حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ سورۃ النحل کی آیت نمبر 126اُدۡعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ الۡمَوۡعِظَۃِ الۡحَسَنَۃِ وَ جَادِلۡہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ کی تفسیر میں بیان فرماتے ہیں:
چونکہ دین کی اشاعت ا ب وسیع ہونے والی تھی۔اوریہود اورنصاریٰ میں جن کے پاس الٰہی کتابیں تھیں اسلام کی منادی ہونے والی تھی۔اس لئے فرمایا کہ ان کے مقابلہ میں زیادہ مضبوطی کی ضرورت ہے۔مشرکوں کے مقابلہ میں یہ آسانی تھی کہ شرک کاردّکردینے سے ہی سب جھگڑے کافیصلہ ہوجاتا تھا۔مگریہود نصاریٰ کے مقابلہ میں شریعت کی تفصیلی بحثوں میں بھی پڑنالازمی تھا۔اس لئے پہلے سے یہ تاکید کردی کہ دعوۃ بالحکمۃ ہو۔
حکمت کے مختلف معنوں کے لحاظ سے آیت کے معنی حکمت کے معنی کئی ہیں۔مثلاً علم ،پختگی ، عدل، نبوت،حلم اوربردباری۔جوچیز جہالت سے روکے۔جوکلام حق کے موافق ہو۔محل وموقع کے مناسب حال بات۔یہ سب معنے یہاں چسپاں ہوتے ہیں۔فرمایاحکمت کے ساتھ بلائو۔یعنی علمی باتوں کوبیان کرو۔یعنی پہلے نبیوں کے صحیفوں پر مسائل کی بنیاد رکھ کربات کرو۔افسوس کہ مسلمان مفسروں نے اس حکم کی طرف توجہ نہیں کی۔اورلوگوںسے سن سنا کر بائبل کے متعلق ایسے حوالے اپنی کتب میں لکھ دیئے ہیں کہ یہود اورعیسائیوں کو آج تک ان کی وجہ سے اسلام پرحملہ کرنے کاموقعہ ملتا ہے۔دوسرے یہ فرمایا کہ پختہ باتیں بیان کرو کوئی بات بھی کچی نہ ہو۔ بعض دفعہ انسان تائیدی دلائل کو مستقل دلائل کی صورت میں پیش کردیتا ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ دشمن انہی کو پکڑ کر بیٹھ جاتاہے۔فرمایا۔پہلے ہردلیل کو اچھی طرح سے جانچ لو۔جو پختہ اورمضبوط ہو اسی کو پیش کرو۔ (تفسیر کبیر جلد6صفحہ249زیر تفسیر سورۃ النحل آیت126)