هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۔وَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۔
(سورۃ الجمعۃ: 3-4)
ترجمہ: وہی ہے جس نے اُمّی لوگوں میں انہیں میں سے ایک رسول مبعوث کیا۔وہ ان پر اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب کی اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔جبکہ اس سے پہلے وہ یقیناً کھلی کھلی گمراہی میں تھے۔اور انہیں میں سے دوسروں کی طرف بھی (اُسے مبعوث کیا ہے) جو ابھی اُن سے نہیں ملے ۔وہ کامل غلبہ ولا اور صاحبِ حکمت ہے۔
مسخ دین کی جب ہوگئ تعلیم دنیا میں
ہوئی نوع بشر تقسیم در تقسیم دنیا میں
ہر اک مذہب تھا خواہاں اسکی ہو تکریم دنیامیں
رشی اسکا ہی پھر آئے کرکے تجسیم دنیا میں
مگر اسلام کی قسمت میں یہ زندہ نشان آیا
سبھی نبیوں کےحلیے میں خدا کا پہلوان آیا
قارئین کرام ! تیرھویں صدی کا آخر اورچودھویں صدی کا ابتداء یہ وہی زمانہ تھا جو ظہر الفساد فی البرّ والبحر کا نظارہ پیش کر رہا تھا۔اُمت فرقوں میں بٹ چکی تھی ،ایمان دلوں سے نکل کر ثریّا ستارے پر جا چکا تھا۔مذھب کی طرف منسوب ہونے والے افراد کی روحانیت فلاسفروں ،دہریوں اور نام نہاد مذہبی لیڈروں کے نظریات اور فاسد عقائد کی وجہ سے مسخ ہو رہی تھی ۔دجّالی فتنےاپنے عروج پر تھے اور اپنے عقائد باطلہ کے ذریعہ اپنے مقاصد مکروہہ کے حصول کی کوشش میں تن، من ،دھن سے مصروف عمل تھے۔تمام مذاہب کے پیروکار اور خاص طور پر امّت مسلمہ کی طرف منسوب لوگ حقیقی تعلیمات سےدور جا رہے تھے،صراط مستقیم سے بھٹک کر ضالّین اور مغضوب علیہم کے راستہ پر چلتے ہوئے اپنے آپ کو مامون و محفوظ سمجھ رہے تھے ۔ اور یہ سب خدائے تعالیٰ اور سرورِ کائینات فخرِ موجودات حضرت خاتم النبیّٖن ﷺ کی بیان فرمودہ پیشگوئیوں کے عین مطابق ہو رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف کے ساتھ مسلمانوں کے سلوک کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے :
وَقَالَ الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرً
( الفرقان: آیت 31)
یعنی اور رسول کہے گا اے میرے رب یقیناً میری قوم نے اس قرآن کو متروک کر چھوڑا ہے۔
اسی طرح آپؐفرماتے ہیں:یَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ فَزْعَۃٌ ،فَیَصِیْرُ النَاسُ اِلیٰ عُلَمَاءِہِمْ، فَاِذَا ہُمْ قِرَدَۃً وَخَنَازِیْر (ترمذی باب الفتن) یعنی اے مسلمانو! میری اُمت پر ایک زمانہ ایسا آئیگا کہ لوگوں میں سخت بے چینی پھیل جائیگی ،اس پر وہ اپنے علماء کی طرف دوڈیں گے تاکہ وہ انکی بے چینی اورغم دور کرینگے لیکن وہ انکو بندر اور سؤر پائیں گے،جو ایک دوسرے کی نقل کر رہے ہونگے اور نجاست پر مُنہ مارنے والے ہونگے۔
پس جب چودھویں صدی کا آغاز ہوا تو مسلمانوں کی اس قدر ناگفتہ بہ حالت ہوگئی کہ جو خارج از بیاں ہے۔ اسکا نقشہ کھینچتے ہوئے مولانا حالی یوں رقمطراز ہیں:؎
رہا دین باقی نہ اسلام باقی
اک اسلام کا رہ گیا نام باقی
اسی طرح علّامہ اقبال یوں گویا ہیں:؎
شور ہے ہوگئے دنیا سے مسلمان نابود
ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلمان موجود
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
یوں تو سیّد بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتائو تم مسلمان بھی ہو
اسی زمانہ میں دنیا میں روحانی انقلاب کی ازسر نو ضرورت تھی۔چنانچہ اس انقلاب کو پیدا کرنے کے لئے تزکیہ نفوس کے ذریعہ اور کتاب و حکمت کی حقیقی تعلیمات سے روشناس کرکے حقیقی خدا سے ملانے کے لئے اللہ اور اسکے پیارے نبی ﷺ نے ایک عظیم مصلح کی بشارت دی تھی۔جس کو امام مہدی اور مسیح موعود کا لقب عطا فرمایا تھا۔
سامعین ! وَاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ والی آیات جب نازل ہوئیں تو صحابہ کرامؓنے آنحضرتؐسے دریافت فرمایا کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ آخرین کون لوگ ہیں جن میں حضورﷺ کی دوسری بعثت ہوگی؟ اس پر آپﷺ نے اُسی مجلس میں موجود حضرت سلمان فارسیؓکے کندھے پر ہاتھ رکھکر فرمایا:لَوْ کَانَ الْاِیْمَانُ مُعَلَّقاً بِا الثُّرَیَّا لَنَا لَہٗ رَجُلٌ اَوْ رِجَالٌ مِنْ ہٰؤُلَاءِ (بخاری کتاب التفسیر سورۃ الجمعہ)یعنی اے میرے صحابہ !اگر ایمان ثریّا ستارہ پر بھی چلا گیا تو ایک فارسی الاصل شخص یا اشخاص اس ایمان کو دوبارہ دنیا میں قائم کریںگے۔
یہ وہی مصلح ہے جسکو آنحضرت ﷺ نے امام مہدی اور مسیح موعود کے نام سے یاد فرمایا تھا۔جس نے اندرونی طور پر اُمت محمدیہ کی اصلاح کا کام سر انجام دینا تھا۔اور بیرونی طور پردیگر تمام ادیان پر اسلام کی حقّانیت کو واضح کرتے ہوئے اس دین کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کرنا تھا۔ہادئ کامل رہبرِ اعظم ﷺ اس تعلق میں فرماتے ہیں۔
عَنْ اَنَسِ بْنِ مَا لِکِ رَضِیَ اللہ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللہ ﷺ قَالَ :لَا الْمَہدِیُّ الَّاعِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ(ابن ماجہ باب شدّۃ الزمان صفحہ ۲۵۷ مصری مطبع علمیہ ۱۳۱۳ھ)حضرت انسؓبیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :عیسیٰ کے سوا اور کوئی مہدی نہیں۔
نیز فرماتے ہیں:یُوْشِکُ مَنْ عَاشَ مِنْکُمْ اَنْ یَّلْقٰی عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ اِمَامًا مَہْدِیًّا حَکَمًا عَدْلًا یَکْسِرُ الصَّلِیْبَ وَ یَقْتُلُ الْخِنْزِیْر(مسند احمد جلد ۲ صفحہ ۱۵۶)یعنی تم میں سے جو زندہ رہیگا وہ عیسیٰ بن مریم کا زمانہ پائیگا وہی امام مہدی اور حکم و عدل ہوگا جو صلیب کو توڑیگا اور خنزیر کو قتل کریگا۔
قارئینِ کرام! یہ زمانہ اندرونی اور بیرونی طور پر گمراہی اور ضلالت کا ایسا زمانہ تھا کہ ہر مذہب کا پیروکار ایک آسمانی مصلح کی آمد کا منتظر تھا۔سعید فطرت لوگ روتے بلکتے ہوئے،راتوں کو جاگ جاگ کر آسمان کی طرف ہاتھ پھیلائے ہوئے اپنی بدحالی، بے کسی اور بے بسی کی دہائیاں دیتے ہوئے ربّ ِکریم سے دعائیں مانگتے تھے کہ یا اللہ اس مصلح کو بھیج کہ گمراہی کا پانی سر سے اوپر بہہ رہا ہے۔مولوی شکیل احمد سہوانی کہتے ہیں:؎
دین احمدؐ کا زمانہ سے مٹا جاتا ہے نام
قہر ہے اے میرے اللہ ! یہ ہوتا کیا ہے
کس لئے مہدی برحق ظاہر نہیں ہوتے
دیر عیسیٰ کے اُترنے میں خدایا کیا ہے؟
(الحق الصریح فی حیاۃ المسیح صفحہ ۱۳۳)
مولوی ابوالخیر نواب نور الحسن خان صاحب چودھویں صدی کی دہلیز پر بیٹھے بڑے کربناک انتظار میں اندازے لگا رہے تھے اور لکھتے ہیں کہ:
’’امام مہدی کا ظہور تیرھویں صدی پر ہونا چاہئے تھا مگر یہ صدی پوری گذر گئی تو مہدی نہ آیا ۔اب چودھویں صدی ہمارے سر پر آئی ہے ۔اس صدی سے اس کتاب کے لکھنے تک چھہ ماہ گذر چکے ہیں۔شاید اللہ تعالیٰ اپنا فضل و عدل و رحم و کرم فرمائے۔چار چھہ سال کے اندر مہدی ظاہر ہوجائیں‘‘۔
(اقتراب الساعۃصفحہ۲۲۱ ،۱۲۰۱ھ)
چناچہ شیعہ عالم جناب اثر فدا بخاری مصیبتوں سے نجات دلانے والے کا انتظار کرتے کرتے کس طرح اپنی تھکاوٹ کا اظہار کرتے ہیں۔لکھتے ہیں:؎
اب انتظار کرتے کرتے تھک گئے ہیں ہم
ڈھلنے لگا ہے سایہ دیوار آئیے
اب آ بھی جائیے میرے منتظر امام
مدّت سے منتظر ہیں عزادار آئیے
(معارف اسلام۔ صاحب الزماںنمبر صفحہ ۲۶)
غرض یہ حالات سعید روحوں کے دلوں سے آہ و فغاںا ور نالوں کی صورت میں آسمان کی طرف جارہے تھے اور انکی نگاہیں،ندائیںاور صدائیں اس عظیم آسمانی مصلح کا شدّت سے انتظار کر رہی تھیں۔جسکا وعدہ امّت کو دیا جا چکا تھا۔
قارئین! یہ ایسا زمانہ تھا جس میں عیسائیت اور دیگر مذاہب کی طرف سے اسلام جیسے پُر امن اور مکمل مذہب پر اعتراضات کی برسات ہورہی تھی گویا کہ سب ملکر اسلام کا گلا گھونٹنے پر تُلے ہوئے تھے۔لیکن کوئی شخص ایسا نہ تھا کہ انکا جواب دے سکے بلکہ حالت اس حد تک ہوگئی تھی کہ مسلمان اسلام جیسے زندہ مذہب کو چھوڑ کر دوسرے مذاہب کے پیروکار بن رہے تھے۔اس پُر آشوب زمانہ میں پنجاب کی ایک گمنام بستی قادیان میں حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام پیدا ہوئے۔ یہیں سے آپ علیہ السلام نے دفاع اسلام کا کام شروع کیا ۔انگریزوں نے ہندوستان میں اپنے مذہب کی اشاعت کے لئے لدھیانہ کو چنا ۔۱۸۳۴ء کو پادری جے ۔سی۔لوری اس کام کے لئے لدھیانہ پہنچا۔ ابھی اسکو ایک سال کا عرصہ بھی نہیں ہوا تھا کہ اس مشن کے قلع قمع کرنے کے لئے مسیح موعود علیہ السلام کی قادیان میں پیدائش ہوئی۔جسکی پہلے ہی ہمارے پیارے آقا محمد مصطفیٰ ﷺ نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ:فَیَطْلُبُہٗ حَتّٰی یُدْرِکَہٗ بِبَابِ لُدِّ فَیَقْتُلُہٗ ۔یعنی مسیح موعود دجّال کا پیچھا کریگا یہاں تک کہ وہ اسے بابِ لدّ میں پالیگااور اُسے قتل کریگا۔ یہ پیشگوئی اپنی شان و شوکت کے ساتھ اُس وقت پوری ہوئی جب مسیح موعود ؑ نے لدھیانہ میں بیعت لی۔
سامعین! آپؑنے اپنی تمام عمر اسلام کے دفاع میں صرف کی اور تمام ادیان کے علماءکو چلینج دیا کہ وہ آئیں اور اسلام پر اپنی فوقیت ثابت کریں۔مگر کوئی آپکے مقابل پر نہ آیا۔؎
آزمائش کے لئے کوئی نہ آیا ہر چند
ہر مخالف کو مقابل پہ بلایا ہم نے
آپؑکی اسلامی خدمات عیسائیت، آریہ سماج اور برہمو سماج کے ابطال میں اتنی بلند پایہ،رفیع القدر اور شاندار تھیںکہ بقول ڈاکٹر اسرار احمد ’’آپؑاُس وقت کے علماء کی آنکھوں کا تارا بن گئے‘‘۔
الغرض اس بے چینی کے زمانہ میں خدا تعالیٰ کے وعدوں اور آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے عین مطابق زمانہ کی ضرورت کو پورا کرتے ہوئے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی موعود ہوکر مبعوث ہوئے اور آپؑنے اعلان فرمایا کہ:؎
وقت تھا وقت ِ مسیحا نہ کسی اور کا وقت
میں نہ آتا تو کوئی اور ہی آیا ہوتا
ابنِ مریم ہوں مگر اُترا نہیں میں چرخ سے
نیز مہدی ہوں مگر بے تیغ اور بے کارزار
آپؑنے فرمایا:’’ وَاللّٰہِ اِنّیْ اَنَاالْمَسِیْحُ الْمَوْعُوْدُ وَمَعِیْ رَبِّیَ الْوُدُوْدُ۔وَ وَاللّٰہ اِنَّہٗ لَا یُضَیِّعُنِیْ وَ لَوْ عَادَانِیَ الْجِبَالُ۔وَ وَاللّٰہ اِنَّہٗ لَا یَتْرُکُنِیْ وَ لَوْ تَرَکَنِیَ الْاَحِبَّاءُ وَ الْعِیَالُ۔وَ وَاللّٰہ اِنَّہٗ یَعْصِمُنِیْ وَ لَوْ اَتَی الْعِدَا بِالْمِرْہَفَاتِ‘‘۔(مواہب الرحمٰن روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۲۷۱)یعنی خدا کی قسم میں ہی مسیح موعود ہوں۔اور میرے ساتھ ربّ ِودود ہے ۔خدا کی قسم وہ مجھے ضائع نہیں کریگا۔چاہے میری دشمنی پہاڑ جیسی شخصیات کریں۔خدا کی قسم وہ مجھے نہیں چھوڑیگا چاہے احباب و عیال مجھے چھوڑ دیں۔خدا کی قسم وہ مجھے بچائیگاچاہے دشمن تلواروں کے ذریعہ بھی مجھ پر وار کریں۔
اسلام کی سچائی اور برتری کا اظہار:
سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی بعثت کی غرض یُحْيِ الدِّیْنَ وَیُقِیْمُ الشَّرِیْعَۃَیعنی دین اسلام کو از سر نو زندہ کرنا اور شریعت محمدی ﷺکو دنیا میں دوبارہ قائم کرنا بیان فرمایا ہے ۔ تجدیدِ دین سے مراد دین کو اس کی اصل روح کے ساتھ زندہ کرنا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہ کوئی نئی شریعت پیش کی اور نہ ہی اسلام میں کوئی بنیادی تبدیلی کی، بلکہ قرآن و سنت کی اصل تعلیمات کو تازہ کیا۔ آپؑ نے توحید کو مضبوط کیا، آنحضرت ﷺ کی محبت کو دلوں میں زندہ کیا اور عملی تقویٰ پر زور دیا۔ یہی حقیقی تجدید ہے کہ دین کو بدعات اور غلط تصورات سے پاک کر کے اس کی اصل تعلیم کو عام کیا جائے۔
زندہ خدا:
آپؑکی بعثت کا دوسرا اہم مقصد توحید کا قیام تھا۔ اس زمانہ میں دنیا مادہ پرستی، دہریت اور شرک کی مختلف شکلوں میں مبتلا ہو رہی تھی۔ بہت سے لوگ خدا کے وجود سے ہی انکار کر رہے تھے جبکہ بعض نے خدا کے ساتھ شریک ٹھہرا رکھے تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے نہایت مضبوط دلائل اور روحانی نشانات کے ذریعے خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی وحدانیت کو ثابت کیا اور لوگوں کو سچے خدا کی طرف بلایا۔ آپؑنے بتایا کہ انسان کی حقیقی خوشی اور کامیابی خدا سے تعلق میں ہے۔ زندہ خدا کا پتہ دیا اور ایک رب العباد کو پورے وثوق اور یقین کے ساتھ پیش فرمایا۔ آپؑفرماتے ہیں :
’’خد ا تعالیٰ نے اس زمانے کو تاریک پاکر اور دنیا کو غفلت اور کفر اور شرک میں غرق دیکھ کر ایمان اور صدق اور تقوی اور راست بازی کو زائل ہوتے ہوئے مشاہدہ کرکے مجھے بھیجا ہے کہ تا وہ دوبارہ دنیا میں علمی عملی اور اخلاقی اور ایمانی سچائی کو قائم کرئے اور تا اسلام کو ان لوگوں کے حملے سے بچائے جو فلسفیت اور نیچریت اور اباحت اور شرک اور دہریت کے لباس میں اس الٰہی باغ کو کچھ نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ۔ (آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد5 صفحہ 25)
زندہ رسول ﷺ سے لوگوں کا تعلق قائم کرنا:
حضرت بانی ٔ سلسلہ احمدیہ نے آکر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کےعظیم الشان حقیقی مقام کی حقیقت بیان فرمائی اور آنحضرتؐکی ختمِ نبوت پر کامل ایمان کا اعلان کیا اور فرمایا کہ حضورؐخاتم النبیین ہیں اور آپؑکے بعد کوئی نیا شریعت لانے والا نبی نہیں آسکتا۔ آپؑنے وضاحت کی کہ جو بھی روحانی کمال ملتا ہے وہ آنحضرتؐکی کامل پیروی کے نتیجہ میں ملتا ہے۔ اس طرح آپؑنے ختمِ نبوت کے عقیدہ کو ایک روحانی اور بامعنی انداز میں پیش کیا اور بتایا کہ نبی کریم ﷺ کی کامل اتباع ہی ہر روحانی ترقی کا ذریعہ ہے۔ اور ہر قسم کے روحانی نعماء وابستہ ہیں حتی کہ آپ کی پیروی کے نتیجہ میں ایک شخص مقام نبوت تک حاصل کر سکتا ہے اس کے لئے بھی آپؑنے اپنے وجود کو دنیاکے سامنے پیش فرمایا اور بتایا :؎
بر تر وہم و گمان سے احمد کی شان ہے
جس کا غلام دیکھو مسیح الزمان ہے
زندہ کتاب سے روشناس کروانا:
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’تمہارئےلئےایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑدوکہ تمہاری اس میں زندگی ہے۔جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔جو لوگ ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدم رکھیں گے ان کو آسمان پر مقدم رکھاجائے گا۔نوع انسان کے لئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن اور تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد ﷺ۔‘‘
(کشتی نوح روحانی خزائن جلد19صفحہ 13)
نورفرقاں ہے جو سب نوروں سےاجلیٰ نکلا
پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا
عقیدہ حیات مسیح کا بطلان:
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کا ایک اور عظیم الشان مشن جو کہ آپؑکے سپرد تھا جس کا ذکر احادیث میں موجود ہے یکسر الصلیب کہ آنے والا مسیح موعود صلیب کو توڑے گا۔تیرھویں صدی کا آخر تھا اور اسلام جس نے ہمیشہ رواداری اور امن وآشتی کی تعلیم دی ہے خود تمام مذہب کے غلیظ اعتراضات کا نشانہ بن رہا تھا۔ ہر طرف سے دشمن حملہ آور ہورہا تھا۔ ہندوستان میں انگریزی حکومت کا تسلط تھا جو عیسائیت کی تبلیغ میں بڑے پیمانے پر برسرپیکار تھی۔ یہاں تک کہ ایک اخبار میں یہ شائع ہوا کہ: ’’جس رفتار سے ہندوستان کی معمولی آبادی میں اضافہ ہورہا ہے اس سے چار پانچ گنا تیز رفتار سے عیسائیت اس ملک میں پھیل رہی ہے۔اور اس وقت ہندوستانی عیسائیوں کی تعداد دس لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔‘‘ (دی مشنری مصنفہ ریورنڈ رابرٹ کلارک)
زمانہ پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ صلیبی عقائد اب عروج پر ہیں پس ان کو توڑنے کے لئے کوئی آنے والا آئے۔ چنانچہ ۱۸۹۰ء میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر یہ انکشاف کیا گیا کہ’’مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہوچکا ہے اور اس کے رنگ میں ہوکر وعدہ کے موافق تو آیا ہے۔‘‘آپؑنے یہ اعلان فرمایا کہ:
کیوں نہیں لوگو تمھیں حق کا خیال
دل میں اٹھتا ہے میرے سوسو ابال
ابن مریم مر گیا حق کی قسم
داخل جنت ہوا وہ محترم
حضورؑخود فرماتے ہیں کہ میں پندرہ برس کا تھا جب سے کہ عیسائیوں سے میرے مباحثات شروع ہیں۔ عیسائیوں پر حجت پورا کرنے کا آپ کے اندر اس قدر جوش تھا کہ آپ خود فرماتے ہیں:’’ اُن کے مذہب کا ایک ہی ستون ہے اور وہ یہ ہے کہ اب تک مسیح ابن مریم آسمان پر زندہ بیٹھا ہے ۔ اس ستون کو پاش پاش کردو پھر نظر اُٹھاکر دیکھو کہ عیسائی مذہب دُنیا میں کہاں ہے ؟ کیونکہ خدا تعالیٰ بھی چاہتا ہے کہ اس ستون کو ریزہ ریزہ کردے اور یوروپ اور ایشیا میں توحید کی ہوا چلادے ۔ اس لئے اس نے مجھے بھیجا ہے ۔
(ازالہ اوہام صفحہ ۲۳۲)
دینی جنگوں کاخاتمہ:
بخاری کی حدیث میں ہمارے پیارے آقا سید ومولیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانہ میں مبعوث ہونے والے نبی کی تعریف میں فرمایایضع الحربکہ وہ مسیح جب آئے گا توجنگوں کا خاتمہ کردے گا۔ اس کے عین مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پُر شوکت انداز میں یہ اعلا ن فرمایا؎
اب چھوڑ دو جہادکا اے دوستو خیال
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ وجدال
نیز تمام عالم اسلام کو صلح کی تعلیم دیتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ :’’سو میں حکم دیتا ہوں کہ جو میری فوج میں داخل ہیں وہ ان خیالات کے مقام سے پیچھے ہٹ جائیں دلوں کو پاک کریں اور اپنے انسانی رحم کو ترقی دیں اور درندوں کے ہمدردنہ بنیں۔ زمین پر صلح پھیلادیں کہ اس سے ان کا دین پھیلے گا۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد۳ صفحہ 23)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرگز کسی پر تلوار نہیں اٹھائی بجز ان لوگوں کے جنہوں نے پہلے تلوار اٹھائی۔ اور سخت بیر حمی سے بے گناہ اور پرہیز گار مردوں اور عورتوں اور بچوں کو قتل کیا۔ اور ایسے درد انگیز طریقوں سے مارا کہ اب بھی ان قصوں کو پڑھ کر رونا آتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر فرض بھی کر لیں کہ اسلام میں ایسا ہی جہاد تھا جیسا کہ ان مولویوں کا خیال ہے۔ تاہم اس زمانہ میں وہ حکم قائم نہیں رہا کیونکہ لکھا ہے کہ جب مسیح موعود ظاہر ہو جائیگاتو سیفی جہاد مذہبی جنگوں کا خاتمہ ہو جائیگا۔ کیونکہ مسیح نہ تلوار اٹھا ئیگا اور نہ کوئی اور زمینی ہتھیار ہاتھ میں پکڑے گا بلکہ اس کی دعا اس کا حربہ ہوگا۔ اور اس کی عقد ہمت اس کی تلوار ہوگی۔ وہ صلح کی بنیاد ڈالیگا اور بکری اور شیر کو ایک ہی گھاٹ پر اکٹھے کریگا۔ اور اس کا زمانہ صلح اور نرمی اور انسانی ہمدردی کا زمانہ ہوگا۔ ہائے افسوس! کیوں یہ لوگ غور نہیں کرتے کہ تیرہ سو برس ہوئے کہ مسیح موعود کی شان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے کلمہ یضع الحرب جاری ہو چکا بہشت کی طمع خام سے ناجائز حرکات ہیں جو مسلمانوں میں پھیل گئے ہیں۔
(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد جلد 17 صفحہ 9-10)
قلمی جہاد:
حضرت مسیح موعود علیہ السلام قلمی اور لسانی جہاد میں اشاعت اسلام کےلیے دن رات مصروف رہتے تھے۔ اس وقت اسلام پر عیسائی مشنریوں، آریہ سماج اور دہریہ نظریات کی طرف سے سخت اعتراضات کیے جا رہے تھے۔ آپؑنے پُرامن طریق سے سینکڑوں کتابیں، رسائل اور اشتہارات لکھ کر اسلام کا دفاع کیا اور بتایا کہ اسلام تلوار سے نہیں بلکہ دلائل اور اخلاق سے پھیلتا ہے۔قلمی جہاد کا اسلام کی بعثت ثانیہ میں ایک اہم کردار ہے۔ آپؑخود فرماتے ہیں:
’’یہ بھی ایک قسم کا جہاد ہے۔ میں رات کے تین تین بجے تک جاگتا ہوں اس لئے ہر ایک کو چاہئے کہ اس میں حصہ لے اور دینی ضرورتوں اور دینی کاموں میں دن رات ایک کردے۔‘‘
(ملفوظات حضرت مسیح موعود ؑ جلد۴صفحہ۱۹۴)
قلمی جہاد چونکہ آپ پر فرض کیا گیا تھا اور آپؑنے اپنے فرض منصبی کی تکمیل کے سلسلہ میں اس حد تک مجاہدات کئے کہ عرش سے آپؑکو ’’سلطان القلم‘‘ کے خطاب سے نوازا گیا۔ آپؑفرماتے ہیں ۔
’’مجھے خدا تعالی نے اس چودھویں صدی کے سر پر اپنی طرف سے مامور کرکے دین متین اسلام کی تجدید و تائید کے لئے بھیجا ہے تاکہ میں اس پُر آشوب زمانہ میں قرآن کی خوبیاں اور حضرت محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمتیں ظاہر کروں اور اُن تمام دشمنوںکو جو اسلام پر حملے کر رہے ہیں ان نوروں اور برکات اور خوارق اور علم لدُنیہ کی مدد سے جواب دوں جو مجھ کو عطا کئے گئے ہیں ۔‘‘
(برکات الدعا۔روحانی خزائن جلد6: صفحہ:35)
نیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام فر ماتے ہیں :
’’اے حق کے طالبو سوچ کر دیکھو کہ کیا یہ وقت وہی وقت نہیں ہے۔ جس میں اسلام کے لئے آسمانی ضرورت تھی۔کیا ابھی تک تم نے معلوم نہیں کیا کہ کن کن آفات نے اسلام کو گھیرا ہوا ہے۔۔۔سو تم اب سوچ کر کہو کہ کیا اب ضرورنہ تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس صدی پر کوئی ایسا شخص بھیجا جاتا جو بیرونی حملوں کا مقا بلہ کرتا....ذرہ نظر اُٹھا کر دیکھو کہ اسلام کو کس درجہ پر بلائوں نے مجبور کرلیا ہے اور کیسے چاروں طرف سے اسلام پر مخالفوں کے تیر چھوٹ رہے ہیں۔‘‘
(آئینہ کما لات اسلام صفحہ 251)
دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضرت مسیح موعود ؑ کی بتائی ہوئی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین