اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-03-12

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا ذوقِ عبادت (لئیق احمد نائک مربی سلسلہ )

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں انسان کی تخلیق کا بنیادی مقصد خالصتاً اپنی عبادت اور بندگی قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم اور تاریخِ انسانی کا گہرا مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اس اعلیٰ مقصد کے حصول میں سب سے نمایاں اور ممتاز کردار ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے مامورین اور رسولوں کا رہا ہے۔ یہ وہ ہستیاں ہوتی ہیں جن کو خدا تعالیٰ اپنی خاص رضا کے عطر سے ممسوح کر کے ہدایتِ خلق کے لیے منتخب فرماتا ہے۔ ان کے دلوں میں بچپن ہی سے خدا کی محبت اور عشق راسخ ہوتا ہے۔ ان کی طبائع اس محبتِ الٰہی میں اس قدر سرشار ہوتی ہیں کہ وہ دنیاوی علائق سے بے نیاز ہو کر شب و روز تنہائی میں عبادتِ الٰہی میں مصروفِ عمل رہتی ہیں۔ اسی بنا پر وہ دنیا کے لیے اسوہ قرار پاتی ہیں۔
چنانچہ حضرت رسولِ اکرم ﷺ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کا ہر لمحہ خدا تعالیٰ کی عبادت میں ایک سچے عاشقِ زار کی تصویر پیش کرتا ہے۔ آپؑکی زندگی کا مطالعہ اس حقیقت کو واضح طور پر آشکار کرتا ہے کہ آپ کی تمام تر دلچسپیوں کا واحد محور اور قلبی مرکز عبودیتِ الٰہی ہی تھا۔ آپؑنے ایسے درخشاں اور زندہ نمونے پیش فرمائے جو قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنے رہیں گے۔ اگر خدا تعالیٰ آپؑکو اس گوشۂ گمنامی سے نکل کر توحید کا علم بلند کرنے کا حکم نہ دیتا تو آپؑاسی طرح عبادت اور بندگی میں عمر بسر فرما دیتے۔
قارئینِ کرام! اگرچہ عبادت کا مفہوم وسیع ہے اور اس کا اطلاق انسان کے تمام نیک اعمال پر ہوتا ہے، تاہم اس مضمون میں نماز، روزہ اور ذکرِ الٰہی وغیرہ کے تناظر میں حضرت مسیح موعودؑ کی خلوت و جلوت کے چند ایمان افروزروایات پیش کی جائیں گی۔
حضرت مسیح موعود ؑکو شروع سے ہی نماز اور ذکر الٰہی کے ساتھ گہرا تعلق اور ایک فطری لگاؤ تھا جو تا حیات گویا ایک نشہ عشق کی صورت میں آپؑکے دل و دماغ پر طاری رہا۔ آپؑکے ابتدائی حالاتِ زندگی میں یہ عجیب واقعہ ملتا ہے کہ جب آپؑکی عمر نہایت کم تھی تو آپؑاپنی کمسن ہم عمر لڑکی (جو بعد کو آپؑسے بیاہی گئیں) سے فرمایا کرتے تھے کہ دعا کر کہ خدا مجھے نماز نصیب کرے۔ یہ فقرہ بظاہر مختصر ہے، مگر اس سے عشقِ الٰہی کی ان گہری لہروں کا اندازہ ہوتا ہے جو آپؑ کے دل میں موجزن تھیں۔
حضرت مسیح موعودؑ نے کم عمری ہی میں مسجد کو اپنا مسکن بنالیا تھا۔ چنانچہ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام خود فرماتے ہیں۔اَلْمَسَاجِدُ مَکَانِیْ وَالصَّالِحُوْنَ اِخْوَانِی وَذِکْرُ اللّٰہِ مَالِیْ وَخَلْقُ اللّٰہِ عَیَالِیْ۔ یعنی میرا مکان مسجدیں ہیں۔ اور صالحین میرے بھائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر میرا مال و دولت ہے۔ اس کی مخلوق میرا کنبہ ہے۔‘‘
(سیرت حضرت مسیح موعودؑ از شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ حصہ سوم صفحہ402)
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓلکھتے ہیں کہ ’’ایک سکھ زمیندار کا بیان ہے جس نے حضرت مسیح موعودؑ کو ہمارے دادا کی طرف سے نوکری کا پیغام لاکر دیا تھا کہ ایک دفعہ ایک بڑے افسر یا رئیس نے ہمارے دادا صاحب سے پوچھا کہ سنتا ہوں کہ آپ کا ایک چھوٹا لڑکا بھی ہے مگر ہم نے اسے کبھی دیکھا نہیں۔ دادا صاحب نے،(یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد صاحب نے )مسکراتے ہوئے فرمایاکہ
’’ہاں میرا ایک چھوٹا لڑکا تو ہے مگر وہ تازہ شادی شدہ دلہنوں کی طرح کم ہی نظر آتا ہے۔ اگر اسے دیکھنا ہو تو مسجد کے کسی گوشہ میں جا کردیکھ لیں۔ وہ تو مسیتڑ ہے‘‘
(سیرت طیبہ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓایم۔اے صفحہ 9-10 )
اس روایت کو معراج دین صاحب عمر نے بھی مزید وضاحت سے لکھا ہے کہ آپ کے والد صاحب نے فرمایا کہ’’مسجد میں جا کر… تلاش کرو۔اگر وہاں نہ ملے تو مایوس ہو کر واپس مت آنا۔ مسجد کے اندر چلے جانا اور وہاں کسی گوشہ میں تلاش کرنا۔اگر وہاں بھی نہ ملے تو پھر بھی ناامید ہوکر لوٹ مت آنا۔ کسی صف میں دیکھنا کہ کوئی اس کو لپیٹ کر کھڑا کر گیا ہو گا کیونکہ وہ تو زندگی میں مرا ہوا ہے۔
(حضرت مسیح موعودؑ کے مختصرحالات از معراج الدین عمرصاحب صفحہ 67)
آپ کے خادم مرزا اسماعیل بیگ صاحب کی روایت ہے کہ کبھی حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب مجھے بلاتے اور دریافت کرتے کہ ’’سنا ،تیرا مرزا کیاکرتا ہے ۔ میں کہتا تھا کہ قرآن پڑھتے ہیں۔ اس پر وہ کہتے کہ کبھی سانس بھی لیتا ہے۔ پھر یہ پوچھتے کہ رات کو سوتا بھی ہے؟ میں جواب دیتا کہ ہاں سوتے بھی ہیں۔ اور اٹھ کر نماز بھی پڑھتے ہیں۔ اس پرمرزا صاحب کہتے کہ اس نے سارے تعلقات چھوڑ دئیے ہیں۔ میں اوروں سے کام لیتا ہوں۔ دوسرا بھائی کیسا لائق ہے مگر وہ معذور ہے۔‘‘
(تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ۶۵)
پھر ایک ہندو پنڈت دیوی رام جو ۱۸۷۵ء میں نائب مدرس ہو کر قادیان گئے بیان کرتے ہیں کہ مرزا صاحب پانچ وقت نماز کے عادی تھے۔ روزہ رکھنے کے عادی تھے اور خوش اخلاق متقی اور پرہیز گار تھے۔ (سیرۃ المہدی جلد ۳صفحہ۱۷۹) مرزا صاحب مسجد یا حجرہ میں رہتے تھے۔ آپ کے والد صاحب آپ کو کہتے تھے کہ غلام احمد تم کو پتہ نہیں کہ سورج کب چڑھتا ہے اور کب غروب ہوتا ہے اور بیٹھتے ہوئے وقت کا پتہ نہیں جب میں دیکھتا ہوں چاروں طرف کتابوں کا ڈھیر لگا رہتا ہے۔
(سیرت المہدی جلد3صفحہ182,178)
بیماری میں نمازکا اہتمام
بیماری خصوصاً شدید بیماری ایمان کا امتحان ہوتی ہے، کیونکہ جب انسان کے قویٰ جواب دینے لگیں تو اس کی توجہ عموماً اپنے آرام تک محدود ہو جاتی ہے، لیکن خدا کے چنیدہ بندے اس حالت میں بھی عبادتِ الٰہی میں تساہل سے کام نہیں لیتے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ شدید بیماری کے عالم میں بھی اپنے خالق و مالک کے حضور سر بسجود نظر آتے ہیں۔
حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانیؓ تحریر فرماتے ہیں: میں آپؑکی خدمت میں تین مہینے تک رہا اس زمانہ میں حضرت اقدس سخت بیمار تھے اور نماز باجماعت کا اس حالت بیماری اور ضعف میں نہایت التزام رکھتے تھے۔ (تذکرۃ المہدی صفحہ 69۔70) حضور نے ایک بار فرمایا: میرے سر کی حالت آج بھی اچھی نہیں چکر آرہا ہے جب جماعت کا وقت آتا ہے تو اس وقت خیال گزرتا ہے کہ اب جماعت ہوگی اور میں شامل نہ ہوں گا اور افسوس ہوتا ہے اس لئے افتاں و خیزاں چلا آتا ہوں۔ (ملفوظات جلد ۷ صفحہ ۲۱۲) بہت ابتدائی زمانہ کی بات ہے حضرت مستری فقیر محمد صاحبؓاپنے والد جیوا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضور کوٹھے پر سے گر پڑے ہم آپ کی عیادت کے لئے گئے آپ کو ہوش آئی تو پہلا سوال یہ کیا کہ نماز کا وقت ہوا ہے یا نہیں۔
