سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ کابابرکت وجود کئی پیشگوئیوں پر مشتمل تھا۔ جن کے مطابق آپؓ25 سال کی عمر میں خلیفۃالمسیح منتخب ہوئے اور پھر 52 سال تک اِس عظیم ذمہ داری کو سرانجام دیتےرہے ۔
حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کو ایک مسیحی نفس لڑکے کی پیدائش کی خبر دی جو دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جانا تھا اور بتلایا گیا کہ وہ نو سال کے عرصہ میں ضرور پیدا ہوجائے گا۔ اس پیشگوئی کے مطابق سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب حضرت اماں جان نصرت جہاں بیگم کے بطن سے12 جنوری 1889ء بروز ہفتہ تولد ہوئے۔ الہام الٰہی میں آپ کا نام محمود، بشیر ثانی اور فضل عمر بھی رکھا گیا اور کلمۃ اللہ نیز فخرِ رسل کے خطابات سے نوازا گیا۔ چونکہ آپ کے بارے میں حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام کو بہت سی بشارات ملی تھیں اس لئے حضور آپ کا بہت خیال رکھتے۔ کبھی آپ کو ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی۔ بچپن سے آپ کی طبیعت میں دین سے رغبت تھی۔ دعا میں شغف تھا اور نمازیں بہت توجہ سے ادا کرتے تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم مدرسہ تعلیم الاسلام میں پائی۔ صحت کی کمزوری اور نظر کی خرابی کے باعث آپ کی تعلیمی حالت اچھی نہ رہی اور آپ ہر جماعت میں رعایتی ترقی پاتے رہے۔ مڈل اور انٹرنس (میٹرک ) کے سرکاری امتحانوں میں فیل ہوئے اس طرح دنیوی تعلیم ختم ہوگئی۔خدا تعالیٰ نے پیش گوئی کے مطابق خود آپ کو ظاہری و باطنی تعلیم دی۔ جس کو دنیا نے دیکھا۔ اس درسی تعلیم کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نے اپنی خاص تربیت میں لیا۔ قرآن کریم کا ترجمہ تین ماہ میں پڑھا دیا۔ پھر بخاری بھی تین ماہ میں پڑھا دی۔کچھ طب بھی پڑھائی اور چند عربی کے رسالے پڑھائے۔ قرآنی علوم کا انکشاف تو موہبت الٰہی ہوتی ہے مگر یہ درست ہے کہ قرآن کریم کی چاٹ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ نے ہی لگائی۔ جب آپ کی عمر 17،18 سال کی تھی ایک دن خواب میں ایک فرشتہ ظاہر ہوا اور اس نے سورۃ فاتحہ کی تفسیر سکھائی۔ اس کے بعد سے تفسیر قرآن کا علم خدا تعالیٰ خود عطا کرتا چلا گیا۔
1906ء میں جب کہ آپ کی عمر 17سال تھی۔ صدر انجمن احمدیہ کا قیام عمل میں آیا تو حضرت مسیح موعو د علیہ السلام نے آپ کو مجلس معتمدین کا رکن مقرر کیا۔سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب المصلح الموعود رضی اللہ عنہ کی ابتدائی عمر کے مطالعہ سے ہی یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خدمتِ دین کی لگن، شوق اور ولولہ عطا فرمایا تھا اور آپؓپختہ عزم اور ارادے کے ساتھ مسیح الزماں کے مشن کے سپاہی بن گئے تھے۔26مئی 1908ء کو حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام کا جب وصال ہوا ۔ اُس وقت آپ کی عمر صرف اُنیس سال تھی، اپنے پیارے امام کی جدائی پر غم کا ایک پہاڑ آپ پر ٹوٹ پڑا۔ لیکن آپ نے اس بڑے صدمے کے موقع پر بھی اپنے آپ کو سنبھالا دیا اور جذباتِ غم سے مغلوب ہوکر نڈھال بیٹھنے کی بجائے ممکنہ طور پر اٹھنے والی مخالفت اور اس کے مقابلے کے لیے اپنے آپ کو تیار کیا، آپؓخود فرماتے ہیں۔’’ مَیں نے اسی جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے سرہانے کھڑے ہوکر کہا کہ اے خدا! مَیں تجھ کو حاضر ناظر جان کر تجھ سے سچے دل سے یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر ساری جماعت احمدیت سے پھر جائے تب بھی وہ پیغام جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے ذریعہ تُونے نازل فرمایا ہے مَیں اس کو دنیا کے کونہ کونہ میں پھیلاؤں گا۔….. میرے جسم کا ہر ذرّہ اِس عہد میں شریک تھا اور اُس وقت میں یقین کرتا تھا کہ دنیا اپنی ساری طاقتوں اور قوتوں کے ساتھ مل کر بھی میرے اس عہد اور اِس ارادہ کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 18؍ فروری 1944ء۔خطبات محمود جلد 25 صفحہ 134)
لوگ جذبات کی رَو میں بہ کر وقتی طور پر ایسے عہد و پیمان کر جاتے ہیں لیکن آگے ان کو نبھا نہیں پاتے اور زمانے کی گردشوں میں اُسے بھول جاتے ہیں لیکن حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی زندگی کا ہر ایک دن اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ نے مرتے دم تک نہایت اولوالعزمی کے ساتھ اپنے اس عہد کو نبھایا۔
یہ عہد آپ کی اولوالعزمی اور غیرتِ دینی کی ایک روشن دلیل ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ آپ نے اس عہد کو خوب نبھایا۔ 15،16 برس کی عمر میں پہلی مرتبہ آپ کو یہ الہا م ہوا اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃ۔ اس پہلے الہام میں ہی اس امر کی بشارت موجود تھی کہ آپ ایک دن جماعت کے امام ہوں گے۔ قرآن کریم کا فہم آپ کو بطور موہبت عطا ہوا تھا۔ جس کا اظہار ان تقاریر سے ہوتا تھا جو وقتاً فوقتاً آپ جلسہ سالانہ پر یا دوسرے مواقع پر کرتے تھے۔ آیت کریمہ لَایَمَسُّہٗ اِلاَّ الْمُطَھَّرُوْنَ کے مطابق یہ اس امر کا ثبوت تھا کہ سیّدنا پیارے محمود کے دل میں خدا اور اس کے رسول اور اس کے کلامِ پاک کی محبت کے سوا کچھ نہ تھا۔ لیکن بُرا ہو حسد اور بغض کا۔ منکرینِ خلافت آپ کے خلاف بھی منصوبے بناتے رہتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ کسی طرح حضرت خلیفہ ٔ اوّلؓ آپ سے بدظن ہو جائیں۔ ان کو آپ سے دشمنی اس بناء پر تھی کہ اوّل تو آپ حضرت خلیفہ اوّل کے کامل فرمانبردار اور حضور کے دست و بازو اور زبردست مؤید تھے۔ دوسرے آپ کے تقویٰ و طہارت، تعلق باللہ، اجابتِ دعا اور مقبولیت کی وجہ سے انہیں نظر آ رہا تھا کہ جماعت میں آپ کی ہر دلعزیزی اور مقبولیت روز بروز ترقی کر رہی ہے اور خود حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل بھی آپ کا بے حد اکرام کرتے ہیں۔ ان وجوہات کے باعث آپ کا وجود منکرین خلافت کو خار کی طرح کھٹکتا تھا۔
