اللہ تعالی کے فضل سے جماعت احمدیہ مسلمہ منہاج نبوت پر قائم ہونے والے نظام خلافت کے فیوض و برکات سے متمتع ہو رہی ہے۔ یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جو دنیا میں اسلام کے نام پر کام کرنے والی تمام جماعتوں اور تنظیموں اور مجالس سے جماعت احمدیہ کو ممتاز کر دیتی ہے اور اس آسمانی حبل اللہ سے وابستگی کی وجہ سے تمام شعبہ ہائے زندگی میں احباب جماعت ترقیات کی راہوں پر گامزن ہیں اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ جس حسین اسلامی معاشرہ کی بنیاد ڈالی گئی تھی آج وہ ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکا ہے ،جس کی جڑیں زمین کی گہرائیوں میں پیوست ہیں اور اس کی شاخیں مشرق و مغرب سے جنوب و شمال تک سایہ فگن ہیں اور200سے زائد ممالک کے مختلف قوموں سے وابستہ مختلف زبانیں بولنے والے مختلف تہذیب و ثقافت کے حامل لوگوں کی روحانی تشنگی دور کرنے کا موجب بن رہا ہے، جس کے متعلق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نےاپنے ان الفاظ میں خوشخبری دی تھی:
’’ ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پئے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جاوے گا ۔‘‘
(تجلیات الہیہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 409 )
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیش گوئی کو پورا کرتے ہوئے ایسے وسائل و ذرائع جماعت احمدیہ کو عطا فرمائے کہ قادیان کی گمنام بستی سے اٹھنے والی آواز الٰہی وعدوں کے مطابق برق رفتاری کے ساتھ ساری دنیا میں پھیل گئی اور اس کی باز گشت شش جہت میں سنائی دے رہی ہے: اسمعوا صوت السماء جاء المسيح جاء المسيح۔
سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد خدائی بشارات کے مطابق قدرت ثانیہ کا ظہور خلافت احمدیہ کی شکل میں ہوا۔خدا تعالیٰ کے تائید یافتہ ان خلفاء عظام کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آسمانی مشن کی تکمیل کے سامان کئے جانے لگے یعنی غلبہ اسلام کی آسمانی مہم کو تقویت ملتی رہی۔
سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنے 52 سالہ عہد خلافت میں انقلابی کارنامے سرانجام دئے اور نظام جماعت کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ نظام قضا ءکو بھی مضبوط اور پائیدار بنیادوں پر استوار کیا۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اسلامی تعلیم کہ اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا کے مطابق اسلام ایک مکمل دین ہے اور اسلامی تعلیم کی اکملیت کا ایک درخشندہ ثبوت اسلام کا پیش کردہ نظام قضا ءہے۔
چونکہ اللہ تعالی نے انسان کو معاشرتی زندگی بسر کرنے کا عادی بنایا ہےاور وہ مل جل کر رہنا پسند کرتا ہے ایسے حالات میں جب کہ انسان معاشرتی زندگی بسر کرتا ہے تو طبیعتوں کا اختلاف رہن سہن کا فرق اورعقل و فہم و فراست میں تفاوت وغیرہ اسباب کی وجہ سے معاملات بنتے ہیں۔ ان معاملات کو اصول شریعت کے مطابق حل کرنے کے لیے جو نظام اسلام میں رائج ہے اسے نظام قضا ءکہا جاتا ہے۔ دنیا میں جس قدر بھی فتنہ و فساد برپا ہے اس کی بنیاد ی وجہ عدل و انصاف کا فقدان یا اس کی کمی ہے اتلاف حقوق کی وجہ سے ایسے معاملات سامنے آتے ہیں۔ اسلام کی طرف سے جاری کردہ نظام قضا ءان سب امور کا تدارک کرتا ہے اور ایک حسین اور پرامن معاشرہ کے قیام کی ضمانت دیتا ہے۔
