وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا
نام اس کا ہے محمد دلبر میرا یہی ہے
بعد از خدا بعشق محمد مخمرم
گر کفرایں بود بخدا سخت کافرم
تمہید :
نبی رحمت سرور کائنات ﷺ سے محبت رکھنا ہر مسلمان کے ایمان کا ایک لازمی جز ہے ، بغیر محبت رسول ایمان کامل نہیں ہو سکتا کیونکہ خدا واحد لاشریک نے قرآن مجید میں اس امر کا واضح ذکر فرمایا ہے کہ :
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ۰ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۳۱
ترجمہ :-تو کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرےگا اور تمہارے گناہ بخش دے گا ۔ اور اللہ بہت بخشنے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے ۔
(سورۃ اٰل عمران :32)
مذکورہ بالا ہدایت ربانی کے تحت ہر مسلمان کا یہ فریضہ ہے کہ اس کے دل میں محبت رسول اس قدر ہو کہ وہ محبت قربِ الٰہی کا ذریعہ بن جائے۔اوراسی طرح صرف محبتِ رسول کے دعوے کافی نہیں بلکہ محبت کے کچھ تقاضے بھی ہیں جن میں اطاعت کو پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے اور اسی طرح عقیدت محبت کی ایک شرط یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ انسان اس کے رنگ میں رنگین ہوجس سے محبت رکھتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں صِبْغَةَ اللهِ اختیارکرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ : صِبْغَۃَ اللہِ۰ۚ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللہِ صِبْغَۃً۰ۡوَّنَحْنُ لَہٗ عٰبِدُوْنَ
ترجمہ : اللہ کا رنگ پکڑو ۔ اور رنگ میں اللہ سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے اور ہم اسی کی عبادت کرنےوالےہیں ۔ (سورۃ البقرۃ :139)
شرف محبت رسول اللہ ﷺ
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے صِبْغَةَ اللہِ اختیار کرتے ہوئے محبِ رسول ﷺ ہونے کا پورا حق ادا فرمایا جس کےنتیجہ میں آپ علیہ السلام کو محبِ رسول ہونے کا شرف حاصل ہوا جیسا کہ حضور اپنے منظوم کلام میںبھی فرماتے ہیں کہ
جب سے یہ نور ملا نورِ پیمبرؐسے ہمیں
ذات سے حق کی وجود اپنا ملایا ہم نے
مصطفیٰ ؐپر ترا بے حد ہو سلام اور رحمت
اُس سے یہ نور لیا بارِ خدایا ہم نے
ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مُدام
دل کو وہ جامِ لبالب ہے پلایا ہم نے
اُس سے بہتر نظر آیا نہ کوئی عالم میں لَاجرم
غیروں سے دل اپنا چھڑایا ہم نے
زندگی کا اسوۃ حسنہ
مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے Idol of life محمد رسول للہ ﷺ کو قرار دیا ہے ۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ نے کامل طور پر اللہ کا رنگ اختیار فرمایاتھا اور اسی بناء پر اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو حکم فرمایا ہے :
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللہَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَرَ اللہَ كَثِيْرًا
(احزاب :22)
ترجمہ : یقینا تمہارے لئے اللہ کے رسول میں نیک نمونہ ہے ہر اس شخص کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہے۔
الغرض قرآن کریم کی تعلیمات کے مطابق ہر مسلمان کے لئے بانی اسلام حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کےطرز عمل / طریقِ عبادت اور بانی اسلام کے ساتھ محبت رکھنا اور محبت کا اظہار صرف زبان سے نہیں بلکہ دل اور عمل سے اس کا اظہار بھی ضروری قرار دیا ہے یعنی محبِ رسول ﷺ کی زبان اس کا کردار اس کے اخلاق اس کے عادات اس کے معاشرتی اعمال اس کے دوستی کےاصول اس کے عبادت کا معیار اس کا ہر فردِ بشر سے خواہ وہ اپنا ہو یا غیر ہو اس بات کی گواہی دے کہ وہ اپنے آقا کے رنگ میں رنگین ہے ۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے منظوم کلام میں کیا خوب فرمایا ہے
سب ہم نے اس سے پایا شاہد ہے تو خدایا
وہ جس نے حق دکھایا وہ مہ لقاء یہی ہے
باغِ احمد سے ہم نے پھل کھایا
میر ا بستان کلام احمد ہے
جب حقیقی محبت نصیب ہو تو پھر اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق اس اطاعت کے نتیجہ میں افضال برکات اور انوار کا وارث قرار دیا جاتا ہے جس کی تفصیل قرآن کریم نے یوں بیان فرمائی ہے کہ
وَمَنْ يُّطِعِ اللہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَيْہِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّہَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ۰ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕكَ رَفِيْقًا
(النّساء:70)
ترجمعہ : اور جو بھی اللہ کی اور اس رسول کی اطاعت کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے (یعنی ) نبیوں میںسے ،صدیقوں میںسے اور صالحین میںسے ۔ اور یہ بہت ہی اچھے ساتھی ہیں ۔
