اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-05-14

خلافت سے وابستگی اور اطاعت ہی روحانی ترقی کا ذریعہ ہے (عطاء المجیب لون ایڈیشنل ناظر اصلاح ارشاد جنوبی ہند)

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ۔
( آل عمران: 104)
اور اللہ کی رسّی کو سب کے سب مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ نہ کرو اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کروکہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اُس نے تمہارے دلوں کو آپس میں باندھ دیا اور پھر اُس کی نعمت سے تم بھائی بھائی ہوگئے۔اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے تھے تو اُس نے تمہیں اُس سے بچا لیا۔ اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیات کھو ل کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ شاید تم ہدایت پاؤ۔
رب انفخ روح برکۃ فی کلامی ھٰذا واجعل افئدۃ من الناس تھوی الیہ
قابل صد احترام صد اجلاس اور معزز حاضرین جلسہ!
جیسا کہ آپ نے سماعت فرمایا لیا ہے خاکسار نے جس عنوان پر چند معروضات پیش کرنی ہیں وہ ہے
’’ خلافت سے وابستگی اور اطاعت ہی
روحانی ترقی کا ذریعہ ہے ‘‘
سامعین کرام!
ہمارا یہ ایمان اور یقینِ محکم ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے ۔ یہ یقین و ایمان کسی خوش عقیدگی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اِس کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اُس کی فعلی شہادتیںہیں ۔ خلفاء احمدیت کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی اِن فعلی شہادتوںسے ہم پر اس حقیقت کو آشکار کیا ہے اور کر رہا ہے کہ بے شک تم نے اپنی رائے دی ہے لیکن اِن کا انتخاب میں نے کیا ہے۔ خلافت خامسہ کے انتخاب کے وقت کی صرف ایک مثال پیش کرتا ہوں ۔
محترمہ رضوانہ شفیق صاحبہ اہلیہ مکرم قاضی شفیق احمد صاحب صدر جماعت احمدیہ آسٹریابیان کرتی ہیں :
’’جس روز حضور رحمہ اللہ ( حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ) کی وفات ہوئی خاکسارہ گھر پر ایم ٹی اےسے براہ راست تمام نشریات دیکھ رہی تھی۔ چونکہ میرے شوہر قاضی شفیق احمد وفات کے روز ہی لندن روانہ ہو گئے تھے سو اکیلی بیٹھی ٹی وی پر ہر ہر لمحہ دیکھتی رہی۔ رات کو جب خلافت کمیٹی بیٹھی ہوئی تھی اور لوگ بے چینی سے دعائیں کر تے ہوئے خدا کی رحمت کے طلب گار تھے ا ور قدرت ثانیہ کا ایک نیا پہلو دیکھنے کے منتظر ،مسجد فضل لندن کے دروازے پرنظریں جمائے بیٹھے تھے تو خاکسارہ بھی یہ نظارہ M.T.A پر دیکھ رہی تھی کہ اچانک تھکن کی وجہ سے لمحہ بھر ٹیک لگا کر بیٹھ گئی مگر سمجھ نہیں آتا کہ نیند کی حالت ہے یا خیال کی حالت ہے ۔مگر ایک دم نور ہی نور آسمان سے اترتا دکھائی دیا جو بہت تیزی سے برق رَوی سے زمین کی طرف بڑھتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ نور اُس جگہ میں جہاں خلافت کمیٹی بیٹھی ہے داخل ہو گیا ہے اُسی لمحہ دل میں یہ خیال بھی پیدا ہو رہا ہے کہ اس بار خلیفۃ المسیح کا نام حروف ابجد کے لفظ ’’ م ‘‘سے شروع ہوگا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے وہ نور ’’ م ‘‘ نامی شخص ’’ مسرور‘‘ میں داخل ہو جاتا ہے اور یہ الفاظ دل میں گونجتے ہیں کہ جو میرے منہ سے جاری ہو گئے کہ‘‘ اللہ نے اپنا خلیفہ چن لیا اور جس شخص میں اپنا نور بھرنا تھا بھر دیا۔ ’’ ایسے ہی عالم میں ایک دم جیسے میری آنکھ کھل گئی ہو یا وہ نظارہ ٹوٹ گیا ہو اور وہ کیفیت ختم ہو جاتی ہے۔ میرا جسم سخت کپکپانے لگا اور دل میں ایک خوف طاری ہوگیا کہ یہ میں نے کیا دیکھا ہے کون سی کیفیت سے گزری ہوں مگر دل کو یہ کامل یقین ہو گیا کہ خدا تعالیٰ نے اپنا فیصلہ فرما دیا ہے لوگوں پر ظاہر ہونا باقی ہے اِس کا،اور میں نے اُسی وقت اپنے شوہرقاضی شفیق صاحب کو فون کیا جو کہ مسجد فضل لندن کے باہر ہی بیٹھے ہوئے تھے اور سارا واقعہ بیان کیا اور کہا خدا تعالیٰ نے اپنا خلیفہ منتحب کر لیا ہے اور یقینا بس اعلان ہونا باقی ہے چونکہ خدا نے اُس عام بندے میں اپنا نور منتقل کرکے اُسے خاص بندوں میں چن لیا ہے۔
اتنے میں اُنہوں نے مجھے فون بند کرنے کو کہا کہ کوئی اعلان ہونے لگا ہے سو میں نے بھی یہ نظارہ اگلے ہی لمحہ M.T.A پر براہ راست دیکھا جس میں آپ (مکرم عطاء المجیب صاحب راشد امام مسجد بیت الفضل لندن۔ ناقل) اعلان فرما رہے تھے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس حضرت مرزا مسرور احمد ہمارے خلیفہ ہوں گے۔ خدا تعالیٰ میرے پیارے آقا کو عمر دراز صحت و تندرستی کے ساتھ عطافرمائے اور اُن کا بابرکت وجود تا دیر ہم میں قائم رکھے۔ (آمین ثم آمین)‘‘
(ہفت روزہ ’’البدر‘‘ قادیان20 دسمبر تا 27دسمبر2005ء سالانہ نمبرصفحہ26)
پس ایسی خلافت جو خدا تعالیٰ نے خود چُنی ہو کیا اُس کے بارے میں ذرا سا شک بھی کسی کے دل میں پیدا ہوسکتا ہے کہ اُس خلافت سے وابستگی میں ہی ہر قسم کی برکات اور روحانی ترقیات مضمر ہیں ؟
سامعین کرام!
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں رہ کر دنیا کے جھمیلوں میں رہتے ہوئے اِن جھمیلوں سے متاثر ہوئے بغیر اِس طور پر اپنے اخلاق اور روحانیت کو سنوارے کہ جب وہ اِس دنیا سے رخصت ہو رہا ہو تو اللہ تعالیٰ اِن الفاظ میں اُس کو بلائے کہ:
یٰٓاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىٕنَّةُ۔ارْجِعِیْ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةً۔فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ ( الفجر28-31)
اے نفس مطمئنہ اپنے رب کی طرف لوٹ جا راضی رہتے ہوئے اور رضا پاتے ہوئے۔پس میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔
اخلاقی اور روحانی ترقی یہ وہ بنیادی غرض ہے جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے ۔ جس نے اِس دنیا میں اپنے نفس کو اخلاقی طور پر بھی اور روحانی طور پربھی سنوارنے میں کامیابی حاصل کی اُسی کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قد افلح من زکھا یعنی کامیاب ہوگیا وہ شخص جو اپنے نفس کو پاک کرنے میں کامیاب ہوگیا ۔ اور جس کو اِس میں ناکامیابی حاصل ہوئی اُس کے بارہ میں فرمایا کہ قد خاب من دسھا یعنی ناکام و نامراد ہوا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو پاک کرنے کی بجائے مٹی میں گاڑ دیا ۔
نفس کی پاکیزگی ، اخلاقی اور روحانی ترقی حاصل کرنے کا انتظام بھی اللہ تعالیٰ نے خود کر رکھا ہے۔
یہ نظام انبیاء اور مرسلین کی بعثت اور اُن کے بعد خلافت کے بابرکت نظام کی شکل میں دنیا میں ظاہر ہوتا ہے ۔
حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی بعثت اِس گمراہی کے دور میں اِسی مقصد سے ہوئی ہے کہ دنیا میں ایک روحانی انقلاب پیدا ہو۔ آپ فرماتے ہیں :
’’اب اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیاہے کہ وہ دنیا کو تقویٰ اور طہارت کی زندگی کا نمونہ دکھائے۔اِسی غرض کے لئے اُس نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے۔ وہ تطہیر چاہتا ہے اور ایک پاک جماعت بنانا اس کامنشاء ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد5 صفحہ96-97)
جس طرح حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی بعثت کا مقصد دنیا میں ایک روحانی انقلاب پیدا کرنا تھا اُسی طرح آپ کے بعد اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق قائم نظام خلافت کا مقصد بھی در اصل دنیا میں ایک روحانی انقلاب پیدا کرنا ہے اور اُس روحانی ترقی کو زندہ رکھنا ہے جس کی بنیاد اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے مبارک ہاتھوں سے رکھی ہے ۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ خلافت احمدیہ دنیا میں ایک روحانی انقلاب پیدا کرنے کے لئے قائم کی گئی ہے ۔ خلافت احمدیہ اس لئے قائم کی گئی ہے کہ جو بیج حضرت مسیح و مہدی کے ذریعہ بویا گیا اس کی آبیاری کرے اور مہدی کا جو مشن تھا اس کی تکمیل کرے۔ ۔۔اور یہی مقصد ہے جس کے حصول کے لئے خلات احمدیہ کو قائم کیا گیا ہے ۔۔۔آپ خلافت احمدیہ کے اس مرکزی نقطہ کو مضبوطی سے پکڑے رکھیں اور اپنی نسلوں کو بھی اس کی اہمیت بتائیں ۔ ‘‘
(سبیل الرشاد حصہ دوم صفحہ 351تا353)
حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :
’’یاد رکھیں اِس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کے وعدوں اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے واضح ارشادات کی روشنی میں خلافت سے تعلق کے نتیجہ میں ہی ایمانی اور عملی ترقی ہوگی۔ چاہے کوئی کتنا ہی بڑا عالم یا مدبر یا بظاہر کسی روحانی مقام پر پہنچا ہوا ہو،اگر خلیفہ وقت سے تعلق کا وہ معیار نہیں جو ہونا چاہئیے تو جماعتی ترقی یا کسی کی روحانی ترقی میں اُس کے اِس مقام کا رِتّی برابر اثر نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو اِس بات کو اِس کی گہرائی میں جاکر سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘
(حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ممبران شوریٰ (پاکستان) 2014ء کے نام پیغام )
(بحوالہ الفضل انٹرنیشنل 23؍مئی 2014ء تا 29؍مئی 2014ء صفحہ 1)
معززسامعین و سامعات!