قران مجید کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ نظام دارالقضاء دراصل ایمانیات کا حصہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورۃ النساءکی آیت نمبر 66 میں فرماتا ہے: فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُوْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا
ترجمہ : نہیں! تیرے ربّ کی قَسم! وہ کبھی ایمان نہیں لا سکتے جب تک وہ تجھے ان امور میں منصف نہ بنا لیں جن میں ان کے درمیان جھگڑا ہوا ہے۔ پھر تُو جو بھی فیصلہ کرے اس کے متعلق وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور کامل فرمانبرداری اختیار کریں۔
الغرض نظام قضاء اسلامی معاشرہ کو سجانے، سنوارنے، ایک اصلاحی و فلاحی معاشرہ بنانے اور پائیدار دارالامن کے قیام کے لیے ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام کی نشاۃِ ثانیہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء عظام نے اس طرف خصوصی توجہ دی ہے۔ جس طرح نشاۃ اولیٰ میں حضرت عمرا بن لخطاب رضی اللہ نے نظام قضا ءکو مستحکم کیا ،چونکہ اللہ تعالی نے حضرت عمرؓ کو فہم و فراست میں وافر حصہ عطا فرمایا تھا ۔چنانچہ آپ انہی خداداد ذہانت اور فراست سے کام لیتے ہوئے ان مسائل میں اجتہاد کیا کرتے تھے جن کے بارے میں کوئی نص وارد نہیں ہوئی ہوتی اور اکثر و بیشتر آپ کا اجتہاد صحیح ہوتا اور اس میں غلطی کا احتمال بہت کم ہوتا تھا ،حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں فرمایا : إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ(سنن ترمذی باب کتاب المناقب)ترجمہ: یقیناً اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبان و قلب پر حق جاری فرمایا۔
اسی طرح آپ رضی اللہ عنہ کی مدبرانہ صلاحیتوں اور قابلیتوں کی بنا ءپر حضرت اقدس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ لَوْکَانَ نَبِيٌّ بَعْدِيْ لَکَانَ عُمَرُ‘‘ ترجمہ: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا
یعنی آپ کے اندر منصب نبوت کے فرائض کی بجاآوری کے مناسب حال صلاحیتیں موجود ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ جس چیز کے بارے میں کہتے کہ میرا خیال ہے کہ یہ بات یوں ہی ہونی چاہیے تو وہ ویسی ہی ہوتی تھی۔
دور نشاۃ ثانیہ میں قدرت ثانیہ کے دوسرے مظہر سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور سعید میں نظام قضاء کے استحکام اور عدل و انصاف کے قیام کے لحاظ سے سیدنا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت کی یاد تازہ ہوتی ہے آپ رضی اللہ عنہ نے جو کارہائے نمایاں سرانجام دئے ان کا جائزہ لینےسے پتہ لگتا ہے کہ ہر دو دور کے مابین بہت سی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔
جیسا کہ قارئین کرام جانتے ہیں کہ سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب’’ پیشگوئی مصلح موعود‘‘ کے مصداق تھے۔ اس میں بیان کردہ 52 صفات کے حامل یہ مرد مجاہد 52 سال تک منصب خلافت پر فائز رہ کر عظیم الشان خدمات سرانجام دیتے رہے اورانتظامیہ اور عدلیہ دونوں کو مستقل اور پائیدار بنیادوں پر استوار کیا اوراس کی ترویج اور استحکام میں نہایت اعلی اور انقلابی کردار اداکیا ۔جس کی کسی قدر تفصیل قارئین اس مضمون میں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔قارئین کرام خدائی نوشتوں میں بیان فرمودہ پیشگوئیوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دی گئی خدائی بشارات کے مطابق آپ ہی وہ مصلح موعود ہیں جن کی نسبت ہوشیار پور کی متضرعانہ دعاؤں کے نتیجہ میں یہ نوید آسمانی سنا دی گئی تھی کہ:
’’وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری اور باطنی سے پر کیا جائے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا ‘‘۔
اللہ تعالی نے آپ کی زبان مبارک پر یہ الہام بھی جاری فرمایا کہ:
انا المسیح الموعودمثیلہ و خلیفتہ یعنی آپ مسیح موعود علیہ السلام کے مثیل اور خلیفہ موعود ہیں ۔
جب ہم اس موعود خلیفہ کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں اور آپ کے ذریعہ سرانجام دیے گئے عظیم الشان کارناموں کا جائزہ لیتے ہیں تو پتہ لگتا ہے کہ’’ پیشگوئی مصلح موعود‘‘ میں بیان کردہ تمام تر صفات سے آپ بدرجہ اتم متصف تھے اور 52 سالہ عہد خلافت کے دوران آپ نے ایسے کارہائے نمایاں سرانجام دیے جس کا کوئی غیر متعصب مئورخ انکار نہیں کر سکتا ۔ چنانچہ ’’ الفضل ماشہدت بہ الاعداء ‘‘ کے مطابق بے شمار دشمنان کی ایسی تصدیقی گواہیاں مل جاتی ہیں جو باوجود اشد ترین مخالف ہونے کے حق گوئی پر مجبور رہے اور آپ کی ذہانت و فراست کا برملا اظہار کیا۔ آپ کے کارہائے نمایا ںمیں ایک عظیم الشان کارنامہ خلافت کے آسمانی نظام کے تابع ،جماعت احمدیہ کی اندرونی اصلاحات، ترقی ، تربیت اور ہر فرد جماعت کو اسلام کے عادلانہ نظام کا فعال حصہ بنانے کے لیے جہاں آپ نےانتظامی اصلاحات فرمائیں وہاں معاشرتی بے قاعدگیوں کے ازالہ اور ناانصافیوں کی بیخ کنی اور عدل و انصاف کی فراہمی کے لیے دارالقضاء کا قیام عمل میں لایا۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ دنیا میں جس قدر بھی فتنہ و فساد برپا ہے، انسان کی نجی زندگی سے لے کر ایوان اقتدار تک، عائلی اور معاشرتی سطح سے لے کر بین الاقوامی اور عالمی سطح تک جس قدر بھی اختلافات رونما ہوتے ہیں ان سب کی بنیادی وجہ عدل و انصاف کا فقدان ہے۔ اس لیے اسلام نے عدل و انصاف کے قیام پر بڑا زور دیا ہے چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے:
یٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ-اِنْ یَّكُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا- فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰى اَنْ تَعْدِلُوْا ۚ وَ اِنْ تَلْوٗٓا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا
(سورۃ النساء آیت 135)
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر گواہ بنتے ہوئے انصاف کو مضبوطی سے قائم کرنے والے بن جاؤ خواہ خود اپنے خلاف گواہی دینی پڑے یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف۔ خواہ کوئی امیر ہو یا غریب دونوں کا اللہ ہی بہترین نگہبان ہے۔ پس اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرو مبادا عدل سے گریز کرو۔ اور اگر تم نے گول مول بات کی یا پہلوتہی کرگئے تو یقیناً اللہ جو تم کرتے ہو اس سے بہت باخبر ہے۔
حضرت مصلح موعودد رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور امام الزماں علیہ السلام کی راہنمائی کے مطابق جہاں دیگر انتظامی شعبہ جات قائم کئےاور ’’فتح اسلام ‘‘ میں بیان فرمودہ پانچ شاخوں کی بنیاد پر غلبہ اسلام کے لیے گراں قدر منصوبہ بندی کا اعلان فرمایا وہاں معاشرہ کی بقا اور امن کے ضامن نظام عدل کے قیام کے لیے قضاءکا شعبہ قائم فرمایا ۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ قرآن مجید نے تمام شعبہ ہائے زندگی میں عدل و انصاف کی فراہمی پر اس قدر زور دیا ہے، جو سابقہ کتب میں اس کا عشر و عشیر بھی نہیں ملتا ۔قران مجید نے جہاں سابقہ قوموں کی خوبیوں کو سراہا اور ان کا اعتراف کیا وہاں غیر قوموں کے ساتھ اور دشمنوں کے ساتھ بھی عدل و انصاف کا معاملہ روا رکھنے کی تلقین فرمائی اور اسے حصول تقویٰ کے لیے اقرب ذریعہ قرار دیا ۔حضرت خلیفۃ المسیح ثانی رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں جماعت کے تنظیمی ڈھانچے کی بنیاد رکھی اور یکم جنوری 1919 سے باقاعدہ طور پر مختلف صیغہ جات قائم فرمائے۔
چنانچہ جماعتی تنظیمی ڈھانچے کا باقاعدہ اعلان 4جنوری 1919 کے الفضل میں شائع ہوا ہے۔اسی اعلان میں قضاء کے قیام کا بھی اعلان تھا جو صفحہ اول پر درج ذیل عنوان کے تحت شائع ہوا ہے:
انتظام سلسلہ کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح کا اعلان
تمام احباب جماعت کی اطلاع کے لئے شائع کیا جاتا ہے کہ ضروریات سلسلہ کے پورا کر نے کے لئے قادیان اور بیرونجات کے احباب سے مشورہ کرنے کے بعد میں نے یہ انتظام کیا ہے کہ سلسلہ کے مختلف کاموں کو سر انجام دینے کے لئے چند ایسے افسران مقرر کئے جائیں جن کا فرض ہو کہ وہ حسب موقع اپنے متعلقہ کاموں کو پورا کرتے رہیں اور جماعت کی تمام ضروریات کے پورا کرنے میں کوشاں رہیں ۔ فی الحال میں نے اس غرض کے لئے ایک ناظر اعلیٰ ، ایک ناظر تالیف و اشاعت، ایک ناظر تعلیم و تربیت، ایک ناظر امور عامہ اور ایک ناظر بیت المال مقرر کیا ہے۔ اور ان عہدوں پر سردست ان احباب کو مقرر کیا ہے۔ ناظر اعلیٰ مکرمی مولوی شیر علی صاحب ، ناظر تالیف و اشاعت مکرم مولوی شیر علی صاحب، ناظر تعلیم و تربیت مکرمی مولوی سید سرور شاہ صاحب ،ناظر امور عامہ عزیزم مرزا بشیر احمد صاحب ، ناظر بیت المال مکرمی ماسٹر عبد المغنی صاحب۔ ان کے علاوہ جماعت کی ضروریات افتاء اور قضاء کو مد نظر رکھ کر افتاء کے لئے مکرمی مولوی سید سرور شاہ صاحب ، مکرمی مولوی محمد اسماعیل صاحب اور مکرمی حافظ روشن علی صاحب کو ۔ قضاء کے لئے مکرمی قاضی امیر حسین صاحب ،مکر می مولوی فضل دین صاحب اور مکرمی میر محمد اسحاق صاحب کو مقرر کیا ہے۔ آئندہ جو تغیرات ہوں گے ان سے وقتا ًفوقتا ًاحباب کو اطلاع دی جاتی رہے گی۔ میں امید کرتا ہوں کہ احباب ان لوگوں کے کام میں پوری اعانت کریں گے اور سلسلہ کی کسی خدمت سے دریغ نہ کریں گے۔۔۔‘‘
اس طرح دارالقضا کا باقاعدہ قیام یکم جنوری 1919 کو ہوا۔ اس نئے نظام کے حوالہ سے حضرت خلیفۃ المسیح ثانی رضی اللہ عنہ نے 1918 کو ہی ایک جامع اور مکمل خاکے کا اعلان کر دیا تھا۔ چنانچہ اخبار الحکم نے اپنی 7 جنوری 1919 کی اشاعت میں حضور رضی اللہ عنہ کا یکم اکتوبر 1918 کا ایک جامع فرمان شائع کیا جس میں حضور رضی اللہ عنہ نے قضاء کے متعلق درج ذیل ارشاد فرمایا :
’’قاضیوں کا کام فیصلہ کرنا اور قاضی القضاۃ کا اپیل سننا ان کے تمام فیصلوں کی اپیل خلیفہ وقت کے پاس ہو سکے گی ۔ سوائے ان فیصلوں کے کہ جن میں خود خلیفہ ایک یا دوسرا فریق ہو ۔ ایسے وقت میں قاضی القضاۃ کا فیصلہ آخری اور قطعی ہو گا۔‘‘ (اخبار الحکم کے جنوری 1919 صفحہ 5)
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مزید فرماتے ہیں :
’’مختلف علاقہ جات میں قاضی ہوں جن کا تعلق قاضی القضاۃ سے ہو۔ خاص جھگڑوں میں جن میں شرعی مسائل کی واقفیت کی ضرورت نہ ہو یا ایسے امور میں جن کو صرف آسان شرعی مسائل کی ضرورت ہوتی ہو ان کو فیصلہ کرنے کا اختیار ہو گا۔ اسلامی طریق شہادت و ثبوت اور آسان مسائل کے متعلق ان کو تعلیم حاصل کر کے اس کا امتحان دینا ہو گا۔‘‘
(بحوالہ اخبار الحکم 7 / جنوری 1919 ، صفحہ 7 )
اس طرح آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وقتا ًفوقتاً اپنے خطبات اور خطابات میں اس نظام کے مختلف پہلوؤں پر سیرحاصل بحث فرمائی اور احباب جماعت کے دلوں میں اس نظام کی اہمیت و افادیت راسخ کر دی۔ چنانچہ حضور رضی اللہ عنہ نے جلسہ سالانہ 1918 کے دوسرے روز کے خطاب میں قضا ءکے قیام کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
’’پھر ہماری جماعت کے لوگوں میں اگر کسی جگہ کوئی جھگڑا پیدا ہو جائے تو وہ عدالت میں جاتے ہیں جس سے احمدیت کی ذلت ہوتی ہے۔ ابتداء میں جب ابھی جھگڑے کی بنیاد پڑتی ہے اس وقت تو ہمارے پاس اس لئے نہیں آتے کہ چھوٹی سی بات کے متعلق انہیں کیا تکلیف دیں لیکن جب بات بڑھ جاتی ہے تو پھر اس خیال سے ہمارے سامنے پیش کرنے سے جھجکتے ہیں وہ کہیں گے پہلے کیوں ہمیں نہ بتایا اور کیوں جھگڑے کو اتنا بڑھایا ۔
اس طرح بات بڑھتی بڑھتی اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ پھر اگر ہم بھی کہیں کہ اس جھگڑے کو چھوڑ دو تو نہیں مانتے اور احمدیت کو چھوڑ دیتے ہیں اس نقص کے پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہر جگہ محکمہ قضاء مقر ر نہیں ہے ۔ اگر کچھ لوگوں کو مسائل سکھلا کرمختلف مقامات پر مقرر کر دیا جائے تو ایسا نہ ہوتا ۔ اب قاضی القضاۃ کا محکمہ تو یہاں مقرر کیا گیا ہے۔ آئندہ موٹے موٹے اور ضروری مسائل کچھ لوگوں کو سکھلا کر مختلف جماعتوں میں انہیں مقرر کر دیا جائے تا کہ وہ مقامی جھگڑوں اور فسادوں کا تصفیہ کر دیا کریں اور بات زیادہ بڑھ کر خرابی کاموجب نہ ہو۔ ہاں ان کے فیصلہ کی اپیل یہاں کے محکمہ قضاء میں ہو سکے گی۔‘‘
( عرفان الہی صفحہ 80)
تاریخ احمدیت کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ قادیان میں مرکزی قضاء کے علاوہ دوسری جماعتوں میں بھی قضاء کا نظام انہی ایام میں قائم ہو گیا تھا ۔
آج اللہ تعالی کے فضل سے یہ نظام ساری دنیا میں قائم ہو چکا ہے جماعت کی ترقی کے ساتھ ساتھ یہ نظام بھی وسعت اختیار کرتا جا رہا ہے اور 2019 میں اس نظام پر 100 سال پورے ہونے پر لندن میں انٹرنیشنل سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصر العزیز نے قضاء سے متعلق نہایت بصیرت افروز خطاب فرمایا۔
حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصر العزیز کی راہنمائی اور ہدایات کے تابع پوری دنیا میں احباب جماعت کے مابین عدل و انصاف کی فراہمی میں قضا ءنہایت اہم کردار نبھا رہی ہے الحمدللہ۔
نظام قضا ءکی افادیت و اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ تعالی عنہ اپنی کتاب سلسلہ احمدیہ میں تحریر فرماتے ہیں :
’’اس انتظامی تشکیل کے ساتھ ساتھ حضرت خلیفۃ المسیح نےایک جدید نظام صیغہ قضاء کا بھی قائم کیا۔ یعنی جماعت کے اندرونی تنازعات کے فیصلہ کے لئے ایک نئے صیغہ کی بنیاد رکھی۔۔۔۔ان قومی عدالتوں میں صرف ایسے تنازعات پیش ہوتے ہیں جو یا تو محض دیوانی حقوق کا رنگ رکھتے ہیں اور یا وہ حکومت وقت کے قانون کے ماتحت قابل دست اندازی پولیس نہیں سمجھے جاتے ۔ اس صیغہ کے قیام سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ اول تو گویا گھر کا فیصلہ گھر میں ہی ہو جاتا ہے اور سرکاری عدالتوں میں روپے اور وقت ضائع نہیں کرنا پڑتا ۔دوسرے جو نا گوار اثرات اخلاقی لحاظ سے قانونی عدالتوں کی فضاء میں پیدا ہو سکتے ہیں ان سے جماعت کے لوگ محفوظ ہو گئے ۔ ۔۔۔جماعت کے اس نظام میں دو خصوصیتیں ہیں۔اول یہ کہ صیغہ قضاء کے تمام مقدمات شریعت اسلامی کے مطابق تصفیہ پاتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اس میں اہل مقدمہ سے کوئی فیس چارج نہیں کی جاتی بلکہ ہر مقدمہ سلسلہ کے خرچ پر مفت کیا جاتا ہے کیونکہ یہی قدیم اسلامی طریق ہے۔ ‘‘
(سلسلہ احمد یہ طبع دسمبر 1939 صفحہ نمبر 364)
