپؓکی تقاریر گھنٹوں جاری رہتیں، مگر سننے والے ہمہ تن گوش رہتے اور وقت کے گزرنے کا احساس تک نہ ہوتا۔
جسمانی علالت سے علومِ قرآنی کے سمندر تک
انسانی عقل اس وقت دنگ رہ جاتی ہے جب وہ آپؓکے بچپن کے حالات کا موازنہ آپؓکے علمی مقام سے کرتی ہے۔ بچپن میں آنکھوں کی دائمی خرابی اور جگر کی تکلیف کے باعث آپؓباقاعدہ اسکولی تعلیم حاصل کرنے سے قاصر رہے، یہاں تک کہ اساتذہ آپؓکی لکھائی اور کمزوری دیکھ کر پڑھائی چھڑوانے کے مشورے دیتے۔مگر تقدیرِ الٰہی کچھ اور ہی فیصلہ کر چکی تھی۔ وہی بچہ جس کی صحت ناساز رہتی تھی، جب محض گیارہ سال کی عمر میں ’’انجمن تشحیذ الاذہان‘‘ کے اسٹیج پر کھڑا ہوا، تو اس کی زبان سے نکلنے والے معارفِ فرقانیہ اور حقائق و معارف نے بڑے بڑے علماء اور دانشوروں کو ورطہٴ حیرت میں ڈال دیا۔ یہ اس عظیم الشان پیشگوئی کا پہلا ظہور تھا کہ وہ بچہ "ظاہری و باطنی علوم سے پُر کیا جائے گا"۔
اس تاریخی تقریر کے حوالے سے حضرت بھائی عبدالرحمن صاحبؓ قادیانی اپنے تاثرات کا اظہار کچھ یوں فرماتے ہیں:
’’تقریر کیا تھی علوم و معرفت کا دریا اور روحانیت کا ایک سمندر تھا۔ تقریر کے خاتمہ پر حضرت مولانا نور الدینؓ کھڑے ہوئے۔ آپؓنے تقریر کی بے حد تعریف کی۔ قوت بیان اور روانی کی داد دی۔ نکات قرانی اور لطیف استدلال پر بڑے تپاک اور محبت سے مرحبا جزاک اللہ کہتے ہوئے دعائیں دیتے۔ نہایت اکرام کے ساتھ گھر تک ساتھ آکر رخصت فرمایا‘‘(ہفت روزبدرقادیان 6 /فروری 2002ء)
حضرت مصلح موعودؓ کی علمی و فکری زندگی اس قدر ہمہ جہت اور وسیع تھی کہ آپؓنے نہایت اہم اور متنوع موضوعات پر درجنوں معرکہ آرا تقاریر فرمائیں اور بیسیوں بصیرت افروز مضامین قلمبند کیے۔ خوش قسمتی سے ان کا بیشتر حصہ آج بھی محفوظ ہے، جو نہ صرف آپؓکی گہری فکر اور وسیع مطالعہ کا ثبوت ہے بلکہ آپؓکی ہمہ گیر شخصیت کا آئینہ دار بھی ہے۔ یہ تحریریں اور تقریریں آج بھی رہنمائی کا ایک ایسا مینار ہیں جو علم و عرفان کی متلاشی روحوں کو سیراب کرتی ہیں۔
اسی جادو بیانی اور سحر انگیز شخصیت کا نقشہ کھینچتے ہوئے صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب آپؓکے مخصوص رنگِ خطابت اور "سلطان البیانی" کی کیفیت کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ:
’’حضورؓ کی شخصیت میں عظیم مقناطیسی کشش تھی۔ جب حضورؓ کسی موضوع پر گفتگو فرماتے تو اس کے مختلف پہلوؤں کو نہایت عمدگی سے اُجاگر فرماتے۔حضورؓ کی آواز نہایت پُر رعب اور حیرت انگیز طور پر پُرکشش تھی۔ میں تو اکثر سوچا کرتا کہ ایسی پُر شوکت معارف سے لبریز آواز سن کر بھی کوئی جماعت سے باہر رہ سکتا ہے؟ ایک جلسہ سالانہ کے موقع پر حضورؓ تقریر فرمارہے تھے۔ پنڈال سے باہر کچھ لوگ کھڑے ہو کر سن رہے تھے۔ حضورؓ نے تقریر روک کر فرمایا کہ پنڈال کے اندر جگہ ہے باہر والے لوگ اندر آجائیں۔ مگر وہ لوگ اندر نہیں آئے۔ پھر کچھ دیر بعد حضورؓنے تقریر کے دوران فرمایا مجھے بتایا گیا ہے کہ باہر جو احباب ہیں وہ احمدی نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہم نے مرزا صاحب کی تقریر تو سننی ہے مگر پنڈال کے اندر نہیں آنا۔ اندر جادو ہے ڈر ہے ہم بیعت کرلیں گے۔ حضورؓ نے فرمایا کہ اگر کوئی جادو ہے تو وہ میری آواز میں ہے۔ اور وہ تو باہر بھی پہنچ رہی ہے۔‘‘
(حضرت مصلح موعودؓ کی یاد میں،روزنامہ الفضل انٹرنیشنل2 /مئی2024)
یہ واقعہ حضرت مصلح موعودؓ کی اس’’سلطان البیانی‘‘ اور پُرکشش آواز کا منہ بولتا ثبوت ہے جس کے سحر میں سننے والے لاشعوری طور پر گرفتار ہو جاتے تھے۔ آپؓکی آواز میں وہ رعب اور کشش تھی جو دلوں کی گہرائیوں میں اتر جاتی تھی۔ آپؓکا یہ فرمانا کہ "اگر کوئی جادو ہے تو وہ میری آواز میں ہے"، دراصل اس خداداد خطابت کی قوت کا اعتراف تھا جس کے سامنے پنڈال کے اندر اور باہر موجود ہر شخص بے بس ہو جاتا تھا۔آپؓکی تقریر میں اس قدر تاثیر تھی کہ مخالفین اس خوف سے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے کہ کہیں یہ آواز ان کے عقائد کی بنیادیں نہ ہلا دے اور وہ بیعت کرنے پر مجبور نہ ہو جائیں۔ یہی وجہ تھی کہ لوگوں کی زبانوں پر یہ تذکرہ عام ہو گیا کہ "اندر کوئی جادو ہو رہا ہے"۔ یہ جادو دراصل اس ’’پسرِ موعود‘‘ کی وہ مقناطیسی شخصیت تھی جسے خدا نے فصاحت و بلاغت کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز کیا تھا۔ جو لوگ پنڈال کے اندر موجود ہوتے، وہ اپنی تمام تر ضروریات اور دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر گھنٹوں آپؓکے کلام کے موتی سمیٹتے رہتے۔ آپؓکی اسی بے مثال خطابت اور اثر انگیزی نے دنیا کو یہ اعتراف کرنے پر مجبور کر دیا کہ ایک عظیم خطیب وہی ہوتا ہے جو اپنے الفاظ سے سامعین کے دلوں کو چھُولے اور پیچیدہ سے پیچیدہ حقائق کو سادگی کے پیرائے میں بیان کر دے۔ حضرت مصلح موعودؓ کے کلام میں وہ غیر معمولی اثر، فکری وضاحت اور جذباتی توازن موجود تھا جو نہ صرف سامعین کے ذہنوں کو دلائل سے قائل کرتا، بلکہ ان کی روحوں کو بھی ایک نئے جذبے سے سرشار کر دیتاہے۔
مکرم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب۔ امیر جماعت احمد یہ امریکہ فرماتے ہیں :
’’حضورؓ بہت بلند پایہ مقرر تھے۔ میں نے دنیا میں بہت سفر کیا ہے اور دنیا کے مشہور ترین لیڈروں کو سننے کا موقعہ ملا ہے مگر میں نے کسی کو خطابت میں حضورؓ کا پاسنگ بھی نہیں پایا۔ آپ کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ آپ اپنے خطاب سے پہاڑوں کو ہلا سکتے تھے۔ اس صداقت پر جماعت کے ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ گواہ ہیں۔ آپ سامعین کو سحرانہ رنگ تک قابو میں رکھتے۔ ہجرت کے فوراً بعد آپ نے مختلف شہروں میں پاکستان کے مختلف مسائل اور ان کے حل پر لیکچر دیئے۔ اسلامیہ کالج کے پروفیسر نے جو میرے ایک دوست کے ساتھ بیٹھے تھے بے ساختہ کہا کہ ’’ حضورؓ کو پاکستان کا پرائم منسٹر ہونا چاہئے‘‘ اس سے قبل ’’اسلام میں اختلافات کا آغاز‘‘ کے موضوع پر لیکچر کے موقعہ پر اسلامیہ کالج کے ہسٹری کے پروفیسر نے آپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے ’’فاضل باپ کا فاضل بیٹا‘‘ اور کہا کہ میں اپنے آپ کو اسلامی تاریخ کا علم رکھنے والا تصور کرتا تھا لیکن آپ کا لیکچر سننے کے بعد احساس ہوا کہ میں تو بالکل طفل مکتب ہوں۔
اسلامیہ کالج لاہور کا تاریخی معرکہ اور علمی شاہکار
حضرت مصلح موعودؓ کی "سلطان البیانی" کا ایک عظیم الشان مظہر وہ معرکہ آرا لیکچر ہے جو آپؓنے اسلامیہ کالج لاہور میں ’’مارٹن ہسٹاریکل سوسائٹی‘‘ کے زیرِ اہتمام بعنوان ’’اسلام میں اختلافات کا آغاز‘‘دیا۔ تاریخِ اسلام پر آپؓکا عبور اس قدر مکمل اور عالمانہ تھا کہ نامور مؤرخین بھی ششدر رہ گئے۔
اس عالمانہ خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے سید عبدالقادر صاحب (ایم اے، پروفیسر اسلامیہ کالج لاہور) لکھتے ہیں:
’’فاضل باپ کے فاضل بیٹے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا نامِ نامی ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ یہ تقریر نہایت عالمانہ ہے۔ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ بہت کم مؤرخ حضرت عثمانؓ کے عہد کی خانہ جنگی کی اصلی وجوہات تک پہنچ سکے ہیں۔ حضرت مرزا صاحب نہ صرف ان اسباب کو سمجھنے میں کامیاب رہے بلکہ انہوں نے نہایت واضح اور مدلل پیرائے میں ان واقعات کو بیان فرمایا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ایسا مدلل مضمون اسلامی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کی نظر سے پہلے کبھی نہیں گزرا ہو گا۔‘‘
(اسلام میں اختلافات کا آغاز صفحہ تمہید مطبوعہ نومبر 1930ء)
احمدیہ ہاسٹل لاہور کا ایک خطاب
اسلام کے اقتصادی نظام سے متعلق لاہور میں احمدیہ ہاسٹل میں حضور ؓ کا ایک خطاب ہوا۔
’’یہ تقریر تقریباً اڑھائی گھنٹے تک جاری رہی۔ اس تقریر میں احمدی احباب کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں مسلم اور غیر مسلم معززین بھی شامل تھے۔‘‘ پڑھے لکھے لوگ تھے۔ غیر احمدی مسلمان اور دوسرے غیر مسلم لوگ بھی ’’جن کی اکثریت اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ طبقہ اور پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسرز اور طلباء سے تعلق رکھتی تھی۔ تقریر کے دوران پروفیسرز، وکلاء اور دیگر اہل علم دوست کثرت سے نوٹس لیتے رہے۔‘‘
(انوار العلوم جلد 18 تعارف کتاب ’’اسلام کا اقتصادی نظام‘‘ تعارفی صفحہ1)
’’ اس تقریر کو حاضرین نے ایسے شوق سے سنا کہ اتنے لمبے عرصہ تک لوگ اس طرح بیٹھے رہے کہ گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔‘‘ اڑھائی گھنٹے تک لگاتار تقریر تھی۔ ’’ایک پروفیسر تو اِس تقریر کو سن کر رو پڑے اور بعض کمیونزم کے حامی طلباء نے اِس خیال کا اظہار کیا کہ وہ اسلامی سوشلزم کے قائل ہوگئے ہیں اور اب اسے صحیح اور درست تسلیم کرتے ہیں۔ یونیورسٹی اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کے ایم۔ اے کے بعض طلباء نے حضور کی اس تقریر کے متعلق یہ خواہش ظاہر کی کہ اس کا انگریزی ترجمہ چھپوا کر یونیورسٹی اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسروں کے پاس بھیجا جانا چاہئے۔‘‘ اس زمانے میں انگریزوں کی حکومت تھی اکثر انگریز پروفیسر ہوا کرتے تھے۔ ’’نیز انہوں نے یہ بھی کہا کہ جہاں مختلف سکیمیں ہندوستان کی آئندہ ترقی اور بہبودی کیلئے دوسرے لوگوں کی طرف سے پیش ہو رہی ہیں وہاں یہ اسلامی نظام جو حضور نے پیش فرمایا ہے مسلمانوں کے خیالات کی نمائندگی کرے گا۔‘‘
(انوار العلوم جلد 18 تعارف کتاب ’’اسلام کا اقتصادی نظام‘‘ صفحہ2-3)
اس تقریر کی صدارت مسٹر رامچند مچندہ صاحب ایڈووکیٹ ہائی کورٹ لاہورنے کی تھی۔ لکھنے والا یہ لکھتا ہے کہ اس پرشوکت تقریر کے بعد صدر جلسہ جناب لالہ رامچند مچندہ صاحب نے ایک مختصر تقریر کی۔ کہتے ہیں کہ
’’… میں غیر مسلم دوستوں سے کہوں گا کہ اس قسم کے اسلام کی عزت و احترام کرنے میں آپ لوگوں کو کیا عذر ہے؟ آپ لوگوں نے جس سنجیدگی اور سکون سے اڑھائی گھنٹہ تک حضور کی تقریر سنی ہے اگر کوئی یورپین اس بات کو دیکھتا تو وہ حیران ہوتا کہ ہندوستان نے اتنی ترقی کر لی ہے۔ ‘‘
ویمبلے مذہبی کانفرنس
اس کانفرنس میں اسلام کی برتری وحقانیت کے متعلق حضور نے جو معرکۂ آراء مضمون تیار فرمایا وہ’’Ahmadiyyat or the true Islam‘‘ (احمدیت یعنی حقیقی اسلام ) کے نام سے دنیا بھر میں مشہور ہے ۔اس مضمون میں اسلام کی بنیادی تعلیمات ان کی حکمت و فلسفہ بڑے دلنشیں انداز اور مدلل طریق پر بیان کیا گیا ہے ۔یہ مضمون جس تفصیل و بیان کا تقاضا کرتا تھا اس کی وجہ سے اسکی ضخامت اتنی ہو گئی کہ کانفرنس کے مجوزہ وقت میں اسے بیان کرنا ممکن نہ تھا چنانچہ حضور نے ایک مختصر مضمون تیار فرمایاجسکا انگریزی ترجمہ Ahmadiyya Movement کے نام سے شائع ہوا جو اس مجلس میں حضور کے ارشاد پر چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب ؓنے پڑھا۔ حضور اپنے تمام رفقاء سمیت اس مجلس میں موجود تھے۔ یہاں اس امرکا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ جب حضرت چوہدری صاحبؓ مضمون پڑھنے کیلئے اُٹھنے لگے تو حضورؓ نے ان کے کان میں فرمایا ’’گھبرانا نہیں میں دعا کروں گا‘‘ حضرت چوہدری صاحبؓ جیسے انگریزی زبان پر عبور رکھنے والے مشاق لیکچرار کیلئے یہ الفاظ اور زیادہ خدائی امداد و یقین کا باعث ہوئے اور یہ تقریر تمام سامعین نے ہمہ تن گوش ہو کر سنی۔اور مضمون کے خاتمہ پر اجلاس کے صدر مسٹر تھیوڈور ماریسن نے اپنے تبصرہ میں کہا کہ
’’مجھے زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں مضمون کی خوبی اور لطافت کا اندازہ خود مضمون نے کرا لیا ہے۔ میں صرف اپنی طرف سے اور حاضرین جلسہ کی طرف سے مضمون کی خوبیٔ ترتیب، خوبیٔ خیالات اور اعلیٰ درجہ کے طریق استدلال کیلئے حضرت خلیفۃ المسیح کا شکر یہ ادا کرتا ہوں ۔حاضرین کے چہرے زبان حال سے میری رائے کے ساتھ متفق ہیں اور مجھے یقین ہے کہ میں ان کی طرف سے شکریہ ادا کرنے میں حق پر ہوں اور ان کی ترجمانی کر رہا ہوں ۔‘‘
(الفضل 18نومبر 1924ء)
ایک مشہور فرانسیسی عالم جو موازنہ مذاہب میں بہت مہارت رکھتے تھے ۔یہ مضمون سن کے بے ساختہ کہنے لگے ۔
Well put, well arranged, well dealt
یعنی خوب بیان کیا گیا ،خوب ترتیب دیا گیا اور خوب پیش کیا گیا ۔اکثر حاضرین کی زبان پر تھا کہ
Rare addresses, one cannot hear such addresses every day
ایک نادر خطاب ، ایسے اچھوتے مضامین ہر روز سننے میں نہیں آتے۔
حضور کی سلطان البیانی کا یہ عالم تھا کہ آپ کی پر کشش تقاریر سن کر احمدیت سے تعصب کرنے والے بھی محبت کے دریا میں غوطہ لگانے پر مجبور ہو جاتے۔
مکرم مولانا عبدالباسط شاہد صاحب بیان کرتے  ہیں
” ایک غیرازجماعت دانشور نے قادیان جاکر حضرت مصلح موعودؓ کا خطاب سننے کے بعد لکھا: سارا ہجوم اس پاک نفس کی ایک چھوٹی انگلی کے اشارے پر چل رہا ہے۔ ہر شخص سر تسلیم خم کرتا ہوا اور اپنے امام کی محبت میں رنگین ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ یہ شخص قلم کا دھنی بھی ہے۔ تقریر کا اعلیٰ درجہ کا ماہر بھی اور تنظیم کا اعلیٰ درجہ کاگورنر بھی۔“ 
(روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 17 /فروری 2011ء)
آپؓکا وجودِ مسعود محض ایک پیشگوئی کا پورا ہونا نہ تھا، بلکہ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ خدا آج بھی اپنے بندوں سے ہمکلام ہوتا ہے اور اپنے دین کی حفاظت کے لیے ایسے وجود پیدا فرماتا ہے جو "علومِ ظاہری و باطنی سے پُر" ہوتے ہیں۔ یہ نشانِ رحمت رہتی دنیا تک ہر اس پیاسی روح کے لیے اطمینان کا باعث رہے گا جو خدا کی ہستی اور سچے دین کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ حضرت مصلح موعود ؓنے فرمایا تھا
اک وقت آئے گا کہ کہیں گے تمام لوگ
ملت کے اس فدائی پہ رحمت خدا کرے
اس عظیم الشان پیشگوئی کے ایمان افروز ظہور کو دیکھ کر اور اس پیشگوئی کی جاری و ساری عالمگیر تاثیرات کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے کے بعد آج الحمد للہ ہم پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی ذاتِ بابرکات محض ایک فرد کا نام نہیں، بلکہ وہ خدائے واحد کی اس قدرتِ کاملہ کا ظہور تھی جس نے اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کے لیے تائیدِ غیبی کا وعدہ کر رکھا تھا۔ آپؓکے وجودِ مسعود نے دنیا کے کناروں تک توحید کا جھنڈا بلند کر کے یہ ثابت کر دیا کہ مسیحِ محمدیؑ کا یہ جری جرنیل واقعی وہ ’’مبارک فرزند‘‘ تھا جس نے اپنے مولیٰ سے پیار کا ایسا تعلق نبھایا کہ زمین و آسمان کی گواہیاں اس کے حق میں پکار اٹھیں کہـ
اب وقت آگیا ہے کہ کہتے ہیں حق شناس
ملت کے اس فدائی پہ رحمت خدا کرے
اے فضل عمر تیرے اوصاف کریمانہ
بتلا ہی نہیں سکتا میرا فکر سخن دانا