(قسط نمبر 2)
حدیث کی شروح میں ذکر
اس کے بعد کتب حدیث کی شروح کا ذکر ہے۔ جن بزرگوں نے مذکورہ بالا کتب کی شرح لکھی ہے یعنی وضاحت کی ہے ان میں تو ظاہر ہے یہ حدیث موجود ہے۔ لیکن جن کتب حدیث میں یہ حدیث بیان نہیں ہوئی ان کے شارحین نے بھی دجال اور یاجوج ماجوج کے حوالے سے اس حدیث کا تذکرہ کیا ہے۔ مثلاًصحیح بخاری کی ایک شرح فتح الباری ہے بخاری میں یہ حدیث نہیں ہے مگر اس کے شارح نے یاجوج ماجوج والی احادیث کی تشریح کے لیے مسلم کی نبی اللہ والی حدیث کو درج کیا ہے۔
(1) فتح الباري شرح صحيح البخاري۔ المؤلف: أحمد بن علي بن حجر الشافعي۔ كِتَابُ الْفِتَنِ بَابُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ جلد ۱۳ صفحہ ۱۰۹ حدیث نمبر۷۱۳۵۔
(2) مسلم کی شروح میں سے بھی نمونہ کے طور پر ایک شرح کا حوالہ یہ ہے۔ إِكمَالُ المُعْلِمِ بفَوَائِدِ مُسْلِم۔ المؤلف: عياض بن موسى السبتي، (المتوفى: ۵۴۴ھ)جلد ۸ صفحہ ۴۸۶۔
(3) سنن ابن ماجہ کی شرح ہے۔كفاية الحاجة۔ المؤلف: محمد بن عبد الهادي نور الدين السندي (المتوفى: ۱۱۳۸ھ) جلد ۲ صفحہ ۵۰۸۔ كِتَابُ الْفِتَنِ باب فِتْنَةِ الدَّجَالِ وَخُرُوجِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَخُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ حدیث نمبر۴۰۷۵۔
(4) سنن ابو داؤد کی شرح ہے۔ عون المعبود شرح سنن أبی داود،المؤلف: محمد أشرف بن أمیر، العظيم آبادي(المتوفى: ۱۳۲۹ھ)کتاب الملاحم باب خروج الدجال جلد ۱۱ صفحہ ۳۰۲)
(5) یہ حدیث مشکوۃ المصابيح میں بھی ہے جسے حدیث کا انسائیکلو پیڈیا بھی کہا جاتا ہے۔ مشكاة المصابيح۔ المؤلف: محمد بن عبد الله الخطیب (المتوفى: ۷۴۱ھ) جلد ۳ صفحہ ۱۵۰۷ کتاب الفتن باب العلامات بین یدی الساعۃ
(6) مشكوٰة المصابيح کی شروح میں بھی اس حدیث کی شرح کی گئی ہے۔ مرقاة المفاتيح۔ المؤلف: علي بن(سلطان) محمد الملا الهروي القاري(المتوفى: ۱۰۱۴ھ) كِتَابُ الْفِتَنِ۔ بَابُ الْعَلَامَاتِ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ وَذِكْرِ الدَّجَّالِ حدیث نمبر۵۴۷۵۔
(7) شرح الطيبي على مشكاة المصابيح۔ المؤلف: الحسين بن عبد الله الطيبي (۷۴۳ھ) کتاب الملاحم باب العلامات بین یدی الساعۃ جلد ۱۱ صفحہ۳۴۵۷ )حدیث نمبر۵۴۷۵
دیگرکتب علماء اسلام
مسیح نبی اللہ والی حدیث صدیوں سے نقل در نقل ہوتی آئی ہے اور کسی نے اس کی صحت، اس کے مضمون یا مسیح کے نبی اللہ ہونے پر اعتراض نہیں اٹھایا۔ بڑے بڑے علماء نے اس کو اپنی کتب میں درج کیا ہے ان کی تعداد بیسیوں میں ہے ان میں مفسرین بھی ہیں،محدثین بھی اور علم کلام کے ماہرین بھی۔ قدیم بھی ہیں اور جدید بھی۔ ان میں سے صرف چند مشہور بزرگوں کی کتب پیش ہیں۔ ان کو زمانی لحاظ سے ترتیب دیاگیا ہے تاکہ یہ معلوم ہو کہ ہر زمانہ میں یہ حدیث مشہور رہی ہے۔
(1) الجمع بین الصحیحین البخاری ومسلم۔ المؤلف: محمد بن فتوح (المتوفی: ۴۸۸ھ) جلد ۳ صفحہ ۵۲۵
(2) تاریخ دمشق۔ المؤلف: أبو القاسم علی المعروف بابن عساكر (المتوفى: ۵۷۱ھ) جلد ۲ صفحہ ۲۲۰
(3) جامع الأصول فی أحاديث الرسول۔ المؤلف : ابن الأثير(المتوفى : ۶۰۶ھ) جلد ۱۰ صفحہ ۳۴۱
(4) عقد الدرر فی أخبار المنتظر۔ المؤلف: يوسف بن يحيى (المتوفى: ۶۵۸ھ) باب ۱۲ في ما يجري من الفتن في خروج يأجوج ومأجوج جلد ۱ صفحہ ۳۶۳
(5) التذكرة بأحوال الموتى المؤلف: شمس الدين القرطبي(المتوفى: ۶۷۱ھ)جلد ۱ صفحہ ۱۲۹۱
(6) بغية المرتاد۔ المؤلف: امام ابن تيمية (المتوفى: ۷۲۸ھ) جلد ۱ صفحہ ۴۷۹
(7) لباب التأويل في معاني التنزيل۔ المؤلف: علاء الدین المعروف بالخازن (المتوفی: ۷۴۱ھ) جلد۳ صفحہ۲۴۳۔ زیر آیت انبیاء ۹۷
(8) تہذیب الکمال فی أسماء الرجال۔المؤلف: یوسف الکلبی المزی (المتوفی: ۷۴۲ھ) جلد۱۵ صفحہ ۲۲۵
(9) التمسك بالسنن المؤلف: أبوعبداللہ محمد الذہبی(المتوفی: ۷۴۸ھ) باب تقسیم السنۃ إلی حسنۃ و سیٔتہ من حیث اللغۃ جلد ۱ صفحہ ۱۱۱۔
(10) تفسیر ابن کثیر۔ المؤلف: أبوالفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر (المتوفی: ۷۷۴ھ)جلد۲ صفحہ ۴۶۲۔ زیر آیت نساء ۱۶۰۔ ابن کثیر نے اور بھی کئی کتب میں ذکر کیا ہے۔
(11) اللباب فی علوم الکتاب۔ المؤلف: أبو حفص سراج الدین عمر النعمانی (المتوفی: ۷۷۵ھ) جلد۱۲ صفحہ ۵۶۹۔ زیرآیت کہف ۸۴
(12)الفتح الکبیر ۔ المؤلف: جلال الدین السیوطی (المتوفی: ۹۱۱ھ) جلد ۲ صفحہ ۲۴۵۔ حدیث نمبر ۱۶۴۸۔ امام سیوطی نے کئی کتب میں ذکر کیا ہے۔
(13) تاريخ الخمیس۔ المؤلف: حسین بن محمد بن الحسن الدّ ِیار بَکْری (المتوفی: ۹۶۶ھ) جلد ۱صفحہ ۱۰۵۔
(14) کنز العمال۔ المؤلف: علاء الدین الشہیر بالمتقی الہندی (المتوفی: ۹۷۵ھ) جلد ۱۴ صفحہ ۲۸۷۔
(15) السراج المنیر۔ المؤلف: شمس الدین، محمد بن أحمد الخطیب (المتوفی: ۹۷۷ھ)جلد۲ صفحہ۴۰۸۔ زیر آیت کہف ۹۹۔
(16) دلیل الفالحین لطرق ریاض الصالحین۔ المؤلف: محمد علی بن الصدیقی الشافعی(المتوفی: ۱۰۵۷ھ) كتَاب الأمُور المَنهي عَنْهَا جلد ۸ صفحہ ۶۲۵۔
(17) لوامع الا ٔنوار البھیۃ۔ المؤلف: شمس الدین السفارینی (المتوفی: ۱۱۸۸ ھ) فَصْلٌ فِیْ أَشْرَاطِ السَّاعَۃِ وَعَلَامَاتِھَا۔ العلامۃ الرابعۃ خروج یأجوج و مأجوج جلد ۲صفحہ ۱۲۰۔
(18) أحادیث فی الفتن والحوادث۔ المؤلف: محمد بن عبدالوھاب التمیمی النجدی (المتوفی: ۱۲۰۶ ھ) باب: الدجال و صفہ و مامعہ جلد ۱ صفحہ ۱۶۲۔ فرقہ اہل حدیث انہی کی طرف منسوب ہوتا ہے۔
(19) ۔: التفسیر المظہری۔ المؤلف: المظہری، محمد ثناء اللہ پانی پتی (المتوفی: ۱۲۲۵ھ) جلد ۳ صفحہ ۳۱۱۔ زیر آیت انعام ۱۵۹۔
(20)۔ التصریح بما تواتر فی نزول المسیح۔ المؤلف: محمد أنور شاہ الکشمیری (المتوفی: ۱۳۵۳ھ) حدیث غیر الدجال أخوفنی علیکم۔ جلد ۱ صفحہ ۱۲۳۔
(21) معارج القبول بشرح سلم الوصول۔ المؤلف: حافظ بن أحمد الحکمی (المتوفی: ۱۳۷۷ھ)
الْإِ یمَانُ بِأَمَارَاتِ السَّاعَۃِ جلد ۲ صفحہ ۶۹۸۔
(22) ۔: أضواء البیان فی إیضاح القرآن ۔ مسلم کی دونوں سندوں سے درج کی ہے۔
المؤلف: محمد ألامین بن محمد الجکنی الشندقیطی (المتوفی: ۱۳۹۳ھ) جلد ۳ صفحہ ۳۴۴۔ زیر آیت کہف ۹۹۔
(23)۔: إتحاف الجماعۃ بما جاء فی الفتن والملاحم۔المؤلف:حمود بن عبداللہ التویجری (المتوفی: ۱۴۱۳ھ) ما جاء فی فتنۃ الدجال جلد ۳ صفحہ ۵۳۔
(24)۔ صحیح الجامع الصغیر وزیاداتہ۔ المؤلف: أبو عبدالرحمٰن محمد ناصر الدین الا ٔلبانی (المتوفی: ۱۴۲۰ھ) جلد ۲ صفحہ ۷۶۶۔ علامہ البانی نے کئی کتب میں ذکر کیا ہے اور صحیح قرار دیا ہے۔
(25)۔: تعلیق مختصر علی کتاب لمعۃ الاعتقاد۔ المؤلف: محمد بن صالح بن محمد العثیمین (المتوفی: ۱۴۲۱ھ) فصل: الإیمان بکل ماأخبربہ الرسول جلد ۱ صفحہ ۱۰۹۔
یہ آخری حوالہ ۱۴۲۱ھ کا ہے یعنی ۱۵ ویں صدی ہجری اسلامی کے پہلے ۲۱ سالوں تک یہ عقیدہ تھا کہ مسیح نبی اللہ ہوں گے مگر اب ان کے امتی ہونے یعنی بغیر نبوت کے آنے کا عقیدہ تیزی سے پرورش پا رہا ہے لیکن اس زمانہ میں بھی جو لوگ احادیث پر نظر رکھتے ہیں وہ مسیح کے نبی اللہ ہونے کی احادیث درج کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ان میں سے کئی جماعت احمدیہ کے سخت مخالف ہیں۔ اس طویل ذخیرہ میں سے چند کتب کے نام درج ہیں:
(26) الجموع البهية، المؤلف۔ أبوالمنذر محمود المنياوي۔ القيامة الصغرىٰ المؤلف: عمر بن سليمان الأشقر۔أشراط الساعةالمؤلف: عبد الله بن سليمان الغفيلي۔صحيح أشراط الساعة۔ المؤلف: عصام موسى هادي ۔۔۔۔ أَركانُ الإيمانِ۔ جمع وإعداد: علي بن نايف الشحود۔شرح لمعة الاعتقاد۔ المؤلف: أبو عبد الله، أحمد الحازمي۔ التفسير الحديث المؤلف: دروزة محمد عزت۔ موسوعة الصحيح المسبور من التفسير بالمأثور۔ المؤلف حكمت بن بشير۔
مندرجہ بالا تمام کتب کے حوالے حدیث کے آن لائن مجموعہ المکتبۃ الشاملہ میں تلاش کیے جا سکتے ہیں۔
مسیح ؑ کس طرح کے نبی ہیں
یاد رہے کہ مسیح کا امت محمدیہ میں بطور نبی آنا ختم نبوت کے مخالف نہیں کیونکہ جماعت احمدیہ کے عقیدہ کے مطابق خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺپر کمالات نبوت تمام ہو گئے شریعت مکمل ہو گئی اخلاق عالیہ انتہا کو پہنچ گئے، آپ کا دور عالمگیر اور قیامت تک ہے۔ سب نبیوں کے فیض بند ہو گئے مگر آپ کے فیوض پہلے سے بڑھ کر جاری ہیں۔ اب ہر روحانی برکت آپ کے فیض اور اطاعت سے ملے گی۔ جن میں وحی اور الہام کا سلسلہ بھی ہے۔
جماعت احمدیہ کے عقیدے کے مطابق حضرت مسیح ناصریؑ جو بنی اسرائیل کی طرف رسول تھے فوت ہو گئے اور رسول اللہ ﷺ نےامت محمدیہ میں مسیح کے رنگ میں آنے والے ایک موعود کی خبر دی جس نے کثرت مکالمہ و مخاطبہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے امتی نبی کا نام پایا یعنی اللہ نے اس پر رسول اللہﷺ کی برکت سے کثرت سے وحی کی جس میں کثرت سے غیب کی خبریں شامل تھیں اور یہی نبی کے بنیادی معنی ہیں۔ اس نے یہی دعویٰ کیا کہ میں بغیر نئی شریعت کے دین محمدی کا خادم ہوں۔ رسول اللہ ﷺکا روحانی فرزند اور غلام۔ اور مسیح موعود کا یہی مقام بزرگان سلف بیان کرتے چلے آئے ہیں۔ (ملاحظہ ہو کتابچہ آیت خاتم النبیین اور جماعت احمدیہ کا مسلک بزرگان سلف کے ارشادات کی روشنی میں)
( www.alislam.org/ urdu.)
اس زمانہ میں بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ؑ نے خدا سے حکم پا کر مسیح موعود اورعیسیٰ نبی اللہ ہونے کا اعلان کیا۔ آپ نے ختم نبوت اور مسیح کے نبی اللہ ہونے کے درمیان بظاہر نظر تضاد کو دور کرتے ہوئے فرمایا: ’’ہمیں اللہ تعالیٰ نے وہ نبی دیا جو خاتم المومنین، خاتم العارفین اور خاتم النّبیّین ہے اور اسی طرح وہ کتاب اُس پر نازل کی جو جامع الکتب اور خاتم الکتب ہے… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہونے سے یہ مراد ہے کہ طبعی طور پر آپؐپر کمالاتِ نبوت ختم ہوگئے۔ یعنی وہ تمام کمالاتِ متفرقہ جو آدم سے لے کر مسیح ابن مریم تک نبیوں کو دیے گئے تھے۔ کسی کو کوئی اور کسی کو کوئی وہ سب کے سب آنحضرت ﷺ میں جمع کر دیے گئے اور اس طرح پر آپ طبعاً خاتم النّبیّین ٹھیرے اور ایسا ہی وہ جمیع تعلیمات، وصایا اور معارف جو مختلف کتابوں میں چلے آتے ہیں، وہ قرآن شریف پر آکر ختم ہوگئے اور قرآن شریف خاتم الکتب ٹھیرا۔
( ملفوظات جلد ۱ صفحہ ۳۱۱، ایڈیشن ۲۰۲۲ء )
مستقل نبوت آنحضرت ﷺ پر ختم ہو گئی ہے۔ مگر ظلی نبوت جس کے معنے ہیں کہ محض فیض محمدی سے وحی پانا۔ وہ قیامت تک باقی رہے گی تا انسانوں کی تکمیل کا دروازہ بند نہ ہو اور تا یہ نشان دنیا سے مٹ نہ جائے کہ آنحضرت ﷺ کی ہمت نے قیامت تک یہی چاہا ہے کہ مکالمات اور مخاطبات الہیہ کے دروازے کھلے رہیں۔
(حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۰)
پھر فرمایا: ہزاروں اس امت سے مکالمات اور مخاطبات کے شرف سے مشرف ہوئے اور انبیاء کے خصائص ان میں موجود ہوتے رہے ہیں۔ سینکڑوں بڑے بڑے بزرگ گزرے ہیں جنہوں نے ایسے دعوے کئے چنانچہ حضرت عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ ہی کی ایک کتاب فتوح الغیب کو ہی دیکھ لو۔ آنحضرت کے بعد بھی آپ کی امت میں نبوت ہے اور نبی ہیں مگر لفظ نبی کا بوجہ عظمت نبوت استعمال نہیں کیا جاتا لیکن برکات اور فیوض موجود ہیں۔
(الحکم ۱۷ اپریل ۱۹۰۳ء تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد۶
صفحہ ۳۸۸۔ ۳۸۹۔ زیر آیت خاتم النبیین )
اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے حضرت سید عبد القادر شعرانیؒ فرماتے ہیں: انبیاء کو نبی کا نام دیا گیا ہے اور ہم امتی لقب نبوت پاتے ہیں ہم سے النبی کا نام روکا گیا ہے باوجود یکہ خدا تعالیٰ ہمیں خلوت میں اپنے کلام اور اپنے رسول کے کلام کے معانی سے خبر دیتا ہے اور یہ مقام رکھنے والا انبیاء الاولیاء میں سے ہوتا ہے۔
(الیوقیت والجواھر جلد ۲ صفحہ ۳۹)
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: جس بناء پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی ہم کلامی سے مشرف ہوں اور وہ میرے ساتھ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے اور میری باتوں کا جواب دیتا ہے اور بہت سی غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا اور آئندہ زمانوں کے وہ راز میرے پر کھولتا ہے کہ جب تک انسان کو اس کے ساتھ خصوصیت کا قرب نہ ہو دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا اور انہیں امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے… میں صرف اس وجہ سے نبی کہلاتا ہوں کہ عربی اور عبرانی زبان میں نبی کے یہ معنے ہیں کہ خدا سے الہام پا کر بکثرت پیشینگوئی کرنے والا اور بغیر کثرت کے یہ معنی تحقیق نہیں ہو سکتے جیسا کہ صرف ایک پیسہ سے کوئی مالدار نہیں کہلا سکتا۔ سوخدا نے مجھے اپنے کلام کے ذریعہ سے بکثرت علم غیب عطا کیا ہے اور ہزار ہا نشان میرے ہاتھ پر ظاہر کئے ہیں اور کر رہا ہے۔ …عقل سلیم خود چاہتی ہے کہ جس کی وحی اور علم غیب اس کدورت اور نقصان سے پاک ہو اس کو دوسرے معمولی انسانوں کے ساتھ نہ ملایا جائے بلکہ اس کو کسی خاص نام کے ساتھ پکارا جائے تا کہ اس میں اور اس کے غیر میں امتیاز ہو۔ اس لیے محض مجھے امتیازی مرتبہ بخشنے کے لیے خدا نے میرا نام نبی رکھ دیا اور یہ مجھے ایک عزت کا خطاب دیا گیا ہے تا کہ ان میں اور مجھ میں فرق ظاہر ہو جائے۔ ان معنوں سے میں نبی بھی ہوں اور امتی بھی ہوں تاکہ ہمارے سید و آقا کی وہ پیشگوئی پوری ہو کہ آنے والا مسیح امتی بھی ہوگا اور نبی بھی ہوگا۔
(مجموعہ اشتہارات جلد۳ صفحہ ۴۷۶۔۴۷۸)
الغرض وہ مسیح آ گیا جس کی محمد رسول اللہ ﷺ نے پیشگوئی کی تھی اور اس کی نبوت کامعاملہ بھی قرآن و حدیث سے حل ہو گیا کہ وہ ختم نبوت کے خلاف نہیں بلکہ اس کی خادم اور متبع اور شان محمدی کو نمایاں کرنے والی ہے۔ وھو المقصود
ززز