خلافتِ اُولیٰ کے دَور میں آپ نے ہندوستان کے مختلف علاقوں نیز بلادِ عرب و مصر کا سفر کیا۔ حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔ ۱۹۱۱ء میں آپ نے مجلس انصار اللہ قائم فرمائی اور ۱۹۱۳ء میں اخبار الفضل جاری کیا اور اس کی ادارت کے فرائض اپنی خلافت کے دَور تک نہایت عمدگی اور قابلیت سے سرانجام دیئے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ سخت بیماری کہ وجہ سے 27فروری 1914ءکو بعدنمازجمعہ ڈولی پربیٹھ کر حضرت نواب محمدعلی خان صاحبؓ کی کوٹھی دارالسلام میں تشریف لے گئے ۔حضرت سیدنامحمودبھی شب و روز اسی کوٹھی(موجودہ النورنمائش) میں رہنے لگے اورآپ کا اکثر وقت حضورکی خدمت میں گزرتاتھا۔حضرت خلیفہ اوّلؓ کی دوربین نگاہ نے اپنی بیماری کے ایام میں اپنے قدیم طریق کے مطابق اپنی جگہ نمازوں کی امامت اورجمعہ کے خطبات کیلئے حضرت مرزابشیر الدین محموداحمدصاحب کو مقررفرمایاتھا۔اورحضرت خلیفہ اوّلؓ کی وفات کے بعد 14؍ مارچ 1914ء کو مسجدنور میں خلافتِ ثانیہ کا انتخاب عمل میں آیا۔ دو اڑھائی ہزار افراد نے جو اس وقت موجود تھے بیعتِ خلافت کی۔ قریباً پچاس افراد ایسے تھے جنہوں نے بیعت نہیں کی اور اختلاف کا راستہ اختیار کیا۔ اختلاف کرنے والوں میں مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب جو اپنے آپ کو سلسلہ کا عمود سمجھتے تھے پیش پیش تھے۔ خلافت سے انکار اور حبل اللہ کی ناقدر ی کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ لوگ (قادیان) سے منقطع ہوئے۔ صدر انجمن احمدیہ سے منقطع ہوئے۔ نظام وصیت سے منقطع ہوئے۔ حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام کی نبوت سے منکر ہوئے اور اپنے کئی عقائد و نظریات میں اس لئے تبدیلی کرنے پر مجبور ہوئے کہ شاید عوام میں مقبولیت حاصل ہو لیکن وہ بھی نصیب نہ ہوئی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ خوداس کیفیت کااظہارکرتےہوئےفرماتے ہیں۔
’’مجھے بیعت کے الفاظ یادنہ تھے اورمَیں نے اس بات کا عذربناناچاہا....اس پر مولوی سرورشاہ صاحب نے کہامَیں الفاظِ بیعت دہراتاجاؤں گا آپ بیعت لے لیں۔تب مَیں نے سمجھا کہ خداتعالیٰ کا یہی منشا ہے اوراس کےمنشا کوقبول کیااورلوگوں سے بیعت لی۔ ‘‘ (آئینہ صداقت:صفحہ 190تا191)
افراد جماعت سے آپ کو غیر معمولی محبت تھی۔ یہ حقیقت ہے کہ جماعت کے افراد آپ کو اپنے اہل و عیال اور عزیزوں سے بہت زیادہ پیارے تھے ان کی خوشی سے آپ کو خوشی پہنچتی تھی اور ان کے دکھ سے آپ کرب میں مبتلا ہو جاتے تھے۔ جب آپ خلیفہ منتخب ہوئے تو اسی سال جلسہ سالانہ پر خطاب کرتے فرمایا:
’’کیا تم میں اور ان میں جنہوں نے خلافت سے روگردانی کی ہے کوئی فرق ہے؟ ایک بہت بڑا فرق یہ ہے کہ تمہارے لئے ایک شخص تمہارا درد رکھنے والا، تمہاری محبت رکھنے والا، تمہارے دکھ کو اپنا دکھ جاننے والا، تمہاری تکلیف کو اپنی تکلیف جاننے والا، تمہارے لئے خدا کے حضور دعائیں کرنے والا ہے۔ مگر ان کے لئے نہیں تمہارا اسے فکر ہے درد ہے اور وہ تمہارے لئے اپنے مولا کے حضور تڑپتا رہتا ہے لیکن ان کے لئے ایسا کوئی نہیں ہے۔ کسی کا اگر ایک بیمار ہو تو اس کو چین نہیں آتا لیکن تم ایسے انسان کی حالت کا اندازہ کر سکتے ہو جس کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بیمار ہوں۔‘‘(برکات خلافت انوار العلوم جلد 2 صفحہ 156)
17مارچ 1914ءکوحضورؓنے مسجداقصیٰ قادیان میں درس القرآن کا آغازفرمایا۔20مارچ 1914ءکو دورخلافت کا پہلاخطبہ جمعہ ارشادفرمایا۔10؍اپریل 1914ءکو خلافتِ ثانیہ میں صدرانجمن احمدیہ کاپہلا اجلاس آپؓکی صدارت میں منعقدہوا۔12؍اپریل کو’’منصبِ خلافت‘‘ کے موضوع پرآپؓنے خطاب فرمایا۔ماہِ جون میں نظامِ دکن کو تبلیغ کی خاطر ’’تحفۃ الملوک‘‘تصنیف فرمائی۔ ماہِ مارچ 1915ءمیں سیلون اورماہِ جون میں ماریشس میں جماعتِ احمدیہ کا مشن قائم ہوا۔اسی سال معروف،مخلص وخادمِ سلسلہ حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب سکندرآباددکن نے جماعت احمدیہ میں شمولیت اختیارکی۔مارچ 1916ءمیں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے بڑے بھائی مرزاغلام قادرصاحب کی بیوہ حُرمت بی بی (تائی صاحبہ) بیعت کرکے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئیں۔ جس سے ’’تائی آئی‘‘ الہام پوراہوا۔24فروری 1917ء کوحضرت صاحبزادہ مرزاناصراحمدصاحب کے ختمِ قرآن پر آمین کی تقریب منعقدہوئی۔ اسی سال21 جون کو آپؓنے قادیان میں نورہسپتال کا سنگِ بنیادرکھا۔یکم جنوری 1919ء کو آپؓنے انجمن احمدیہ میں نظارتوں کا نظام قائم فرمایا۔26فروری 1919ءکو حبیبہ ہال لاہورمیں’’اسلام میں اختلافات کا آغاز‘‘کے موضوع پر عظیم الشان لیکچربیان فرمایا۔اسی سال ماہِ جون میں قادیان میں یتیم خانہ قائم ہوا۔15فروری 1920ءکو حضرت مفتی محمدصادق صاحبؓ امریکہ میں مشن قائم کرنےکےلیے فلاڈلفیاکی بندرگاہ میں اترے مگرآپ کو شہرمیں جانے سے روک دیاگیاتھا۔لیکن ماہِ مئی میں امریکہ میں داخل ہوکر تبلیغ کرنےکی اجازت مل گئی۔7جون 1920ء کوآپؓنے مسجداحمدیہ لندن کیلئے چندہ کی تحریک فرمائی اور زمین خریدپر9ستمبرکوقادیان میں پرمسرت تقریب منعقدہوئی۔
22؍اگست1921ء کوآپؓکشمیرمیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کےمزارپردعاکیلئے تشریف لےگئے۔ 15،16؍اپریل 1922ءکو جماعتِ احمدیہ کی مستقل طورپرپہلی مجلس شوریٰ منعقدہوئی۔12 جولائی 1924ء کو آپؓاپنے پہلے سفریورپ پر قادیان سے روانہ ہوئے۔17؍اگست کو آپؓنے اٹلی کےوزیر اعظم مسولینی سے ملاقات فرمائی۔ 22؍اگست کو لندن میں پہلی دفعہ ورودفرمایا۔ 9ستمبرکو’’اسیٹ اینڈویسٹ‘‘ یونین کے اجلاس میں پہلا انگریزی لیکچردیا۔ 23ستمبرکو ویمبلے کانفرنس میں آپؓکا مضمون ’’احمدیت یعنی حقیقی اسلام‘‘ حضرت چوہدری محمدظفر اللہ خان صاحبؓ نے پڑھ کرسنایا۔19اکتوبرکوحضورؓ نے مسجدفضل لندن کی بنیادرکھی اور24نومبر کو حضورؓ پہلے سفریورپ کے بعد واپس قادیان تشریف لائے۔جنوری 1926ءمیں قادیان میں تارگھرکاافتتاح ہونےپر پہلاتارحضورؓ کی طرف سے ہندوستان کی بعض مشہور جماعتوں کے نام بھیجاگیا۔3؍اکتوبرکو سرشیخ عبدالقادرصاحب نے مسجد فضل لندن کا افتتاح کیا۔اسی سال پہلی بار احمدی مستورات کے جلسہ سالانہ کاآغازہوا۔20مئی 1928ءکو حضورؓ نے جامعہ احمدیہ کا فتتاح فرمایا۔17جون کوحضورؓ کی تحریک پر ہندوستان کے طول وعرض میں پہلا عظیم الشان یوم سیرت النبیؐ منایاگیا۔19 دسمبر کو قادیان میں ریل گاڑی پہلی پہنچی۔جس میں سفرکرتےہوئے حضورؓ کثیراحباب کے ساتھ امرتسرسے قادیان تشریف لائے۔دسمبر1930ء میں حضرت صاحبزادہ مرزاسلطان احمدصاحب پسر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام احمدیت میں شامل ہوئے۔25جولائی 1931ءکو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ ’’آل انڈیاکشمیرکمیٹی ‘‘کے صدرمنتخب کیےگئے۔یکم جنوری 1933ء کوحضورؓ نے ہوائی جہازمیں پہلی بار سفراختیارفرمایا۔
23نومبر1934ءکو آپؓنے تحریک جدیدکےاجراءکا اعلان فرمایا۔2مارچ کو قادیان میں حضورؓ نے دارالصنعت کا افتتاح فرمایا۔14 دسمبر1936ءکو قادیان میں ٹیلی فون کا افتتاح فرماتےہوئے آپؓنے حضرت چوہدری سرمحمدظفراللہ خان صاحبؓ سے گفتگو فرمائی۔7جنوری 1938ءکو حضورؓ نے پہلی بارمسجد اقصیٰ میں لاؤڈ سپیکرکے ذریعہ خطبہ جمعہ ارشادفرمایا۔یکم اکتوبر1938ءکو ایک رؤیاکی بناء پر حضورؓ کاسفرحیدرآباددکن شروع ہوا۔اسی سفر کے متعلق بعدمیں حضورؓ نے’’ سیرروحانی‘‘ کےعنوان پرعظیم الشان خطابات بیان فرمائے۔3دسمبر 1939ءکو دنیابھر میں جماعت کی طرف سے پہلا ’’یومِ پیشوایانِ مذاہب‘‘نہایت جوش وخروش سے منایاگیا۔28دسمبر 1939ءکو حضورؓ کی خلافت کے 25سال مکمل ہونےپر جوبلی کی تقریب منائی گئی۔اس جلسہ پرحضورؓ نے پہلی دفعہ لوائے احمدیت لہرایا۔پھر لوائے خدام الاحمدیہ لہریااورزنانہ جلسہ گاہ میں لجنہ اماء اللہ کا جھنڈالہرایا۔
26جنوری 1940ءکو حضورؓ کی قائم کردہ ہجری شمسی تقویم پہلی دفعہ الفضل میں شائع ہوئی۔اورپھریہی کیلنڈر بعدمیںجماعت میں رائج ہوگیا۔1943ءمیں حضورؓ نے افتاء کمیٹی قائم فرمائی۔28جنوری 1944ءکو حضورؓ نے بحکم الٰہی پہلی دفعہ مصلح موعودکےبارے میں پیشگوئی کامصداق ہونےکادعویٰ قادیان میں فرمایااور29جنوری کوقادیان میں پہلی بار یومِ مصلح موعودمنایاگیا۔4جون 1944ء کو تعلیم الاسلام کالج قادیان کا حضورؓ نے افتتاح فرمایا۔26،27،28 دسمبر 1946ء کی تاریخوں میں متحدہ ہندوستان کا آخری جلسہ سالانہ منعقدہوا۔ جس میں حاضرین کی تعداد 39700تھی۔
31؍اگست 1947ء کو حضورؓ نے قادیان سے پاکستان کی طرف ہجرت فرمائی اورلاہور پہنچے۔5 ؍اگست 1948ءکو صدرانجمن احمدیہ پاکستان نے حکومت سے اراضی ربوہ کا قبضہ حاصل کیااور20ستمبرکوربوہ کا افتتاح فرمایا۔
15،16،17؍اپریل1949ء کو ربوہ میں پہلا جلسہ سالانہ منعقدہوا۔31مئی 1950ءکوآپؓنے چند مرکزی عمارات کا سنگِ بنیادرکھا۔21مئی 1951ءکو ربوہ میں ٹیلیفون کا اجراء ہوا۔پہلا فون امیرجماعتِ احمدیہ قادیان کو کیاگیا۔جس میں حضورؓ نے جماعت کو سلام،بیماروں کی عیادت اوردعاؤں کی تحریک فرمائی تھی۔10مارچ 1954ء کو مسجدمبارک ربوہ میں بعدنمازِ عصر حضورؓ پرایک شخص عبدالحمیدنے قاتلانہ حملہ کیا۔7اکتوبر1954ءکو حضرت چوہدری سرمحمدظفراللہ خان صاحب عالمی عدالت کے صدرمنتخب ہوئے۔29؍اپریل 1955ءکو حضورؓ دوسرے سفریورپ کے سلسلہ میں کراچی سے روانہ ہوئے۔اور28ستمبرکو واپس ربوہ تشریف لائے۔7جولائی 1957ءکو جامعۃ المبشرین کو جامعہ احمدیہ میں مدغم کردیاگیا۔ماہِ دسمبر 1957ءمیں حضورؓ نے وقفِ جدیدکی تحریک کا اعلان فرمایا۔1964ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت پر پچاس سال ہونےپراللہ تعالیٰ کے حضوراحباب جماعت نے تشکرانہ دعائیں کیں اوردنیابھرمیں پھیلےہوئے احمدیوں کی طرف سے تجدیدعہدبیعت کیاگیا۔
7،8نومبر 1965ء کی درمیانی شب تقریباً رات 2بجے77سال کی عمر میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ اپنے مولائے حقیقی سے جاملے۔وکان امراًمقضیا۔
