دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں حیا اور اخلاقی پاکیزگی کو چھوڑ دیتی ہیں تو ان کی تہذیبیں اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ اسلام چونکہ فطرت کا مذہب ہے،اس لیے اس نے معاشرے کی پاکیزگی اور توازن کے لیے پردہ جیسی عظیم تعلیم عطا فرمائی۔ ایک احمدی لڑکی کا پردہ محض ظاہری لباس نہیں بلکہ حیا، وقار، پاکیزگی اور خوفِ خدا کا عملی اظہار ہے۔
قرآنِ کریم فرماتاہے:’’ذٰلِكَ اَدْنٰى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ‘‘ (الاحزاب: 60)
یعنی پردہ عورت کی عزت، شناخت اور تحفظ کا ذریعہ ہے۔
ایک احمدی لڑکی اپنے باوقار لباس اور پاکیزہ کردار سے یہ پیغام دیتی ہے کہ عورت کی اصل خوبصورتی ظاہری نمائش میں نہیں بلکہ اس کے اخلاق، حیا اور کردار کی بلندی میں ہے۔ موجودہ دور کی بے حیائی اور فیشن پرستی کے ماحول میں بھی وہ اسلامی تعلیمات کو مضبوطی سے تھامے رکھتی ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اُن عورتوں کے بارے میں سخت وعید فرمائی جو بظاہر لباس پہننے کے باوجود بے پردگی اور نمائش اختیار کرتی ہیں۔ (مسلم، کتاب اللباس)
اسی اسلامی تعلیم کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بھی نہایت وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا کہ پردہ عورت اور مرد دونوں کی اخلاقی پاکیزگی اور معاشرتی بھلائی کے لیے ضروری ہے۔ پس ایک احمدی لڑکی کا پردہ اس کے ایمان، عزت اور اسلامی شناخت کی خوبصورت علامت ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:آجکل پردہ پر حملے کئے جاتے ہیں لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ اسلامی پردہ سے مراد زندان نہیں۔بلکہ ایک قسم کی روک ہے کہ غیر مرد اور عورت ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکے۔ جب پردہ ہو گا ٹھوکر سے بچیں گے۔ ایک منصف مزاج کہہ سکتا ہے کہ ایسے لوگوں میں جہاں غیر مرد و عورت اکٹھے بلاتأمّل اور بے محابا مل سکیں، سیریں کریں کیونکر جذباتِ نفس سے اضطراراً ٹھوکر نہ کھائیں گے۔ بسا اوقات سننے اور دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسی قومیں غیر مرد اور عورت کے ایک مکان میں تنہارہنے کو حالانکہ دروازہ بھی بند ہو کوئی عیب نہیں سمجھتیں۔ یہ گویا تہذیب ہے۔ انہی بدنتائج کو روکنے کے لئے شارع اسلام نے وہ باتیں کرنے کی اجازت ہی نہ دی جو کسی کی ٹھوکر کا باعث ہوں۔ ایسے موقع پر یہ کہہ دیا کہ جہاں اس طرح غیر محرم مرد وعورت ہر دو جمع ہوں تیسرا اُن میں شیطان ہوتا ہے۔ ان ناپاک نتائج پر غور کرو جو یورپ اس خلیع الرسن تعلیم سے بھگت رہا ہے۔ بعض جگہ بالکل قابل شرم طوائفانہ زندگی بسر کی جارہی ہے۔ یہ انہی تعلیمات کا نتیجہ ہے۔ اگر کسی چیز کوخیانت سے بچانا چاہتے ہو تو حفاظت کرو۔ لیکن اگرحفاظت نہ کرو اور یہ سمجھ رکھو کہ بھلے مانس لوگ ہیں تو یاد رکھو کہ ضرور وہ چیز تباہ ہو گی۔ اسلامی تعلیم کیسی پاکیزہ تعلیم ہے کہ جس نے مردو عورت کو الگ رکھ کر ٹھوکر سے بچایا اور انسان کی زندگی حرام اور تلخ نہیں کی جس کے باعث یورپ نے آئے دن کی خانہ جنگیاں اور خود کُشیاں دیکھیں۔ بعض شریف عورتوں کا طوائفانہ زندگی بسر کرنا ایک عملی نتیجہ اُس اجازت کا ہے جو غیر عورت کو دیکھنے کے لئے دی گئی۔
(ملفوظات جلداول صفحہ 34-35۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
حضرت مسیح موعودؑ اپنی کتاب ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ میں فرماتے ہیں۔
خدا تعالیٰ نے عفت کے حاصل کرنے کے لئے صرف اعلیٰ تعلیم ہی نہیں فرمائی بلکہ انسان کو پاک دامن رہنے کے لئے پانچ علاج بھی بتا دیئے ہیں۔ یعنی یہ کہ اپنی آنکھوں کو نامحرم پر نظر ڈالنے سے بچانا۔ کانوں کو نا محرم کی آواز سننے سے بچانا۔ نامحرموں کے قصّے نہ سننا اور ایسی تمام تقریروں سے جن میں اس بد فعل کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہو اپنے تئیں بچانا۔ اگر نکاح نہ ہو تو روزہ رکھنا وغیرہ۔ اس جگہ ہم بڑے دعویٰ کے ساتھ کہتے ہیں کے یہ اعلی تعلیم ان سب تدبیروں کے ساتھ جو قرآن شریف نے بیان فرمائی ہیں صرف اسلام کا ہی خاصہ ہے۔
(اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد10 صفحہ343)
حضرت مصلح موعودؓ پردہ کے متعلق فرماتے ہیں: شرعی پردہ جو قرآن کریم سے ثابت ہے یہ ہے کہ عورت کے بال گردن اور چہرہ کانوں کے آگے تک ڈھکا ہوا ہو۔ اس حکم کی تعمیل میں مختلف ممالک میں اپنے حالات اور لباس کے مطابق پردہ کیا جا سکتا ہے۔
(الفضل 8 نومبر 1924)
پھر فرمایا ’’وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اسلام میں منہ چھپانے کا حکم نہیں ان سے ہم پوچھتے ہیں کہ قرآن کریم تو کہتا ہے کہ زینت چھپاؤ اور سب سے زیادہ زینت کی چیز چہرہ ہی ہے۔ اگر چہرہ چھپانے کا حکم نہیں تو پھر زینت کیا چیز ہے جس کو چھپانے کا حکم دیا گیا ہے۔‘‘
(تفسیر کبیر جلد6 صفحہ301)
پھر فرمایا’’جو چیز منع ہے وہ یہ ہے کہ عورت کُھلے منہ نہ پھرے اور مردوں سے اختلاط نہ کرے۔ ہاں اگر وہ گھو نگٹ نکال لے اور آنکھوں سے راستہ دیکھے تو یہ جائز ہے لیکن منہ سے کپڑا اٹھا دینایا مکسڈ (Mixed) پارٹیوں میں جانا جبکہ اِدھر بھی مرد بیٹھے ہوں اور اُدھر بھی مرد بیٹھے ہوں اور ان کا مردوں سے بے تکلفی کے ساتھ غیر ضروری باتیں کرنا یہ ناجائز ہے‘‘
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 304)
ہمارے پیارے امام سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ پردہ عورت کی عزت، تقدس اور روحانی حسن کی حفاظت کرتا ہے، اور یہی وہ اسلامی تعلیم ہے جو معاشرے کو بے حیائی اور اخلاقی زوال سے محفوظ رکھتی ہے۔ پس ایک احمدی لڑکی کا باوقار پردہ نہ صرف اس کے ایمان کی علامت ہے بلکہ اسلام احمدیت کی خوبصورت نمائندگی بھی ہے ۔
چنانچہ آپ فرماتے ہیں:مکس گیدرنگ (Mix Gathrering) میں مَیں نے کھانے کی اجازت نہیں دی۔ کھانے پینے کے علاوہ اگر پورے پردے میں ہوں تو پھر صرف بیٹھنے کی اجازت ہے۔ کھانے پینے کی ہرگز نہیں۔ کھانے کے وقت پردہ میں سکرین میں جا کے پردہ میں کھانا کھائیں۔ اس اعتراض سے ڈر کر ہم نے اسلامی تعلیم کا حکم ختم نہیں کر دینا۔ سوال یہ نہیں کوئی دیکھتا ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ حجاب ختم ہو جاتا ہے۔ مکس(Mix) ہونے کی جو روک ہے وہ ختم ہو جاتی ہے۔ جب یہ روک ختم ہو جاتی ہے تو پھر دوستیاں ہو جاتی ہیں اور خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔
(دورۂ جرمنی 2009 ءلجنہ اماء اللہ کو ہدایات۔
الفضل انٹرنیشنل 29جنوری 2009ء)
نیز فرماتے ہیں: اگر ہر احمدی عورت اس سوچ کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہی ہوگی اور لِبَاسُ التَّقْوٰی کے لئے اس سے بڑھ کر تردّد کر رہی ہوگی جتنا کہ آپ اپنے ظاہری لباس کے لئے کرتی ہیں تو یہ لباس تقویٰ آپ کی چھوٹی موٹی روحانی اور اخلاقی بُرائیوں کو چھپانے والا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی نظر آپ پر ہوگی۔ اس وجہ سے کہ اللہ کا خوف ہے تقویٰ کو اپنا لباس بنانے کی کوشش کرتی ہیں خدا تعالیٰ کمزوریوں کو دُور کرنے کی بھی توفیق دیتا ہے اور دے گا اور ایمان میں ترقی کرنے کی بھی توفیق دے گا۔ کیونکہ اس توجہ کی وجہ سے جو آپ اپنے آپ کو لِبَاسُ التَّقْوٰی میں سمیٹنے کے لئے کریں گی آپ کو خداتعالیٰ کے آگے جھکنے کے بھی مواقع ملیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنے آگے نیک نیتی سے جھکنے والوں کی دعاؤں کو قبول بھی کرتا ہے، ان کو ضائع نہیں کرتا۔ پھر اس سے مزید نیکیوں کی توفیق ملتی چلی جائے گی۔ وہ ایسے جھکنے والوں کی طرف اپنی مغفرت کی چادر پھیلاتا ہے اور جب انسان اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی چادر تلے آجائے تو پھر انہیں راستوں پر چلتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے راستے ہیں۔
(خطاب از مستورات جلسہ سالانہ یوکے 30؍جولائی 2005ء۔ مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 11؍مئی 2007ء)
دین کا ہر حکم نہایت پُرحکمت ہوتا ہے۔ پردے کے حکم کے پس پردہ حکمت کا ذکر کرتے ہوئے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے ایک خطبہ جمعہ میں احباب جماعت سے مخاطب ہوتے ہوئے فرماتے ہیں : بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ دین اور مذہب ان کی آزادی کو سلب کرتا ہے اور ان پر پابندیاں لگاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ (الحج:79) یعنی دین کی تعلیم میں تم پر کوئی بھی تنگی کا پہلو نہیں ڈالا گیا بلکہ شریعت کی غرض تو انسان کے بوجھوں کو کم کرنا اور صرف یہی نہیں بلکہ اسے ہر قسم کے مصائب اور خطرات سے بچانا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ دین یعنی دین اسلام جو تمہارے لئے نازل کیا گیا ہے اس میں کوئی بھی ایسا حکم نہیں جو تمہیں مشکل میں ڈالے بلکہ چھوٹے سے چھوٹے حکم سے لے کر بڑے سے بڑے حکم تک ہر حکم رحمت اور برکت کا باعث ہے۔ پس انسان کی سوچ غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کلام غلط نہیں ہو سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہو کر ہم اس کے حکموں پر نہیں چلیں گے تو اپنا نقصان کریں گے۔ اگر انسان عقل نہیں کرے گا تو شیطان جس نے روزِ اول سے یہ عہد کیا ہوا ہے کہ میں انسانوں کو گمراہ کرکے نقصان پہنچاؤں گا وہ انسان کو تباہی کے گڑھے میں گرائے گا۔ پس اگر اس کے حملے سے بچنا ہے تو اللہ تعالیٰ کے حکموں کو ماننا ضروری ہے۔ بعض باتیں بظاہر چھوٹی لگتی ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کو معمولی سمجھنے کی وجہ سے ان کے نتائج انتہائی بھیانک صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ پس ایک مومن کو کبھی بھی کسی بھی حکم کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہئے۔
(خطبہ جمعہ فرمودہ 13 ؍جنوری2017ءبمقام بیت الفتوح، لندن۔ مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 3 ؍فروری 2017ء)
الغرض اسلام کی تعلیمِ پردہ ایک نہایت پاکیزہ، فطری اور بابرکت تعلیم ہے جسکا مقصد عورت کو محدود کرنا نہیں بلکہ اسے عزت، وقار، تحفظ اور روحانی بلندی عطا کرنا ہے۔ قرآنِ کریم، احادیثِ نبویہ ﷺ، حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام، حضرت مصلح موعودؓ اور سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی مبارک تعلیمات سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ حقیقی اسلامی معاشرے کی پاکیزگی، امن اور اخلاقی استحکام کا راز حیا اور پردہ میں مضمر ہے۔
ایک احمدی لڑکی جب پردہ اختیار کرتی ہے تو وہ محض ایک ظاہری رسم ادا نہیں کرتی بلکہ اپنے ایمان، تقویٰ، خوفِ خدا اور اسلامی شناخت کا عملی اظہار کرتی ہے۔ اس کا باوقار لباس، پاکیزہ کردار اور حیادار طرزِ زندگی دنیا کے سامنے یہ روشن پیغام پیش کرتا ہے کہ عورت کی اصل عظمت ظاہری نمائش میں نہیں بلکہ اس کے اخلاق، عفت، علم، تقویٰ اور روحانی حسن میں ہے۔
موجودہ دور کی بے حیائی، فیشن پرستی اور اخلاقی بے راہ روی کے ماحول میں ایک احمدی لڑکی کا پردہ اسلام کی خوبصورت تعلیمات کا روشن مینار اور ایمان کی زندہ علامت ہے۔ وہ دنیا کو اپنے عمل سے یہ باور کرواتی ہے کہ ترقی، آزادی اور کامیابی کا حقیقی معیار بے پردگی نہیں بلکہ اعلیٰ کردار، پاکیزہ زندگی اور خدا تعالیٰ سے مضبوط تعلق ہے۔
پس ہر احمدی خاتون اور بچی کو چاہیے کہ وہ پردہ کو بوجھ نہیں بلکہ اپنے ایمان کا تاج، اپنی عزت کا حصار، اپنی روحانی زینت اور اپنی اسلامی شناخت سمجھے، اور محبت، اخلاص اور فخر کے ساتھ اس عظیم اسلامی تعلیم پر قائم رہتے ہوئے اپنے کردار سے اسلام احمدیت کی حقیقی اور دلکش تصویر دنیا کے سامنے پیش کرے۔ اللہ تعالیٰ تمام احمدی خواتین اور بچیوں کو حقیقی حیا، عفت، تقویٰ اور اسلامی پردہ پر ہمیشہ قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