اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-04-02

’’ عبادی الصالحون‘‘ ارض مقدس کے وارث ہونگے

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سور ہ بنی اسرائیل آیت نمبر105 وَّقُلْنَا مِنْم بَعْدِہٖ لِبَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ اسْکُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ جِئْنَا بِکُمْ لَفِیْفًا کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
اسکنو االارض ۔ اس سے مراد مصر کی سرزمین نہیں۔کیونکہ مصر میں تو وہ نہیں آباد ہوئے اس سے مراد ملک کنعان ہے
یعنے وہ ملک جس کاتمہیں وعدہ دیاگیاہے۔گویاالارض سے مراد معہود زمین ہے۔ رسول کریم صلعم کو موسیٰ علیہ السلام پر یہ فضیلت ہے کہ ان کو جو جگہ ملی وہ مصر کے قائم مقام تھی۔مصرنہیں ملا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عین وہ جگہ ملی جوآ پ کاوطن تھا اورپھر دشمنوں کے ملک بھی ہاتھ آئے۔ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ۔یعنی اب تم کنعان میں جائو۔لیکن ایک وقت کے بعد تم کو وہاں سے نکلنا پڑے گا پھر خدا تعالیٰ تم کو واپس لائے گا پھر تم نافرمانی کروگے اوردوسری دفعہ عذاب آئے گا اس کے بعد تم جلاوطن رہوگے یہاں تک کہ تمہاری مثیل قوم کے متعلق جو دوسری تباہی کی خبر ہے اس کا وقت آجائے اس وقت پھر تم کو مختلف ملکوں سے اکٹھاکرکے ارض مقدس میں واپس لایا جائے گا۔
اس آیت سے ظاہر ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل کے لئے دوتباہیوں کی خبر اس سورۃ کے شروع میں دی گئی تھی ویسی ہی خبر مسلمانوں کے لئے بھی دی گئی ہے کیونکہ مسلمانوں کو بنی اسرائیل کامثیل قرار دیا گیا ہے۔ جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو موسیٰ ؑکا مثیل قرار دیا گیا ہے۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ سورۃ کے شروع میں دو وعدوں کا ذکر ہے اور دونوں عذاب کے وعدے ہیں۔ ایک بخت نصرشاہ بابل کے ہاتھوں پورا ہوا۔ اور دوسرا ٹائیٹس شاہ روم کے ہاتھ سے پورا ہوا۔ (دیکھو رکوع اول) ان دونوں وعدوں میں بنی اسرائیل کے اکٹھا کرنے کا ذکر نہیں بلکہ ان کے پراگندہ کرنے کا ذکر ہے۔ اس کے برخلاف اس آیت میں یہ ذکرہے کہ دوسرے وعدے کے وقت بنی اسرائیل کو پھر ارض مقدس میں لایا جائے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دوسرا وعدہ کوئی اور ہے اور اس دوسرے وعدے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس دوسرے وعدے کے ساتھ کوئی پہلاوعدہ بھی ہے۔اب ہم غورکرتے ہیں توان دو وعدوں کا ذکرقرآن کریم میں صرف اس طرح ملتاہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومثیل موسیٰ قراردیاگیا ہے۔اورسورۃ فاتحہ میں مسلمانوں کے ایک حصہ کے متعلق یہ خبر دی ہے کہ وہ اہل کتاب کے نقش پر چلیں گے۔پس ان دونوں باتوںکوملا کر ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں۔کہ بنی اسرائیل کی طرح دوعذاب کے وعدے مسلمانوں کے لئے بھی کئے گئے ہیں۔اوراس جگہ وَعْدُالْاٰخِرَۃ سے مراد مسلمانوں کے دوسرے عذاب کاوعدہ ہے۔اوربتایایہ ہے کہ مسلمانوں پر جب یہ عذاب آئے گا۔کہ دوسری دفعہ ارض مقد س کچھ عرصہ کے لئے ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی تواس وقت اللہ تعالیٰ پھر تم کو اس ملک
میں واپس لے آئے گا۔ چنانچہ دیکھ لو اسی طرح واقعہ ہواہے۔جس طرح بخت نصرکے وقت میں پہلی دفعہ ارض مقدس یہود کے ہاتھ سے نکلی۔اسی طرح صلیبی جنگوں کے وقت مسلمانوںکے ہاتھ سے نکلی(دی نیو انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا زیر لفظ Crusade)۔پھر جس طرح موسیٰ سے تیرہ سوسال بعد حضرت مسیح ؑکے صلیب کے واقعہ کے بعد جبکہ گویاوہ بظاہر اس ملک کے لوگوں کے لئے مرگئے تھے۔بنی اسرائیل کو ارض مقدس سے دوبارہ بے دخل کردیاگیا۔اسی طرح اس زمانہ میں جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر اتنا ہی عرصہ گذراہے مسلمانوں کی حکومت پھر ارض مقد س سے جاتی رہی ہے۔اورجیساکہ قرآن کریم نے فرمایاتھا مسلمانوں کایہ دوسراعذاب یہودکے لئے ارض مقدس میں واپس آنے کاذریعہ بن گیا ہے۔
نیز حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الانبیاء107 اِنَّ فِیْ ہٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: فرماتا ہے ہم نے زبور میں کچھ شرائط بیان کرنے کے بعد یہ بات لکھ چھوڑی ہے کہ ارض مقدس کے وارث ہمارے نیک بندے ہوںگے اس میںعبادت گذار بندوں کے لئے ایک پیغام ہے اور ہم نے تجھ کو ساری دنیا کی طرف رحمت بنا کر بھیجا ہے۔مطلب یہ ہے کہ بائیبل میں جو یہ پیشگوئی تھی کہ صرف خدا کے نیک بندے ارض مقدس میں رہیں گے اس سے کوئی اس وقت دھوکا نہ کھائے جبکہ بنی اسرائیل اس ملک پر غالب آجائیں گے۔کیونکہ اس پیشگوئی میںاس طرف بھی اشارہ تھاکہ اگر کوئی وقفہ پڑا تو پھر خدا کے بندے اس ملک پر غالب آجائیں گے اس لئے فرماتا ہے کہ عبادت گذار بندوں کے لئے اس میں ایک پیغام ہے یعنی مسلمانوں کو تُو ہوشیار کردے کہ ایک وقت ایسا آئےگا کہ پھر بنی اسرائیل اس پر قابض ہو جائیںگے اس لئے یہاں عابدین کا لفظ دائود ؑ کی پیشگوئی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے استعمال کیا اور بتایا کہ میرے بندوں کو کہہ دے کہ ہوشیار ہوجائو۔اگر کسی وقت تم نے میرے عباد بننے میںکمزوری دکھائی تو پھر اللہ تعالیٰ یہودیوں کو اس ملک میںواپس لے آئے گا لیکن مسلمانوں کو چاہیے کہ پھر عبادت گذار بن جائیں۔اس کے نتیجہ میں وہ پھر غالب آجائیںگے اور ان کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب زمانوں کے لئے رحمت ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ اس وقت ختم نہیں ہوجاتا جب بنی اسرائیل فلسطین پرقابض ہوں۔بلکہ اس کے بعد بھی وہ زمانہ ہے جس کے لئےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمت ہیں۔پس مایوس نہیں ہوناچاہیے جب دوبارہ رحمت الٰہی جوش میں آجائےگی مسلمان دوبارہ فلسطین میں غالب آجائیںگے۔ ( تفسیر کبیر جلد چہارم سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر 105)
( تفسیر کبیر جلد پنجم سورۃ الانبیا آیت نمبر 106)