اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-04-09

جو شخص عبادت اور خدمتِ دین کیلئے اپنی ساری عمر وقف نہیں کرتا وہ قرب الٰہی کے اعلیٰ مدارج پانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوتا

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سور ۃ البقرہ کی آیت یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ط اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(البقرہ : 154) کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
صبر کے جو معنے اوپر بیان کئے گئے ہیں اُن کے لحاظ سے اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ (۱) اے مومنو! جب تم پر خدا تعالیٰ کی راہ میں مصائب اور مشکلات آئیں تو تم گھبرایا نہ کرو اور نہ اُن پر شکوہ کا اظہار کیا کرو۔ (۲) اے مومنو! جو باتیں خدا تعالیٰ کے قرب میں روک ہیں تم اُن سے بچنے کی ہمیشہ کوشش کرتے رہا کرو۔ (۳) اے مومنو! جب تم کو وہ احکام دیئے جائیں جن کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے تو تم ان پر عمل کرنے میں سستی نہ دکھایا کرو۔ بلکہ استقلال سے اُن پر عمل کیاکرو۔
یہ تین باتیں رُوحانی مدارج کے حصول کے لئے ممد ہیں تم اِن باتوں کو مدّنظر رکھو۔ اگر تم ایسا کروگے تو جو کام تمہارے سامنے ہیں اُن کے پورا کرنے میں تمہیں کامیابی ہوگی اور تمہارا مقصد تمہیں حاصل ہوجائیگا۔ اِسی طرح
صلوٰۃ کے معنوں کو مدّنظر رکھتے ہوئے اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ (۱) اے مومنو! تم نماز کے ذریعہ خداتعالیٰ کی مدد حاصل کرو۔ (۲) اے مومنو! تم دُعاؤں کے ذریعہ اس کی مدد حاصل کرو۔ (۳) اے مومنو! دین پر استقلال کے ساتھ قائم ہوجانے کے ذریعے سے اس کی مدد حاصل کرو۔ (۴) اے مومنو! تم خدا تعالیٰ کی مخلوق پررحم اور شفقت کرکے اس کی مدد حاصل کرو۔ (۵) اے مومنو! تم خدا تعالیٰ کے حضور استغفار اور اپنے گناہوں کی معافی
طلب کرکے اس کی مدد حاصل کرو۔ (۶) اے مومنو! تم خدا تعالیٰ کے رسول پر درود بھیج کر اُسکی مدد حاصل کرو۔ گویا یہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کی نصرت اور مدد کے حصول کے ذرائع ہیں۔ سورۃ فاتحہ میں یہ بتایا گیا تھا کہ تم اِ یَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کہا کرو۔ یعنی اے خدا ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔ اب اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ گُر بتایا ہے کہ مدد کس طریق سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ فرماتا ہے وہ ذرائع یہ ہیں کہ ایک تو دین کےراستہ میں جو مشکلات اور مصائب پیش آئیں اور جو قربانیاں تمہیں کرنی پڑیں اُن سے گھبرایا نہ کرو۔ دوسرے ان امور سے جن سے اللہ تعالیٰ تم کو روکتا ہے رُکے رہو۔ تیسرے وہ قربانیاں جو قربِ الٰہی کے حصول کے لئے ضروری ہیں ان کو ترک نہ کرو۔ اور ان پر استقلال اوردوام اختیار کرو۔ چوتھے دُعا کرو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری قربانیوں کے بہترین نتائج پیدا کرے اور اُنکو قبول فرماتے ہوئے تمہیں غلبہ بخشے۔ پانچویں غرباء سے ہمدردی اور شفقت کا سلوک کرو تا مخلوقِ خدا کو آرام پہنچانے کی وجہ سے خدا تعالیٰ بھی تم سے خوش ہو۔ چھٹے خدا تعالیٰ سے اپنے قصوروں کی معافی طلب کرتے رہو۔ ساتویں انبیاء پر درود بھیجا کرو۔ کیونکہ اُن کے ذریعے سے ہی تم کو خدا تعالیٰ تک پہنچنے کی توفیق ملی ہے۔ آٹھویں خدا تعالیٰ کے دین پر استقلال کے ساتھ قائم رہنے کی کوشش کیا کرو۔ نویں عبادت پر مضبوطی سے قائم رہو۔ یہ سب امور خداتعالیٰ نے کامیابی کے حصول کے بیان فرمائے ہیں۔ پس جو شخص چاہتا ہے کہ اُسے خداتعالیٰ کی مدد او رنصرت حاصل ہو اس کیلئے اِن نو 9 باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔ بندے کا صرف اپنے مونہہ سے خداتعالیٰ کو یہ کہنا کہ الٰہی میری مدد کر کوئی معنے نہیں رکھتا۔ مدد حاصل کرنے کے لئے پہلے ان ذرائع پر عمل کرنا ضروری ہے۔ جو شخص گھبرا کر مایوس ہوجاتا ہے اور پھر یہ امید رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے اُس کی مدد کے لئے آسمان سے نازل ہونگے وہ اُس کی مدد حاصل کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ جو شخص خدتعالیٰ کے احکام کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے اور ساتھ ہی یہ اُمید رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے اس کے لئے نازل ہونگے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ جو شخص قربانیوں سے ہچکچاتا اور خداتعالیٰ کی عاید کردہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے سے قاصر رہتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ جو شخص دُعا نہیں کرتا اور خداتعالیٰ کے حضور عاجزانہ طور پر گڑگڑاتا نہیں اور اس کے باوجود اس کی معجزانہ تائید کا امیدوار رہتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ جو شخص دین کے معاملے میں غیرت سے کام نہیں لیتا اور اس کی ترقی میں ممد نہیں ہوتا وہ دشمنوں کے مقابلہ میں کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ جو شخص غرباء اور مساکین پر شفقت نہیں کرتا اور اُن کی مشکلات کو دُور کرنے میں ہاتھ نہیں بٹاتا وہ اپنی مشکلات کے وقت خدا تعالیٰ کی تائید حاصل کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے رسولوں پر درود نہیں بھیجتا۔ اُن کے لئے دُعائیں نہیں کرتا اور اُن کے احسانات کے شکریہ کا احساس اپنے دل میں نہیں رکھتا وہ اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ جو شخص عبادت اور خدمتِ دین کے لئے اپنی ساری عمر وقف نہیں کرنا وہ قرب الٰہی کے اعلیٰ مدارج پانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ (بحوالہ تفسیر کبیر تفسیر سورۃ البقرۃ صفحہ نمبر 285-286)