اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-03-12

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مقام و مرتبہ (منیر احمد خادم ایڈیٹر بدر قادیان)

اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ- اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۝ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۝ مٰلكِ یَوْمِ الدِّیْنِ ۝ اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَاِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ ۝ اِھْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِیْمَ۝ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ ۥۙ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَاالضَّاۗلِّیْنَ ۝
یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ۝ ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۝ وَّاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۝
(سورۃ الجمعہ آیت نمبر2تا4)
ترجمہ:اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔اللہ ہی کی تسبیح کرتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ وہ بادشاہ ہے۔ قدّوس ہے۔ کامل غلبہ والا (اور) صاحبِ حکمت ہے۔وہی ہے جس نے اُمّی لوگوں میں انہی میں سے ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ وہ اُن پر اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب کی اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے جبکہ اس سے پہلے وہ یقیناً کھلی کھلی گمراہی میں تھے۔اور انہی میں سے دوسروں کی طرف بھی (اسے مبعوث کیا ہے) جو ابھی اُن سے نہیں ملے۔ وہ کامل غلبہ والا (اور) صاحبِ حکمت ہے۔یہ اللہ کا فضل ہے وہ اُس کو جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔
قابل احترام صدر اجلاس اور معزز سامعین خاکسار نے ابھی جن آیات کریمہ کی تلاوت کی ہے دراصل یہی خاکسار کی تقریر کا موضوع ہے جیسا کہ آپ نے سن لیا ہے کہ خاکسار کو حکم ہوا ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مقام و مرتبہ کے بارے میں کچھ عرض کرو ں ۔
ان آیات کی تشریح میں حدیث نبوی کا حوالہ دیتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیںحدیث صحیح میںہے کہ اس آیت کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سلمان فارسی کی پشت پر رکھا اور فرمایا :لو کان الایمان معلقا بالثریا لنالہ رجل من فارس(بخاری)فرمایا:اور یہ میری نسبت پیشگوئی تھی جیسا کہ خدا تعالی نے براہین احمدیہ میں اس پیشگوئی کی تصدیق کی ہے وہی حدیث بطور وحی میرے پر نازل کی اور وحی کی رو سے مجھ سے پہلے اس کا کوئی مصداق معین نہ تھا اور خدا کی وحی نے مجھے معین کر دیا۔ الحمدللہ
(حقیقت الوحی صفحہ نمبر391 حاشیہ)
نیزفرمایا:۔ رجل فارس اور مسیح موعود ایک ہی شخص کے نام ہیں جیسا کہ قرآن شریف میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور وہ ہےوَّاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک اور فرقہ ہے جو ابھی ظاہر نہیں ہوا یہ تو ظاہر ہے کہ اصحاب وہی کہلاتے ہیں جو نبی کے وقت میں ہوں اور ایمان کی حالت میں اس کی صحبت سے مشرف ہوا اور اس سے تعلیم و تربیت پاویں۔پس اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنے والی قوم میں ایک نبی ہوگا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز ہوگا اس لیے اس کے اصحاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کہلائیں گے اور جس طرح صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے رنگ میں خدا تعالی کی راہ میںدینی خدمتیں ادا کیں یقینا وہ اپنے رنگ میں ادا کریں گے بہرحال یہ آیت آخری زمانے میں ایک نبی کے ظاہر ہونے کی نسبت ایک پیشگوئی ہے ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ ایسے لوگوں کا نام اصحاب رسول اللہ رکھا جائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیدا ہونے والے تھے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا آیت مندرجہ بالا میں یہ تو نہیں فرمایا واٰخرین من الامّۃ بلکہ یہ فرمایا و اٰخرین منھم اور ہر ایک جانتا ہے کہ منہم کی ضمیر اصحاب رضی اللہ عنہ کی طرف راجع ہے۔ لہٰذا وہی فرقہ منہم میں داخل ہو سکتا ہے جن میں ایسا رسول موجود ہو جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز ہو۔
(تتمہ حقیقت الوحی )
سامعین کرام! جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے آیت قرآنی واٰ خرین منھم لما یلحقوا بھمکی تشریح میں صحیح بخاری کے حوالہ سے فرمایا ہے کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ظل کامل اور ظلی نبی ہیں صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہیں فرمائی بلکہ سابقہ بزرگان اُمت مسیح موعود کے مقام و مرتبہ کے حوالہ سے ایسی پیشگوئیاں بیان کر چکے ہیں۔چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں:
اعظم الانبیاء شانا من لہ نوع آخر من البعث ایضا و ذالک ان یکون مُراد اللہ تعالیٰ فیہ ان یکون سببا لخروج الناس من الظلمات الی النور وان یکون قومہ خیر اُمۃ اُخرجت للناس فیکون بعثہ یتناول بعثا اُخر
(حجت اللہ البالغہ جلد اوّل باب حقیقۃ النبوۃ مطبو عہ مصر صفحہ نمبر 83 )
یعنی سب سے بڑا نبی شان میں وہ ہے جس کی ایک اور طرح کی بعثت بھی ہوگی اور اس دوسری بعثت سے اللہ تعالی کی مراد یہ ہے کہ وہ تمام لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لانےکا سبب ہو گاکہ اس کی امت تمام امتوں سے بہتر ہوگی جو کہ سب لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے۔ لہٰذا اس نبی کی پہلی بعثت دوسری بعثت کو بھی مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوگی ۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی آنے والے امام مہدی ومسیح موعودکے مقام و مرتبہ کا ذکر کرتے ہوئے اپنی کتاب الخیر الکثیر میں فرماتے ہیں۔
حَقٌّ لَهُ أَنْ يَنْعَكِسَ فِيهِ أَنْوَارُ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَزْعَمُ الْعَامَّةُ أَنَّهُ إِذَا نَزَلَ إِلَى الْأَرْضِ كَانَ وَاحِدًا مِنَ الْأُمَّةِ كَلَّا بَلْ هُوَ شَرْحُ لِلاسْمِ الْجَامِعِ الْمُحَمَّدِيِّ وَنُسْخَةٌ مُنْتَسِخَةٌ مِنْهُ فَشَتّانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحَدٍ مِنَ الْأُمَّةِ
(الخير الكثير صفحه ۷۲ مطبوعه بجنور )
یعنی اُمت محمدیہ میں آنے والےامام مہدی مسیح موعود کا یہ حق ہے کہ اس میں سید المرسلین صلی اللہ علیہ و سلم کے انوار کا انعکاس ہو۔ عام لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ جب تشریف لائیں گے تو محض ایک اُمتی ہوں گے یہ ہر گز نہیں وہ تو اسم جامع محمدمی کی پوری تشریح ہوگا اور اس کی True copyہوگا۔پس اس میں اور ایک عام اُمتی کے درمیان ایک بڑا فرق ہوگا حضرت امام عبد الرزاق قاشانی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