(رجسٹر روایات صحابہ جلد1 صفحہ 58۔الفضل انٹرنیشنل28؍جنوری2020ء )
سفروں میں اہتمام نماز
جس طرح بیماری انسان کے لیے آزمائش ہوتی ہے، اسی طرح سفر بھی مشقت کا باعث بنتا ہے، بلکہ حدیث میں سفر کو عذاب کا ٹکڑا قرار دیا گیا ہے۔ تاہم حضرت مسیح موعودؑ کو دعویٰ سے قبل اور بعد میں متعدد مصالح کے لیے سفر کرنے پڑے، مگر ان تمام اسفار میں نماز کا غیر معمولی اہتمام نمایاں نظر آتا ہے۔
بلکہ آپؑسفر کی شروعات ہی نوافل سے کرتے۔ حضور کے خادم مرزا دین محمد صاحبؓآف لنگروال بیان کرتے ہیں: ’’ وہ صوم وصلوٰۃ کے پابند اور شریعت کے دلدادہ تھے۔ یہی شوق مجھے بھی ان کی طرف لے گیا اور میں ان کی خدمت میں رہنے لگا۔ جب مقدمات کی پیروی کے لئے جاتے تو مجھے گھوڑے پر اپنے ساتھ اپنے پیچھے سوار کر لیتے تھے۔جس دن آپ نے بٹالہ جانا ہوتا تو سفر سے پہلے آپ دو نفل پڑھ لیتے۔‘‘
(تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ76)
مقدمات میں اہتمام نماز
آپ کو مقدمات کے لیے کئی سفر کرنے پڑے مگر مقدمات خواہ کتنے پیچیدہ اور اہم ہوتے آپ نماز کی ادائیگی کو ہر صورت میں مقد م رکھتے تھے۔ چنانچہ آپ نے مقدمات کے دوران کبھی کوئی نماز قضاء نہیں ہونے دی۔ عین کچہری میں نماز کاوقت آتا تو حکم الٰہی کی بجا آوری میں مصروفِ نماز ہو جاتے کہ گویا آپ صرف نماز پڑھنے کے لیے آئے ہیں کوئی اور کام آپ کے مدنظر نہیں ہے۔
حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓنے بیان کیا کہ’’حضرت مسیح موعودؑ کے ملازم غفار کا کام اتنا ہی تھا کہ جب آپ مقدمات کے لئے سفر کرتے تو وہ ساتھ ہوتا اور لوٹا اور مصلّٰی اس کے پاس ہوتا۔ ان دنوں آپ کا معمول یہ تھا کہ رات کو بہت کم سوتے اور اکثر حصہ جاگتے اور رات بھر نہایت رقت آمیز لہجہ میں گنگناتے رہتے۔‘‘
(شمائل احمد صفحہ۲۸)
پھر فرماتے ہیں: (غالباً ۱۹۰۳ء ) ایک دفعہ مقدمہ کرم دین میں جب کہ حضرت صاحب کمرہ عدالت میں تشریف فرما تھے۔ نماز ظہر کا وقت گزر گیا۔ اور نماز عصر کاوقت بھی تنگ ہو گیا۔ تب حضور نے عدالت سے نماز پڑھنے کی اجازت چاہی اور باہر آ کر برآمدے میں ہی اکیلے ہی ہر دو نماز یں جمع کر کے پڑھیں۔
(ذکر حبیب صفحہ۱۱۰)
آپؑایک مقدمہ کا ذکر کرتے ہوئےخود فرماتے ہیں:’’میں بٹالہ ایک مقدمہ کی پیروی کے لئے گیا۔ نماز کا وقت ہو گیا اور میں نماز پڑھنے لگا۔ چپڑاسی نے آواز دی مگر میں نماز میں تھا فریق ثانی پیش ہو گیا اور اس نے یک طرفہ کارروائی سے فائدہ اٹھانا چاہا اور بہت زور اس بات پر دیا۔ مگر عدالت نے پروانہ کی اور مقدمہ اس کے خلاف کر دیا اور مجھے ڈگری دے دی۔ میں جب نماز سے فارغ ہو کرگیا تو مجھے خیال تھا کہ شاید حاکم نے قانونی طور پر میری غیرحاضری کو دیکھا ہو۔ مگر جب میں حاضر ہوا اور میں نے کہا کہ میں تو نماز پڑھ رہا تھا تو اس نے کہا میں تو آپ کو ڈگری دے چکا ہوں‘‘۔ (حیات احمد صفحہ74)عدالت سے غیر حاضری کے باوجود آپ کے حق میں فیصلہ ہو جانا ایک بڑا الٰہی نشان تھا ۔
ایک اور واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں… مارٹن کلارک والے مقدمہ سے قریباً پچیس سال پہلے میں ایک دفعہ خواب میں دیکھ چکا تھا کہ میں ایک عدالت میں کسی حاکم کے سامنے حاضر ہوں اور نماز کا وقت آ گیا ہے تو میں نے اس حاکم سے نماز کے لئے اجازت طلب کی تو اس نے کشادہ پیشانی سے مجھے اجازت دیدی۔ چنانچہ اس کے مطابق اس مقدمہ میں عین دوران مقدمہ میں جبکہ میں نے کپتان ڈگلس سے نماز کے لئے اجازت چاہی تو اس نے بڑی خوشی سے مجھے اجازت دی۔
(نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد18 صفحہ 588)
دنیاوی حکام سے ملاقات کے وقت عبادت کی اہمیت
سرجیمز ولسن فنانشل کمشنر پنجاب ایک روزہ دورہ پر1908ء میں قادیان آئے۔ ان کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر صاحب ضلع گورداسپور وغیرہ بھی تھے۔ جماعت کے ایک وفد نے ان کا استقبال کیا۔ اثنائے گفتگو میں۔۔ فنانشل کمشنر صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ سے ملاقات کے لیے خواہش کا اظہار کیا تھا۔ چنانچہ حضور اپنے بعض خدام کے ساتھ شام کے پانچ بجے تشریف لے گئے… فنانشل کمشنر صاحب حضور کی ملاقات پر بہت ہی خوش ہوئے۔ ازاں بعد حضور واپس تشریف لے آئے۔رستہ میں حضور نے خود ہی بتایا ہم نے خوب کھول کھول کر فنانشل کمشنر کو اسلام کی خوبیاں سنائیں اور اپنی طرف سے حجت پوری کردی۔ فنانشل کمشنر نے اور بھی باتیں کرنا چاہیں اور دنیاوی باتیں تھیں۔ میں نے کہا آپ دنیاوی حاکم ہیں خدا نے ہمیں دین کے لئے روحانی حاکم بنایا ہے جس طرح آپ کے وقت کاموںکے مقرر ہیں۔اسی طرح ہمارے بھی کام مقرر ہیں اب ہماری نماز کا وقت ہو گیا۔ ہم کھڑے ہو گئے۔ فنانشل کمشنر بھی کھڑے ہو گئے اور خوش خوش ہمارے ساتھ خیمہ تک باہر آئے اور ٹوپی اتار کر سلام کیا اور چلے آئے۔
(سیرت احمد از حضرت مولوی قدرت اللہ سنوری صاحب صفحہ57)
وقار اور اطمینان
نمازوں کو سکون اور اطمینان سے ادا کرنا ذوق اور عشق کی ایک علامت ہے۔اورحضرت مسیح موعودؑ کی نمازوں کی ایک نمایاں خصوصیت قرار، سکون اور اطمینان ہے۔ آپؑکے قیام، رکوع، سجود اور قعدہ ہر رکن میں اعتدال، خشوع اور وقار جھلکتا تھا۔حضرت قاضی محمد یوسف صاحبؓفرماتے ہیں:میں نے بار ہا حضرت مسیح موعودؑ کو نماز فرض اور نماز تہجد پڑھتے ہوئے دیکھا آپ نماز نہایت اطمینان سے پڑھتے۔ (سیرت المہدی جلد3صفحہ48)حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحبؓبقا پوری بیان کرتے ہیں کہ مسیح موعودؑ کا رکوع، قیام، قومہ، جلسہ درمیانہ تھا ہر ایک رکن میں اطمینان اور تسلی ہوتی تھی ۔
(رجسٹر روایات جلد8 صفحہ67۔ الفضل انٹرنیشنل 21؍جنوری2020ء )
نماز تہجد ونوافل
نمازِ تہجد تمام صالحین کا طرۂ امتیاز رہی ہے، کیونکہ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب دنیا خوابِ غفلت میں پڑی ہوتی ہے اور خدا کے محبوب بندے اپنے آرام کو ترک کر کے اس کے ذکر میں محو ہوتے ہیں۔
حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓفرماتے ہیں: ’’نماز تہجد کے واسطے آپؑبہت پابندی سے اٹھا کرتے تھے۔ ‘‘
(الفضل3؍جنوری1931ء)
حضرت مرزا دین محمد صاحبؓلنگر وال فرماتے ہیں: میں اپنے بچپن سے حضرت مسیح موعودؑ کو دیکھتا آیا ہوں۔ اور سب سے پہلے میں نے آپ کو مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کی زندگی میں دیکھا تھا۔ جبکہ میں بالکل بچہ تھا آپ کی عادت تھی کہ رات کو عشاء کے بعد جلد سو جاتے تھے۔اور پھر ایک بجے کے قریب تہجد کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ اور تہجد پڑھ کر قرآن کریم کی تلاوت فرماتے رہتے تھے۔ پھرجب صبح کی اذان ہوتی تو سنتیں گھر میں پڑھ کر نماز کے لئے مسجد میں جاتے۔ اور باجماعت نماز پڑھتے۔
(سیرت المہدی جلد3صفحہ20)
حضرت محمد جمیل صاحبؓفرماتے ہیں:جب طاعون کی بیماری پڑی اور حضور باغ میں قیام پذیر ہوئے تو ہم لوگ راتوں کو پہرہ دیا کرتے تھے رات کے جس حصہ میں بھی ہم لوگ حضور کے کیمپ کے پاس سے گزرتے تو آپ نماز میں ہی مصروف نظر آتے۔ خدا جانے کب سوتے ہوں گے۔ ایک بار حضور لاہور تشریف لے گئے تو ہمارے ہیڈ ماسٹر مفتی محمد صادق صاحب ہماری کلاس کو بھی لاہور ساتھ لے گئے۔ ہمیں حضور کے کمرہ کے ساتھ جگہ ملی۔ حضور رات ۱۱ بجے تک مہمانوں کے ساتھ مصروف رہتے اور پھر تمام رات تہجد میں گزار دیتے۔ ہمیں جب بھی بیداری ہوتی حضور نماز پڑھتے ہی نظر آتے۔
(رجسٹر روایات جلد6 صفحہ21۔22۔ الفضل انٹر نیشنل 14؍فروری2020ء)
حضرت ماسٹر نذیر حسین صاحبؓفرماتے ہیں ایک بار جہلم جاتے ہوئے حضور میرے دادا حضرت میاں چراغ دین صاحب کے مکان مبارک منزل لاہور ٹھہرے۔ حضور کے کمرہ کے باہر دالان میں دروازے کے پاس میں بھی سو گیا۔ رات ۳ بجے جاگا تو حضور نمازپڑھ رہے تھے۔ میں بھی وضو کر کے دور فاصلہ پر نماز پڑھنے لگ گیا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ حضور جتنا قیام یا رکوع یا سجدہ کر سکوں مگر نہ کر سکا۔ میں ۲ رکعت میں ہی سخت تھک گیا اور حضور ابھی اسی رکعت میں تھےجس میں خاکسار شامل ہوا تھا۔
(رجسٹر روایات جلد7صفحہ68۔69؍ الفضل انٹر نیشنل 11؍فروری2020ء)
ایک دفعہ حضور بیماری کے سخت دورہ میں تہجد کے لیے اٹھے تو غش کھا کر گر پڑے۔ الہام ہوا کہ ایسی حالت میں تہجد کی بجائے لیٹے لیٹے یہ دعا پڑھ لیا کرو۔ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِهٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِيمِ
(ذکر الٰہی از حضرت مصلح موعود صفحہ113)
تہجد میں گریہ وزاری
حضرت مسیح موعودؑ کے خادم حضرت حافظ حامد علی صاحبؓبیان کرتے ہیں کہ ’’تہجد کے وقت حضور ایسی آہستگی اور خاموشی سے اٹھتے کہ مجھے خبر نہ ہوتی لیکن گاہے گاہے جب آپ کی آواز خشوع وخضوع کے سبب سے بے اختیار بلند ہوتی مجھے خبر ہوجاتی اور میں شرمندہ ہو کر اٹھتا… سجدہ کو بہت لمبا کرتے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس گریہ وزاری میں آپ پگھل کر بہہ جائیں گے۔ نماز تہجد کے واسطے آپ پابندی سے اٹھا کرتے تھے‘‘۔
(اصحاب احمد جلد18صفحہ74)
سیالکوٹ میں ملازمت کے دوران کا اکثر معمول تھا کہ آپ گھر سے باہر اپنے اوپر چادر لپیٹے رکھتے اور صرف اتنا حصہ چہرہ کا کھلا رکھتے جس سے راستہ نظر آئے۔ جب کچہری سے فارغ ہو کر واپس اپنی قیام گاہ پر تشریف لاتے تو دروازہ بند کرلیتے اور قرآن شریف کی تلاوت اور ذکر الٰہی میں مصروف ہو جاتے۔ آپ کے اس طریق مبارک سے بعض متجسس طبیعتوں کو خیال پیدا ہوا کہ یہ ٹوہ لگانا چاہیے کہ آپ کِواڑ بند کر کے کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ ایک دن ’’سراغ رسان‘‘ گروہ نے آپ کی ’’خفیہ سازش‘‘کو بھانپ لیا یعنی ’’انہوں نے بچشم خود دیکھا کہ آپ مصلٰی پر رونق افروز ہیں قرآن مجید ہاتھ میں ہے اور نہایت عاجزی اور رقت اور الحاح وزاری اورکرب وبلا سے دست بدعا ہیں کہ ’’یا اللہ تیرا کلام ہے مجھے تو تُو ہی سمجھائے گا تو میں سمجھ سکتا ہوں ‘‘۔
(تاریخ احمدیت جلد1صفحہ85)
مائی حیات بی بی صاحبہ بنت فضل دین صاحب کی روایت ہے کہ ’’مرزاصاحب اندر جاتے اور دروازہ بند کر لیتے اور اندر صحن میں جا کر قرآن پڑھتے رہتے۔ میرے والد صاحب بتلایا کرتے تھے کہ مرزا صاحب قرآن مجید پڑھتے پڑھتے بعض وقت سجدہ میں گر جاتے ہیں اور لمبے لمبے سجدے کرتے ہیں اور یہاں تک روتے ہیں کہ زمین تر ہو جاتی ہے‘‘۔
(سیرت المہدی جلد3صفحہ93)
حضرت میاں سانولا پٹھانہ ضلع پونچھ کی روایت ہیکہ آپؑگھنٹے دو گھنٹے نماز میں کھڑے رہتے جب سجدہ میں جاتے تو دو دو گھنٹے سجدہ میں پڑے رہتے اور سجدہ کے وقت ان سے ایسی آواز نکلتی جیسے ابلتی ہوئی ہانڈی سے نکلتی ہے۔ سجدے کی جگہ روتے روتے تر ہو جاتی تھی۔
(تاریخ احمدیت کشمیر صفحہ۶۷)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا اور اپنی جماعت کا شناختی نشان بھی نماز کو ہی قرار دیا ہے۔ اور فرمایا کہ تم پنجوقتہ نماز اوراخلاقی حالت سے شناخت کئے جاؤگے۔ (مجموعہ اشتہارات جلد3صفحہ48) حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓبیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ ارکانِ اسلام میں سب سے زیادہ زور نماز پر دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ نمازیں سنوار کر پڑھا کرو۔
(سیرت المہدی جلد3صفحہ126)
خلوت کی عبادتیں
حضرت مسیح موعودؑ کو خلوت محبوب تھی اور اگر اللہ تعالیٰ آپؑکو گوشۂ گمنامی سے نکال کر ہدایتِ خلق کا فریضہ عطا نہ فرماتا تو آپؑساری زندگی تنہائی میں عبادتِ الٰہی میں بسر فرما دیتے۔ آپؑکی خلوتی عبادات آپ کے غیر معمولی ذوقِ عبادت اور تعلق باللہ کی روشن دلیل ہیں۔
حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓفرماتے ہیں: نماز تہجد کی خلوت کے علاوہ دن کے وقت بھی عموماً ایک وقت بالکل علیحدگی میں عبادت میں گزارتے تھے۔ آپ کی رہائش کے کمرے کے ساتھ چھوٹا سا کمرہ بیت الدعاء کا ہے۔اسے اندر سے بند کر کے دو گھنٹہ کے قریب بالکل علیحدگی میں مصروف عبادت رہا کرتے تھے۔ ایام سفر میں بھی آپ کے واسطے کوئی چھوٹا سا کمرہ خلوت کے واسطے بالکل الگ کر دیا جاتا۔ مقدمہ کرم الدین کے زمانہ میں جب کہ کئی ماہ تک گورداسپور میں قیام رہا، اس وقت جو مکان کرایہ پر لیا ہوا تھا اس کے دروازے سے داخل ہوتے ہی بائیں طرف ایک چھوٹا سا کمرہ اس غرض کے واسطے الگ کر دیا تھا جس میں حضور عموماً ۱۰بجے سے ۱۲ بجے تک روزانہ بالکل علیحدگی میں مصروف بہ عبادت ودعا رہتے تھے۔ ابتدائی زمانہ میں جب کہ ہنوز کچھ شہرت آپ کی نہ تھی اورآدمیوں کی کچھ آمدورفت نہ تھی، اس وقت آپ عموماً تلاش خلوت میں باہر جنگل میں چلے جایا کرتے اور علیحدگی میں بیٹھ کر عبادت الٰہی کرتے۔
(الفضل3؍جنوری1931ء)
حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓفرماتے ہیں آپ خواہ سفر میں ہوں یا حضر میں۔ دعا کے لیے ایک مخصوص جگہ بنالیا کرتے تھے۔اور وہ بیت الدعا کہلاتا تھا۔ میں جہاں جہاں حضرت کے ساتھ گیا ہوں میں نے دیکھا ہے کہ آپ نے دعا کے لیے ایک الگ جگہ ضرور مخصوص فرمائی اور اپنے روزانہ پروگرام میں یہ بات ہمیشہ داخل رکھی ہے کہ ایک وقت دعا کے لیے الگ کر لیا۔قادیان میں ابتداءً تو آپ اپنے اس چوبارہ میں ہی دعاؤں میں مصروف رہتے تھے۔ جو آپ کے قیام کے لئے مخصوص تھا۔ پھر مسجد اس مقصد کے لئے مخصوص ہو گئی۔ جب اللہ تعالیٰ کی مشیت ازلی نے مسجد کو بھی عام عبادت گاہ بنا دیا۔ اور تخلیہ میسر نہ رہا تو آپ نے گھر میں ایک بیت الدعا بنا یا۔ جب زلزلہ آیا اور حضور کچھ عرصہ کے لئے باغ میں تشریف لے گئے تو وہاں بھی ایک چبوترہ اس غرض کے لئے تعمیر کرالیا۔ گورداسپور مقدمات کے سلسلہ میں آپ کو کچھ عرصہ کے لئے رہنا پڑا تو وہاں بھی بیت الدعا کا اہتمام تھا۔ غرض حضرت کی زندگی کا یہ دستور العمل بہت نمایاں ہے آپ دعا کے لئے ایک الگ جگہ رکھتے تھے بلکہ آخری حصہ عمر میں تو آپ بعض اوقات فرماتےکہ بہت کچھ لکھا گیا اور ہرطرح اتمام حجت کیا۔ اب جی چاہتا ہے کہ میں صرف دعائیں کیا کروں۔ دعاؤں کے ساتھ آپ کوایک خاص مناسبت تھی۔بلکہ دعائیں ہی آپ کی زندگی تھیں۔چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے آپ کی روح دعا کی طرف متوجہ رہتی تھی۔ہر مشکل کی کلید آپ دعاکو یقین کرتے تھے اور جماعت میں یہی جذبہ او ر روح آپ پیدا کرنا چاہتے تھے کہ دعاؤں کی عادت ڈالیں۔
(سیرت حضرت مسیح موعودؑ صفحہ504-505)
روزوں کا اہتمام
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو روزوں سے غیر معمولی شغف اور خاص ذوق تھا۔ آپؑرمضان المبارک کے روزوں کا نہایت اہتمام فرماتے اور نفلی روزوں کی بھی کثرت کیا کرتے تھے۔ روزہ آپؑ کے نزدیک محض ظاہری بھوک پیاس کا نام نہیں تھا بلکہ یہ نفس کی تربیت، روح کی بالیدگی اور خدا تعالیٰ سے خاص قرب کا ذریعہ تھا۔ آپؑفرمایا کرتے تھے کہ روزہ انسان میں تقویٰ پیدا کرتا ، کشفی قوتوں کو بڑھاتا ہے اوردعا کی قبولیت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ چنانچہ آپؑبیماری اور ضعف کے ایام میں بھی جب صحت اجازت دیتی کثرت سےروزے رکھتے ۔
فرض روزوں کے علاوہ آپؑرمضان کے علاوہ شوال کے چھ روزوں کا بھی بہت اہتمام فرماتے تھے اور اسے سنتِ نبویؐ کی پیروی میں اہم سمجھتے تھے۔ آپؑکی ایک خاص عادت یہ تھی کہ جب بھی آپ کو کسی خاص مہم، کسی مشکل معاملے یا کسی بڑے نشان کی طلب کے لیے دعا کرنی ہوتی، تو آپ اس کے لیے روزہ رکھتے تھے۔
آپؑنے جوانی کے ایام میں اللہ تعالیٰ کے ایماء پر طویل عرصے تک روزے رکھے۔ ان روزوں کی خاص بات یہ تھی کہ آپ اپنا کھانا چپکے سے کسی مستحق کو دے دیتے تھے اور گھر والوں کو علم نہ ہونے دیتے کہ آپ روزے سے ہیں۔اور اس حد تک کھانا کم کردیاتھا کہ آپ فرماتے ہیں کہ تین ماہ کا بچہ بھی اس پر صبر نہیں کرسکتاتھا۔ آپؑفرماتے ہیں۔
’’مجھے یاد ہے کہ اوائل عمر میں ایک دفعہ مَیں نے الہامِ الٰہی سے آٹھ نو ماہ تک مسلسل روزے رکھے۔ مگر مَیں نے ان روزوں کو ایسا پوشیدہ رکھا کہ سوائے خدا کے کسی کو خبر نہ تھی۔ بسا اوقات ایسا ہوتا تھا کہ گھر سے جو کھانا میرے پاس آتا تھا وہ مَیں کسی مسکین کو دے دیتا تھا اور خود شام تک کچھ نہ کھاتا تھا۔... اس ریاضت سے مجھ پر مکاشفات کا دروازہ کھل گیا اور مَیں نے بہت سے عجائباتِ الٰہی کا مشاہدہ کیا‘‘۔
(کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13، صفحہ 181-182)
قدرتی مناظر اور ذکر الٰہی
حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے الفاظ میں لکھا ہے کہ آپؑنے فرمایا کہ
’’جب کبھی ڈلہوزی جانے کا مجھے اتفاق ہوتا تو پہاڑوں کے سبزہ زار حصوں اور بہتے ہوئے پانیوں کو دیکھ کر طبیعت میں بے اختیار اللہ تعالیٰ کی حمد کا جوش پیدا ہوتا اور عبادت میں ایک مزا آتا۔ میں دیکھتا تھا کہ تنہائی کے لیے وہاں اچھا موقع ملتا ہے۔‘‘
(حیات احمد جلد اول حصہ اول صفحہ 85)
آخری عمل بھی نماز اور ذکر الٰہی تھا
حضرت مسیح موعودؑ کی مبارک زندگی کے آخری لمحات بھی عبادتِ الٰہی ہی میں بسر ہوئے۔ آپؑکی زبان پر آخری دم تک خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کا ذکر جاری رہا، اور یوں آپؑکا جینا بھی عبادت تھا اور آپؑکا وصال بھی عبادت کی حالت میں ہوا۔چنانچہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓآپؑکے آخری دن کے بارے میں فرماتے ہیں(26؍مئی 1908ء)کی صبح ہو گئی اور حضرت مسیح موعودؑ کی چارپائی کو باہر صحن سے اٹھا کر اندر کمرے میں لے آئے۔ جب ذرا روشنی ہو گئی تو حضور نے پوچھا کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے؟ عرض کیا گیاکہ حضور ہو گیا ہے اس پرحضور نے بستر پر ہی ہاتھ مار کر تیمم کیا اور لیٹے لیٹے ہی نماز شروع کر دی۔ اسی حالت میں تھے کہ غشی سی طاری ہو گئی اور نماز پوری نہ کر سکے۔ تھوڑی دیر بعد حضور نے پھر دریافت فرمایا کہ صبح کی نماز کا وقت ہو گیا ہے؟ عرض کیا گیا کہ ہو گیا ہے۔ آپ نے پھر نیت باندھی اور لیٹے لیٹے نماز ادا کی۔ اس کے بعدنیم بے ہوشی کی کیفیت طاری رہی مگر جب کبھی ہوش آتا تھا وہی الفاظ اللہ میرے پیارے اللہ سنائی دیتے تھے اور ضعف لحظہ بلحظہ بڑھتا جاتا تھا۔ (سلسلہ احمدیہ صفحہ183)
حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓفرماتے ہیں: ’’آپ کا آخری کام بھی دنیا میں عبادت الٰہی ہی تھا۔
آپ کی وفات کے وقت میں حضور کے قدموں میں حاضر تھا۔ جب تک آپ بول سکتے تھے۔ سوائے اس کے کوئی لفظ آپ کے منہ پر نہ تھا کہ اے میرے پیارے اللہ! اے میرے پیارے اللہ! آخری نصف شب اس حالت میں گزری یہاں تک کہ گلے کی خشکی کے سبب بولنا دشوار ہو گیا۔ جب کمرے میں فجر کی کچھ روشنی آپ نے دیکھی تو فرمایا نماز! اس وقت یہ عاجزحضور کے پاؤں دبا رہا تھا اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب… نے جو سرہانے کے قریب بیٹھے تھے، یہ سمجھا ،مجھے فرماتے ہیں کہ نماز کا وقت ہو گیا نماز پڑھ لو۔ انہوں نے عرض کی میں نماز پڑھ چکا ہوں۔ آپ نے دوبارہ فرمایا نماز! اور ہاتھ سینے پر باندھ کر نماز پڑھنی شروع کی۔ اس کے بعد حضور نے پھر کوئی کلمہ نہیں بولا یہاں تک کہ آٹھ بجے کے قریب حضور کا وصال اپنے حقیقی معبود اور محبوب کے سا تھ ہو گیا۔ پس آپ کا آخری فعل بھی اس دنیا میں عبادت ہی تھا۔ خلوت میں بھی عبادت الٰہی میں مصروف رہتے تھے اور جلوت میں بھی آپ عبادت الٰہی میں لگے رہتے تھے۔ آپ کا جینا بھی عبادت الٰہی میں تھا اور آپ کا فوت ہونا بھی عبادت الٰہی میں ہوا۔
(الفضل3؍جنوری1931ء)
اختتام
الغرض حضرت مسیح موعودؑ کی حیاتِ طیبہ کا مطالعہ یہ حقیقت پوری آب و تاب سے آشکار کرتا ہے کہ عبادت آپؑکی زندگی کا محض ایک عمل نہیں بلکہ روحِ حیات تھی۔ نماز، دعا، روزہ، ذکرِ الٰہی اور خلوت و جلوت ہر حالت میں خدا تعالیٰ سے گہرا، زندہ اور عاشقانہ تعلق آپؑکی سیرت کا امتیازی وصف تھا۔ آپؑنے اپنی عملی زندگی سے یہ سبق دیا کہ حقیقی کامیابی، قلبی سکون اور روحانی سربلندی کا واحد راستہ عبادتِ الٰہی اور کامل عبودیت میں مضمر ہے۔ آپؑکا اسوہ ہر اُس شخص کے لیے مشعلِ راہ ہے جو خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق قائم کرنا چاہتا ہے۔ پس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم حضرت مسیح موعودؑ کے اس ذوقِ عبادت کو اپنی زندگیوں میں اپنانے کی کوشش کریں تاکہ ہم بھی خدا تعالیٰ کی رضا کے قرب سے بہرہ مند ہو سکیں۔
ززز