آپ کی وفات کا پتہ لگتے ہی دور و نزدیک کے ہزاروں احمدی ربوہ آنے شروع ہو گئے ۔ اگلے روز جماعت نے اکٹھے ہو کر اپنے نئے امام کا انتخاب کیا اور حضرت مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کو اپنا خلیفہ منتخب کر کے ان کی بیعت کی۔9 نومبر کی شام کو آپ کا جنازہ بہشتی مقبرے لے جایا گیا۔ جہاں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ المسیح الثالث ؒنے بے شمار احمدیوں کے ساتھ آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔آپ کا مزار آپ کی والدہ حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کے پہلو میں بنایا گیا۔
خواجہ حسن نظامی صاحب فرماتے ہیں:’’ اکثر بیمار رہتے ہیں مگر بیماریاں ان کی عملی مستعدی میں رخنہ نہیں ڈال سکیںانہوں نے مخالفت کی آندھیوں میں اطمینان کے ساتھ کام کر کے اپنی مغلئی جوانمردی کو ثابت کر دیا اور یہ بھی کہ مغل ذات کارفرمائی کا خاص سلیقہ رکھتی ہے۔سیاسی سمجھ بھی رکھتے ہیں اور مذہبی عقل و فہم میں بھی قوی ہیں اور جنگی ہنر بھی جانتے ہیں یعنی دماغی اور قلمی جنگ کے ماہر ہیں۔ ‘‘
(اخبار عادل دہلی24؍ اپریل 1933ء، بحوالہ بدر 6؍ فروری2002ء)
حضورؓ نے پیشگوئی کے مطابق عظیم الشان علمی کارنامہ سرانجام دیتے ہوئےبےشمارخطابات اور لیکچربیان فرمائے، کتب تصنیف فرمائیں۔جن میں تفیسرکبیر،تفسیرصغیر،کتب کا مجموعہ انوارالعلوم شامل ہیں۔جماعتی تربیت اورجماعتی مقاصد کو اعلیٰ رنگ میں سرانجام دینے کے لیےپانچ ذیلی تنظیموں لجنہ اماء اللہ، ناصرات الاحمدیہ ،مجلس انصاراللہ، مجلس خدام الاحمدیہ اوراطفال الاحمدیہ کا قیام فرمایا۔
آپ ؓ کی ازواج کی تفصیل درج ذیل ہے۔
(1)حضرت سیّدہ محمودہ بیگم صاحبہؓ(2)حضرت سیّدہ امتہ الحیٔ بیگم صاحبہؓ(3)حضرت سیّدہ مریم بیگم صاحبہؓ(4)حضرت سیّدہ سارہ بیگم صاحبہ(5) حضرت سیّدہ عزیزہ بیگم صاحبہ(6)حضرت سیّدہ مریم صدیقہ صاحبہ(7)حضرت سیّدہ بشریٰ بیگم صاحبہ
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہمیں ہماری ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتےہیں:
’’اب ہمارا بھی کام ہے کہ اپنے دائرے میں مصلح بننے کی کوشش کریں ۔ اپنے علم سے، اپنے قول سے، اپنے عمل سےاسلام کے خوبصورت پیغام کو ہرطرف پھیلادیں۔ اصلاح نفس کی طرف بھی توجہ دیں۔ اصلاح اولاد کی طرف بھی توجہ دیں اور اصلاح معاشرہ کی طرف بھی توجہ دیں۔ اور اس اصلاح اور پیغام کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے بھرپور کوشش کریں۔ جس کا منبع اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بنایا تھا۔ پس اگر ہم اس سوچ کے ساتھ اپنی زندگیاں گزارنے والے ہوں گے تو یوم مصلح موعود کا حق ادا کرنے والے ہوں گے۔‘‘(خطبات مسرور جلد 9 صفحہ 91-92)
محترمہ صاحبزادی امتہ القدوس بیگم صاحبہؓ نے اپنے منظوم کلام میں کیا خوب فرمایا ہے:
خدا نے خود اسے’فضل عمر‘کہہ کے پکارا تھا
عمر سا دبد بہ ویسی ہی شوکت اس کو حاصل تھی
وجیہہ و پاک لڑکے کی خدا نے خود خبر دی تھی
عجب رنگ ِذکا، شانِ وجاہت اس کو حاصل تھی
وہ ذہن وفہم کہ جس کے خدا نے خود گواہی دی
ذہانت اس کو حاصل تھی ، فراست اس کو حاصل تھی
دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضرت مصلح موعودؓ کےتوقعات کے مطابق اسلام اوراحمدیت کی تعلیمات پر عمل کرنے اورتمام دنیامیں پھیلانے کی توفیق عطافرمائے۔آمین