اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-01-22

خشیت کے لفظ میں اس چیز کی معرفت کا بھی مفہوم ہے جس سے خوف کیا گیا ہو

حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ سورۃ الرعد کی آیت نمبر 22 وَ الَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ يُّوْصَلَ وَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ يَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِ کی تفسیر میں بیان فرماتے ہیں:
خشیت کے لفظ میں اس چیز کی معرفت کا بھی مفہوم ہے جس سے خوف کیا گیا ہو گویا خشیت کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جبکہ اس چیز کی معرفت حاصل ہو جس سے خوف کیا گیا ہو۔نیز خوف نقصان یا ضرر کا نہ ہو بلکہ اس وجہ سے ہو کہ انسان یقین کرے کہ وہ چیز نہایت اعلیٰ اور عظمت والی ہے۔ایسا نہ ہو کہ اپنی کسی غفلت کی وجہ سے میں اس کا قرب کھو بیٹھوں۔پس اللہ تعالیٰ کی خشیت کے یہ معنے ہوئے کہ جب تعلق باللہ کے مقام کو انسان حاصل کرلیتا ہے تو چونکہ اس پر کھل جاتا ہے کہ یہی مقام انسان کی حقیقی راحت اور کمال کا مقام ہے وہ اس کے جاتے رہنے کے خیال کو بھی برداشت نہیں کرسکتا۔اور ہر وقت اس کی حفاظت کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور پوری طرح اس کا خیال رکھتا ہے۔کہ جو مقام قرب اسے حاصل ہوا ہے وہ کسی غفلت کی وجہ سے کھویا نہ جائے۔اسی علامت کا دوسرا حصہ یہ بتایا ہے کہ وَ يَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِ یعنی ایک طرف اگر اسے اللہ تعالیٰ کے قرب کے مقام کی حفاظت کا خیال دامنگیر ہوتا ہے تو دوسری طرف وہ اس امر سے بھی خائف رہتا ہے کہ شفقت علی خلق اللہ کا جو مقام اسے حاصل تھا اس میں کسی کو تاہی کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مستوجب نہ ہو جائے۔پہلی دو علامتوں میں چونکہ تعلق باللہ کو اصل اور شفقت علی خلق اللہ کو اس کا نتیجہ قرار دیا تھا۔تیسری دلیل میں اسی کے مطابق اللہ تعالیٰ کے تعلق کے نقص کے لئے خشیت کا لفظ اور مخلوق کے تعلق کے نقص کے متعلق خوف کا لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ اول الذکر لفظ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ جس چیز سے ڈرا جاتا ہے وہ مقصود بالذات ہے اور خوف کا لفظ ضروری نہیں کہ مقصود بالذات کے لئے بولا جائے بلکہ بسا اوقات یہ لفظ ایسی چیز کے لئے بولا جاتا ہے جس سے دور بھاگنا مقصود ہو۔گو کبھی مقصود بالذات شئے کی ناراضگی کے لئے بھی استعمال ہو جاتا ہے۔
(تفسیر کبیر جلد ۵صفحہ54زیر تفسیر سورۃ الرعدآیت22)