حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ البلد کی آیت اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ یَّتِیْمًا ذَامَقْرَبَۃٍ اَوْمِسْکِیْنًا ذَامَتْرَبَۃٍ ...... کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اگر اس (انسان) کے اندر یتامٰے و مساکین کی حقیقی محبّت ہوتی اور وہ ان کی تکالیف کو دُور کرنے کا صحیح احساس اپنے اندر رکھتا تو اس کا فرض تھا کہ وہ بھوک والے دن ان کو کھانا کھلاتا۔ یعنی قحط میں ان کی خبرگیری کرتا یا فقر و فاقہ میں ان کے لئے غلّہ وغیرہ مہیّا کرتا۔ یہ مان لیا کہ وہ سو سو اونٹ ایک ایک دن میں ذبح کرتا رہا ہے۔ مگر ہم تو یہ کہتے ہیں وہ بے موقعہ ذبح کرتا رہا ہے اور ان کو ذبح کرنے کا موقعہ یہ تھا کہ وہ یتامیٰ او رمساکین کے لئے ان کو ذبح کرتا اور ان کا گوشت ان میں تقسیم کردیتا یا خود پکا کر ان کو دعوت دے کر ان کی بھوک کو دُور کرتا۔ یہاں فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ کے الفاظ اسی حکمت کے ماتحت لائے گئے ہیں کہ پہلے یہ ذکر آچکا تھا کہ وہ نام و نمود کے لئے جاہ طلبی اور شہرت کے حصول کے لئے اپنا روپیہ صرف کردیتا ہے۔ اس سے خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ ممکن ہے وہ یتامیٰ و مساکین کو بھی کھلا دیتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کا ازالہ کیا ہے ۔ اور بتایا ہے کہ وہ روپیہ تو خرچ کرتا تھا۔ اپنے اونٹوں کو بھی ذبح کرتا تھا۔ مگر بھوک والے دن نہیں۔ یعنی جب بھوکوں کو ضرورت ہوتی تھی وہ ان کو ذبح نہیں کرتا تھا۔ بلکہ جب اپنی شہرت کا جنون اس کے سر پر سوار ہوجاتا تو سو سو اونٹ ایک ایک دن میں ذبح کردیتا۔ حالانکہ اگر حقیقی ضرورت کو مدّ ِ نظر رکھ کر وہ کام کرتا تو دوستوں کی دعوت کے لئے صرف ایک اونٹ ذبح کرتا اور ننانوے اونٹ یتامیٰ و مساکین کے لئے رکھ لیتا تاکہ ان کو فاقہ کی مصیبت پیش نہ آتی۔ پس چونکہ اس نے قومی ضرورت کو مدّ ِ نظر نہیں رکھا اور اپنے مال کو بے موقعہ خرچ کرکے ضائع کردیا۔ اس لئے ہماری نگاہ میں وہ کِسی تعریف کا مستحق نہیں۔ نہ اس قابل ہے کہ لوگ اس کو احترام کی نظر سے دیکھیں۔
یہاں یتیم کے ساتھ ذَامَقْرَبَۃٍکے الفاظ کا اضافہ اس لئے کیا گیا ہے کہ قرابت والا یتیم بہرحال انسان کو اپنے پاس رکھنا پڑتا ہے اور اس کے خورد نوش کی ذمہ داری یا تعلیم اورلباس وغیرہ کے اخراجات انسان کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ یہ الگ امر ہے کہ کوئی شخص ان اخراجات کو طوعاً برداشت کرے یا کرہاً مگر بہرحال خاندانی ذمہ داریاں تقاضہ کرتی ہیں کہ انسان اپنے قرابت دار یتیم کا خیال رکھے۔ مگر فرمایا تمہاری تو یہ حالت ہے کہ تم ایسے یتیم کو بھی کھانا نہیں کھلاتے جو تمہارا قریبی رشتہ دار ہوتا ہے۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تمہاری حالت خطرناک حد تک گر چکی ہے۔
اس آیت کے یہ معنی نہیں کہ قریبی یتیم کو تو کھانا کھلانا چاہئے مگر دوسرے کو نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ کسی اور یتیم کی پرورش تو الگ رہی تم سے تو اس بات کی بھی امید نہیں کی جاسکتی کہ تم اپنے قریبی یتیموں کی خبرگیری کروگے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھوگے۔ جب ایک قریبی ذمہ داری سے تم اس قدر لاپروا ہو تو دور کی ذمہ داری کے پورا کرنے کی طرف تمہاری توجہ ہی کہاں ہوسکتی ہے۔ (تفسیر کبیر جلد 8 صفحہ 624 مطبوعہ قادیان)