الْمَهْدِيُّ الَّذِي يَجِيیُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ فَإِنَّهُ يَكُونَ فِي الْأَحْكَامِ الشَّرْعِيَّةِ تَابِعَالِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْمُعَارِفِ وَالْعُلُومِ وَالْحَقِيقَةِ تَكُونُ جَمِيعُ الْأَنْبِيَاءِ وَالْأَوْلِيَاءِ تَابِعِينَ لَهُ كُلُّهُمْ .... لِأَنَّ بَاطِنَهُ بَاطِنُ محَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (شرح فصوص الحكم مطبوعه مصر)
یعنی آخری زمانے میں آنے والا مہدی احکام شرعیہ میں تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا تابع ہوگا لیکن علوم و معارف اور حقیقت ہیں آپ کے سوا انبیاء اور اولیا ءمہدی کے تابع ہوں گے کیونکہ مہدی کا باطن حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا باطن ہے۔
پس آنے والے امام مہدی اور مسیح موعود کا اصل مقام یہ ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز کامل ہے۔چنانچہ یہ بروز کامل عین پیشگوئیوں کے مطابق جس میں سابقہ انبیاء کی پیشگوئیاں اور سردار دو جہاں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیاں بھی شامل ہیں ۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلٰوۃ والسلام کےوجود باوجود میں ظاہر ہوا جنہوں نے خدائے قدوس کی ذات بابرکات کی طرف منسوب کر کے اعلان فرمایا کہ :
’’اس نے مجھے بھیجا ہے اور میرے پر اپنے خاص الہام سے ظاہر کیا کہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے چنانچہ اس کا الہام یہ ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تو آیا ہے وکان وعد اللہ مفعولا ۔انت معی وانت علی الحق المبین وانت معین و مصیب للحق ۔یعنی اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہنے والا ہے تو میرے ساتھ ہے اور تو واضح حق پر ہے اور تو مددگار ہے اور تو درست راہ پر ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام صفحہ نمبر 302 )
نیز فرمایا:۔ بذریعہ وحی الہی میرے پربتصریح کھولا گیا کہ وہ مسیح جو اُمت کے لیے ابتدا سے موعود تھا اور وہ آخری مہدی جو تنزل اسلام کے وقت اور گمراہی کے پھیلنے کے زمانے میں براہ راست خدا سے ہدایت پانے والا اور اس آسمانی مائدہ کو نئے سرے انسانوں کے آگے پیش کرنے والا تقدیر الٰہی میں مقرر کیا گیا تھا۔ جس کی بشارت آج سے تیرہ برس پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی وہ میں ہی ہوں اورمکالمات الہیہ ومخاطبات رحمانیہ اس صفائی اورتواتر سے اس بارے میں ہوئے کہ شک و شبہ کی جگہ نہ رہی ہر ایک وحی جو ہوتی ایک فولادی میخ کی طرح دل میں دھنستی تھی اور یہ تمام مکالمات الٰہیہ ایسی عظیم الشان پیشگوئیوں سے بھرے ہوئے ہوتے کہ روز روشن کی طرح وہ پورے ہوتے اور ان کی تواتر اور کثرت اور اعجازی طاقتوں کے کرشمے نے مجھے اس بات کےا قرار کے لیے مجبور کیا کہ یہ اس وحدہ لا شریک خدا کا کلام ہے جس کا کلام قرآن شریف ہے۔
(تذکرۃ الشہادتین صفحہ نمبر1،2 اور صفحہ نمبر 22)
سامعین کرام !حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ چونکہ آپ حسب آیت و اٰخرین منہم لما یلحقوا بھم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز کامل ہیں اس لیے آپ کے دور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات بارش کی طرح برسیں گے۔ چنانچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ آپکے دور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بابرکت معجزات بارش کی طرح بر سے اور یہی آپ کی صداقت کی عظیم الشان دلیل ہے۔
فرمایا:اِس آیت کے معنے یہ ہیں کہ کمال ضلالت کے بعد ہدایت اور حکمت پانے والے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور برکات کو مشاہدہ کرنے والے صرف دوہی گروہ ہیں اوّل صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے سخت تاریکی میں مبتلا تھے اور پھر بعد اس کے خدا تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے
زمانہ نبوی پایا اور معجزات اپنی آنکھوں سے دیکھے اور پیشگوئیوں کا مشاہدہ کیا اور یقین نے اُن میں ایک تبدیلی پیدا کی کہ گو یا صرف ایک روح رہ گئے۔ دوسرا گروہ جو بموجب آیت موصوفہ بالا صحابہ کی مانند ہیںمسیح موعود کا گروہ ہے کیونکہ یہ گروہ بھی صحابہؓ کی مانند آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کو دیکھنے والا ہے اور تاریکی اور ضلالت کے بعد ہدایت پانے والا۔ اور آیت اخَرِينَ مِنْهُمْ میں جو اس گروہ کو منهُمْ کی دولت سے یعنی صحابہ سے مشابہہ ہونے کی نعمت سے حصہ دیا گیا ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے یعنی جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کے معجزات دیکھے اور پیشگوئیاں مشاہدہ کیں ایسا ہی وہ بھی مشاہدہ کریں گے اور درمیانی زمانہ کو اس نعمت سے کامل طور پر حصہ نہیں ہو گا چنانچہ آجکل ایسا ہی ہوا کہ تیرہ سو برس بعد پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کا دروازہ کھل گیا اور لوگوں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا کہ خسوف کسوف رمضان میں موافق حدیث دارقطنی اور فتاوی ابن حجر کے ظہور میں آگیا یعنی چاند گرہن اور سورج گرہن رمضان میں ہوا اور جیسا کہ مضمون حدیث تھا اسی طرح پر چاند گرہن اپنے گرہن کی راتوں میں سے پہلی رات میں اور سورج گرہن اپنے گرہن کے دنوں میں سے بیچ کے دن میں وقوع میں آیا۔ ایسے وقت میں کہ جب مہدی ہونے کا مدعی موجود تھا اور یہ صورت جب سے کہ زمین اور آسمان پیدا ہوا کبھی وقوع میں نہیں آئی کیونکہ اب تک کوئی شخص نظیر اس کی صفحہ تاریخ میں ثابت نہیں کر سکا سو یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ تھا جو لوگوں نے آنکھوں سے دیکھ لیا۔ پھر ذوالسنین ستارہ بھی جس کا نکلنا مہدی اور مسیح موعود کے وقت میں بیان کیا گیا تھا ہزاروں انسانوں نے نکلتا ہوا دیکھ لیا۔ ایسا ہی جاوا کی آگ بھی لاکھوں انسانوں نے مشاہدہ کی۔ ایسا ہی طاعون کا پھیلنا اور حج سے روکے جانا بھی سب نے بچشم خود ملاحظہ کر لیا۔ ملک میں ریل کا تیار ہونا۔ اُونٹوں کا بیکار ہونا یہ تمام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات تھے جو اس زمانہ میں اس طرح دیکھے گئے جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے معجزات کو دیکھا تھا۔ اسی وجہ سے اللہ جل شانہ نے اس آخری گروہ کو منھم کے لفظ سے پکارا تا یہ اشارہ کرے کہ معائنہ معجزات میں وہ بھی صحابہ کے رنگ میں ہی ہیں۔ سوچ کر دیکھو کہ تیرہ سو برس میں ایسا زمانہ منہاج نبوت کا اور کس نے پایا۔ اس زمانہ میں جس میں ہماری جماعت پیدا کی گئی ہے کئی وجوہ سے اس جماعت کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشابہت ہے۔ وہ معجزات اور نشانوں کو دیکھتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے دیکھا۔ وہ خدا تعالیٰ کے نشانوں اور تازہ بتازہ تائیدات سے نور اور یقین پاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے پایا۔ وہ خدا کی راہ میں لوگوں کے ٹھٹھے اور ہنسی اور لعن طعن اور طرح طرح کی دل آزادی اور بد زبانی اور قطع رحم و غیرہ کا صدمہ اُٹھا رہے ہیں جیسا کہ صحابہ نے اُٹھایا۔ وہ خدا کے کھلے کھلے نشانوں اور آسمانی مددوں اور حکمت کی تعلیم سے پاک زندگی حاصل کرتے جاتے ہیں جیساکہ صحابہ نے حاصل کیا ۔ بہتیرے ان میں سے ہیں کہ نماز میں روتے اور سجدہ گاہوں کو آنسوؤں سے تر کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم روتے تھے بہتیرے ان میں ایسے ہیں جن کو سچی خوابیں آتی ہیں اور الہام الٰہی سے مشرف ہوتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم ہوتے تھے بہتیرے ان میں ایسے ہیں کہ اپنے محنت سے کمائے ہوئے مالوں کو محض خدا تعالیٰ کی مرضات کے لئے ہمارے سلسلہ میں خرچ کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم خرچ کرتے تھے ۔ ان میں ایسے لوگ کئی پاؤ گے کہ جو موت کو یا د رکھتے اور دلوں کے نرم اور سچی تقوی پر قدم مار رہے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی سیرت تھی۔ وہ خدا کا گروہ ہے جن کو خدا آپ سنبھال رہا ہے اور دن بدن اُن کے دلوں کو پاک کر رہا ہے اور ان کے سینوں کو ایمانی حکمتوں سے بھر رہا ہے اور آسمانی نشانوں سے اُن کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے جیسا کہ صحابہ کوکھینچتا تھا غرض اس جماعت میں وہ ساری علامتیں پائی جاتی ہیں جو اخرین مِنْهُمْ کے لفظ سے مفہوم ہو رہی ہیں اور ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کا فرمودہ ایک دن پورا ہوتا ۔
(ایام الصلح بحوالہ تفسیر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام
تفسیر سورۃ الجمعہ صفحہ نمبر 128-129)
سیدنا حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز کامل ہونے کا مطلب واضح کرتے ہوئے سمجھاتے ہیں کہ آیت اٰخرین مِنْهُم لمّایلحقو بہم کا مطلب یہ ہے کہ
’’ ہمارے خالص اور کامل بندے بجز صحابہ رضی اللہ عنہ کے اور بھی ہیں جن کا گروہ کثیر آخری زمانے میں پیدا ہوگا اور جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کی تربیت فرمائی ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس گروہ کی بھی باطنی طور پر تربیت فرمائیں گے یعنی وہ لوگ ایسے زمانہ میں آئیں گے کہ جس زمانہ میں ظاہری افادہ اور استفادہ کا سلسلہ منقطع ہو جائے گا اور مذہب اسلام بہت سی غلطیوں اور بدعتوں سے پُر ہو جائے گا اور فقراء کے دلوں سے بھی باطنی روشنی جاتی رہے گی تب خدا تعالی کسی نفس سعید کو بغیر وسیلہ ظاہری سلسلوں اور طریقوں کے صرف نبی کریم کی روحانیت کی تربیت سے کمال روحانیت تک پہنچا دے گا اور اس کو ایک گروہ کثیر بنائے گا اور وہ گروہ صحابہ کے گروہ سے نہایت شدید مشابہت پیدا کرے گا کیونکہ وہ تمام و کمال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی زراعت ہوگی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان ان میں جاری و ساری ہوگا۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود ؑ سورۃ الجمعہ)
محترم سامعین! امام مہدی و مسیح موعود کا عظیم مرتبہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے سخت مشکل اور مخالفت کے حالات میں بھی امام مہدی علیہ السلام کے متعلق ارشاد فرمایا ہے کہ ان کو آپ کا سلام پہنچایا جائے اور اُن کی بیعت کی جائے چنانچہ آپ کا فرمان ہے:
اَلَا إِنّ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ وَلَا رَسُولٌ انّہُ خَلِيفَتِي فِي أُمَّتِي مِنْ بَعْدِى، اَلَا إِنَّهُ يَقْتُلُ الدَّجَّالَ وَيَكْسِرُالصلیب وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ، وَتَضَعُ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَاالَا مَنْ أَدْرَكَهُ فَلْيَقْرَأُ علیہ السلام
(طبرانی الاوسط والصغیر بحوالہ حدیقہ الصالحین حدیث نمبر 954)
غور سے سنو!کہ مسیح موعود اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں ہوگا اور نہ رسول غور سے سنو کہ وہ میرے بعد میری امت میں میرا خلیفہ ہوگا پھر غور سے سنو وہ دجال کو روحانی اعتبار سے قتل کرے گا صلیب یعنی صلیبی عقیدے کو پاش پاش کرے گا جزیہ کو ختم کر دے گا یعنی مذہبی جنگوں کا خاتمہ ہوگا اور غور سے سنو جو بھی ان کو پائے ان کو میرا سلام پہنچائے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم فرمایا کہ جیسے بھی مشکل حالات پیش آئیں امام مہدی کے پاس حاضر ہوں اور اس کی بیعت کریں فرمایا۔
فا ذا رایتمو ہ فبایعوہ ولو حبوًا علی الثلج فانہ خلیفۃ اللہ المہدی(ابو داود جلد 2 باب خروج المھدی)
کہ اے لوگو جب تمہیں اس کا علم ہو جائے تو تم اس کی بیعت کرو خواہ تمہیں برف پر سے گھٹنوں کے بل جانا پڑے یعنی کیسے ہی مشکل اور مخالفانہ حالات میں اس کی بیعت کرنی پڑے ضرور اس کی بیعت کر لینا کیونکہ وہ مہدی اللہ کا خلیفہ ہوگا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ فرمودات سے امام مہدی کے مقام و مرتبہ کا علم ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ کی طاقتوں کا قلع قمع کرے گا صلیبی عقائد کا بُطلان کرے گا دنیا سے مذہبی جنگوں کا خاتمہ کر کے امن و امان کوقائم کرے گا اس کی بیعت کرنا ضروری ہوگا اس کو انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پہنچانا ضروری ہوگا اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اس کو اور اس کے اور میرے درمیان نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ رسول ہوگا اس لیے کہ وہ اللہ کا خلیفہ ہے ۔
محترم سامعین !حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام نے پہلی بیعت 23 مارچ 1889 میں لی تھی یہ بیعت بڑھتے بڑھتے اور پھلتے پھولتےسوا سو سالوں میں دنیا کے دو صد سے زائد ملکوں میں پھیل گئی ہےپہلے خلفاء احمدیت اور مبلغین سلسلہ کے ذریعے دنیا کے ملکوں اور براعظموں اور شہروں اور بستیوں میں یہ بیعت شروع ہوئی تو اب یہ بیعت ایک ہی وقت میں سیٹیلائٹ کے ذریعہ خلیفہ وقت کے مبارک ہاتھ پر کی جاتی ہے۔ اس حوالے سے بزرگان سلف کی پیش گوئیاں بھی تھیں۔چنانچہ حضرت شاہ رفیع الدین صاحب دہلوی اپنی کتاب قیامت نامہ کے صفحہ 4 پر لکھتے ہیں :
و علامت ایں قصہ آنست کی پیش ازیں ماہ رمضان کہ گزشتہ باشددر دی دو کسوف شمس و قمر شدہ باشد و در وقت بیعت آوازی از آسمان شود بایں عبارت ھذا خلیفتہ المھدی فاسمعوا لہ واطیعوا ایں آواز خاص و عام آ نمکاں بہمہ بشنود(قیامت نامہ صفحہ 4 مطبوعہ در مطبع مجتبائی واقع دہلی)یعنی اس واقعہ کی نشانی یہ ہے کہ امام مہدی کے زمانہ میں ماہ رمضان میں جب سورج چاند گرہن واقع ہو چکا ہوگا۔بیعت کے وقت ان الفاظ میں آسمان سے آواز آئے گی۔
ھذا خلیفتہ المھدی فاسمعوا لہ واطیعوا۔کہ یہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہے اسکی سنو اور اسکی اطاعت کرو۔
الحمد للہ کہ یہ عالمی بیعت ہر سال جلسہ سالانہ یوکے کے موقع پر ہوتی ہے۔جس کی ابتداء 1993 ء سے ہوئی تھی اور اس پر 30 سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے۔اور ہر سال ہزاروں لو گ سلسلہ عالیہ احمدیہ میں شامل ہوتےجا رہےہیں اور ہر سال یہ ندا دی جاتی ہے کہ یہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہے اسکی سنو اور اسکی اطاعت کرو۔یہ ہے مہدی و مسیح موعود کا عظیم الشان مقام و مرتبہ جو آج کے اس دور میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو حاصل ہے۔آپ فرماتے ہیں:
مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جو لوگ حق کے طالب ہیں وہ سچا ایمان اور سچی ایمانی پاکیزگی اور محبت مولیٰ کا راہ سیکھنے کیلئے اور گندی تربیت اورکاہلانہ اور غدارانہ زندگی چھوڑنے کیلئے مجھ سے بیعت کریں۔
(اشتہار یکم دسمبر 1888ء مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 188)
محترم سامعین کرام!آنے والے امام مہدی و مسیح موعود کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے قرآن مجید میں یہ بھی پیشگوئی تھی کہ ان کے زمانہ میں اسلام کو عالمگیر روحانی غلبہ نصیب ہوگا۔چنانچہ فرمان الٰہی ہے:
ہُوَ الَّذِی اَرسَلَ رَسُولَہٗ بِالہُدٰی وَدِینِ الحَقِّ لِیُظہِرَہٗ عَلَی الدِّینِ کُلِّہٖ وَلَو کَرِہَ المُشرِکُونَ
(الصف 10)
یعنی و ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اُسے دین کے ہر شعبہ پر کلیتہً غالب کردے خواہ مشرک برا ہی منائیں۔اس آیت کی تشریح میں بزرگان سلف فرماتے ہین کہ تمام ادیان پر اسلام کا غلبہ مہدی معہود و مسیح موعود کے زمانہ میں ہوگا۔
تفسیر ابن جریر میں لکھا ہے ہذا عند خروج المہدی کہ یہ غلبہ اسلام جو مذکورہ آیت مبارکہ میں بیان ہوا ہے امام مہدی کے زمانہ میں ہوگا۔
تفسیر جامع البیان میں لکھا ہے:۔و ذالک عند نزول عیسی بن مریم کہ یہ غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ہوگا۔
شیعہ حضرات کی معروف کتاب بحارالانوار میں لکھا ہے:
نزلت فی القائم من اٰل محمد
(بحار الاانوار جلد 13 صفحہ 13)
کہ یہ آیت القائم یعنی امام مہدی کے متعلق نازل ہوئی ہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :
تخمیناً عرصہ 20 برس کا گذرا ہے کہ مجھ کو اس قرآنی آیت کا الہام ہوا تھا اور وہ یہ ہے هُوَ الَّذِى أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ( وہ خدا جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا وہ اپنے دین کو تمام دینوں پر غالب کرے گااور مجھ کو اس الہام کے یہ معنے سمجھائے گئے تھے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تا میرے ہاتھ سے خدا تعالیٰ اسلام کو تمام دینوں پر غالب کرے۔ اور اس جگہ یاد رہے کہ یہ قرآن شریف میں ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے جس کی نسبت علماء محققین کا اتفاق ہے کہ یہ مسیح موعود کے ہاتھ پر پوری ہو گی سو جس قدر اولیاء اور ابدال مجھ سے پہلے گزر گئے ہیں کسی نے ان میں سے اپنے تئیں اس پیشگوئی کا مصداق نہیں ٹھہرایا اور نہ یہ دعوی کیا کہ اس آیت مذکورہ بالا کا مجھ کو اپنے حق میں الہام ہوا ہے لیکن جب میرا وقت آیا تو مجھ کو یہ الہام ہوا اور مجھ کوبتلا یا گیا کہ اس آیت کا مصداق تُو ہے اور تیرے ہی زمانہ میں دین اسلام کی فوقیت دوسرے دینوں پر ثابت ہو گی۔ (تر یاق القلوب صفحہ 47)
سامعین کرام!سیدنا حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ السلام کا عظیم الشان مقام و مرتبہ یہ ہے کہ آپ خلیفۃ اللہ ہیں اور خلیفۃ اللہ ہونے کے لحاظ سے آپ نبی اللہ ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ:
لیس بینی و بینہ نبی کہ میرے اور امام مہدی کے درمیان اور کوئی نبی نہیں ہوگا۔ ابو بکر خیر الناس بعدی الا ان یکون نبی
(کنز العمال 62 صفحہ 137-138)
کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں میں سب سے بہتر ہیں سوائے اس کے کہ کوئی نبی پیدا ہو۔
آپ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تا قیامت جاری رہنے والی خلافت کی بشارت دی تھی۔حضرت حُذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
’’ تم میں نبوت قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا پھروہ اُسے اُٹھا لے گا اور پھر خلافت علی منہاج النبوت قائم ہو گی پھر اللہ اس کو بھی اُٹھا لے گا۔۔۔۔۔پھر دور بادشاہت آئے گا جب تک اللہ چاہے گا وہ قائم رہے گا اور پھر اللہ اس کو بھی اُٹھا لے گا پھر نبوت کے طریق پر خلافت قائم ہو گی یہ فرما کر آپ خاموش ہوگئے۔‘‘
نیز فرمایا : اگرتو اللہ کے خلیفہ کو زمین میں دیکھے تو اس کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ چمٹ جا خواہ تیرا جسم نوچ لیا جائے اور تیرا مال چھین لیا جائے۔
(مسند احمد بن حنبل حدیث حدیفہ بن الیمان حدیث نمبر 22916)
سامعین کرام: آج یہی خلیفۃ اللہ ظاہر ہو چکا ہے جس کے مقام و مرتبہ کا ذکر اس مختصر سی تقریر میں کیا گیا ہے۔آج اسی خلیفۃ اللہ کے جانشین کے ذریعہ اسلام کی روشنی دنیا کے 220 ملکوں میں پھیل چکی ہے اور بفضلہ تعالیٰ دن بدن پھیلتی چلی جا رہی ہے۔
حضرت اقدس امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جماعت کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں:
’’اگر آپ نے ترقی کرنی ہےاور دنیا پر غالب آنا ہے تو میری نصیحت ہے اور میرا یہی پیغام ہے کہ آپ خلافت سے وابستہ ہو جائیں اس حبل اللہ کو مضبوطی سے تھا مے رکھیں۔ہماری سارے ترقیات کا دارمدار خلافت سے وابستگی میں ہی پنہاں ہے۔‘‘
(بحوالہ بدر 18/25دسمبر 2008 خلافت جوبلی نمبر)
نیز فرمایا:آج دنیا سخت بدامنی کا شکار ہے مسلمان مسلمان سے دور ہے مختلف فرقوں میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کے خلاف نفرتوں کا شکار ہے ایک ہی کلمہ پڑھنے والے ایک ہی نبی کی طرف منسوب ہو کر ایک دوسرے کے خلاف محاذ آراء ہیں قران کریم اور احادیث کے خزانے موجود ہونے کے باوجود آج مسلمان اس قیادت کی پہچان سے محروم ہیں جو خدا نے انہیں ایک ہاتھ میں جمع کرنے کے لیے مامور فرمائی ہے آپ خوش نصیب ہیں کہ آپ کو حضرت امام الزمان مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہونے کے ساتھ نظام خلافت سے وابستگی کی توفیق عطا ہوئی ہے جو خدا کے فضل سے دائمی ہے جس قدر آپ کا خلیفہ وقت سے ذاتی تعلق ہوگا اس قدر آپ دینی و دنیوی حسنات سے حصہ پائیں گے آپ کے آپس کے تعلقات میں بھی بہتر ی آئے گی معاشرے میں بھی امن کی فضا قائم ہوگی اس لیے عافیت کے اس حصار سے فیض پانے کے لیے آپ سب کو خلافت سے اپنے تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کرنا ہوگا غلبہ اسلام اورامن عالم کے لیے دعائیں کرنی ہوں گی اپنے معیاروں کو بلند کرنا ہوگا اور اپنے عہدے داران کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے خلافت کے دست وبازو اور خلیفہ وقت کے لیے سلطان نصیر بننا ہوگا۔
(بحوالہ بدر 18/25دسمبر 2008ء خلافت جوبلی نمبر)