غرض سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنی خداداد ذہانت و فطانت اور بالغ نظری سے احباب جماعت کے درمیان ہونے والے تنازعات کے پر امن حل کے لئے ایک بہترین ادارہ قائم فرمایا اور عدل و انصاف کے صحیح اسلامی تصور سے دنیا کو روشناس کروایا اورایسے اعلیٰ نکات بیان فرماکر عدل و انصاف کے تمام تقاضوں کی تکمیل کی اور اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود خود مسل کا مطالعہ کرتے لوگوں کے ذاتی مسائل کے حل کے لئے کوشش کی اور مسلسل جماعت کی راہنمائی فرماتے رہے ۔
آپ ؓ ایک جگہ فرماتے ہیں:
’’میں نے مسل کو بار بار پڑھا اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں۔‘‘
پھر ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
’’ میں نے مِسل کو کُریدا۔‘‘
حضرت مصلح موعود ؓنے نہ صرف خود قضائی فیصلے کئے بلکہ اپنی خداداد ذہانت اور فراست سے فیصلوں کے دوران ایسے امور بھی بیان کر دئیے جو قضائی نظام کو بہتر انداز سے چلانے اور بطور قاضی خدمات سر انجام دینے والوں کے لئے مشعل راہ اور راہنما اصول ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی مصروفیات کے باوجود متعدد فیصلے کئے جو ’’حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے قضائی فیصلے و ارشادات ‘‘ کے نام سے 592 صفحات پر مشتمل کتاب کی شکل میں شائع شدہ ہیں جو قضاء سے وابستہ لوگوں کے لئے مشعل راہ ہے۔جن میں سے بعض ارشادات ذیل میں پیش ہیں۔
حضرت مصلح موعود ؓنے جماعتی قضائی نظام کے بارے میں جو بنیادی اصول قرار دیا وہ یہ تھا کہ یہاں معاملات شریعت کے مطابق طے ہوں گے۔ ایک مقدمہ میں حضور ؓ فرماتے ہیں :
’’اور ججوں کو تاکید کی جائے کہ وہ مقدمات کو ایسے طور پر طے نہ کیا کریں کہ عدالتی رنگ ہو۔بلکہ اسلامی اصول کے مطابق طے کیا کریں۔‘‘
ایک اور فیصلے میں حضورؓ بیان فرماتے ہیں کہ:
’’قاضی کو فیصلہ لکھتے وقت اس قسم کی تفصیلات میں نہیں پڑنا چاہیئے جس سے معلوم ہو کہ وہ مضمون نویسی کر رہا ہے۔ ایسا کرنا قاضی کی شان کے خلاف ہے بلکہ قاضی کو فیصلہ میں اختصار کو مد نظر رکھنا چاہیئے اور دلائل کو مختصر پیرائے میں بیان کرنا چاہیئے۔‘‘
ایک اور مقدمہ کے فیصلہ میں آپؓنے فرمایا :
’’شریعت قاضی کو بھی ہدایت کرتی ہے کہ وہ ہر قسم کے اثرات سے محفوظ ہوتے ہوئےانصاف کے مطابق فیصلہ صادر کرے۔‘‘
قارئین کرام !سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے عدل و انصاف کی فراہمی اورحقوق کی بحالی کے لیے قرآن کریم،سنت رسول ﷺ اورحضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں بہترین عدالتی نظام سے دنیا کو متعارف کروایا جو بلا شبہ نجی معاملات سے لے کر بین الاقوامی تنازعات تک کے حل کرنے کے لیے مشعل راہ ثابت ہو رہا ہے۔ یہی وہ مقاصد ہیں جن کے حصول کے لیے حضور رضی اللہ عنہ نے دارالقضاء کا قیام فرمایا اور اس کے استحکام کے لیے راہنماء اصول مہیا فرمائے۔ دارالقضاء میں اسلام احمدیت کی تعلیمات کے مطابق بلا معاوضہ تمام مسائل کے حل کی کوششیں کی جاتی ہیں۔
اس طرح اللہ تعالی کے فضل سے احمدی احباب بہت سے اخراجات اور مقدمات کی صعوبتوں سے بچ جاتے ہیں اور ہر شخص کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے تنازعات کے حل کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں ایک حسین اصلاحی و فلاحی معاشرہ تشکیل پا رہا ہے جس کے قیام کے لیےاس زمانہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام مبعوث کیے گئے تھے ۔ ؎
اک وقت آئے گا کہ کہیں گے تمام لوگ
ملت کے اس فدائی پہ رحمت خدا کرے