اِس زمانے میں جبکہ کفر و ضلالت اور شرک و مادہ پرستی کا مہیب طوفان انسانیت کی ساری اخلاقی اور روحانی قدروں کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینے پر تلا ہوا ہے۔اِس طوفان سےاپنے آپ کو بچانے کے لئے ، اپنی روحانیت کو مسخ ہونے سے محفوظ رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے خلافت کی عظیم نعمت ہمیں عطا فرمائی ہے ۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی کمروں کو حبل اللہ ، اللہ کی عطا کی ہوئی رسّی یعنی خلافت، سے باندھ لیں۔ وہ رسّی، جس کا ایک سرا مالکِ دو جہاں نے اِس دور میں امامِ وقت کو تھما دیا ہے۔وہ امام ہی وہ ڈھال ہے جو شیطان کے ہر وار سے ہمیں محفوظ رکھتا ہے ۔
موجودہ زمانہ کی گمراہی اور دجالی فتنوں کے بارہ میں انذار کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ نے بھی یہ تاکیدی نصیحت فرمائی ہے کہ :تَلْزِمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ، قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ؟، قَالَ: فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا، وَلَوْ أَنْ تَعُضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ"
یعنی مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ رہنا۔ راوی نے پوچھا کہ اگر مسلمانوں کی جماعت نہ ہو اور نہ ان کا کوئی امام ہو؟ فرمایا کہ پھر اُن تمام لوگوں سے الگ ہو جا خواہ تمہیں جنگل میں جا کر درختوں کی جڑیں چبانی پڑیں یہاں تک کہ اُسی حالت میں تمہاری موت آجائے۔
(صحيح البخاری کتاب الفتن حدیث: 7084)
شیطان اس زمانہ میں اپنے تمام حربوں کے ساتھ اور اپنے تمام مدد گاروں کے ساتھ ہمارے ایمان اور روحانیت کو تہہ و بالا کرنے کے لئے چو طرفہ حملے کر رہا ہے ۔ اِس زمانہ میں خلافت سے وابستگی کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے ۔ خلیفہ وقت ہی ڈھال بن کر ہمیں بچا سکتا ہے ۔ دنیا میں اور کوئی ذریعہ نہیں ہے جو ہمیں اِن شیطانی حملوں سے محفوظ کر سکتا ہے ۔ اسی لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ۔
(صحيح البخاری کتاب الجہاد والسيرحدیث: 2957)
امام ایک ڈھال ہے ، جس کے پیچھے رہ کر شیطان سےجنگ جیتی جاتی ہے۔ اور اسی کے ذریعہ شیطان کے حملہ سے بچا جاتا ہے۔
پھر ایک موقعہ پر آپ ﷺنے خلیفہ اللہ سے وابستہ ہونے کی اِس قدر تلقین و تاکید فرمائی ہے کہ فرمایا:
اِنْ رَأَیْتَ یَوْمَئِذٍ خَلِیْفَۃَ اللّٰہِ فِی الْاَرْضِ فَالْزِمْہُ وَاِنْ نُھِکَ جِسْمُکَ وَأُخِذَ مَالُکَ (مسند احمد بن حنبل)
یعنی اگر تو اللہ کے خلیفہ کو زمین میں دیکھے،تو اُس سے مضبوطی سے وابستہ ہو جانااگرچہ تیرا جسم نوچ دیا جائے اور تیرا مال چھین لیا جاوے ۔
ایک حدیث میں فرمایا کہ مَنْ شَذَّ شُذَّ اِلَی النَّار جو شخص جماعت سے الگ ہوا وہ گویا آگ میں پھینکا گیا۔ (ترمذی ٗ کتاب الفتن ٗ باب فی لزوم الجماعۃ)
سامعین کرام!
اللہ تعالیٰ کا ہم پر کتنا بڑا احسان ہے کہ اُس نے ہمیں وہ روحانی خلافت عطا فرمائی ہے جو ہر شر، فتنہ ، فساد، شیطانی وطاغوتی اور دجالی حملہ سے ہمارے ایمان ویقین اور ہماری اخلاقی و روحانی اقدار کو محفوظ رکھنے کے لئے ایک ڈھال کی طرح اور ایک سیسہ پگھلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے ۔
خلیفہ وقت ہمارےتزکیہ اورتربیت کے لئے دن رات ایک کردیتا ہے۔راتوں کا راہب بن کرہمارے لئے دعاگورہتا ہے۔اُس کا درمند دل احباب جماعت کے لئے ہر آن دھڑکتاہے ۔اُس کے خیالات وافکا رکا محور و مرکز احباب جماعت کی تربیت و تعلیم ہوتی ہے ۔ جماعت احمدیہ کے لئے تو یہ موقع سجدات شکر بجالانے کا ہے اور اپنا سب کچھ قربان کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی راہ میں بچھ جانے کا ہے کہ اس نے خلافت جیسی نعمت عظمیٰ ہمیں عطا فرمائی ہے۔
جل رہا ہے ایک عالم دھوپ میں بے سائباں
شکر مولیٰ کہ ہمیں یہ سایۂ رحمت ملا
حضرات!
خلیفۃ المسیح کا وجود اللہ تعالیٰ کے نور سے منور ہوکر ایک نورانی وجود بن جاتا ہے۔ اُس کے وجود کے طفیل دنیا میں خدا کا نور پھیلنے لگتا ہے اور وہ دنیا میں انتشارِ روحانیت کا مرکز بن جاتا ہے۔ اُس پاک وجود سے ذاتی تعلق پیدا کرنے سے انسان اپنے دین و دنیا کو سنوارتا ہے۔ پس خلیفہ وقت کو خدا تعالیٰ سے ملنے والے نور، علم و معرفت اور قبولیت دعا کے نشان سے برکت حاصل کرنے کے لئے مومنین کی ایک اہم ذمہ داری یہ ہے کہ وہ خلیفہ وقت کے ساتھ محبت و عقیدت اور فدائیت کا ایک ذاتی اور قریبی تعلق رکھیں۔
قُرآن کریم میں یہ حکم موجود ہے کہ اللہ اور اُس کے رسول سےباپ دادا،اولاد، بھائی، بیویوں، رشتہ داروں، دنیاوی اموال ، دنیاوی مشاغل اور تجارتوں سے بڑھ کر محبت ہونی چاہئے۔ فرمایا اگر یہ سب کچھ تمہیں اللہ اور اُس کے رسول سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ لے آئے اور اللہ فاسقوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ التوبہ آیت 24) رسول کے بعد چونکہ خلیفہ اُس کا جانشین ہوتا ہے اس لئے خلیفہ وقت سے بھی دنیا کی ہر محبوب چیز اور تعلقوں سے زیادہ محبت کرنا ہمارے لئے لازمی اورفرض ہے ۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :
’’اگر قدرت ثانیہ نہ ہو تو اسلام کبھی ترقی نہیں کر سکتا ۔پس اِس قدرت کے ساتھ کامل اخلاص اور محبت اور وفا اور عقیدت کا تعلق رکھیں اور خلافت کی اطاعت کے جذبہ کو دائمی بنائیں اور اِس کے ساتھ محبت کے جذبہ کو اِس قدر بڑھائیں کہ اِس محبت کے بالمقابل دوسرے تمام رشتے کمتر نظر آئیں ۔امام سے وابستگی میں ہی سب برکتیں ہیں ۔اور وہی آپ کے لئے ہر قسم کے فتنوں اور ابتلاؤں کے مقابلہ کے لئے ڈھال ہے۔‘‘
(مشعل راہ جلد5حصہ اول صفحہ 4،5مطبوعہ مجلس خدام الاحمدیہ بھارت مئی 2007ء)
سامعین کرام!
اخلاقی اور روحانی ترقی اور افزائش کے لئے صادقین کی صحبت اللہ تعالیٰ نے قُرآن کریم میں لازمی قرار دی ہے ۔ فرمایا:
کونوا مع الصادقین۔(سورۃ التوبۃ آیت 119)۔ یعنی صادقوں کی صحبت اختیار کرو۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام اس سلسلہ میں فرماتے ہیں :
’’صادقوں کی صحبت میں رہنا ضروری ہے۔ بہت سے لوگ ہیں جو دُور بیٹھ رہتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ کبھی آئیں گے۔ اِس وقت فرصت نہیں ہے۔ بھلا تیرہ سو سال کے موعود سلسلہ کو جو لوگ پا لیں اور اُس کی نصرت میں شامل نہ ہوں اور خدا اور رسول کے موعود کے پاس نہ بیٹھیں، وہ فلاح پا سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں ۔‘‘
(ملفوظات جلد اول، ایڈیشن 2003 قادیان، صفحہ 124،125)
حضور علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’میرے ہاتھ میں ایک چراغ ہے جو شخص میرے پاس آتا ہے ضرور وہ اُس روشنی سے حصہ لے گا۔ مگر جو شخص وہم اور بدگمانی سے دور بھاگتا ہے وہ ظلمت میں ڈال دیا جائے گا۔ اِس زمانہ کا حِصنِ حَصِین میں ہوں۔ جو مجھ میں داخل ہوتا ہے وہ چوروں اور قزاقوں اور درندوں سے اپنی جان بچائے گا۔ مگر جو شخص میری دیواروں سے دور رہنا چاہتا ہے ہر طرف سے اُس کو موت درپیش ہے۔ اور اُس کی لاش بھی سلامت نہیں رہے گی۔ ‘‘
(فتح اسلام۔ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 34-35)
صدق سے میری طرف آؤ اسی میں خیر ہے
ہیں درندے ہر طرف میں عافیت کا ہوں حصار
اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد یہ چراغ خلیفہ وقت کے ہاتھ میں ہے۔ خلیفۂ وقت کی صحبت دلوں اور روح کی پاکیزگی کے لئے ضروری ہے۔
اس زمانہ میں قُرآن و حدیث اور بزرگان سلف کی پیشگوئیوں کے مطابق قائم ایم ٹی کے عظیم الشان نظام کے ذریعہ آج ہم خلیفہ وقت کی صحبت میں بیٹھنے کا شرف حاصل کرتے ہیں ۔آج خدا نےMTA کے ذریعے خلیفۂ وقت اور عوام کے درمیان فاصلہ ختم کر دیا ہے۔ اور اگرہم حالات کے پیش ِنظر خلیفہ ٔ وقت کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکتے تو خلیفہ ٔ وقت ایم ٹی۔ اے کی برکت سے ہر روز ہمارےگھر میں جلوہ افروز ہوتے ہیں۔ جتنا قریب سے آج خلیفۂ وقت کو دیکھنے اور آپ کی باتیں سننے کا موقع ہے، یہ موقع انسانی تاریخ میں کسی نبی یا خلیفہ کے دَور میں نہیں آیا۔ لہٰذا اب بھی اگر ہم وقت نکال کر ایم ٹی اے کے ذریعہ نشر ہونے والے خلیفہ وقت کے پروگراموں کو نہیں دیکھتے اور سنتے تو یہ اس عظیم نعمت کی ناقدری ہے جو ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔
سامعین کرام !
روحانی زندگی کو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کے بعد اُن کے خلفاء کے ساتھ وابستہ کر رکھا ہے ۔اس لئے روحانی ترقیات کے لئےہر قسم کی برکات کا حصول خلافت کے زیر سایہ رہ کر ہی ممکن ہے ۔خدا تعالیٰ کی عبادت کا حق صحیح طور سے خلافت سے وابستگی کے بغیر ممکن نہیں ۔ شیطانی اور دجالی فتنوں سے حفاظت خلافت سے وابستگی کے بغیر ممکن نہیں ۔اعمال صالحہ بجا لانے کی توفیق پانا خلافت سے وابستگی کے بغیر ممکن نہیں ۔دجال کے فریب سے ، شیطانی طاقتوں کے دھوکے سے ، طاغوت کے پھیلائے ہوئے جال سے بچناخلافت سے وابستہ ہے۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دعاؤں کی برکات بھی خلافت کے ساتھ وابستہ کی گئی ہیں ۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’ اللہ تعالیٰ جب کسی کو منصبِ خلافت پر سرفراز کرتا ہے تو اس کی دعاؤں کی قبولیت بڑھا دیتا ہے کیونکہ اگر اس کی دعائیں قبول نہ ہوں تو پھر اس کے انتخاب کی ہتک ہوتی ہے ۔ ‘‘
( منصبِ خلافت صفحہ 32مطبوعہ 1914)
نیز فرماتے ہیں:
’’تمہارے لیے ایک شخص تمہارا درد رکھنے والا، تمہاری محبت رکھنے والا، تمہارے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے والا، تمہاری تکلیف کو اپنی تکلیف جاننے والا، تمہارے لیے خدا کے حضور دعائیں کرنے والا۔ مگر ان کے لیے نہیں ہے۔ تمہارا اُسے فکر ہے، درد ہے اور وہ تمہارے لیے اپنے مولیٰ کے حضور تڑپتا رہتا ہے لیکن اُن کے لیے ایسا کوئی نہیں ہے۔ کسی کا اگر ایک بیمار ہو تو اس کو چین نہیں آتا۔ لیکن کیا تم ایسے انسان کی حالت کا اندازہ کرسکتے ہو جس کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بیمار ہوں۔ ‘‘
(برکات خلافت، انوار العلوم جلد 2صفحہ156)
لیکن سامعین کرام ،ہماری محبت میں سرشار خلیفہ وقت کی دعائیں اُسی کے حق میں قبول ہوتی ہیں جو حقیقی رنگ میں خلافت کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’بے شمار لوگ دعا کے لئے لکھتے رہتے ہیں ۔ میری ذات کی کوئی حیثیٹ نہیں ۔۔۔لیکن خدا تعالیٰ نے مجھے منصب خلافت پر فائز فرمایا ہے اِس لئے اگر کسی احمدی کو منصب خلافت سے پیار نہیں یا اِ س مقام سے سچا عشق نہیں تو خلیفہ وقت کی دعا بھی اُس کے حق میں قبول نہیں ہوتی۔ اِس لئے زبانی اور عملی طور پر بھی اطاعت خلافت ضروری ہے ۔ اللہ تعالیٰ اُسی کی دعائیں سنے گا جو خلافت سے سچی وفا داری رکھتا ہے ۔ ‘‘
( الفضل 6 فروری 2001ء۔ بحوالہ الفضل انٹرنیشنل مورخہ 22تا28 مئی 2009ء)
پس اگر ہم خلیفہ وقت کی مقبول دعاؤں کے وارث بننا چاہتے ہیں تو ہم سے بے لوث محبت کرنے والے خلیفہ کے ساتھ ہمارا تعلق بہت مضبوط ہونا چاہئے۔ ایسا مضبوط کہ دنیاوی رشتوں میں اس کی کوئی مثال نظر نہ آئے ۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکی دعاؤں کی قبولیت کے بارہ میں محترم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکریٹری حضور انور گواہی دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’میں علی الوجہ البصیرت یہ گواہی دیتا ہوں کہ آج خطہ ارض پر خدا اوراُس کے رسول کی سچی نمائندگی کا شرف صرف اور صرف خلافت احمدیہ کو حاصل ہے ۔اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے خلیفہ وقت کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ کوغیر معمولی حالات میں پورا ہوتے دیکھا ہے ۔میں نےخلیفہ وقت کی دعاؤں سے دلوں کوبدلتے دیکھا ہے ۔میں نے پریشان چہروں کوبڑی بے چینی سے ملاقات کے لئے آتے اورپھر حضور کی محبت بھری نصیحتوں، مشوروں اور دعاؤں کے بعد پُر سکون دلوں اور خوشی سے دمکتے چہروں کے ساتھ واپس جاتے بھی دیکھا ہے۔ بخدا میں نےخلیفہ وقت سے سچی عقیدت اور اُن سے زندہ تعلق رکھنے والوں کے لئے تقدیروں کو تبدیل ہوتے اور انہونیوں کو ہوتے ہوئےبھی دیکھا ہے ۔حضرت امیر المؤمنین کی روز مرہ ڈاک میں جو سینکڑوں خطوط موصول ہوتے ہیں اُن میں سے اکثر بیماریوں ، دکھوں ، تکلیفوں اور پریشانیوں کے دور ہونے کے لئے دعاؤں کی درخواستوں پر مشتمل ہوتے ہیں ۔لیکن تھوڑے ہی عرصہ بعد پھر معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے خلیفہ کی راتوں کی دعاؤں نے اُن کے دن پھیر دئے ہیں ۔بہت سے بیمار شفایاب ہوگئے حتی کہ ڈاکٹروں کے بقول چند دنوں یا گھنٹوں کے مریضوں کی بیماریوں کے نام و نشان مٹ گئے اور لوگوں نےاُنہیں سالوںزندہ پھرتے دیکھا۔پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ خلافت کی برکت سےمقدمات میں پھنسے ہوئے اُن سے نجات پاگئے،بے اولادوں کو اولاد کی نعمت عطا ہوگئی ،کند ذہن طالب علم ترقیات کے نئے سنگ میل طے کرنے لگے۔ چٹیوں میں مبتلا افراد کی گردنیں ہر قسم کے طوقوں سے آزاد ہوگئیں اور بے سہاروں کو سہارا اور بے کسوں کو طاقت سے نوازا گیا۔یہ ایک ازلی ابدی حقیقت ہے میرے بھائیو اور بہنو!کہ خلافت کے سنگ پارِس کے ساتھ لگنے والا مٹی کاٹھِیکرہ بھی ہیرہ بن جاتا ہے ۔مردے زندگی پاتے ہیں اور اس کے در سے دور ہونے والوں کی روحیں ہمیشہ تپتے صحراؤں اور ویرانوں میں بھٹکتی رہتی ہیں اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہےاور اُس کے انتخاب میں کوئی نَقص نہیں ہوتا۔‘‘
(تقریربر موقعہ جلسہ سالانہ جرمنی 2011ء)
مکرم معروف صابر السید صاحب آف مصر کی اہلیہ اپنا قبول احمدیت کا واقعہ بیان کرکے بیان کرتی ہیں کہ:
’’بیعت کے بعد ہماری زندگی یکسر بدل گئی ۔ پہلی دفعہ احساس ہوا کہ میں ایک جماعت کا حصہ ہوں جو ایک جسم کی حیثیت رکھتی ہے جس کی روح اُس کا امام ہے ۔ میں نے وفورِ شوق میں بذریعہ ای میل حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں پہلا خط لکھا اور اِس میں قبول احمدیت کا ذکر کر کے دعا کی درخواست کی ۔ حضور انور کا جواب میری روحانی بیماریوں کے لئے تریاق لئے ہوئے تھا۔ حضور انور کے خط میں مندرج دعائیں پڑھ کر میرے جذبات اشکوں کی صورت میں آنکھوں کی دہلیز پر جھلملانے لگے اور مجھے یہ حدیث یاد آگئی جس میں آنحضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ : اَلَا اُخبِرُکَم بِخِیارِ اَئِمَّتِکُم مِن شِرارِھِم؟ الَّذِینَ تُحِبُّونھُم وَ یُحِبُّونَکُم ، وَیَدعُونَ لَکُم و َ تَدعُونَ لَھُم۔ ( مسند ابی یعلی، مسند عمر بن الخطاب) یعنی کیا میں تمہیں تمہارے بہترین آئمہ اور بد ترین کے بارہ میں نہ بتاؤں ؟ تمہارے بہترین آئمہ وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ بھی تم سے محبت کرتےہوں ، اور جن کے لئے تم بھی دعائیں کرو اور وہ بھی تمہارے لئے دعائیں کریں ۔ یہ خیال آتے ہی میرے انگ انگ سے خلیفہ وقت کی اطاعت اور اُس سے شدید محبت اور عقیدت پھوٹنے لگی ۔ ’’
( الفضل انٹرنیشنل مورخہ 27 مئی 2011ء صفحہ 4)
خلیفہ وقت کی برکت سے پیدا ہونے والی روحانی تاثیر کا ذکر ایک غیر مسلم خاتون کی زبانی بھی سن لیجئے۔ مِس کیراہ ہائنیمن (Miss Kirah Hanemann) صاحبہ جن کا تعلق محکمہ پولیس سے ہے اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں :
’’جب آپ کے خلیفہ ہال میں داخل ہوئے تو مجھ پر ایک ناقابل بیان روحانی کیفیت طاری ہوئی جو میں سمجھتی ہوں کہ قرآنی تعلیم کے حسن کی تاثیر کا اظہار تھا جو امام جماعتِ احمدیہ کو دیکھنے سے ہوا۔ کسی کی شخصیت کا ایسا اثرمیرے لیے زندگی میں پہلا تجربہ تھا۔ اس لیے اب میری خواہش ہے کہ میں جماعتِ احمدیہ سے مضبوط تعلق استوار کروں اوراگلےرمضان کا سارامہینہ آپ لوگوں کے ساتھ گزاروں جس سے اس روحانی تجربے کو مزید تقویت ملے۔‘‘
(الفضل انٹرنیشنل21؍جنوری2020ءصفحہ13)
سامعین کرام!
جنہوں نے اس آسمانی نعمت عظمیٰ کا انکار کیا اُن کے حالات سے کون واقف نہیں ۔ وہ جو کہتے تھے کہ پانچ فیصد نے خلافت کی بیعت کی ہے آج وہ کہاں ہیں ؟ اور اُن کی خلافت کو ماننے والوں کے ساتھ کیا نسبت ہے ؟اُنہوں نے اپنی جِدّ و جُہد کو انتہا تک پہنچا دیا لیکن ہر کوشش بے کار اور ہر حربہ ناکام ہوگیا۔
حسنِ یکجہتی، صبر و وفا ، ارتقا، سب نظامِ خلافت سے ممکن ہوا
منکرینِ خلافت سے پوچھیں ذرا، کیسے شمس و قمر اُن پہ ڈھلتے رہے
پس کیا منکرین خلافت کا یہ عبرتناک انجام اس بات کی بین دلیل نہیں کہ جو خلافت کا منکر ہوگا ، جو خلافت سے اپنا مہنہ موڑ لیگا وہ دنیاوی طور پر بھی اور روحانی طور پر ذلت کی گہرائیوں میں جا گرے گا۔
سامعین کرام!
کیا ہم نہیں چاہتے کہ ہماری اصلاح ہو؟ کیا ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے نفس پاک ہوں؟ کیا ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے اخلاقی اور روحانی معیار اچھے ہوں؟ کیا ہم نہیں چاہتے کہ ہمارا اللہ تعالیٰ کے ساتھ مضبوط تعلق ہو اور ہماری عبادتوں کا معیار ویسا ہی ہو جیسا اللہ تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے ؟ کیا ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے دن رات تقویٰ اور خوفِ خدا کے ساتھ بسر ہوں؟ اور کیا ہم نہیں چاہتے کہ ہماری نسلیں اور ہمارے عزیز و اقارب بھی یہی معیار حاصل کر لیں ؟ یقیناً ہم میں سے ہر ایک یہی چاہتا ہے ۔ تو میرے بزرگو ! بھائیو! اور بہنو! اگر ہم یہ معیار حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کےلئے آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق ہمارے پاس صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ ہے خلافت سے وابستگی ۔ اُس کے بغیر دنیا میں اور کوئی ذریعہ نہیں جس سے ہم یہ معیار حاصل کر سکیں ۔
جو خلافت سے محروم ہیں یا خلافت کے انکاری ہیں اُن کے حالات ہمیں معلوم ہیں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان عظیم کیا ہے کہ ہم خلافت کے سایہ تلے دن رات روحانی ترقیات کی طرف رواں دواں رہ سکتے ہیں ۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اخلاص و وفا کے ساتھ حقیقی رنگ میں خلافت کے ساتھ وابستہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔
حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ فرماتےہیں:۔
’’جس طرح وہی شاخ پھل لاسکتی ہے جو درخت کے ساتھ ہو۔وہ کٹی ہوئی شاخ پھل پیدا نہیں کرسکتی جو درخت سے جُدا ہو۔اسی طرح وہی شخص سلسلہ کا مفید کام کرسکتا ہے جو اپنے آپ کو امام سے وابستہ رکھتا ہے۔اگر کوئی شخص امام کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ نہ رکھے تو خواہ وہ دنیا کے علوم جانتا ہو وہ اتنا بھی کام نہیں کرسکے گاجتنا بکری کا بکروٹا۔پس اگر آپ نے ترقی کرنی ہے اور دنیا پر غالب آنا ہے تو میری آپ کو نصیحت ہے اور میرا یہی پیغام ہے کہ آپ خلافت سے وابستہ ہوجائیں۔اس حبل اللہ کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔ہماری ساری ترقیات کا دارومدار خلافت سے وابستگی میں ہی پنہاں ہے۔‘‘
(الفضل انٹرنیشنل 23تا30مئی2003ءصفحہ 1)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :
’’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر آپ تقویٰ پر قائم رہے،اگر آپ کا خلیفہ وقت سے عشق و وفا کا تعلق رہا اور نظام جماعت اور خلافت احمدیہ سے اطاعت اور احترام آپ کے دلوں میں موجزن رہا تو آپ اللہ تعالیٰ کے اُن دائمی انعامات کے ہمیشہ حقدار بنے رہیں گے جن کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنے مومن بندوں سے فرمایا ہے۔اِس کی برکت سے آپ کے دین و دنیا بھی سنوریں گے اور آپ کو تمکنت بھی نصیب ہوگی اور اِس کی برکت سے آپ کے خوفوں کو خدا ہمیشہ امن میں بدلتا رہے گا۔مگر عبادت اور اَعمال صالحہ شرط ہیں۔اِن کو پیش نظر رکھیں اور خلیفۂ وقت کی آواز پر لبیک کہنے کے لئے ہمیشہ مستعدرہیں تو کامیابیاں آپ کے قدم چومیں گی۔اور دنیا و آخرت کی ترقیات سے آپ کو سرفراز کیا جائے گا۔انشاء اللہ۔‘‘
(رسالہ انصار اللہ قادیان ،خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی نمبر 2008؁ء صفحہ 29)
حضور انور فرماتے ہیں :
’’اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے جوڑ کر پھر خلافت سے کامل اطاعت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔یہی چیز ہے جو جماعت میں مضبوطی اور روحانیت میں ترقی کا باعث بنے گی ۔خلافت کی پہچان اور اُس کا صحیح علم اور ادراک اس طرح جماعت میں پیدا ہوجانا چاہئے کہ خلیفہ وقت کے ہر فیصلے کو بخوشی قبول کرنے والے ہوں اور کسی قسم کی روک دل میں پیدا نہ ہو،کسی بات کو سن کر انقباض نہ ہو۔۔۔خلیفۂ وقت کی ہر صورت میں اطاعت اور نظام کی فرمانبرداری کی ایک اہمیت ہے اور ہر ایک پر یہ اہمیت واضح ہونی چاہئے ۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 31؍جنوری 2014ء)
شجر سے جو رہے وابستہ وہ پھلدار ہوجائے
جو کٹ کر گر گیا بے دست و پا بیکار ہوجائے
خلافت سے عقیدت کی جو رسم و راہ رکھتا ہے
نہیں ممکن وہ خالی ہاتھ یا نادار ہوجائے
نہیں تنہا ، خلافت کا جو دامن تھامے رکھتا ہے
یقیں رکھو خدا خود اُس کا یارِ غار ہوجائے
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین
ژژژ