حقیقی محبت رسول ﷺ سے قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیت سے چار درجات عطا ہونے کا وعدہ ہے یعنی جس کے اندر بانی اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا حقیقی عشق ہو اور اطاعت رسول ﷺ میں فنا ہو اس کو اللہ تعالیٰ ان درجات میں سے جو چاہے درجہ عطاءکر سکتا ہے یعنی نبی/صدیق/شھید/صالح ان درجات کا وعدہ خدا تعالیٰ نے دیا ہے ۔
محبت رسول ﷺکے ثمراتِ حسنہ :
بعثت ثانیہ میںمذکورہ بالا نویدات الہیہ اور آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے عین مطابق حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے ظلّی نبوت کا اعلان فرمایا ہے ۔ اس اعلان کے بعد نام نہاد علماء نے عوام الناس کو یہ کہہ کر انہیںانگیخت کیا کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نعوذباللہ اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ سے بڑا سمجھتے ہیں ۔
اسی ضمن میں حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں : حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب مسیح موعود اور مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کیا اُس وقت سے لے کر آج تک مخالفینِ احمدیت یا نام نہاد علماء آپ پر بہت سے اعتراضات کرتے چلے آرہے ہیں اور الزامات لگاتے چلے آرہے ہیں۔ بہرحال یہ تو ان کی عادت ہے کرتے رہیں گے اور اس وجہ سے عامۃ المسلمین کو گمراہ کر رہے ہیں یا گمراہ کرنے کی کوشش کرتے چلے جا رہے ہیں۔ اور سب سے بڑا الزام جو یہ لوگ مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے اور انہیں انگیخت کرنے کے لئے لگاتے ہیں یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آپ کو نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا سمجھتے ہیں۔ بلکہ ان علماء کی اپنے مقاصد کے حاصل کرنے کے لئے جھوٹ اور ظلم کی یہ انتہا ہے کہ یہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بعض ایسے الفاظ کہے ہیں جن سے آپﷺ کی ہتک ہوتی ہے۔ اور یہی الزام یہ لوگ آج جہاں جہاں ان کو موقع ملتا ہے جہاں ان کی طاقت ہے افرادِ جماعتِ احمدیہ پر بھی لگاتے ہیں کہ احمدی نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا سمجھتے ہیں۔ جن سعید فطرت لوگوں نے جب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھیں، جماعت کا لٹریچر پڑھا یا آپ کے ارشادات سنے انہیں فوری طور پر یہ بات سمجھ آگئی کہ ان نام نہاد اور فتنہ گر علماء نے صرف فتنہ پیدا کرنے کے لئے یہ الزامات لگائے ہیں، ( خطبہ جمعہ 18 دسمبر 2025)حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حضور علیہ السلام اپنے آقا حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کے رنگ میں رنگین پائے جاتے ہیں۔
رنگ محمد ﷺ کے رنگین پہلو
چنانچہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تعلق میں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب تحریر فرماتے ہیں : حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آقا کے اخلاق میں رنگین تھے۔ آپ نہایت رؤف رحیم تھے۔ سخی تھے۔ مہمان نواز تھے۔ اشجع الناس تھے۔ ابتلاؤں کے وقت جب لوگوں کے دل بیٹھے جاتے تھے آپ شیر نر کی طرح آگے بڑھتے تھے۔ عفو، چشم پوشی، فیاضی، دیانت، خاکساری، صبر، شکر، استغنا، حیا، غضِ بصر، عفت، محنت، قناعت، وفاداری، بے تکلفی، سادگی، شفقت، ادب الٰہی، ادب رسول و بزرگانِ دین، حلم، میانہ روی، ادائیگی حقوق، ایفائے وعدہ، چُستی،ہمدردی،اشاعتِ دین، تربیت، حسنِ معاشرت، مال کی نگہداشت، وقار، طہارت، زندہ دلی اور مزاح، رازداری، غیرت، احسان، حفظ مراتب، حسن ظنی، ہمت اور اولوالعزمی، خودداری، خوش روئی اور کشادہ پیشانی، کظم غیظ، کفِ ید و کفِ لسان، ایثار، معمور الاوقات ہونا، انتظام، اشاعتِ علم و معرفت، خدا اور اس کے رسول کا عشق، کامل اتباعِ رسول، یہ مختصراً آپ کے اخلاق و عادات تھے۔
آپ میں ایک مقناطیسی جذب تھا۔ ایک عجیب کشش تھی، رعب تھا، برکت تھی، مونست تھی ،بات میں اثر تھا، دعامیں قبولیت تھی، خدام پروانہ وار حلقہ باندھ کر آپ کے پاس بیٹھتے تھے۔ اور دلوں سے زنگ خود بخود دھلتا جاتا تھا۔
بے صبری۔ کینہ۔ حسد۔ ظلم۔ عداوت۔ گندگی۔ حرص دنیا۔ بدخواہی۔ پردہ دری۔ غیبت۔ کذب۔ بے حیائی۔ ناشکری۔ تکبر۔ کم ہمتی۔ بخل۔ تُرش روئی و کج خلقی۔ بزدلی۔ چالاکی۔ فحشاء۔ بغاوت۔ عجز۔ کسل۔ ناامیدی۔ ریا۔ تفاخرِ ناجائز۔ دل دکھانا۔ استہزاء۔ تمسخر۔ بدظنی۔ بے غیرتی۔ تہمت لگانا۔ دھوکا۔ اسراف و تبذیر۔ بے احتیاطی۔چغلی۔ لگائی بجھائی۔ بے استقلالی۔ لجاجت۔ بے وفائی۔ لغو حرکات یا فضولیات میں انہماک، نا جائز بحث و مباحثہ۔ پُر خوری۔ کن رسی۔ افشائے عیب۔ گالی۔ ایذاء رسانی۔ سفلہ پن۔ ناجائز طرفداری۔ خودبینی۔ کسی کے دکھ میں خوشی محسوس کرنا۔ وقت کو ضائع کرنا۔ ان باتوں سے آپ کوسوں دور تھے۔
