اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-05-21

قربانی کی اصل حکمت اور تقویٰ کا پیغام

ژ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ آیت لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ کَذٰلِکَ سَخَّرَہَا لَکُمْ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدٰکُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِیْن کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یاد رکھو قربانیوں میں یہ حکمت نہیں کہ اُن کا گوشت یا اُن کا خون خدا تعالیٰ کو پہنچتا ہے۔بلکہ اُن میں حکمت یہ ہے کہ ان کی وجہ سے تقویٰ پیدا ہوتا ہے اور وہ تقویٰ خدا تعالیٰ کو پسند ہے۔بعض لوگ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ کیا خدا تعالیٰ نعوذ باللہ ہندوؤں کے دیوتائوں کی طرح خون کا پیاسا اور گوشت کا بھوکا ہے کہ وہ جانوروں کی قربانی کر نےکا حکم دیتا ہے۔اور اُن کی جان کی قربانی کو شوق سے قبول فرماتا ہے اور قربانی کرنے والوں کو بہشت کی بشارت دیتا ہے۔اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ دیا ہے کہ قربانیوں میں یہ حکمت نہیں کہ اُن کا گوشت یا اُن کا خون خدا تعالیٰ کو پہنچتا ہے بلکہ اس میں حکمت یہ ہے کہ ان کی وجہ سے انسانی قلب میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے اور وہ تقویٰ خدا تعالیٰ کو پسند ہے پس وہ لوگ جو بکرے یا اونٹ یا گائے کی قربانی کرکے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو پا لیا وہ غلطی کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ صاف طور پر فرماتا ہے کہ یہ کوئی چیز نہیں کہ خود ہی جانور ذبح کیا اور خود ہی کھا لیا۔اس سے اللہ تعالیٰ کو کیا۔یہ تو تصویری زبان میں ایک حقیقت کا اظہار ہے جس کے اندر بڑی گہری حکمت پوشیدہ ہے۔جیسے مصّور ہمیشہ تصویریں بناتے ہیں مگر اُن کی غرض صرف تصویر بنانا نہیں ہوتی بلکہ اُن کے ذریعہ قوم کے سامنے بعض اہم مضامین رکھنے ہوتے ہیں۔چنانچہ کبھی وہ زنجیر
بناتے ہیں جس سے مراد قومی اتحاد ہوتا ہے اور کبھی وہ طلوع آفتاب کانظارہ دکھاتے ہیں اور اُس کا مطلب قومی ترقی ہوتا ہے۔اسی طرح یہ ظاہری قربانی بھی ایک تصویری زبان ہے جس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ جانور ذبح کرنے والا اپنے نفس کی قربانی پیش کرنے کے لئے تیار ہے۔پس جو شخص قربانی کرتا ہے وہ گویا اس امرکا اظہار کرتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی راہ میں سب کچھ قربان کردو ںگا۔اس کے بعد دوسرا قدم یہ ہوتا ہے کہ انسان جس امر کا تصویری زبا ن میں اقرار کرے عملاً بھی اُسے پورا کر کے دکھا دے۔کیونکہ محض نقل جس کے ساتھ حقیقت نہ ہو کسی عزت کا موجب نہیں ہو سکتی۔اسی طرح جو شخص بکرے کی قربانی کے ساتھ اپنے نفس کی قربانی بھی کرتا ہے وہ شرفا ء کے نزدیک قابلِ احترام ہے۔لیکن جو شخص صرف بکرے کی قربانی پر اکتفا کرتا ہے وہ نقال اور بھانڈ ہے اور اس لئے کسی عزت کا مستحق نہیں ۔پھر اگرغور کرکے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ سوائے اُن قصابوں کے جو جانوروں کو روزانہ ذبح کر نے کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں دوسرے لوگوں کی طبیعت پر جانور کو ذبح ہوتے دیکھ کر ایک گہرا اثر پڑتا ہے اور اُن کے خیالات میں ایک زبردست ہیجان پیدا ہو جاتا ہے۔
(تفسیر کبیر جلد ششم ،مطبوعہ قادیان 2010 صفحہ57 )