اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-01-29

ظالم کا کسی رنگ میں ممد ہونا یا اس کا ساتھ دینا بھی ظلم ہی ہے

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ ھودکی آیت نمبر 114 وَ لَا تَرْكَنُوْا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
ظالم سے تعلق رکھنے والا بھی سزا میں اس کا شریک ہوگا: اس آیت میں یہ قاعدہ بتایا ہے کہ ظالم سے تعلق رکھنے والا خود بھی اس کی سزا میں شریک ہوجائے گا۔اور پہلی آیت سے اس کا یہ تعلق ہے کہ اس میں یہ بتایا گیا تھا کہ دوسروں کی نگرانی اور خبرگیری رکھو کہ وہ بھی استقامت پر رہیں۔اور یہ ظاہر ہے کہ اگر مومن ایسا نہ کریں گے تو دوسرے لوگ اسقامت کو چھوڑ کر ظالم بن جائیں گے اور سزا کے مستحق ٹھہریں گے۔اس لئے اس قاعدہ کی طرف توجہ دلائی کہ جو چیزیں آپس میں تعلق رکھتی ہیں وہ ایک دوسرے کے اثر کو قبول کرتی ہیں۔پس اگر تم ظالموں کی طرف جھکو گے تو وہ خرابیاں جو ان میں پائی جاتی ہیں وہ تم میں بھی سرایت کر جائیں گی۔اور ان کا بگڑنا تمہارا ہی بگڑنا ہوگا۔غرض یہ سمجھایا ہے کہ اپنے عزیزوں سے تعلق قطع کرنا بھی ایک قسم کی موت ہے اور اگر وہ ظالم ہوں تو ان سےتعلق رکھنا بھی ایک موت ہے۔پس اصل راہ یہی ہے کہ ان کی اصلاح کرو۔اور انہیں بگڑنے نہ دو تاکہ تعلق توڑنا بھی نہ پڑے اور ان کا تعلق خرابی کا موجب بھی نہ ہو۔ظالم کو ظلم سے روکنا بھی ضروری ہے دوسرے اس آیت کا یہ بھی مطلب ہے کہ پہلی آیت میں جو لَا تَطْغَوْا کہہ کر ہم نے ظلم سے منع کیا تھا تو اس کا صرف یہ مطلب نہ تھا کہ اپنے ہاتھ سے ظلم نہ کرو۔بلکہ ظالم کا کسی رنگ میں ممد ہونا یا اس کا ساتھ دینا بھی ظلم ہی ہے۔اور انسان کو سزا کا مستحق بنا دیتا ہے۔بہت سے لوگ ہیں کہ جو خود تو ظلم نہیں کرتے مگر دوستوں کے ظلم پر پردہ ڈالتے ہیں اور ان کو سزا سے بچانے کے لئے کوشش کرتے ہیں۔انہیں اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
ظالم کے پاس کسی جائز کام کے لئے جانا ممنوع نہیں ہے: لَا تَرْكَنُوْاسے یہ بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ ظالم کے پاس صرف کسی کام کے لئے جانا سزا کا مستحق نہیں بنا دیتا۔بلکہ جب انسان ظالم کے ظالمانہ افعال میں تسکین محسوس کرے اور اس پر نفرت کا اظہار نہ کرے تب سزا کا مستحق ہوتا ہے۔
(تفسیر کبیر جلد 4 صفحہ 374 زیر آیت وَ لَا تَرْكَنُوْا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا )