اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-06-18

سوشل میڈیا کا صحیح استعمال اور مضرات سے اجتناب حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشاد ات کی روشنی میں ( کے طارق احمد ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد نورالاسلام قادیان )

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ۭ وَمَنْ يَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ فَاِنَّهٗ يَاْمُرُ بِالْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ ۭ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ مَا زَكٰي مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا ۙ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ ﴿سورۃ النورآیت نمبر۲۲﴾ ترجمہ:اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! شیطان کے قدموں پر مت چلو۔ اور جو کوئی شیطان کے قدموں پر چلتا ہے تو وہ تو یقیناً بے حیائی اور ناپسندیدہ باتوں کا حکم دیتا ہے۔ اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتے تو تم میں سے کوئی ایک بھی کبھی پاک نہ ہو سکتا۔ لیکن اللہ جسے چاہتا ہے پاک کر دیتا ہے۔ اور اللہ بہت سننے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔
سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
’’آج زمانہ بہت خراب ہورہا ہے۔ قسم قسم کا شرک، بدعت اور کئی خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ بیعت کے وقت جو اقرار کیا جاتا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا یہ اقرار خدا کے سامنے اقرار ہے۔ اب چاہئے کہ اس پر موت تک خوب قائم رہے ورنہ سمجھو کہ بیعت نہیں کی اور اگر قائم رہوگے تو اللہ تعالیٰ دین و دنیا میں برکت دے گا۔ اپنے اللہ کے منشاء کے مطابق پورا تقویٰ اختیار کرو۔ زمانہ نازک ہے۔ قہر الٰہی نمودار ہورہا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق اپنے آپ کو بنالے گا وہ اپنی جان اور اپنی آل و اولاد پر رحم کرے گا۔ ...خدا کی اطاعت پر قائم رہو۔ جو عہد تم نے بیعت میں کیا ہے اس پر قائم رہو۔ خدا کے بندوں کو تکلیف نہ دو۔ قرآن کو بہت غور سے پڑھو۔ اس پر عمل کرو۔ ہر ایک قسم کے ٹھٹھے اور بیہودہ باتوں اور مشرکانہ مجلسوں سے بچو۔ پانچوں وقت نماز کو قائم رکھو۔ غرض کہ کوئی ایسا حکم الٰہی نہ ہو جسے تم ٹال دو۔بدن کو بھی صاف رکھو اور دل کو ہر ایک قسم کے بےجا کینے، بغض و حسد سے پاک کرو۔ یہ باتیں ہیں جو خدا تم سے چاہتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 5صفحہ نمبر 75تا76)
حضرات!حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے سویڈن کے ایک نوجوان نے خدام گروپ ملاقات کے موقعہ پر سوال کیا کہ حضور کے نزدیک آج انسانیت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ارشاد فرمایا:
’’یہ سوشیل میڈیا، ٹی وی چینلز، غلط قسم کی حرکتیں، AIوغیرہ یہی Challengesہیں۔ ان کو صحیح طرح استعمال کرو ۔ ان کا استعمال ٹھیک ہے جائز طریقہ سے کرو۔ اسی میڈیا کے اوپر اخلاقیات کی باتیں کرو، مذہب کی باتیں کرو، خدا تعالیٰ کا پیغام سناؤ۔ تو یہی اس کا توڑ ہے۔ ان چیلنجز کا۔ کہ تمہارے اخلاق بھی درست رہیں گے تمہارا مذہب بھی درست رہے گا۔ اور لوگوں کو Awarenessبھی ہوجائے گی کہ کیا چیز ہے۔ اس کا صحیح استعمال بھی ہوجائے گا۔ اس سے چھٹکارا تو ملنا کوئی نہیں۔ اس کے صحیح استعمال کرنے کے لئے احمدی ہیں جو ان کو صحیح استعمال کریں اور خدا تعالیٰ کی تعلیم اور اس کے احکامات کے مطابق اسی پہ ایسی چیزیں ڈالیں جو لوگ برائیوں کو ہی نہ دیکھتے رہیں بلکہ تمہاری اچھائیوں کو بھی دیکھیں۔ اس طرح اس چیلنج کو کاؤنٹر کرسکتے ہیں۔‘‘
حضرات! حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا ہے کہ دور حاضر کا سب سے بڑا چیلنج سوشیل میڈیا اور AIہے یعنی Artificial Intelligenceہے۔ایک حالیہ مطالعے کے مطابق، بھارت میں نوجوانوں کے درمیان سوشل میڈیا کا غیر محدود استعمال ذہنی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ ایک تحقیقی سروے جن میں 204 نوجوان شامل تھے، اس میں پایا گیا کہ جن افراد نے سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال کیا، ان میں اسٹریس، انگزائٹی اور ڈپریشن کی شرح خاصی زیادہ تھی۔ ایک ماہرِ نفسیات نے بتایا کہ ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کی حد سے زیادہ استعمال سے نیند میں خلل، غصے کی بڑھوتری، اور سماجی انقطاع جیسی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔اس کے علاوہ، انٹرنیشنل جرنل آف انڈین سائیکولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کے نوعمر طلبہ تقریباً 32 فیصد سوشل میڈیا ایڈکشن کا شکار ہیں، اور 85% نے رپورٹ کیا کہ وہ سائبر بُلِئِنگ کا سامنا کر چکے ہیں، جو انہیں ذہنی دباؤ اور کم خود اعتمادی کی طرف لے جاتا ہے۔ نتیجتاً، ایسے رجحانات سے نوجوانوں میں سماجی تنہائی اور شدید جذباتی دباؤ بڑھ رہے ہیں، جو اکثر خودکشی کے خیالات اور اضطرابی عوارض میں بدل سکتے ہیں۔ یہ صورت حال یہ واضح کرتی ہے کہ ہمیں نہ صرف ٹیکنالوجی کے فوائد کو اپنانا چاہیے بلکہ اس کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مضبوط تربیتی پروگرامز اور ڈیجیٹل لٹریسی کی اشد ضرورت ہے۔
سوشل میڈیا کے ان بڑھتے ہوئے چیلنجز کے مقابل پر ہم احمدیوں کے پاس اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان موجود ہے، اور وہ ہے نعمتِ خلافت۔ دنیا میں جہاں لوگ الجھنوں، ذہنی دباؤ اور بے راہ روی کے سمندر میں ڈوب رہے ہیں، وہاں ہمارے خلیفۂ وقت ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات میں ہماری راہنمائی فرماتے ہیں۔ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نہ صرف جدید دور کے خطرات سے ہمیں آگاہ کرتے ہیں بلکہ ان سے بچنے کا طریق ہمیں سکھاتے ہیں کہ احمدی نوجوان اپنے اخلاق، اپنی نگاہوں، اپنے وقت، اپنے دل اور اپنے ذہن کی حفاظت کریں اور سوشل میڈیا کو بے فائدہ مشغلہ نہیں بلکہ اسلام کی خوبصورت تعلیمات دنیا تک پہنچانے کا ذریعہ بنائیں۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمیں خلافت جیسا روشن مینار میسر ہے جس کی روشنی میں ہم اس دور کی گمراہیوں، ذہنی حملوں اور اخلاقی فتنوں سے محفوظ رہتے ہوئے صحیح راستے پر چل سکتے ہیں۔
سالانہ نیشنل اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ یوکے2025ء کے موقعہ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نصیحت فرمائی کہ:
’’بدقسمتی سے آج کے دَور میں بہت سے نوجوان اپنا سارا فارغ وقت آن لائن ویڈیوز دیکھنے، ٹی وی پروگرامز دیکھنے یا ویڈیو گیمز کھیلنے میں گزارتے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ صحت مند آؤٹ ڈور سرگرمیوں اور کھیلوں میں حصہ لیں۔ اسی لیے ہمارے اجتماعات میں کھیل اور گیمز اس مقصد کے لیے رکھے جاتے ہیں کہ نوجوان باہر کی فضا میں تازہ ہوا لیں، جسمانی صحت بہتر بنائیں اور اپنی فٹنس کو سنواریں۔ہر خادم اور طفل کو چاہیے کہ روزانہ قرآنِ کریم کی تلاوت کرے، اس کے معانی کو سمجھے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی بھرپور کوشش کرے۔ فضول وقت ضائع کرنے کی بجائے، خواہ وہ نامناسب فلموں اور پروگراموں پر ہو یا انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر بے شمار گھنٹوں کے ضیاع پر، آپ کا پختہ عزم ہونا چاہیے کہ قرآنِ کریم اور اس کی تعلیمات کے ذریعے اپنےعلم میں اضافہ کریں۔ قرآن کو اپنی اصلاح اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کا ذریعہ بنائیں۔یہ قرآن ہی ہے جو آپ کو معاشرے کا ایک مثبت اور نفع رساں وجود بنائے گا۔ اگر جماعت کے نوجوان، بچے اور بزرگ سب مل کر قرآن کی تعلیمات کے مطابق حقیقی طور پر زندگی گزاریں تو ہم دنیا میں ایک حقیقی روحانی اور اخلاقی انقلاب کی داغ بیل ڈال سکتے ہیں۔ قرآنِ کریم کے مطالعہ کے ساتھ ساتھ آپ پر لازم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بابرکت زندگی اور پاکیزہ سیرت کا بھی مطالعہ کریں، کیونکہ آپؐ کی پوری زندگی ہمارے لیے ایک لازوال نمونہ ہے جس سے ہمیں سیکھنا اور جس کی پیروی کرنا ہے۔‘‘
حضرات!بچوں کو سوشیل میڈیا کے مضرات سے بچانے کی بڑی ذمہ داری والدین پر بھی عائد ہوتی ہے۔ خدا تعالیٰ کے اس ارشاد اور انذار کو ہمیشہ سامنے رکھیں کہ یٰاَیُّہَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاقُوْااَنْفُسَکُمْ وَ اَہْلِیْکُمْ نَارًا (التحریم :7) یعنی اے مومنو اپنے آپ کو بھی اور اپنی اولاد کو بھی آگ سے بچاؤ۔
جدید ٹیکنالوجی بشمول موبائل فون کے غلط استعمال کے نتیجہ میں بچوں کے کردار پر جو منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ان کے بارہ میں تنبیہ کرتے ہوئے جرمنی میں ہونے والے اطفال الاحمدیہ کے اجتماع کے موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ارشاد فرمایا:
’’پھر آج کل یہاں بچوں میں ایک بڑی بیماری ہے ماں باپ سے مطالبہ ہوتا ہے کہ ہمیں موبائل لے کر دو۔ دس سال کی عمر کو پہنچتے ہیں تو موبائل ہمارے ہاتھ میں ہونا چاہئے...فون سے لوگ رابطے کرتے ہیں جو پھر بچوں کو ورغلاتے ہیں گندی عادتیں ڈال دیتے ہیں اس لئے فون بھی بہت نقصان دہ چیز ہے۔ اس میں بچوں کو ہوش نہیں ہوتی کہ وہ انہی کی وجہ سے غلط کاموں میں پڑ جاتے ہیں۔ اس لئے اس سے بھی بچ کر رہیں۔ ٹی وی کا پروگرام جیسا کہ میں نے ابھی بات کی ہے اس میں بھی کارٹون یا بعض پروگرام جو معلوماتی ہوتے ہیں وہ دیکھنے چاہئیں۔ لیکن بیہودہ اور لغو پروگرام جتنے ہیں ان سے بچنا چاہئے۔‘‘
(خطاب برموقعہ سالانہ اجتماع اطفال الاحمدیہ جرمنی 16؍ستمبر 2011ء)
اللہ تعالیٰ کے مومن بندوں کی یہ علامت ہے کہ وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِمُعْرِضُوْنَ کہ وہ لغو باتوں سے اعراض کرنے والے ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں لغو باتوں میں ٹی وی، انٹرنیٹ اور سوشیل میڈیا بھی شامل ہیں۔ ان سے بچنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’دس بارہ سال کی عمر کی لڑکیوں سے لے کے نوجون لڑکیوں تک کے لئے جو ٹی وی اور انٹرنیٹ ہے یہ آج کل لغویات میں شامل ہوچکا ہے۔ اگر آپ لوگ سارا دن ایسے پروگرام دیکھ رہی ہیں جس میں کوئی تربیت نہیں ہے تو یہ لغویات ہے۔ انٹرنیٹ جو ہے، اس میں بعض دفعہ ایسی جگہوں پر چلی جاتی ہیں جہاں سے پھر آپ واپس نہیں آسکتیں اور بےحیائی پھیلتی چلی جاتی ہے۔ بعض دفعہ ایسے معاملات آجاتے ہیں کہ غلط قسم کے گروہوںمیں لڑکوں نے لڑکیوں کو کسی جال میں پھنسالیا اور پھر اُن کو گھر چھوڑنے پڑے اور اپنے خاندان کے لئے بھی، جماعت کے لئے بھی بدنامی کا باعث ہوئیں۔ اس لئے انٹرنیٹ وغیرہ سے بہت زیادہ بچنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ بھی ذہنوں کو زہریلا کرنے کے لئے انٹرنیٹ پر بہت سارے پروگرام ہیں۔ ٹی وی پر بےحیائی کے بہت سارے پروگرام ہیں۔ ایسے چینل والدین کو بھی بلاک کر کے رکھنے چاہئیں جو بچوں کے ذہنوں پر گندے اثر ڈالتے ہوں۔ ایسے مستقل لاک ہونے چاہئیں۔ اور جب بچے ایک دو گھنٹے جتنا بھی ٹی وی دیکھنا ہے دیکھ رہے ہیں تو بیشک دیکھیں لیکن پاک صاف ڈارمے یا کارٹون۔ اگر غلط پروگرام دیکھے جارہے ہیں تو یہ ماں باپ کی بھی ذمہ داری ہے اور بارہ تیرہ سال کی عمر کی جو بچیاںہیں ان کی بھی ہوش کی عمر ہوتی ہے ان کی بھی ذمہ داری ہے کہ اس سے بچیں۔ آپ احمدی ہیں اور احمدی کا کردار ایسا ہونا چاہئے جو ایک نرالا اور انوکھا کردار ہو۔ پتہ لگے کہ ایک احمدی بچی ہے۔‘‘
(خطاب برموقعہ سالانہ اجتماع لجنہ اماء اللہ جرمنی 17؍ستمبر 2011ء)
والدین پر اس دور میں ایک نئی ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی ٹی وی، موبائل ، انٹرنیٹ اور سوشیل میڈیا کی سرگرمیوں کو لازماً مانیٹر کریں، کیونکہ بے راہ رو مواد تک رسائی اکثر چند سیکنڈوں میں ممکن ہو جاتی ہے۔ آج ایسے متعدد ایپس اور فیچرز موجود ہیں جن کے ذریعے والدین بچوں کے موبائل فون اور ٹیبلٹ پر Screentime Limit سیٹ کر سکتے ہیں، ان کی ایپ ڈاؤن لوڈنگ پر نظر رکھ سکتے ہیں، اور یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر کیا دیکھ رہے ہیں۔ اسی طرح کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کو گھر میں اس طرح رکھنا چاہئے کہ اس کا مانیٹر والدین کی نظروں کے سامنے رہے۔ لیکن نگرانی کے ساتھ ساتھ والدین کو بچوں میں اعتماد کا ماحول پیدا کرنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ ڈر یا چھپانے کے بجائے خود آگاہی سے درست اور غلط کی پہچان کریں، مشورہ لیں اور اپنی آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں والدین کے سامنے کھل کر بات کر سکیں۔ یہی توازن ہی آج کے دور میں بچوں کی دینی، اخلاقی اور ذہنی حفاظت کی بنیاد ہے۔
ماؤں کی ذمہ داری کے حوالہ سے ایک موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آئرلینڈ کی نیشنل مجلس عاملہ کی عہدیداران کو ہدایت دیتے ہوئے فرمایا:
’’جہاں لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے تعلیم حاصل کرتے ہیں وہاں تعلیم کے حصول میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ لڑکے لڑکیوں سے دوستی نہ کریں اور ایک دوسرے سے صرف ضرورت کے تحت ہی بات کریں۔ SMS، Facebook، Chatاور فون کالز سے اجتناب کریں۔ ماں باپ کو ہدایت کریں کہ وہ بچوں پر نظر رکھیں۔ ہر وقت کمپیوٹر اور موبائل ہاتھ میں رکھنا مناسب نہیں۔ جو مائیں کمپیوٹر نہیں جانتیں وہ سیکھ لیں تاکہ بچوں پر نظر رہے۔ ‘‘
(نیشنل مجلس عاملہ میٹنگ لجنہ اماء اللہ آئیرلینڈ18؍ستمبر 2010ء)
اسی طرح ایک اور موقعہ پر حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
’’آج انٹرنیٹ یا کمپیوٹر پر آپس کے تعارف کا ایک نیا ذریعہ نکلا ہے جسے فیس بُک کہتے ہیں۔ گو اتنا نیا بھی نہیں لیکن بہرحال یہ بعد کی چند سالوں کی پیداوار ہے۔ اس طریقے سے میں نے ایک دفعہ منع بھی کیا۔ خطبہ میں بھی کہا کہ یہ بےحیائیوں کی ترغیب دیتا ہے جو آپس کے حجاب ہیں، ایک دوسرے کا حجاب ہے، اپنے راز ہیں ان حجابوں کو توڑتا ہے۔ رازوں کو فاش کرتا ہے اور بے حیائیوں کی دعوت دیتا ہے۔ ... یہ اخلاقی پستی اور گراوٹ کی انتہاء نہیں تو اور کیا ہے؟ اس اخلاقی پستی اور گراوٹ کی حالت میں ایک احمدی ہی ہے جس نے دنیا کو اخلاق اور نیکیوں کے اعلیٰ معیار بتانے ہیں۔‘‘
(اختتامی خطاب جلسہ سالانہ جرمنی 26؍جون 2011ء)
اسی طرح بعض غیر تربیت یافتہ اور نافہم احمدی لڑکیوں اور عورتوں کے غیر احمدی مردوں سے سوشیل میڈیا کے ذریعہ باہمی روابط بالآخر شادی پر منتج ہوئے ہیں اور ایسی شادیوں کے متوقع منفی نتائج ظاہر ہونے لگے ہیں اور ان کے نتیجہ میں اگلی نسلوں کی احمدیت سے دوری کے خطرناک پہلو بھی سامنے آنے لگے ہیں ۔ اس نہات اہم معاملہ کے بارے میں تنبیہ کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز نے ارشاد فرمایا ہے کہ:
’’ آج تو انٹرنیٹ ہے آج سے پہلے بھی جہاں بھی عورتیں جنہوں نے غیر از جماعت مردوں سے شادیاں کی ہیں ، اب پریشانی اور پشیمانی کا اظہار کرتی ہیں اور لکھتی ہیں کہ ہمارے سے یہ غلطی ہوگئی جو غیر از جماعت سے شادی کی ... مائیں بھی اور باپ بھی اس بات پر نظر رکھیں کہ(بچوں کا) اس طرح کھلے طور پر یہ انٹرنیٹ کے رابطے نہیں ہونے چاہئیں۔ پیار سے سمجھائیں ، آرام سے سمجھائیں ۔ جو لڑکیاں شعور کی عمر کو پہنچی ہوئی ہیں خود بھی ہوش کریں ورنہ یادرکھیں کہ آپ احمدی مائوں کی کوکھوں سے نکلنے والے بچےّ غیروں کی گودوں میں دے رہی ہوں گی۔ کیوں آپ لوگ اپنے آپ پر اور اپنی نسلوں پر ظلم کررہے ہیں ؟
( خطاب برموقع سالانہ اجتماع لجنہ اماء اللہ یوکے 19؍ اکتوبر 2003 مسجد بیت الفتوح لندن)
(باقی انشاء اللہ آئندہ)