آپ فصیح و بلیغ تھے۔ نہایت عقلمند تھے۔ دور اندیش تھے۔ سچے تارک الدنیا تھے۔ سلطان القلم تھے اور حسب ذیل باتوں میں آپ کو خاص خصوصیت تھی۔ خدا اور اس کے رسول کا عشق، شجاعت، محنت، توحید و توکل علی اللہ، مہمان نوازی، خاکساری، اور نمایاں پہلو آپ کے اخلاق کا یہ تھا کہ کسی کی دل آزاری کو نہایت ہی ناپسند فرماتے تھے۔ اگر کسی کو بھی ایسا کرتے دیکھ پاتے تو منع کرتے۔
آپ نماز با جماعت کی پابندی کرنے والے، تہجد گزار، دعا پر بے حد یقین رکھنے والے، سوائے مرض یا سفر کے ہمیشہ روزہ رکھنے والے، سادہ عادات والے، سخت مشقت برداشت کرنے والے اور ساری عمر جہاد میں گزارنے والے تھے۔
آپ نے انتقام بھی لیا ہے۔ آپ نے سزا بھی دی ہے۔ آپ نے جائز سختی بھی کی ہے۔ تادیب بھی فرمائی ہے یہاں تک کہ تادیباً بعض دفعہ بچہ کو مارا بھی ہے۔ ملازموں کو یا بعض غلط کار لوگوں کو نکال بھی دیا ہے۔ تقریر و تحریر میں سختی بھی کی ہے۔ عزیزوں سے قطع تعلق بھی کیا ہے۔ بعض خاص صورتوں میں توریہ کی اجازت بھی دی ہے۔ بعض وقت سلسلہ کے دشمن کی پردہ دری بھی کی ہے۔(مثلاً مولوی محمد حسین بٹالوی) کے مہدی کے انکار کا خُفیہ پملفٹ) پر دعا بھی کی ہے۔ مگر اس قسم کی ہرایک بات ضرورتاً اور صرف رضائے الٰہی اور دین کے مفاد کے لئے کی ہے نہ کہ ذاتی غرض سے۔ آپ نے جھوٹے کو جھوٹا کہا۔ جنہیں لئیم یا زنیم لکھا وہ واقعی لئیم اور زنیم تھے۔ جن مسلمانوں کو غیر مسلم لکھا وہ واقعی غیر مسلم بلکہ اسلام کے حق میں غیر مسلموں سے بڑھ کر تھے۔
مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ آپ کے رحم اور عفو اور نرمی اور حلم والی صفات کا پہلو بہت غالب تھا۔ یہاں تک کہ اس کے غلبہ کی وجہ سے دوسرا پہلو عام حالات میں نظر بھی نہیں آتا تھا۔
آپ کو کسی نشہ کی عادت نہ تھی۔ کوئی لغو حرکت نہ کرتے تھے، کوئی لغو بات نہ کیا کرتے تھے، خدا کی عزت اور دین کی غیرت کے آگے کسی کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ آپ نے ایک دفعہ علانیہ ذبّ تہمت بھی کیا۔ ایک مرتبہ دشمن پر مقدمہ میں خرچہ پڑا۔
تو آپ نے اس کی درخواست پر اسے معاف کر دیا۔ ایک فریق نے آپ کو قتل کا الزام لگا کر پھانسی دلانا چاہا مگر حاکم پر حق ظاہر ہو گیا۔ اور اس نے آپ کو کہا کہ آپ ان پر قانوناً دعویٰ کر کے سزا دلا سکتے ہیں مگر آپ نے در گزر کیا۔ آپ کے وکیل نے عدالت میں آپ کے دشمن پر اس کے نسب کے متعلق جرح کرنی چاہی۔ مگر آپ نے اسے روک دیا۔
غرض یہ کہ آپ نے اخلاق کا وہ پہلو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ جو معجزانہ تھا۔ سراپا حسن تھے۔ سراسر احسان تھے۔ اور اگر کسی شخص کا مثیل آپ کو کہا جا سکتا ہے تو وہ صرف محمد رسول اللہ ہے۔ صلی اللہ علیہ وسلم اور بس۔
آپ کے اخلاق کے اس بیان کے وقت تقریباً ہر خلق کے متعلق میں نے دیکھا کہ میں اس کی مثال بیان کر سکتا ہوں۔ یہ نہیں کہ میں نے یونہی کہہ دیا ہے۔ میں نے آپ کو اس وقت دیکھا۔ جب میں دو برس کا بچہ تھا۔ پھر آپ میری ان آنکھوں سے اس وقت غائب ہوئے جب میں ستائیس سال کا جوان تھا۔ مگر میں خدا کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں۔ کہ میں نے آپ سے بہتر، آپ سے زیادہ خلیق ،آپ سے زیادہ نیک، آپ سے زیادہ بزرگ، آپ سے زیادہ اللہ اور رسول کی محبت میں غرق کوئی شخص نہیں دیکھا۔ آپ ایک نور تھے جو انسانوں کے لئے دنیا پر ظاہر ہوا اور ایک رحمت کی بارش تھے جو ایمان کی لمبی خشک سالی کے بعد اس زمین پربرسی اور اسے شاداب کر گئی۔ اگر حضرت عائشہؓ نے آنحضرت ﷺ کی نسبت یہ بات سچی کہی تھی کہ "کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآن" تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت اسی طرح یہ کہہ سکتے ہیں کہ
کَانَ خُلُقُہٗ حُبَّ مُحَمَّدٍ وَّ اتِّبَاعَہٗ علیہ الصلوٰۃ والسلام۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مکرم ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے اپنی اس روایت میں ایک وسیع دریا کو کوزے میں بند کرنا چاہا ہے۔ ان کا نوٹ بہت خوب ہے اور ایک لمبے اور ذاتی تجربے پر مبنی ہے اور ہر لفظ دل کی گہرائیوں سے نکلا ہوا ہے۔
مگر ایک دریا کو کوزے میں بند کرنا انسانی طاقت کا کام نہیں۔ ہاں خدا کو یہ طاقت ضرور حاصل ہے اور میں اس جگہ اس کوزے کا خاکہ درج کرتا ہوں جس میں خدا نے دریا کو بند کیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"جری اللہ فی حلل الانبیاء"
یعنی خدا کا رسول جو تمام نبیوں کے لباس میں ظاہر ہوا ہے۔
اس فقرہ سے بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی جامع تعریف نہیں ہوسکتی۔ آپ ہر نبی کے ظل اور بروز تھے اور ہر نبی کی اعلیٰ صفات اور اعلیٰ اخلاقی طاقتیں آپ میں جلوہ فگن تھیں۔ کسی نے آنحضرت ﷺ کے متعلق کیا خوب کہا ہے:
حُسنِ یوسف، دمِ عیسیٰ، یدِ بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
ترجمہ : رسول کریم ﷺ حسنِ یوسف ہیں، عیسیٰ کا دم ہیں اور موسیٰ کا یدِ بیضا بھی ہیں جو جو خوبیاں تمام حسینوںمیں الگ الگ پائی جاتی ہیں وہ سب کی سب آنحضرت ﷺ کی ذات میں جمع ہیں۔ یہی ورثہ آپ کے ظلِ کامل نے بھی پایا مگر لوگ صرف تین نبیوں کو گن کر رہ گئے۔ خدا نے اپنے کوزے میں سب کچھ بھر دیا۔
اللھم صل علیہ و علیٰ مطاعہ محمد و بارک وسلم واحشرنی رب تحت قدمیھما ذلک ظنی بک ارجو منک خیراً۔ آمین ثم آمین۔
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ : 824 تا
827 سن اشاعت جولائی 2008ء نظارت نشرو اشاعت قادیان)
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے دل میںکس قدر آنحضرت ﷺ کی قدرو قیمت تھی اور حضور نے اس کا اظہار اپنی تحریرات اور اپنی نظموں میں اظہار فرمایا ہے حضور علیہ السلام کی چند تحریرات پیش کی جاتی ہیں جن سے بخوبی اندازہ ہوگا کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے رگِ ریشہ میںکس قدرجذبہ محبت مؤجزن تھا ۔
اظہار محبت اور اطاعت رسول ﷺ کے دلی جذبات :
آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’ اور یہ عاجز بھی اس جلیل الشان نبی کے احقر خادمین میں سے ہے کہ جو سید الرسل اور سب رسولوں کا سرتاج ہے ‘‘
(براہین احمدیہ حصہ چہارم روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 594
حاشیہ در حاشیہ نمبر 3 )
اس نور پر فدا ہوں اسکا ہی میں ہوا ہوں
وہ ہے میں چیزکیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے
(درثمین )
نیز فرماتے ہیں کہ :
حکمت الٰہی کے ہاتھ نے ادنیٰ سے ادنیٰ خلقت سے اور اسفل سے اسفل مخلوق سے سلسلہ پیدائش کا شروع کر کے اس اعلیٰ درجہ کے نقطہ تک پہنچا دیا ہے جس کا نام دوسرے لفظوں میں محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ نہایت تعریف کیا گیا۔ یعنی کمالاتِ تامہ کا مظہر۔ سو جیسا کہ فطرت کے رو سے اس نبی کا اعلیٰ اور ارفع مقام تھا ایسا ہی خارجی طور پر بھی اعلیٰ و ارفع مرتبہ وحی کا اس کو عطا ہوا اور اعلیٰ و ارفع مقام محبت کا ملا۔ فرمایا کہ "یہ وہ مقامِ عالی ہے کہ میں (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) اور مسیح (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) دونوں اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے۔
(توضیح مرام۔ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 64)
نیز فرماتے ہیں کہ :
’’وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسانِ کامل کو وہ ملائک میں نہیں تھا نجوم میں نہیں تھا قمر میں نہیں تھا آفتاب میں بھی نہیں تھا وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا۔ وہ لعل اور یاقوت اور زمرّد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا صرف انسان میں تھا یعنی انسانِ کامل میں جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولیٰ سید الانبیاء سید الاحیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
(آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ : 160-162)
وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسانِ کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالم کا عالم مرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہو گیا وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء، امام الاصفیاء، ختم المرسلین، فخر النبیین، جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اے پیارے خدا اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتدا سے تُو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔ اگر یہ عظیم الشان نبی دنیا میں نہ آتا تو پھر جس قدر چھوٹے چھوٹے نبی دنیا میں آئے جیسا کہ یونس اور ایوب اور مسیح بن مریم اور ملاکی اور یحییٰ اور زکریا وغیرہ وغیرہ ان کی سچائی پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں تھی اگرچہ سب مقرب اور وجیہ اور خدا تعالیٰ کے پیارے تھے۔ یہ اس نبی کا احسان ہے کہ یہ لوگ بھی دنیا میں سچے سمجھے گئے۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَ بَارِکْ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ وَ اٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔‘‘
(اتمام الحجہ۔ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 308)
پس بلا شبہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم روحانیت قائم کرنے کے لحاظ سے آدمِ ثانی تھے بلکہ حقیقی آدم وہی تھے جن کے ذریعہ اور طفیل سے تمام انسانی فضائل کمال کو پہنچے اور تمام نیک قوتیں اپنے اپنے کام میں لگ گئیں اور کوئی شاخِ فطرتِ انسانی کی بے باروبر نہ رہی اور ختم نبوت آپ پر نہ صرف زمانہ کے تاخر کی وجہ سے ہوا بلکہ اس وجہ سے بھی کہ تمام کمالاتِ نبوت آپ پر ختم ہو گئے اور چونکہ آپ صفاتِ الہیہ کے مظہر اتم تھے اس لئے آپ کی شریعت صفاتِ جلالیہ و جمالیہ دونوں کی حامل تھی اور آپ کے دو نام محمد اور احمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی غرض سے ہیں اور آپ کی نبوت عامہ میں کوئی حصہ بخل کا نہیں بلکہ وہ ابتدا سے تمام دنیا کے لئے ہے۔‘‘
(لیکچر سیالکوٹ۔ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 206-207)
تیری اُلفت سے ہے معمور مرا ہر ذرّہ
اپنے سینہ میں یہ اک شہر بسایا ہم نے
نور دکھلا کے ترا سب کو کیا ملزم و خوار
سب کا دل آتشِ سوزاں میں جلایا ہم نے
نقشِ ہستی تری اُلفت سے مٹایا ہم نے
اپنا ہر ذرّہ تری راہ میں اڑایا ہم نے
بانی جماعت حضرت مرزا غلام احمدصاحب قادیانی کے عقائد ختم نبوت کے بارے میں
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کے بارے میں بے شمار تحریرات اور الہامات بھی ہیں جن میں خاتم النبیین کا واضح ذکر موجود ہے جیسا کہ ایک الہام یہ ہے کہ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ سَیِّدِ وُلْدِ آدَمَ وَخَاتَمِ النَّبِیّٖن کہ درود بھیج محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور آل محمدؐ پر جو سردار ہے آدم کے بیٹوں کا اور خاتم الانبیاء ہے۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ چہارم، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ597 حاشیہ)
اور یہ الہام مختلف وقتوں میں دو تین جگہ ہوا ہے۔ پھر یہ بھی الہام ہے کہ کُلٌ بَرَکَۃٍ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ کہ ہر ایک برکت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے۔
(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 73)
پھر آپ اپنی کتاب ’’تجلیات الٰہیہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’اگر مَیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمّتی نہ ہوتا اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی مَیں کبھی یہ شرف مکالمہ و مخاطبہ ہرگز نہ پاتا کیونکہ اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔‘‘
(تجلیاتِ الٰہیہ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 411-412)
حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس تعلق میں فرماتے ہیں کہ :
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہیں اور آپ کے الہامات بھی قرآن کریم کے تابع اور اس کی وضاحتیں ہیں۔ اگر ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہامات کو نعوذ باللہ قرآن کریم سے افضل سمجھتے تو ہم جو آجکل دنیا میں خرچ کر کے اور اپنے پر مالی قربانیاں وارد کر کے قرآن کریم کے تراجم شائع کر رہے ہیں ان کے بجائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہامات کی اشاعت کرتے۔ اس وقت تک پچہتر(75) زبانوں میں قرآن کریم کے مکمل تراجم شائع ہو چکے ہیں اور کچھ زبانوں میں ابھی زیر کارروائی ہیں۔ ترجمہ ہو رہے ہیں۔ انشاء اللہ جلد شائع ہو جائیں گے۔ 111 زبانوں میں منتخب قرآنی آیات کے تراجم شائع ہو چکے ہیں۔ بڑی بڑی اسلامی حکومتیں بتائیں اور وہ جو بڑی پیسے والی مذہبی تنظیمیں ہیں وہ تو ذرا بتائیں کہ انہوں نے کتنی زبانوں میں قرآن کریم کے ترجمہ کی اشاعت کی ہے؟خاتم النبیین کے حقیقی معنی اور روح کو بھی ہم احمدی ہی سمجھتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کے متعلق اللہ تعالیٰ کے اعلان کی اشاعت بھی دنیا کے مختلف ممالک میں ان کی زبانوں میں احمدی ہی کر رہے ہیں۔ پھر بھی یہ لوگ الزام لگاتے ہیں کہ احمدی نعوذ باللہ ختم نبوت کے منکر ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں ختم نبوت کی حقیقت کا وہ فہم اور ادراک عطا فرمایا ہے جس کے قریب بھی یہ لوگ نہیں پہنچ سکتے جو ختم نبوت کا عَلَم اٹھانے کے، جھنڈا اٹھانے کے دعویدار ہیں۔ آپ علیہ السلام نے اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ کیا ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین مانتے ہیں یا نہیں؟ ایک مجلس میں فرمایا:
’’یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے۔ یہ ہم پر افترائے عظیم ہے۔ ہم جس قوّتِ یقین، معرفت اور بصیرت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء مانتے اور یقین کرتے ہیں اُس کا لاکھواں حصہ بھی دوسرے لوگ نہیں مانتے اور ان کا ایسا ظرف ہی نہیں ہے۔ وہ اس حقیقت اور راز کو جو خاتم الانبیاء کی ختم نبوت میں ہے سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے صرف باپ دادا سے ایک لفظ سنا ہوا ہے مگر اس کی حقیقت سے بے خبر ہیں اور نہیں جانتے کہ ختم نبوت کیا ہوتا ہے اور اُس پر ایمان لانے کا مفہوم کیا ہے؟ مگر ہم بصیرتِ تام سے (جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ نے ہم پر ختم نبوت کی حقیقت کو ایسے طور پر کھول دیا ہے کہ اس عرفان کے شربت سے جو ہمیں پلایا گیا ہے ایک خاص لذّت پاتے ہیں جس کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا۔ بجز اُن لوگوں کے جو اس چشمہ سے سیراب ہوں‘‘۔
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 342۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
پھر ختم نبوت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ: ’’ہمیں اللہ تعالیٰ نے وہ نبی دیا جو خاتم المومنین، خاتم العارفین اور خاتم النبیین ہے اور اسی طرح پر وہ کتاب اس پر نازل کی جو جامع الکتب اور خاتم الکتب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو خاتم النبیین ہیں اور آپ پر نبوت ختم ہو گئی تو یہ نبوت اس طرح پر ختم نہیں ہوئی جیسے کوئی گلا گھونٹ کر ختم کر دے۔‘‘ (کسی کو مار دیا۔) ’’ایسا ختم قابل فخر نہیں ہوتا۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہونے سے یہ مراد ہے کہ طبعی طور پر آپ پر کمالات نبوت ختم ہو گئے۔ یعنی وہ تمام کمالات متفرقہ جو آدم سے لے کر مسیح ابن مریم تک نبیوں کو دئیے گئے تھے کسی کو کوئی اور کسی کو کوئی، وہ سب کے سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع کر دئیے گئے اور اس طرح پر طبعاً آپ خاتم النبیین ٹھہرے۔ اور ایسا ہی وہ جمیع تعلیمات‘‘(ساری تعلیمات جو ہیں) ’’وصایا اور معارف جو مختلف کتابوں میں چلے آتے ہیں‘‘(جو پہلی شریعتوں میں تھے)’’وہ قرآن شریف پر آ کر ختم ہو گئے اور قرآن شریف خاتم الکتب ٹھہرا۔‘‘
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 341-342۔
ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
پس یہ ہے وہ حقیقت جس سے ہمارے مخالف لاعلم ہیں اور جن علماء کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں وہ انہیں اپنی گرفت سے باہر نکلنے ہی نہیں دینا چاہتے کہ اگر یہ حقیقت ان کے پیچھے چلنے والوں کو پتا چل جائے تو پھر انہوں نے مذہب کو جو کاروبار بنایا ہوا ہے وہ کاروبار ان کا نہیں چل سکے گا۔
(حوالہ : خطبہ جمعہ 13 اکتوبر 2017)
پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اور آپؐ کی شریعت پر چلتے ہوئے جس کو اللہ تعالیٰ یہ اعزاز دیتا ہے اس کو تو اعزاز مل سکتا ہے دوسرے کو نہیں۔ اور نہ ہی کوئی آپ کی غلامی سے باہر جا کر مسلمان کہلا سکتا ہے۔
پھر مزید وضاحت فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ’’ہم مسلمان ہیں اور ہم خدا تعالیٰ کی کتاب فرقان مجید پر ایمان لاتے ہیں اور یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ ہمارے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے نبی اور اس کے رسول ہیں اور یہ کہ آپ بہترین دین لے کر آئے۔ اور اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں مگر وہی جس کی تربیت آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے فیضان سے ہوئی ہو‘‘۔ (جس طرح کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہوئی) ’’اور جس کا ظہور آپ کی پیشگوئی کے مطابق ہوا اور اللہ تعالیٰ اس اُمّت کے اولیاء کو اپنے مکالمات اور مخاطبات سے مشرّف کرتا ہے اور انہیں انبیاء کے رنگ سے رنگین کیا جاتا ہے لیکن وہ حقیقی طور پر نبی نہیں ہوتے۔ کیونکہ قرآن کریم نے شریعت کی تمام ضروریات کو پورا کر دیا ہے۔ اور ان کو فہمِ قرآن عطا کیا جاتا ہے لیکن وہ نہ تو قرآن کریم میں کسی قسم کا اضافہ کرتے ہیں اور نہ اس میں کوئی کمی کرتے ہیں۔ اور جس شخص نے قرآن کریم میں کوئی اضافہ کیا یا کوئی حصہ کم کیا تو وہ شیطانِ فاجر ہے۔
اور ختمِ نبوت سے ہم یہ مراد لیتے ہیں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو اللہ تعالیٰ کے سب رسولوں اور نبیوں سے افضل ہیں تمام کمالات نبوت ختم ہو گئے ہیں۔ اور ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعدنبوت کے مقام پر وہی شخص فائز ہو سکتا ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اُمّت میں سے ہو اور آپ کا کامل پَیرو ہو اور اس نے تمام کا تمام فیضان آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہی کی روحانیت سے پایا ہو اور آپ کے نور سے منوّر ہوا ہو۔ اس مقام میں کوئی غیریت نہیں اور نہ ہی یہ غیرت کی جگہ ہے۔ اور یہ کوئی علیحدہ نبوت نہیں اور نہ ہی یہ مقام حیرت ہے۔ بلکہ یہ احمد مجتبیٰ ہی ہے جو دوسرے آئینے میں ظاہر ہوا ہے۔ اور کوئی شخص اپنی تصویر پر جسے اللہ نے آئینہ میں دکھایا ہو غیرت نہیں کھاتا۔ کیونکہ شاگردوں اور بیٹوں پر غیرت جوش میں نہیں آتی۔ پس جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض پا کر اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) میں فنا ہو کر آئے وہ درحقیقت وہی ہے کیونکہ وہ کامل فنا کے مقام پر ہوتا ہے اور آپ کے رنگ میں ہی رنگین اور آپ کی ہی چادر اوڑھے ہوتا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ہی اس نے اپنا روحانی وجود حاصل کیا ہوتا ہے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے فیض سے ہی اس کا وجود کمال کو پہنچا ہوتا ہے۔ اور یہی وہ حق ہے جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات پر گواہ ہے۔ اور لوگ نبی کریمؐ کا حسن ان تابعین کے لباس میں دیکھتے ہیں جو اپنی کمال محبت و صفائی کی وجہ سے آپ کے وجود میں فنا ہو گئے۔ اور اس کے خلاف بحث کرنا جہالت ہے کیونکہ یہ تو آپ کے ابتر نہ ہونے
کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثبوت ہے۔ اور تدبّر کرنے والوں کے لئے اس کی تفصیل کی ضرورت نہیں۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) جسمانی طور پر تو مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن اپنی رسالت کے فیضان کی رُو سے ہر اس شخص کے باپ ہیں جس نے روحانیت میں کمال حاصل کیا۔ اور آپ تمام انبیاء کے خاتَم اور تمام مقبولوں کے سردار ہیں۔ اور اب خدا تعالیٰ کی درگاہ میں وہی شخص داخل ہو سکتا ہے جس کے پاس آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مُہر کا نقش ہو اور آپ کی سنّت پر پوری طرح سے عامل ہو۔ اور اب کوئی عمل اور عبادت آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی رسالت کے اقرار کے بغیر اور آپ کے دین پر ثابت قدم رہنے کے بِدُوں خدا تعالیٰ کے حضور مقبول نہیں ہو گی۔ اور جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے الگ ہو گیا اور اس نے اپنے مقدور اور طاقت کے مطابق آپ کی پیروی نہ کی وہ ہلاک ہو گیا۔ آپ کے بعد اب کوئی شریعت نہیں آ سکتی اور نہ کوئی آپ کی کتاب اور آپ کے احکام کو منسوخ کر سکتا ہے اور نہ کوئی آپ کے پاک کلام کو بدل سکتا ہے۔ اور کوئی بارش آپ کی موسلا دھار بارش کی مانندنہیں ہو سکتی۔‘‘ (یعنی روحانی بارش۔) ’’اور جو قرآن کریم کی پیروی سے ذرہ بھر بھی دُور ہوا وہ ایمان کے دائرے سے خارج ہو گیا۔ اور اس وقت تک کوئی شخص ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتا جبتک وہ ان تمام باتوں کی پیروی نہ کرے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔ اور جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے وصایا میں سے کوئی چھوٹی سی وصیت بھی ترک کر دی تو وہ گمراہ ہو گیا۔ اور جس نے اِس اُمّت میں نبوت کا دعویٰ کیا اور یہ اعتقادنہ رکھا کہ وہ خیر البشر محمد مصطفیٰ کا ہی تربیت یافتہ ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اُسوۂ حسنہ کے بغیر ہیچ محض ہے۔‘‘(کوئی حیثیت نہیں اس کی)’’اور یہ کہ قرآن کریم خاتم الشرائع ہے تو وہ ہلاک ہو گیا۔ اور وہ کافروں اور فاجروں میں جا ملا۔ اور جس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور یہ اعتقادنہ رکھا کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہی کی اُمّت میں سے ہے اور یہ کہ جو کچھ اس نے پایا ہے وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہی کے فیضان سے پایا ہے اور یہ کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہی کے باغ کا ایک پھل اور آپ ہی کی موسلا دھار بارش کا ایک قطرہ اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہی کی روشنی کی ایک کرن ہے تو وہ ملعون ہے۔ اور اس پر اور اس کے ساتھیوں پر اور اس کے اَتباع اور مددگاروں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو‘‘۔ (تو یہ لعنت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اوپر یا جماعت پر تو نہیں بھیج رہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کو سب سے زیادہ روحانی فیض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہنچا اور آپ ہی اس مقام پر پہنچے جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو آپ کی اِتّباع میں غیر شرعی نبوت کا اعزاز دیا۔)
آپ فرماتے ہیں: ’’آسمان کے نیچے محمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا ہمارا کوئی نبی نہیں اور قرآن کریم کے سوا ہماری کوئی کتاب نہیں اور جس نے بھی اس کی مخالفت کی وہ اپنے آپ کو جہنم کی طرف کھینچ کر لے گیا۔‘‘ (مواہب الرحمان روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 285 تا 287 عربی سے اردو ترجمہ۔ بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (سورۃالاحزاب زیر آیت 41) جلد 3 صفحہ 699تا 701)
آپ نے بیشمار جگہ کھول کھول کر ختم نبوت کی حقیقت اور اس کے مقام اور اس کے مقابل اپنے مقام اور حیثیت کا ذکر فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر مسلمان دین پر قائم ہوتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی متبع ہوتے تو میرے آنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ چنانچہ ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ:
’’دنیا کی مثالوں میں سے ہم ختمِ نبوت کی مثال اس طرح پر دے سکتے ہیں کہ جیسے چاند ہلال سے شروع ہوتا ہے اور چودھویں تاریخ پر آکر اس کا کمال ہو جاتا ہے جبکہ اسے بدر کہا جاتا ہے۔ اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آکر کمالاتِ نبوت ختم ہو گئے۔ جو لوگ یہ مذہب رکھتے ہیں کہ نبوت زبردستی ختم ہو گئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یونس بن متّی پر بھی ترجیح نہیں دینی چاہئے انہوں نے اس حقیقت کو سمجھا ہی نہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل اور کمالات کا کوئی علم ہی اُن کو نہیں ہے۔ باوجود اس کمزوریٔ فہم اور کمیٔ علم کے ہم کو کہتے ہیں کہ ہم ختم نبوت کے منکر ہیں‘‘۔ (خود تو ان کو سمجھ نہیں آئی لیکن ہمیں کہتے ہیں کہ ہم ختم نبوت کے منکر ہیں۔) فرمایا کہ ’’مَیں ایسے مریضوں کو کیا کہوں اور ان پر کیا افسوس کروں۔ اگر ان کی یہ حالت نہ ہو گئی ہوتی اور وہ حقیقتِ اسلام سے بکلّی دُور نہ جا پڑے ہوتے‘‘۔ (آجکل مسلمانوں کی یہ جو حالت ہے اگر یہ نہ ہوئی ہوتی اور ان کو اسلام کی حقیقت کا کوئی پتا ہی نہیں۔ اس سے دور نہ ہٹ گئے ہوتے تو فرمایا)’’تو پھر میرے آنے کی ضرورت کیا تھی؟‘‘(اگر ان میں ایمان سلامت ہوتا اور ان کی روحانیت صحیح ہوتی تو فرمایا تو پھر میرے آنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟) ’’ان لوگوں کی ایمانی حالتیں بہت کمزور ہو گئی ہیں اور وہ اسلام کے مفہوم اور مقصد سے محض نا واقف ہیں ورنہ کوئی وجہ نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ اہلِ حق سے عداوت کرتے جس کا نتیجہ کافر بنا دیتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 342-343۔
ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
یعنی جو حق پر ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کامل ایمان و یقین رکھتا ہے اس سے عداوت و دشمنی کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی کہ کی جاتی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دشمنی کی جاتی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے سے دشمنی کرنا پھر کافر بنا دیتا ہے۔ پس یہ لوگ کیونکہ ہمیں کافر کہتے ہیں اور مسلمان کلمہ گو کو کافر کہنے والا اسے دائرۂ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بھی اس بارہ میں ہے۔(سنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب الدلیل علی زیادۃ الایمان و نقصانہ حدیث 4687)۔ پس یہ لوگ جو ہمیں کافر کہتے ہیں خود اس الزام کے نیچے آ جاتے ہیں اس لئے ہمدردی کے جذبے سے ہم ان کلمہ گوؤں سے یہی کہتے ہیں کہ اپنی حالتوں پر رحم کرو اور دیکھو اور سمجھو کہ خدا تعالیٰ کیا چاہتا ہے اور کیا کہہ رہا ہے؟
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے یہ چند حوالے جو مَیں نے پیش کئے ہیں کاش یہ شریف الطبع مسلمانوں کے لئے ہدایت کا باعث بن جائیں اور وہ ہم پر الزام لگانے کی بجائے اپنی حالتوں کو دیکھیں۔ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین تو مانتے ہیں اور دل سے مانتے ہیں اور آپ کی ناموس کی خاطر ہر قربانی دیتے ہیں اور دینے کے لئے تیار ہیں اور دے رہے ہیں اور انشاء اللہ دیتے رہیں گے۔
(خطبہ جمعہ :13 اکتوبر 2017)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات اور حضور علیہ السلام کی عملی زندگی اس بات پر شاہد ہے کہ آپ ہی اس زمانے میںحقیقی عاشق رسول تھے اور حقیقی طور پر ختم نبوت کے داعی تھے آپ کے پانچویں جانشین حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جماعت احمدیہ عالمگیر کی نمائندگی اور بحثیت خلیفہ یہ اعلان فرماتے ہیں کہ :
ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں کیونکہ ہم مسلمان ہیں۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کہا ہے۔ ہم کلمہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھنے والے ہیں۔ ہم تمام ارکان اسلام اور ارکان ایمان پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین مانتے ہیں ۔ (خطبہ جمعہ 13 اکتوبر 2017)
اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کے ہر فرد و بشر کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خدا تعالیٰ کے رسول ﷺ کی محبت کو حاصل کرنے والا بنائے اور خلافت کے ساتھ قیامت تک وابستہ رکھے اور خلافت کی اطاعت اور وفاء کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین)