اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-04-16

تُم دشمن کی بُرائی کا جواب نہایت نیک سلوک سے دو

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ آیت قرآنی اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَۃَ طنَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ (المومنون : 97) کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
اس جگہ یہ سکھایا گیا ہے کہ دشمن اگرچہ ظالم ہے مگر تُو پھر بھی اس کے مقابلہ میں احسان اورعفو سے کام لیجئیو۔ کیونکہ بُرائی کے بدلہ میں نیکی کرنا اولوالعزم انبیاء کا کام ہے۔ اور تیرے دل میں یہ خیال نہ آئے کہ دشمن نے تو ظلم بھی کر لیا اور پھر میرے عفو سے سزا سے بھی بچ گیا۔ ایسا نہ ہو کہ وہ پھر کوئی شرارت کرے۔ کیونکہ مَیں اس کی ہر تدبیر کو جانتا ہوں اور کوئی چیز بھی میری جزا سزا سے باہر نہیں رہ سکتی۔
دوسری جگہ اللہ تعالیٰ اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ۔(حٰمٓ السجدہ:35) یعنی تُو دشمن کی بُرائی کا جواب نہایت نیک سلوک سے دے کیونکہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ شخص جس سے تیری عداوت ہے وہ تیرے اس حسین سلوک کو
دیکھ کر شرمندہ ہوگا او روہ تیرا گرم جوش دوست بن جائیگا۔ گویا بتایا کہ سزا آخر اس لئے دی جاتی ہے کہ انسان دوسروں کے ضرر سے بچ جائے اور اُسے اپنی اصلاح کا خیال آئے۔ لیکن دوسرے کے ضررسےبچنے کا صرف یہی طریق نہیں کہ اُس کو سزا دی جائے بلکہ اگر عفو سے اس کی اصلاح ہوسکتی ہو تو بہتر یہی ہے کہ اس کو معاف کردو۔ اور اس بات سے مت گھبراؤ کہ اس کا کوئی خراب نتیجہ نکلے گا۔ کیونکہ دوسرا شخص اِس سلوک سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اُسکی آنکھیں نیچی ہوجائیں گی اور وہ تمہاری دوستی اور محبت کا دم بھرنے لگے گا۔
حضرت مصلح موعود ؓ آیت وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ ہَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِ لا ۔ ﴿سورۃ المومنون: 98﴾کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
اسجگہ ھَمَزٰتِ الشَّیَاطِیْن میں کسی شیطانی وسوسہ کا ذکر نہیں بلکہ یہاں ان دشمنوں کو شیاطین کہا گیا ہے جو اسلام کے مخالف تھے اور جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مختلف قسم کی تکالیف پہنچاتے رہتے تھے چنانچہ ھَمْز کے ایک معنے نچوڑنے یعنی تکلیف دینے کے بھی ہوتے ہیں۔ اور ھَمَزْتُ الشَّیْءَ فِیْ کَفِّیْ کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ مَیں نے فلاں چیز کو اپنے ہاتھ میں دبا کر نچوڑ ڈالا (مفروات امام راغبؒ) پس رَبِّ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ ھَمَزٰتِ الشَّیٰاطَیْنِ وَاَعُوْذُبِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ میں یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ اے خدا مجھے شیطان کے چیلوں کے اُن حملوں سے بچائیو جو مجھے کچل ڈالنے کے لئے اُس کی طرف سے ہورہے ہیں۔ بلکہ مَیں تجھ سے دُعا کرتا ہوں کہ مجھ پر غالب آنا تو الگ رہا وہ میرے قریب بھی نہ پھٹک سکیں۔ یعنی وہ مجھے کسی قسم کی تکلیف نہ دے سکیں۔ چنانچہ اس سے اگلی آیت حَتّٰیٓ اِذَا جَآءَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجَعُوْنِ۔ لَعَلِّیْٓ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَکْتُ بھی انہی معنوں پر دلالت کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ اِس جگہ کسی شیطانی وسوسہ کا ذکر نہیں بلکہ اُن انسان شیاطین کا ذکر ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکالیف پہنچاتے تھے ورنہ اگلی پچھلی عبادت سب بے جوڑ ہوجاتی ہے۔
(تفسیر کبیر جلد ششم تفسیر سورۃ المومنون آیت نمبر 98-97)