حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ البقرہ کی آیت 186 شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ۔۔۔ کی تفسیر میں بیان فرماتے ہیں :
رمضان ایک خاص اہمیت رکھنے والا مہینہ ہے۔اور جس شخص کے دل میں اسلام اور ایمان کی قدر ہوتی ہے وہ اس مہینہ کے آتے ہی اپنے دل میں ایک خاص حرکت اور اپنے جسم میں ایک خاص قسم کی کپکپاہٹ محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔کتنی ہی صدیاں ہمارے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان گذر جائیں، کتنے ہی سال ہمیں اور انکو آپس میں جُدا کرتے چلے جائیں کتنے ہی دنوں کا فاصلہ ہم میں اور ان میں حائل ہو تا چلا جائے لیکن جس وقت رمضان کا مہینہ آتا ہے تو یوں معلوم ہوتاہے کہ ان صدیوں اور سالوں کو اس مہینہ نے لپیٹ لپاٹ کر چھوٹا سا کر کے رکھ دیا ہے اور ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گئے ہیں بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی قریب نہیں چونکہ قرآن خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اس لئے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس تمام فاصلہ کو رمضان نے سمیٹ سماٹ کر ہمیں خدا تعالیٰ کے قریب پہنچا دیا ہے۔وہ بُعد جو ایک انسان کو خدا تعالیٰ سے ہوتا ہے، وہ بُعد جو ایک مخلوق کو اپنے خالق سے ہوتا ہے۔وہ بُعد جو ایک کمزور اور نالائق ہستی کو زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے خدا سے ہوتا ہے وہ یوں سمٹ جاتا ہے وہ یوں مٹ جاتا ہے وہ یوں غائب ہو جاتا ہے جیسے سورج کی کرنوں سے رات کا اندھیرا۔یہی وہ حالت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَاِنِّيْ قَرِيْبٌ (البقرۃ:۱۸۷)۔جب رمضان کا مہینہ آئےاور میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں کہ میں انہیں کس طرح مل سکتا ہوں تو تُو انہیں کہہ دے کہ رمضان اور خدا تعالیٰ میں کوئی فرق نہیں۔یہی وہ مہینہ ہے جس میں خدا اپنے بندوں کےلئے ظاہر ہوا۔اور اُس نے چاہا کہ پھر اپنے بندوں کو اپنے پاس کھینچ کر لے آئے۔اس کلام کے ذریعہ جو حبل اللہ ہے۔جو خدا کا وہ ر ّسہ ہے جس کا ایک سِرا خدا کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا مخلوق کے ہاتھ میں اب یہ بندوں کا کام ہے کہ وہ اس ر ّسہ پر چڑھ کر خدا تک پہنچ جائیں۔ ( تفسیر کبیر جلد 3صفحہ 191-1921)