اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-02-26

رمضان المبارک میں قرآن مجید کا دور مکمّل کرنے کی فضیلت

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
تیسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ رمضان میں پورا قرآن اتارا گیا۔جیسے احادیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا أَنَّ جِبْرِیْلَ کَانَ یُعَارِضُنِیَ الْقُرْاٰنَ فِیْ کُلَّ سَنَۃٍ مَرَّۃً وَ اِنَّہٗ عَارَ ضَنِیَ الْعَامَ مَرَّ تَیْنِ یعنی جبریل ہر سال رمضان کے مہینہ میں تمام قرآن کریم کا میرے ساتھ ایک دفعہ دَور کیا کرتے تھے۔مگر اس سال انہوں نے دو دفعہ دَور کیا ہے جس سے میں سمجھتا ہوں کہ اب میری وفات کا وقت قریب ہے۔(شرح العلامۃ الزرقانی علی المواہب الدنیۃ الفصل الاول فی اتمامہ تعالیٰ نعمتہ علیہ بفاتہ)اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رمضان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں بھی قرآن نازل ہوا ہے مگر رمضان المبارک کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں جس حد تک قرآن کریم نازل ہو چکا ہوتا تھا جبریل اس کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر دَور کیا کرتے تھے۔گویا دوسرے الفاظ میں دوبارہ تمام قرآن کریم آپ پر نازل کیا جاتا۔بخاری کتاب بدء الوحی میں بھی یہی مضمون بیان کیا گیا ہے۔چنانچہ حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ کَانَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَجْوَدَ النَّاسِ وَکَانَ اَجْوَدُ مَایَکُوْنُ فِیْ رَمَضَانَ حِیْنَ یَلْقَاہُ جِبْرِیْلُ وَکَانَ یَلْقَاہُ فِیْ کُلِّ لَیْلَۃٍ مِنْ رَمَضَانَ فَیُدَ ارِسُہُ الْقُرْاٰنَ فَلَرَسُوْلُ اللّٰہِ (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) اَجْوَدُ بِالْخَیْرِ مِنَ الرِّیْحِ الْمُرْسَلَۃِ۔( بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی)یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے بڑھ کر سخی تھے اور زیادہ ترسخاوت آپ رمضان میں فرمایا کرتے تھے جبکہ جبریل آپ سے ملتے تھے۔اور جبریل رمضان کے مہینہ میں ہررات آپ سے ملا کرتے تھے اور تمام قرآن کریم کا آپ کے ساتھ مل کر دَور کیا کرتے تھے۔اُن دنوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بارش لانے والی ہوا سے بھی اپنے جود وکرم میں بڑھ جاتے تھے۔
(تفسیر کبیر جلد اول صفحہ 394تا 395)