انسان اور حیوان میں بعض خصوصیات مشترک ہیں مگر کئی امتیازات بھی ہیں۔انسان کھاتا پیتا ہے تاکہ بقاء خود کا سلسلہ جاری رہے۔اسی طرح حیوان بھی کھاتا پیتا ہے اور اس سے بھی بقاء خود کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔پھر نسل جاری رکھنے کا سلسلہ بھی دونوں میں چلتا ہے تاکہ بقاء خود کے ساتھ ساتھ بقاء نوع کا سلسلہ بھی جاری رہے۔
اگر ہم انسان اور حیوان کے امتیاز کے حوالے سے غور کریں تو ہمیں صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے لیے حیوان کو مسخر کیا گیا ہے ۔ اور انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ عطا فرمایا گیا ہے ۔ حیوان پر انسان کو فوقیت دی گئی ہے۔ کیونکہ اسے صرف بقاء خود اور بقاء نوع تک (حیوانات کی طرح) محدود نہیں رکھا گیا۔ بلکہ اس کے لیے ایک مقام ’’بقاء روح‘‘ بھی ہے۔ اس کے لیے ایک جگہ نہیں بلکہ دو جگہوں ( دنیا و آخرت) کے لیے انسان کو پیدا کیا گیا ہے ۔اور اس کے لیے کچھ ذمہ داریاں بھی انسان پر عائد کی گئی ہیں (جو حیوانات کے لیے نہیں ہیں) چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
’’انسان خدا تعالیٰ کے تعبد ابدی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔‘‘
(حقیقتہ الوحی۔روحانی خزائن جلد22 صفحہ 64)
پھر اس غرض ( تعبد ابدی) کے لیے اللہ تعالیٰ نے از راہ احسان ایک حسین نظام بھی قائم فرمایا ہے اور راہنمائی کے لیے انبیاء علیہم السلام کو نازل فرماتا رہا ہے ۔اور اللہ تعالیٰ جس طرح ہزارہا ماؤں سے بڑھ کر اپنے بندوں سے پیار و محبت کرتا ہے اسی کے پرتو کے طور پر تمام انبیاء کرام بھی اپنے متبعین سے ان کی ماؤں سے بڑھ کر محبت رکھتے ہیں اور اس غرض کے لیے ہمیشہ تڑپتے رہتے ہیں۔ چنانچہ اس امر کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام قرآن مجید میں حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا ذکر یوں فرمایا ہے ۔ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ(سورۃ الشعراء: 4 )اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اس میں فرمایا کہ کیا تو اپنی جان کو اسلئے ہلاک کر دیگا کہ وہ مومن نہیں ہوتے۔یہ درد مندی اپنے متبعین کے لیے تمام انبیاء علیہم السلام کے اندر ہوتی ہے ۔اسی طرح درد مندی کے توقعات کا مضمون بائبل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں بھی ملتا ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں ۔
’’کاش کہ خداوند کے سارے بندے نبی ہوتے‘‘
(گنتی29 /11)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی دردمندانہ سیرت بھی اسی طرح ہے۔ اور آپ اپنے دوست احباب میں اس کا ذکر فرمایاکرتے تھے۔چنانچہ حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :
’’حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ عالی میں جب بعض لوگوں کی طرف سے دنیاوی مقاصد کے حصول کے لیے دعا کی درخواست ہوتی اور ان کے خطوط موصول ہوتے تو حضور انور اکثر فرمایا کرتے تھے کہ۔ ہم جس دنیا کو چھڑانے کے لیے آئے ہیں یہ لوگ وہی دنیا ہم سے مانگتے ہیں۔ کاش ہمارے یہ دوست جو ہم سے دنیا کے متعلق دعا کراتے ہیں یہ اصلاح نفس اور خدمت اسلام کے متعلق بھی اپنے دلوں میں ایسی ہی تڑپ محسوس کریں جیسا کہ دنیا کے لیے محسوس کرتے ہیں ۔
پھر حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ کئی دوستوں کی درخواستیں دعا کے متعلق اس غرض سے ہوتی ہیں کہ ان کا فلاں کام ہو جائے اور مال و دولت مل جائے یا بیوی اور بچے مل جائیں اور بیماروں کو صحت ہو جائے مگر ایسی درخواستیں بہت کم ہوتی ہیں جن میں یہ لکھا ہو کہ آپ میرے لیے دعا کریں کہ مجھے اللہ تعالیٰ اور رسول کی محبت نصیب ہو اور خدمت دین کی طرف رغبت پیدا ہو اور فلاں فلاں کمزوری اور بدی جو مجھ میں پائی جاتی ہے اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے ۔
حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ مومنوں کا کام تو یہ ہے کہ ان کا ہر ایک شغل دین سے تعلق رکھنے والا ہو اور جیسے کافر لوگ دنیا اور دنیا کے مال و دولت اور ہر ایک چیز سے کفر کی بقا و ترقی کے لیے کوشش کرتے ہیں ایسے ہی مومنوں کو چاہیے کہ وہ ان کے مقابل میں غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی جان و مال اور گھر بار کو دین کی خدمت میں لگا کر دین کو دنیا میں قائم کر دیں تاکہ دنیا میں خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر ہو اور اسلام پھلے پھولے اور دوسرے تمام ادیان پر غالب آئے ۔
پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ میں آپ لوگوں کو دنیا کے کاموں سے بالکل منع نہیں کرتا بلکہ میرا اصل مسلک جس پر میں لوگوں کو قائم کرنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ لوگ دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہوئے دنیا کا شغل اختیار کریں۔‘‘
(حیات قدسی حصہ دوم صفحہ 86,87)
حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :
’’میں نے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زبان مبارک سے یہ بارہا سنا ہے کہ جس دنیا کے طمع اور لالچ کوہم اندر سے نکالنے کے لیے آئے ہیں، افسوس ہے کہ لوگ زیادہ تر اسی کے متعلق دعا کرنے کی خواہش کرتے ہیں ۔کبھی یہ درخواست کرتے ہیں کہ بیوی یا اولاد نرینہ مل جائے۔کبھی ملازمت یا عہدہ میں ترقی کے لیے کہتے ہیں۔کبھی کاروبار میں نفع یا بیماری سے شفاء پانے کی درخواست کرتے ہیں۔ایسے بہت تھوڑے ہیں جو یہ دعا کرواتے ہیں کہ ہمیں خدا کی محبت اور اطاعت نصیب ہو اور خدمت دین کا موقعہ ملے۔اللہ تعالیٰ ہمیں گناہوں سے بچائے اور ان سے نفرت پیدا فرمائے۔ اور روحانی امراض سے شفاء حاصل ہو۔‘‘
(حیات قدسی حصہ سوم صفحہ 36)
اس دردمندی کا دوسرا پہلو آپ کی ناراضگی میں بھی ہے چنانچہ ایک واقعہ ملفوظات میں یوں درج ہے کہ :
’’ایک نوجوان شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر دنیاوی مصائب کی کہانی شروع کی اور اپنے طرح طرح کے ہم و غم بیان کیے ۔حضرت مسیح موعود نے بہت سمجھایا اور فرمایا کہ ہمہ تن دنیاوی امور میں کھوئے جانا خسارت آخرت کا موجب ہوتا ہے اور اس قدر جزع و فزع مومن کو نہیں چاہیے ۔مگر وہ زور زور سے رونے لگا جس پر آپ نے سخت ناراضگی اور نا پسندیدگی کا اظہار فرما کر کہا کہ ’’ بس کرو۔میں ایسے رونے کو جہنم کا موجب جانتا ہوں۔ میرے نزدیک جو آنسو دنیا کے ہم و غم میں گرائے جاتے ہیں ۔وہ آگ ہیں جو بہانے والے کو ہی جلا دیتے ہیں ۔میرا دل سخت ہو جاتا ہے ایسے شخص کے حال کو دیکھ کر جو جیفہ دنیا کی تڑپ میں کڑھتا ہے ۔
(ملفوظات جلد اول صفحہ 216 مطبوعہ قادیان 2010)
احباب جماعت سے یہ دردمندانہ توقعات زندگی بھر آپ رکھتے رہے اور یہی انبیاء علیہم السلام کا مقصد ہے۔چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام السلام کی زندگی کی آخری نصیحت بھی ہمارے لیے قابل غور ہے ۔اس نصیحت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ علیہ السلام کس قدر اپنی عزیز اور پیاری جماعت سے توقعات رکھتے تھے ۔
حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور کے یہ الفاظ مجھے آج تک خوب یاد ہیں ۔
’’جماعت احمدیہ کے لیے بہت فکر کا مقام ہے کیونکہ ایک طرف تو لاکھوں آدمی انہیں کافر کافر کہتے ہیں دوسری طرف اگر یہ بھی خدا تعالیٰ کی نظر میں مومن نہ بنے تو ان کے لیے دوہرا گھاٹا ہے۔حضرت ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ جہاں تک مجھے یاد ہے یہ حضور کی آخری نصیحت تھی جس کو میں نے اپنے کانوں سے سنا۔‘‘
( الفضل 12 نومبر 1959 )
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے منظوم کلام میں فرماتے ہیں ۔
سب خیر ہے اسی میں کہ اس سے لگاؤ دِل
ڈھونڈو اسی کو یارو! بتوں میںوفا نہیں
اِس جائے پُر عذاب سے کیوں دِل لگاتے ہو
دوزخ ہے یہ مقام یہ بُستاں سَرا نہیں
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے آقا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دردمندانہ توقعات کے مطابق پورا اترنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم خدا تعالیٰ کی نظر میں مومن بننے کی سعادت حاصل کرنے والے ہوں اور ہمارا انجام بخیر ہو۔آمین