آج کےاس مضمون میں سیدنا حضرت مصلح موعود ؓ کے بابرکت عہد خلافت میں قادیان میں رمضان المبارک کی رونقوں کے حوالہ سے چند باتیں عرض کرنی مقصود ہیں۔ حضرت مصلح موعود ؓ کا عہد خلافت14 مارچ1914ء سے شروع ہو کر1965ء تک تقریبا51 سال پر محیط ہے۔ اس عرصہ میں تقسیم ملک سے قبل 33 مرتبہ حضرت مصلح موعود ؓ نے قادیان میں رمضان کے مبارک ایام گذارے۔ ان ایام میں آپ کا اُسوہ کیا تھا۔ وہ ہمارے لئے قابل تقلید ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی توفیق عطا فرمائےکہ ہم رمضان کے مبارک ایام کو اس رنگ میں ادا کرنے والےہوں۔
رؤیت ہلال
آنحضرت ﷺ نے رؤیت ہلال یا چاند دیکھنے کا طریقہ بیان کرتے ہوئے ہدایت فرمائی ہے کہ جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھنا شروع کرو اور جب اگلا چاند دیکھو تو روزہ رکھنا چھوڑ دو اور اگر تمہارے یہاں مطلع ابر آلود ہو تو پھر اندازہ کر لیا کرو ۔حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں:
قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم:إِذَا رَاَيْتُمُ الهِلَالَ فَصُوْمُوْا، وَإِذَا رَاَيْتُمُوْهُ فَاَفْطِرُوْا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُم۔ فَاقْدُرُوْا لَهُ
( بخاری کتاب الصيام)
آنحضرت ﷺکی سنت مبارکہ کے دور میں رئویت ہلال کا پہلو کسی نہ کسی صورت میں مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت کا حصہ بنا چلا آ رہا ہے۔ عیدین اور رمضان کے چاند کو دیکھنے کے لیے غیر معمولی ذوق و شوق کا اظہار مذہبی مسئلہ سے زیادہ اسلامی معاشرہ کے تہذیبی پہلو کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
’’کچھ سال پہلے تک ہمارے برصغیر میں رمضان اور عیدین کے چاند کو دیکھنے کے لیے لوگ اپنی چھتوں پر چڑھ جاتے تھے۔یاکھلے میدانوں میں نکل کر دور افق کی طرف نظریں جمائے بڑی بے تابی سے رئویت ہلال کا اہتمام کرتے تھے۔اور جب چاند نظر آ جاتا تو خوشی و مسرت دیدنی ہوتی تھی۔ اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ کی پیروی میں دعاؤں کے ساتھ نئے چاند کو خوش آمدید کہنے کا رواج عام تھا۔‘‘
( الفضل انٹرنیشنل ۱۳؍اپریل ۲۰۲۱ء، صفحہ ۸کالم۲)
قادیان میں رؤیت ہلال کا اہتمام
مسلم معاشرہ میں رئویت ہلال کے لیے جو ذوق و شوق پایا جاتا تھا اس کی جھلک قادیان میں دیکھی جا سکتی ہے۔ چاند دیکھنے کے بارے میں امام الزمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معمول کے بارے میں یوں ذکر ملتا ہے کہ
’’یکم دسمبر ۱۹۰۲ءدربار شام: آج رمضان المبارک کا چاند دیکھا گیا بعد نماز مغرب خود حجت اللہ ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام )سقف مسجد پر رویت ہلال کےلئے تشریف لے گئے اور چاند دیکھا اور مسجد میں آکر فرمایا کہ رمضان گزشتہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کل گیا ہے۔‘‘
(الحکم نمبر۴۴ جلد ۶،۱۰؍دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۸)
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قادیان میں عید کا چاند دیکھنے کے اشتیاق کے بارے میں ایک موقع کا ذکر کرتے ہوئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
’’ جب لوگ چھتوں پر چاند کو دیکھنے کے لئے چڑھے تو مَیں بھی چھت پر چڑھا اور دور بین سے چاند کو دیکھنا چاہا کیوںکہ میری نظر کمزور ہے۔ لیکن میں چاند نہ دیکھ سکا اور بیٹھ گیا۔اچانک میرے کان میں بچے کی جو میرا ہی بچہ ہے آواز آئی جو یہ تھی کہ چاند دیکھ لیا چاند دیکھ لیا میں نے بھی چاند دیکھ لیا۔‘‘
( الفضل ۳؍جون۱۹۲۴ء)
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے دور میں رویت ہلال کے بارے میں شہادتوںکے ذریعہ عید کے اعلان کا بھی ذکر ملتا ہے۔ آپ عید کے موقع کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’لاہور فون سے دریافت کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہاں جالندھر سے رپورٹ آئی ہے کہ شملہ میں لوگوں نے چاند دیکھ لیا ہے اسی طرح معلوم ہوا کہ سولن پہاڑ پر بھی اور بمبئی میں بھی چاند دیکھا گیا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ چاند بہت کم اونچا تھا۔قادیان کے احمدی دوست چونکہ اس وقت دعا میں مشغول تھے اس لئے وہ چاند دیکھ نہ سکے اور باہر بھی تھوڑے تھوڑےغبار کی وجہ سے نظر نہ آیا۔مگر پہاڑوں پر چونکہ اتفاقاً مطلع صاف تھا اس لئے وہاں کے رہنے والوں نے چاند کو دیکھ لیا چنانچہ اس بارے میں جتنی رپورٹیں آئیں ان میں سے اکثر پہاڑی مقامات کی ہیں سوائے کپورتھلہ کے بعض نے وہاں بھی چاند دیکھ لیا تھا۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ یکم اکتوبر۱۹۴۳ء، الفضل انٹرنیشنل ۱۳؍اپریل ۲۰۲۱ء صفحہ ۸)
حضرت مصلح موعود کے دور مبارک میں رمضان کی یادیں۔ از حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ للہ
حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ قادیان میں حضرت مصلح موعودؓ کےدور میں گزرے رمضان المبارک کےعینی شاہد ہیں۔حضور ؒقادیان میں رمضان کی بعض یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک مقام پرفرماتے ہیں کہ
’’ہم نے اپنے قادیان کے ماحول میں یہی دیکھا کہ چھوٹے بچے بھی جو 8،9سال کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں جوشوق سے روزہ رکھنا چاہتے ہیں ان کو کبھی روکا نہیں گیا تھا۔ کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ تمہاری صحت کمزور ہوجائے گی تم رک جائو۔ ہاں اگر کوئی زیادہ ہی جوش دکھائےاور کہے کہ میں نے سارے مہینے کے رکھنے ہیں تو اسے پیارسے سمجھایا جاتا تھا کہ نہ کرو۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ بعض دفعہ کچی عمر میں زیادہ نیکی کرنے سے نیکی سے ہی متنفر ہو جاتا ہے۔ وہاں بھی صحت کی خرابی کا خطرہ نہیں تھا۔غالباً وجہ یہ ہوتی تھی کہ بچہ کہیں زیادہ جوش میں نیکی کرکے، نیکیوں سے نہ جائے کہیں اور نیکیوں کے خلاف ایک قسم کی بے رغبتی نہ پیدا ہوجائے۔ بہرحال ہم نے بچپن میں رکھے ہوئے ہیں۔ 7-8سال کی عمر سے شروع میں دو تین پھر 7،8بلوغت سے پہلے پندرہ بیس تک پہنچ جایا کرتے تھے اور بلوغت کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے جہاں تک مجھے یاد ہے روزے رکھنے کی توفیق ملی۔ سختیوں میں بھی، نرمیوں میں بھی،چھوٹے دنوں میں بھی، زیادہ دنوں میں بھی لیکن کوئی ایسا نقصان مجھے یاد نہیں جس نے ہمیشہ کے لئے صحت پر بُرا اثر چھوڑا ہو۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ ۵؍مارچ ۱۹۹۳ء،مطبوعہ خطبات طاہر جلد ۱۲صفحہ ۱۹۱)
قادیان میں بچوں کی تربیت کا طریق
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:
’’دوسری بات رمضان میں یہ ہے کہ بچوں کو سحری کے وقت اٹھا کر کھانے سے پہلے نوافل پڑھنے کی عادت ڈالی جائے۔ قادیان میں یہی دستور تھا جو بہت ہی ضروری اور مفید تھا۔ جسے اب بہت سے گھرو ں میں ترک کر دیا گیا ہے۔ قادیان میں یہ بات رائج تھی کہ روزہ شروع ہونے سے پہلے بچوں کو عین اس وقت نہیں اٹھاتے تھے کہ صرف کھانے کاوقت رہ جائے بلکہ لازماً اتنی دیر پہلے اٹھاتے تھے کہ بچہ کم سے کم دو چار نوافل پڑھ لے ۔ چنانچہ مائیں بچوں کو کھانا نہیں دیتی تھیں جب تک پہلے نفل پڑھنے سے فارغ نہ ہو جائیں۔
سب سے پہلے اٹھ کر وضو کرواتی تھیں اور پھر ان کو نوافل پڑھاتی تھیں تا کہ ان کو پتہ لگے کہ روزہ کااصل مقصد روحانیت حاصل کرناہے۔ اس امر کا اہتمام کیا جاتا تھاکہ بچے پہلے تہجد پڑھیں ، قرآن کریم کی تلاوت کریں پھرکھانے پہ آئیں۔ اور اکثر اوقات الا ما شاء اللہ تہجد کا وقت کھانے کے وقت سے بہت زیادہ ہوتاتھا۔ کھاناتو آخری دس پندرہ منٹ میں بڑی تیزی سے کھا کرفارغ ہو جاتے تھے جب کہ تہجد کے لئے ان کو آدھ پون گھنٹہ مل جاتا تھا۔ اب جن گھروں میں بچوں کو روزہ رکھنے کی ترغیب بھی دی جاتی ہے ان کو اس سلیقے اور اہتمام کے ساتھ روزہ نہیں رکھوایا جاتا بلکہ آخری منٹوں میں جب کہ کھانے کا وقت ہوتاہے ان کو کہہ دیا جاتا ہے آؤ روزہ رکھ لو اور اسی کو کافی سمجھا جاتا ہے۔
یہ تو درست ہے کہ اسلام توازن کا مذہب ہے، میانہ روی کا مذہب ہے لیکن کم روی کا مذہب تو نہیں۔ اس لئے میانہ روی اختیار کرنی چاہئے۔ جہا ں روزہ رکھنا فرض قرار دیا ہے وہاں فرض سمجھنا چاہئے۔ جہاں روزہ فرض قرار نہیں دیا وہاں اس رخصت سے خدا کی خاطراستفادہ کرنا چاہئے۔ یہ نیکی ہے ۔ اسکا نام میانہ روی ہے۔ اس لئے جماعت کو اپنے روز مرہ کے معیار کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے اورروزہ کھلوانے کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے اور روزہ کا معیار بڑھانے کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ30؍ مئی1986ءمطبوعہ خطبات طاہر جلد5صفحہ392تا393)
حضرت مصلح موعودؓ کا پہلا روزہ
حضرت مصلح موعودؓنے پہلا روزہ بارہ تیرہ برس کی عمر میں رکھا چنانچہ خود ہی فرماتے ہیں:
’’مجھے جہاں تک یاد ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے پہلا روزہ رکھنے کی اجازت بارہ یا تیرہ سال کی عمر میں دی تھی… مجھے پہلے سال صرف ایک روزہ رکھنے کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اجازت دی تھی۔
(الفضل 19؍نومبر 1940ء)
رمضان میں علمی بحث و تمحیص
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ
’’حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کا ذکر فرمایا جن کا سحری کے اوقات کے بارے میں اپنا ایک نظریہ تھا لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی کس طرح رہنمائی فرمائی وہ بھی عجیب ہے۔ فرماتے ہیں کہ ‘‘ہماری جماعت میں ایک شخص ہواکرتے تھے جسے لوگ فلاسفر کہتے تھے۔ اب وہ فوت ہو چکا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے۔ (فرماتے ہیں کہ) اسے بات بات میں لطیفے سوجھتے تھے جن میں سے بعض بڑے اچھے ہوا کرتے تھے۔ فلاسفر اسے اسی لئے کہتے تھے کہ وہ ہر بات میں ایک نیا نکتہ نکال لیتا تھا۔ ایک دفعہ روزوں کا ذکر چل پڑا۔ کہنے لگا کہ انہوں نے (یعنی مولویوں نے یا فقہ کے ماہرین نے) یہ محض ایک ڈھونگ رچایا ہؤا ہے کہ سحری ذرا دیر سے کھاؤ تو روزہ نہیں ہوتا۔ بھلا جس نے بارہ گھنٹے فاقہ کیا اس نے پانچ منٹ بعد سحری کھا لی تو کیا حرج ہؤا۔ مولوی جھٹ سے فتویٰ دیتے ہیں کہ اس کا روزہ ضائع ہو گیا۔ غرض اس نے اس پر خوب بحث کی۔ صبح وہ گھبرایا ہوا حضرت خلیفہ اوّل کے پاس آیا۔ زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تھا۔ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کی بات ہے) مگر چونکہ حضرت خلیفہ اوّل ہی درس وغیرہ دیا کرتے تھے اس لئے آپ کی مجلس میں بھی لوگ کثرت سے آ جایا کرتے تھے۔ آتے ہی کہنے لگا کہ آج رات تو مجھے بڑی ڈانٹ پڑی۔ آپ نے فرمایا کیا ہوا؟ کہنے لگا کہ رات کو میں بحث کرتا رہا کہ مولویوں نے ڈھونگ رچایا ہوا ہے کہ روزہ دار ذرا سحری دیر سے کھائے تو اس کا روزہ نہیں ہوتا۔ میں کہتا تھا کہ جس شخص نے بارہ گھنٹے یا چودہ گھنٹے فاقہ کیا ہووہ اگر پانچ منٹ دیر سے سحری کھاتا ہے تو کیا حرج ہے۔ اس بحث کے بعد میں سو گیا تو میں نے رؤیا میں دیکھا کہ ہم نے تانی لگائی ہوئی ہے۔ فلاسفر جولاہا تھا۔ اس لئے خواب میں بھی اسے اپنے پیشہ کے مطابق یاد آئی۔ (رسّی، دھاگہ جو کپڑا بنانے کے لئے کھینچتے ہیں تو کہتے ہیں) دونوں طرف میں نے کیلے گاڑ دئیے اور تانی کو پہلے ایک کیلے سے باندھا اور پھر میں اسے دوسرے کیلے سے باندھنے کے لئے لے چلا۔ جب کیلے کے قریب پہنچا تو دو انگلی ورے سے تانی ختم ہو گئی۔ میں بار بار کھینچتا کہ کسی طرح اسے کیلے سے باندھ لوں مگر کامیاب نہ ہو سکا اور میں نے سمجھا کہ میرا سارا سوت مٹی میں گر کر تباہ ہو گیا۔ چنانچہ میں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ میری مدد کے لئے آؤ۔ دو انگلیوں کی خاطر میری تانی چلی۔ (وہ دھاگہ جو تھا خراب ہو رہا ہے۔) اور یہی شور مچاتے مچاتے میری آنکھ کھل گئی۔ جب میں جاگا تو میں سمجھا کہ اس رؤیا کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مجھے مسئلہ سمجھایا ہے کہ دو انگلیوں جتنا فاصلہ رہ جانے سے اگر تانی خراب ہوجاتی ہے تو روزے میں تو پانچ منٹ کا فاصلہ کہہ رہے ہو۔ اس کے ہوتے ہوئے کس طرح روزہ قائم رہ سکتا ہے۔ (تعلق باللہ۔ انوار العلوم جلد23 صفحہ178-177)
قادیان میں رمضان
الفضل نے قادیان کے رمضان کا اجمالی خاکہ کھینچا ہے جس کو اختصار کے ساتھ پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے مکمل یہ نقشہ پیشِ خدمت ہے۔
‘‘جن لوگوں کو قادیان میں رمضان کے مبارک ایام گزارنے کا موقع ملا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ جس طرح یہ مبارک ایام قادیان میں گذارے جاتے ہیں او رکسی جگہ نہیں گذارے جاتے اور یہ قادیان کی ایک خصوصیت ہے جو دنیا میں کسی اور مقامی کو حاصل نہیں یوں تو مسلمان کہلانے والے دنیا کے ہر گوشہ میں رمضان المبارک میں روزے رکھتے ہیں لیکن صرف روزہ رکھ لینے سے وہ مقصد پورا نہیں ہو جاتا جو اللہ تعالیٰ نے اس مہینہ کے مقرر کرنے میں رکھا ہے۔ روزہ رکھ کر روزہ اور رمضان کا حقیقی مقصد حاصل کرنے کا خیال جس قدر یہاں رکھا جاتا ہے وہ اور کسی جگہ کے مسلمان نہیں رکھتے اور پھر احمدی احباب اس کوشش میں بہت حد تک کامیاب بھی ہوتےہیں مثلاً تراویح تو بہت جگہ پڑھی جاتی ہے ۔ مگر سحری کے وقت تراویح ادا کرنا شاید ہی کسی اور جگہ کے رہنے والوں کو نصیب ہوتا ہو۔ عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ عشاء کے بعد ہی جوں توں کر کے اس بار سے سبکدوشی حاصل کر لی جاتی ہے لیکن قادیان میں اکثر لوگ تراویح میں شامل ہونے کے باوجود تہجد کی نماز باقاعدہ ادا کرتے ہیں۔ اور تہجد ادا کرنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور کوئی مقام قادیان کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔
پھر تلاوت قرآن کریم جسے رمضان کے ساتھ خاص مناسبت ہے جس کثرت سے یہاں ہوتی ہے اور کسی جگہ نہیں ہوتی۔ ممکن ہے انفرادی طور پر بعض اور جگہ بھی لوگ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوں مگر اجتماعی طور پر قرآنِ کریم کا درس دیا جانا اور ایک ہی مہینہ میں کلام الٰہی کے مطالب و معانی سے آگاہی کے دائرہ کو وسیع کرنے کا کام جس باقاعدگی، پابندی اور التزام کے ساتھ قادیان میں ہوتا ہے اس کی نظیر غیر احمدی دنیا میں کہیں نہیں مل سکتی۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ بعض بیرونی احمدیہ جماعتیں بھی اس عادت سے بہرہ ور ہوتی ہیں اور اپنے اپنے ہاں قرآن کریم کے درس کا التزام کرتی ہیں ۔
اس کے علاوہ فطرانہ کی رمضان کے مہینہ میں ہی باقاعدہ با شرح ہر ایک سے وصولی اور پھر عید سے قبل تمام مستحقین میں اس کی تقسیم کا جو انتظام قادیان میں ہے اور کسی جگہ ہر گز نہیں پایا جاتا۔ اور ہو بھی نہیں سکتا ۔ کیونکہ یہ باقاعدگی ایک نظام کو چاہتی ہے اور مسلمان اس نعمت سے کلی طور پر محروم ہیں۔
پھر قادیان کے رمضان کی ایک اور خصوصیت جس میں یہ بستی منفرد ہے وہ رمضان المبارک کا آخری دن ہے جب دنیا میں مسلمان اپنے اپنے ہاں عید کے چاند کو دیکھنے کے انتظار میں گھڑیاں گن رہے ہوتے ہیں او رآنے والی عید کی تیاریوں میں لگے ہوتےہیں۔یہ وقت عام طور پر عید کی خوشی کو زیادہ کرنے کے پروگرام بنانے میں صرف ہوتا ہے۔ یہ دن بچوں کے لئے کپڑے ، جوتے۔ ٹوپیاں اور بیوی کے لئے تحائف وغیرہ خریدنے پر خرچ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح عید میں کام آنے والی اشیاء کی خرید و فروخت بھی اکثر اسی دن ہوتی ہے لیکن یہ وقت جسے مسلمان اس طرح کی مصروفیتوں میں گذارتےہیں ۔ قادیان میں جس طرح گذرتا ہے وہ ایک ایسا ایمان افروز نظارہ ہے کہ بڑے سے بڑا مخالف بھی اس سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ بشرطیکہ اس کے دل میں خوفِ خدا اور مادہ انصاف موجود ہو۔ اس موقعہ پر قادیان میں احمدی احباب خانۂ خدا میں جمع ہوتے ہیں تااپنے مقدس امام کے ساتھ مل کر اس مبارک مہینہ کی آخری ساعات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں ۔ جس وقت دنیا کے دوسرے شہروں میں مسلمان بلند مقامات پر کھڑے چاند دیکھنے کی کوشش میں لگے ہوتے ہیں ۔ قادیان کی مسجد اقصیٰ احمدیوں کی تضرع اور زاری سے گونج رہی ہوتی ہے۔جو وہاں جمع ہو کر اپنے امام کی اقتداء میں اللہ تعالیٰ کے حضور دستِ دعا ہوتےہیں کہ وہ اسلام کو دوبارہ دنیا میں قائم کرے۔ اسے پھر وہی غلبہ عطا کرے جو پہلے بھی حاصل ہو چکا ہے ۔ دنیا میں اسلام کا بول بالا کرے۔ دنیا کے مصائب و مشکلات کو دور کرے۔ اہل دنیا کو گناہ اور فسق و فجور کی ظلمت سے نکال کر ایمان اور اپنی معرفت کی پر سکون فضا میں سانس لینے کی توفیق عطا فرمائے ۔ بے شک وہ اپنے اپنے عزیز و اقارب اور احباء کے لئے بھی اس وقت دعائیں کرتے ہیں لیکن ان کی دعاؤں کا زیادہ حصہ اسلام کی شوکت اور رسول اللہ ﷺ کے فضائل و کمالات کے اظہار پر مشتمل ہوتا ہے۔ اور قادیان میں رمضان المبارک کی یہ گھڑیاں اپنے اندر ایسی خصوصیت رکھتی ہیں کہ جس کی کوئی ایک مثال بھی دنیا کے کسی اور مقام پر پائی نہیں جا سکتی۔
ایک اور خصوصیت قادیان کی یہاں کی مساجد میں رمضان کے آخری عشرہ میں نظر آتی ہے اور وہ معتکفین کی کثرت ہے۔ جس کثرت سے یہاں لوگ اعتکاف بیٹھتے ہیں ۔ امید نہیں کسی اور جگہ بیٹھتے ہوں۔ معتفکفین میں ہر طبقہ اور ہر عمر کے لوگ ہوتےہیں۔ بڑے بڑے معزز اور سرکاری عہدیدار ، تاجر، صناع، بوڑھے جوان سب قسم کے لوگ معتکفین کے زمرہ میں شامل ہوتے ہیں اور پھر مستورات کے لئے بھی اعتکاف بیٹھنے کے انتظامات کئے جاتے ہیں۔
اس کےعلاوہ ایک اور چیز جو یقیناً دنیا میں کسی اور جگہ نظر نہ آئے گی وہ بچوں کا اعتکاف ہے۔ چنانچہ اس سال 16-15 سال کے بعض بچے معتکفین میں تھے۔ غور فرمائیے کھیل کود کے اس زمانہ میں دین سے اتنا شغف اور اتنا شوق قادیان میں رمضان ایسے رنگ میں گذرتا ہے کہ آج اس کی مثال دنیا میں اور کہیں نہیں مل سکتی اور اس سے ایسے فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کا منشاء ہے کہ مسلمان اس سے حاصل کریں اور جن کے حصول سے اس زمانہ کے مسلمان بالکل بے پرواہ ہیں افسوس ہے کہ آج مسلمان روزہ کے اصل مقصد کی نسبت سحری، افطاری اور عید کی تیاری پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔‘‘
(الفضل 5؍ اکتوبر 1943ء)
رمضان میں اجتماعی دعاؤں کی تحریک
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ ہمیشہ جماعت احمدیہ کو دعائیں کرنے کی تحریک فرماتے رہتے تھے۔ 11؍ دسمبر 1936ء کو جمعہ کا مبارک دن اور رمضان کا پچیسواں روزہ تھا۔ اس روز حضورؓ کے دل میں یہ تحریک پیدا ہوئی کہ رمضان کے مبارک ایام اب قریب الاختتام ہیں۔ ہمیں ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی صورت یہ اختیار کرنی چاہئے کہ آج اور کل کی دو راتوں میں ایسی دعائیں کی جائیں جو مشترکہ ہوں۔ چنانچہ حضورؓ نے خطبہ جمعہ میں جماعت کو اس امر کی طرف زوردار طریق پر توجہ دلائی اور دو راتوں کے لئے مندرجہ ذیل دو مشترکہ دعائیں تجویز فرمائیں۔
پہلی دعا۔’’ الٰہی تیرا عفو تام اور توبہ نصوح ہمیں میسر ہو۔ اور نہ صرف ہمیں میسر ہو بلکہ ہمارے خاندان کو ہمارے ہمسایوں کو، ہمارے دوستوں کو، ہمارے عزیزوں کو اور رشتہ داروں کو اور ہماری تمام جماعت کو، یہ نعمت میسر آجائے۔ خدایا ہم تیرے عاجز و خطاکار اور گنہگار بندے ہیں۔ ہم سخت کمزور اور ناتواں ہیں۔ جالوں اور پھندوں میں ہم نے اپنے آپ کو پھنسا رکھا ہے۔ ان میں سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں اور ہماری نجات کی کوئی صورت نہیں سوائے اس کے کہ تیرا عفو تام ہم پر چھا جائے۔ اور آئندہ کے لئے وہ توبہ نصوح ہمیں حاصل ہو جائے جس کے بعد کوئی ذلت اور کوئی تنزل نہیں ہے۔‘‘
دوسری دعا۔ ’’اے خدا تو کامل ہے۔ ہر تعریف سے مستغنی ہے۔ ہر عزت سے مستغنی ہے۔ ہر شہرت سے مستغنی ہے۔ تجھے اس بات کی کوئی حاجت نہیں کہ تیرے بندے تجھ پر ایمان لاتے ہیں یا نہیں۔ ان کے مان لینے سے تیری شان میں کوئی ترقی نہیں ہوسکتی۔ اور ان کے نہ ماننے سے تیری شان میں کوئی کمی نہیں آسکتی۔ مگر ہمارے رب! گو تو محتاج نہیں لیکن دنیا تیرے نور کی محتاج ہے۔ اور ہم تجھ سے درخواست کرتے ہیں کہ تیری صفات دنیا پر جلوہ گر ہوں۔ اور تیرا نور عالم پر پھیلے اور تمام بنی نوع انسان تجھ پر ایمان لائیں اور تیری بادشاہت دنیا میں قائم ہو۔ اے خدا اپنے لئے نہیں بلکہ اپنے غریب بندوں کی خاطر دنیا پر رحم فرما۔ اپنی خالقیت کے اظہار کے لئے نہیں بلکہ مخلوق پر ترحم اور شفقت کرنے کے لئے انہیں وہ راستہ دکھا جو انہیں تیرے قرب تک پہنچانے والا ہو۔ اور جس کے نتیجہ میں تیری بادشاہت دنیا پر قائم ہو جائے۔ تا بنی نوع انسان تیرے نور سے منور ہو جائیں۔ ان کے دل روشن ہو جائیں ان کی آنکھیں چمک اٹھیں اور ان کے ذہن تیز ہو جائیں۔‘‘
حضور نے مذکورہ بالا دعاؤں کا تذکرہ کرتے ہوئے احباب جماعت کو یہ بھی تلقین فرمائی کہ
’’سال میں سے کم از کم ایک دن تم خداتعالیٰ کے سامنے اپنے گناہوں پر روؤ اور خوشی کی چیز اس سے کوئی نہ مانگو۔ اس سے روپیہ نہ مانگو۔ اس سے پیسہ نہ مانگو۔ اس سے دولت نہ مانگو۔ اس سے صحت نہ مانگو۔ اس سے قرضوں کا دور ہونا نہ مانگو۔ اس سے اعزاز نہ مانگو۔ اس سے اکرام نہ مانگو۔ پھر یہی مانگو کہ خدایا تیرا عفو تام ہمیں حاصل ہو۔ اور توبہ نصوح ہمارے لئے میسر ہو جائے۔ اس دعا کو مختلف رنگوں میں مانگو۔ مختلف طریقوں سے مانگو۔ مختلف الفاظ میں مانگو۔ اپنے لئے مانگو۔ اپنی بیویوں کے لئے مانگو۔ اپنے بچوں کے لئے مانگو۔ اپنے دوستوں کے لئے مانگو۔ اپنے ہمسایوں کے لئے مانگو۔ اپنے شہر والوں کے لئے مانگو۔ اور پھر ساری جماعت کے لئے مانگو۔ مگر چیز ایک ہو۔ بات ایک ہو۔ رنگ ایک ہو۔سُر ایک ہو۔ تال ایک ہو۔ اور جو کہو اس کا خلاصہ یہ ہو۔ ہم تیرا عفو تجھ سے ہی چاہتے ہیں۔ پس اس عفو سے مانگو۔ اس غفّار سے مانگو۔ اس ستّار سے مانگو۔ اس توّاب سے مانگو۔ اور اگر تم اس سے رحمانیت مانگو۔ تو اسی لئے کہ وہ تمہیں اپنا عفو تام اور توبہ نصوح دے اور اگر رحیمیت مانگو تو بھی اسی لئے کہ وہ تمہیں اپنا عفو تام اور توبہ نصوح دے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 11؍ دسمبر 1936ء مطبوعہ الفضل 13؍دسمبر 1936ء)
قادیان کی عارضی اور دائمی کشش
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ تحریر کرتے ہیں کہ
’’رمضان کا مبارک مہینہ جو قادیان میں اپنے گوناگوں روحانی مناظر کی وجہ سے گویا ایک جیتی جاگتی مجسّم صورت اختیار کر لیتا تھا۔روزہ نفلی نمازیں۔ تراویح۔درس القرآن۔خاص دعائیں صدقہ وخیرات او ر بالآخر روحانی خوشی کی حامل عید وغیرہ۔ یہ وہ چیزیں تھیں جن سے قادیان کا رمضان ایک مجسم روحانی زندگی بن جاتا تھا اور اس زندگی میں جماعت کا ہر فرد بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا۔‘‘
( الفضل12؍دسمبر1948ء)
قادیان کی ان رونقوں کو درویشان قادیان نےآباد کیا۔ آج ہماری ذمہ داری ہےکہ ہم بھی رمضان المبارک کےبابرکت ایام سےزیادہ سے زیادہ مستفیض ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین